پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟
تحریر: وجیہ مہتاب
پوری دنیا میں زبانوں کا دن منایا جا رہا ہے جس میں ، میں اپنے قلم کو حرکت میں لانا ضروری سمجھتی ہوں میں جس خطے میں پیدا ہوئی ہوں اس مٹی اس زبان سے محبت میری فطرتی جبلت ہے میں اسی زبان ” پنجابی ”کے بارے میں بات کروں گی ۔
اس تاریخی پس منظر میں آپ کو لے کر چلتی ہوں کہ اس سے نفرت کیوں کی جاتی ہے دنیا بھر میں 7457 زبانیں بولی جاتی ہے جن میں 360 زبانیں متروک ہو چکی ہیں۔ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ برصغیر پاک و ہند میں بھی سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان پنجابی ہے جو مشرقی افغانستان سے شروع ہو کر پشاور، ہزارہ ڈویژن، پنجاب ،انڈین پنجاب اور کشمیر کے اضلا ع میں مختلف لہجوں میں بولی جاتی ہے31 سے زیادہ ان کے لیے لہجے اور انداز ہیں ۔دنیا کی مشہور زبانوں انگریزی، فارسی ،عربی، ہندی ،ترکی ،پشتو اور سندھی کی طرح اس کی عمر ساڑھے پانچ ہزار سال ہے اور ان زبانوں کا روڈ میپ بھی ایک ہے۔ مذکورہ زبانوں کے بے شمار الفاظ پنجابی زبان میں ملتے ہیں انڈیا ایشیائی ریاستوں اور ترک ممالک کی سب سے بڑی تجارتی منڈی تھا تاجروں کے ملاپ اور مختلف حملہ آ وروں کی وجہ سے پنجابی زبان کے ذخیرہ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اس کے بولنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ دینی و اعظین، مجالس ،صوفی شعراء اور درباروں پر لگنے والے میلوں پر تھیٹروں اور ماضی قریب میں پنجابی فلموں نے اس کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔
میں چونکہ پنجاب کے شمال مغربی ضلع اٹک سے تعلق رکھتی ہوں یہاں زیادہ تر پنجابی کی ایک قسم ”ہندکو” بولی جاتی ہے ہندسے مراد ہندوستان اور کوسے مراد پہاڑ ہیں اور اسی طرح ہندکو ہندو ستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہے اور ہندکو بولنے والوں کو ہند کوان کہتے ہیں پاکستان کے شہر پشاور، ہزارہ ڈویژن، اٹک ،چکوال ،تلہ گنگ میں بولی جاتی ہے۔ ہندکو بولنے والوں کی تعداد 56 لاکھ ہے جو کہ ملک کی کل آبادی کااڑھائی فیصد ہے ہندکو کے بھی مختلف لہجے ہیں۔ پشاور میں خار ے پشوری ، ہزارہ میں تنولی ،اٹک چھچھ میں چھاچھی، پنڈی گھیب جنڈ اور فتح جنگ میں گھیبی لہجہ، علا قہ نلہ ، کالا چٹا پہاڑ اور قوا گاڑ کے درمیانی علاقہ باہتر، جبی، ہمک، اکھوڑی سے ملا حی ٹولہ اٹک خورد تک کیمبل پوری لہجہ ،چکوال میں دھنی اور تلہ گنگ میں اعوانکاری لہجوں کی ہندکو بولیاں شامل ہیں۔
مغلو ں کے زوال کے بعد 1799ء میں مشرقی پنجاب سے لے کر پشاور تک سکھوں کا قبضہ ہو گیا تھا سکھ راج مسلمان اور دوسری قوموں کے لیے ظلم اور بربریت کی علامت تھا۔ پنجابی چونکہ سکھوں کی مذہبی زبان تھی اور ان کی مذہبی کتاب "گرنتھ صاحب ” بھی پنجابی میں تھی چنانچہ ان کے ظالمانہ نظام حکومت سے بیزار لوگ پنجابی زبان سے نفرت کرنے لگے ۔سکھا شاہی کے خلاف تحریک سید احمد شہید نے شروع کی تھی اور اس تحریک کا مرکز حضرو ضلع اٹک اور سیدو شریف کے پی کے تھا۔ سکھوں کی حکومت کا زور تحریک نے توڑ دیا تھا ۔دونوں متحارب قومیں سکھ اور مسلمان ہند کو بولنے والے تھے اور دونوں کا زور آپس میں 50 سالہ جنگ لڑ لڑ کر ختم ہو چکا تھا۔
1849 میں انگریزوں نے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا سکھ راج ختم کر کے خود بنا حکومت بنا ڈالی اور انگریزوں کو مسلمانوں سے خطرہ تھا اس لیے انہوں نے پنجابی زبان ہندکو سے نفرت دلا کر نوزائیدہ زبان کی طرف مسلمانوں کو مائل کرنا شروع کر دیا ، سکھوں کی جنونی قوم پرستی ہندوؤں کو بھی نہ بھاتی تھی انہوں نے بھی پنجابی کے بجائے ہندی کو ترویج دینا شروع کر دیا۔
1857 کی جنگ آزادی میں زیادہ تعداد پنجابی بولنے والوں کی تھی انگریزوں نے عنان حکومت سنبھالتے ہی یو پی ،سی پی ضلعوں سے اردو ہندی بولنے والوں کو کلرک، منشی اور محرر کی سیٹوں پر بٹھا دیا جبکہ ان کے سول سروسزآفیسز سب انگریز تھے اور دفاتر سے پنجابی بولنے والے کو نکال دیا اور یوں پنجابی بولنے والے بھی اپنی زبان سے نفرت کرنے لگے اور احساس کمتری کا شکار ہو گئے اور دفاتر میں رکھ رکھاؤ کے لیے حکمرانوں کی زبان انگلش کو ترجیح دینے لگے۔
سجاد سرور نیازی ایک ادیب اور ماہر زبان ہیں وہ کہتے ہیں کہ لندن میں ڈاکٹر جیمز ماہر لسانیات کے لیکچر میں شریک تھا دوران تقریر مختلف زبانوں پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے افریقہ کے کسی قبیلے کی آواز نقل کی اور کہا کہ آپ میں سے کوئی بھی ایسے دہرا نہ سکے گا نیازی صاحب نے اٹھ کر نقل اتار دی اور ڈاکٹر چیمز بے ساختہ بول اٹھے کہ کیا آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں؟ نیازی صاحب اعتراف کیا تو ڈاکٹر صاحب بولے کہ صرف پنجابی زبان ایسی ہے جس میں تمام دنیا کے حروف او رآوازیں موجود ہیں۔
کوئی بھی زبان کم تر نہیں ہے غیر ملکی سامراج جہاں بھی جاتا ہے اپنے قبضہ جمانے کے لیے بغاوت کے خوف سے پہلے سے موجود زبان کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ غصہ اور جذبات کو روکا جا سکے۔ پنجابی بولنے والوں کو اجڈ گنوار قرار دیا گیا اور احساس کمتری کے غوطے دیے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے خطرے کا باعث نہ ہوں۔
برصغیر میں انگریزی سے پہلے فارسی ہماری قومی زبان تھی جہاں سے آئی تھی وہیں انگریزوں نے بھیج دی جس میں ہمارا ثقافتی اور مذہبی اثاثہ تھا جو ختم ہو گیا۔اب اسی تہذیبی جنگ میں مغربی میڈیا اردو رسم الخط اور زبان کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔اس لیے کہ یہ تینوں زبانیں مشرقی ہیں۔
میں قدامت پسند نہیں روشن ضمیر اور وسیع خیالات کی حامی ہوں اردو ہماری قومی زبان اور تمام صوبوں کی اکائی ہے انگریزی بین الاقوامی سفارتی اور سائنسی زبان ہے۔ان کی اہمیت اور ضرورت سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق بچہ جو علم مادری زبان سے سیکھتا ہے وہ پرائی زبان سے نہیں ماں کی گود پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ یہیں سے تیار ہو کر قومیں ،قومیں بنتی ہیں۔
میں خراج تحسین پیش کرتی ہوں سید ثقلین انجم بخاری، جناب مشتاق عاجز، پروفیسر سید نصرت بخاری اور پروفیسر اختر محمود ناشاد جو اٹک کی دھرتی میں پنجابی زبان کے احیاکے لیے کو شاں ہیں۔
وجیہ مہتاب
لاء سٹوڈنٹ
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی
اسلام آباد
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |