چند ماہ قبل صدر تحصیل پریس کلب تلہ گنگ شیخ محمد فاروق کے صاحب زادے، سابق ناظم جھاٹلہ یونین کونسل شیخ محمد اقبال کے بھتیجے,تلہ گنگ و جھاٹلہ کی معروف سیاسی،سماجی اور کاروباری شخصیت حاجی شیخ محمد یوسف شہید کے پوتے فہد شیخ ایڈوکیٹ رشتہ ازواج میں منسلک ہو گۓ جن کی دعوت ولیمہ کی تقریب 8 اکتوبر بروز اتوار سنگم ارینا مارکی تلہ گنگ میں ہوئ ۔ خوشیوں کے لمحات کو ماہ و سال کی دسترس میں نہیں دیا جا سکتا، خوشیاں پرانی نہیں ہوتیں کس بھی وقت انہیں تصور میں لا کر انجواۓ کیا جا سکتا ہے۔
فہد شیخ ایڈوکیٹ کے دعوت ولیمہ میں تحصیل بھر سے سیاسی،سماجی،صحافتی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی جن میں سینئر سیاست دان سابق ایم این اے سردار منصور حیات ٹمن ، سابق ایم پی اے مولانا محمدالیاس چنیوٹی ، سابق چیئر مین پی آئی اے ائیر مارشل ارشد ملک ، سابق ڈی جی نیب ( کے پی کے) بریگیڈئیر (ر) فاروق ناصراعوان ، وفاقی ایڈیشنل سیکریٹری سردار آصف خان ٹمن ، سابق ایم پی اے کرنل سلطان سرخرواعوان، سردار محمد خان کوٹ چودھریاں دست راست سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس ، ائیر مارشل نور خان کے پوتے ڈاکٹر سردار شہروز خان ، معروف سیاسی شخصیت سید مبارک شاہ ہمدانی آف سگھر ، ملک امیر خان ٹمن ، چودھری ارشد بکھاری کلاں ، حاجی بشیر احمد بلکسر، ملک اقبال ناصر ادلکہ ، سابق وائس چئیرمین مونسپل کمیٹی تلہ گنگ ملک زاہد اعوان ، ممبر چیمبر آف کامرس اسلام آباد ملک غلام شبیر، رہنما جمعیت علماء اسلام ( ف) پیر مولانا عبدالشکور نقشبندی، امیر ضلع چکوال مولانا عبدالسلام نقشبندی ، سیکریٹری جنرل حافظ عبدالقدیر، سابق چئیرمین ضلع کونسل چکوال ملک غلام محمد جھاٹلہ ، سابق ممبر ضلع کونسل ملک فیروز خان دودیال ، سابق ناظم یونین کونسل ملتان خورد حکیم یاسر عزیز ، سابق ناظم یونین کونسل ڈھرنال ملک یارن خان ، سابق ناظم یونین کونسل کوٹسارنگ راجہ الطاف حسین ، سابق چئیر مین یونین کونسل کوٹسارنگ راجہ پھل ، سابق چئیرمین یونین کونسل تھوہا محرم خان ملک غلام شاہ ، سابق چئیرمین یونین کونسل پیڑھ فتحال ملک الفت حسین ، چئیرمین ملک ذوالفقار مرجان ، سابق ممبر ضلع کونسل ملک دوست محمد ، سابق ناظم نکہ کہوٹ ملک عبدالمنان ، نائب تحصیلدار چودھری نذر عباس ، ڈی ایس پی سردار محمد عارف ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ فخرحیات ملک راولپنڈی ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ راولپنڈی وقار ملک ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ عثمان درانی ، صدر تلہ گنگ بارایسوسی ایشن ایڈووکیٹ حکیم محمد عثمان ، ایڈووکیٹ خان امان اللہ خان ، ایڈووکیٹ ملک ریاض موگلہ ، ایڈووکیٹ ملک محمدحسین ، ایڈووکیٹ حاجی فیصل ممدوٹ ، ڈاکٹر جاوید ملک آئی اسپیشلسٹ ، ڈاکٹرعمرفاروق احرار ، چئیرمین عکس میڈیا گروپ ملک غلام شبیر ادلکہ ، چئیر مین تحصیل پریس کلب تلہ گنگ عبدالرحمن شاد ، کالم نگار،چئیرمین کالمنسٹ کلب پاکستان سابق کونسلر یونین کونسل ملتان خورد ملک محمد فاروق خان ، سینئر جرنلسٹ قاضی عبدالقادر، چیف ایڈیٹر اپنا تلہ گنگ حسنین ملک ، ایڈیٹر عکس تلہ گنگ سیدفاروق حسین ، ایم افضل اعوان ، راجہ محمد عدیل ، سی او ٹی این این نیوز چینل شیخ محمد فیضان ، طارق اعوان متقارب ، کالم نگار اعجازعلوی ، محسن قیوم شیخ نمائندہ جنگ جیو، چیف سپورٹس آفیسر چکوال محمد طارق ملک ، طارق عزیز اے پی پی، مولانا اخلاق احمد مہتمم مدرسہ ظہورالاسلام ، قاری محمد زبیر، مولانا مقصود احمد ، قاری فضل محمود ، مولانا تنویر الحسن احرار ، مولانا مطلوب چنیوٹی، مولانا محمد عمر جھاٹلہ ، مولانا عبدالقدوس جھاٹلہ ، قاری محمد سعید اکوال سمیت کثیر تعداد میں نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
سلیم صفدر کے کلام سے اپنا کالم سمیٹتا ہوں۔
ائے میرے دوست تجھے ہم سفر مبارک ہو وجودِ رونقِ شام و سحر ۔۔۔۔۔۔۔۔مبارک ہو کہ جس کے دم سے تری زندگی مہک اٹھے درونِ خانہِ ہستی دمک دمک اٹھے یہ راز تم پہ کھلے ہر سہانی صبح کے سنگ "وجود ِزن سے ہے تصویر ِکائنات میں رنگ ” وصال جس کا تری فکر کو جِلا بخشے ہر ایک دکھ کو ہر اک درد کو دوا بخشے ہر اک سفر میں ترے جو قدم ملا کے چلے جو شہرِ درد میں رسمِ وفا نبھا کے چلے خدا کی”رحمت و برکت” تمہارے گھر لائے ویران صحنِ چمن کو” گلوں” سے بھر لائے تمہارے راہ میں ہو ساتھ ہمسفر تیری نہ سنگِ راہ بنے اور نہ پاؤں کی بیڑی سکونِ قلب کی دولت ہو جس کے ہاتھوں میں فروغِ ایماں کی لذت ہو جس کی باتوں میں ائے میرے دوست تجھے ہم سفر مبارک ہو وجودِ رونقِ شام و سحر ۔۔۔۔۔۔۔۔مبارک ہو
ٹمن پنجاب کا اہم گاوں جو شہر میں آپ گریڈ ہونے کے مرحلے میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انکڑ کے کنارے سحر انگیز نظاروں اور سر بلند چوٹیوں والی وادی اگر کسی اور علاقے میں ہوتی تو اس کے کناروں پر پکنک سپاٹ بن چکے ہوتے اور علاقے بھر سے لوگ اپنے بچوں کو چھٹیاں انجوائے کرانے کے لئے آتے۔ وادی ٹمن کے حسن کو ، اس میں بہتےصاف پانی کو اور اس پانی کے نیچے "سونے کی ریت” کے جزیرے کے حسن کی دلکشی میں کشش پیدا نہ ہو سکی ۔نہ تو کسی قلم کار نے اس حسین وادی کے حسن کو آشکار کیا، نہ ہی کسی شاعر کی غزل کا موضوع بن سکا اور نہ ہی کوئی مصور اس کے نظاروں کا شاہکار تخلیق کرکے دلوں کی آرٹ گیلری میں نمائش کے لئے پیش کرسکا۔ سیاست دانوں کی تخلیقی حسن اگر گلیوں اور نالیوں سے آگے بڑھتا تو وادی ٹمن کے دونوں کناروں کو علاقائی سیاحت کے لئے مختص کرچکے ہوتے جس سے علاقائی ترقی اور بزنس کو سپورٹ ملتی۔ سردار ممتاز خان ٹمن نے شکاری سیاحت کو فروغ دیا جس کی وجہ سے صوبہ سرحد سے خرگوش کے شکاری اور پنجاب اور جنوبی پنجاب تک باز اور تیتر کے شکار کے لئے قافلے آتے رہے جس سے باہمی تعلقات کو فروغ ملا۔ اس علاقے میں ہر سال موسمیاتی ہجرت کرنے والےکونج،بٹیرے اور کئی انواع کے پرندے آتے ہیں یہ علاقہ وائلڈ لائف کے لئے محفوظ پناہ گاہ بھی ہے۔ سردار منصور حیات ٹمن جو معاشی گرو کے طور پر شناخت رکھتےہیں اور جن کی عالمی سیاست، معیشت اور زراعت پر گہری نظر ہے جو زراعت سے عملی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ سردار محمد حیات خان ٹمن سے یہ خاندان زراعت کی جدت کے لئے مصروف کار ہے۔ ایگرو و فروٹ ٹورازم کی طرف علاقے کو موڑ کر علاقائی ترقی میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی پولیٹیکل ٹورازم پر ہیں واپس آتے ہیں تو ان سے بھی مستقبل میں علاقائی سیاحت پر ڈیل ہو سکتی ہے کیونکہ سیاسی ڈیل تو وہ پہلے کر چکے ہیں۔ حافظ عمار یاسر سے سیاحتی فروغ کے لئے دعا کی استدعا کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ خود بھی ریلیجس ٹورازم پر ہیں۔ سردار فیض ٹمن نے وادی ٹمن میں پہلا فارم ہاوس تعمیر تو کر لیا ہے لیکن اس میں کوئی سیاحتی تقریب کا انعقاد ابھی تک نہ ہو سکا اگر کسی ٹوارازم کے وفاقی یا صوبائی وزیر ٹورازم کو دعوت دیتے اور اپنے فارم ہاوس سے پوری وادی کا نظارہ کرا کر اس میں اہم کردار ادا کر تے تو منزل آسان ہو سکتی ہے۔،ڈپٹی کمشنر ضلع چکوال بھی ترقیاتی کاموں کے لئے کوشاں ہیں ان سے بھی ریت فنڈ کو سیاحت فنڈ میں بدلنے کا کہا جا سکتا ہے۔میڈیا کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ صوبائی صوبیدار بھی انہیں کی برادری سے ہے۔ امیدوار صوبائی اسمبلی ملک شیر یار اعوان جو سیاسی طور پر متحرک بھی ہیں اور بیوروکریسی سے ان کی رشتہ داری بھی بنتی ہے۔ڈاکٹر شہروز خان ٹمن اور سردار سعد حیات ٹمن واٹر سپلائی اسکیم کی طرح باہمی فلاحی اشتراک اور زمان فاونڈیشن کے مالی تعاون سے انکڑ کے کنارے پارک کے لئے پہلے سے مختص پلاٹ پر فیملیز اور بچوں کا تفریحی پارک بنانے میں پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں۔کھوئیاں ویلفئر سوسائٹی جو عوامی اور فلاحی کاموں میں آگے بڑھی ہے، جن کے پاس اورسیز ڈونرز بھی ہیں اگر اس کے منتظمین کھوئیاں سے باہر نکل کر اپنے آپ کو علاقائی منظر نامے میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو وہ بھی آسانی سے انٹرنیشنل ڈونر سے انکڑ کی کسی چوٹی پر پہلا سیاحتی پوائنٹ بنوانے کے لئے رضامند کر سکتے ہیں۔ سیاحتی پراجیکٹ کو ابتدائی شکل میں کسی پہاڑی چوٹی پر سردار ممتاز خان ٹمن کے چھپر کی طرح ، بیٹھنے کے بینچوں اور ٹک شاپ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ٹمن کو تیز ترین ترقی کی طرف لے جانے میں آگے کون بڑھتا ہے؟ ویران اور بے نام وادی کو ٹرک ٹرانسپورٹرز ٹمن نے اپنے ٹرکوں کے پیچھے "وادی ٹمن” لکھ کر پہلی بار قومی سطح پر ٹمن کے حسن میں کشش پیدا کی ۔صوبہ پنجاب اس کی لیز کی نیلامی سے سالانہ کروڑوں روپے کی آمدنی وصول کرتا ہے ۔ طاقت ور محکمے کو کون کہے کہ( ساڈا حصہ ایتھے رکھ) لیکن ٹمن کے پرجوش نوجوان ایسا کہہ بھی سکتے ہیں اور "سونے کی ریت” سے علاقائی ترقی کا حصہ مانگ بھی سکتے ہیں۔ سیاست دان اگر ہر سال ٹمن ریت فنڈ کو سیاحت فنڈ کے لئے مختص کرالیتے تو اسلام آباد سےکم فاصلے اور کم وقت کی وجہ سے انٹرنیشنل ٹورسٹ متوجہ ہو تے۔ موٹر وے اور سی پیک کے درمیان ہونے کی وجہ سے سڑک سے ملحقہ علاقے مستقبل کا دوبئی بن سکتے ہیں۔ ضلع تلہ گنگ اپنے ساتھ صنعتی پسماندگی بھی لایا ہے اس ضلع کو صنعتی ترقی میں آگے بڑھانے کے لئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ضلع تلہ گنگ کا ہنگامی بنیادوں پر اجراء کراکر فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ زمانہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی جمود کو نئے جہتوں میں بدل کر عالمی رجحانات کی تیز ترین رفتار سے ہم آہنگ ہو کر نئی روایات قائم کرنے والا ہے۔ ہمارا علاقہ ایگرو، فروٹ بیسڈ انڈسٹری، کو فروغ دے کر ایکسپورٹ کی طرف بڑھ سکتا ہے، ٹنل ویجیٹیبل اور فروٹ فارمنگ کے ساتھ مونگ پھلی کی پیداوار کو برینڈڈ کرنے سے انڈسٹریل کمرشل کرنے تک تکنیکی اور مشاورتی مرکز قائم کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں غیر معمولی ذہانت اور اہلیت ہے اگر انہیں بنیادی معلومات اور پروفیشنل سکلز فراہم کر دی جائیں تو علاقائی ترقی کے فروغ کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کے عفریت کو بھی قابو کیا جا سکتا ہے ۔وفاقی اور صوبائی ٹورازم کے محکموں کو کون بتائے کہ دنیا اپنی معیشت کے استحکام کیلئے سیاحت کو بڑھا رہی ہے "وادی ٹمن” کو سیاحت کے لئے مختص کیا جائے، اس کے حسن کو آشکار کرکے ایگری ٹورازم اور ویلج ٹورازم پر بہت کام ہو سکتا ہے۔ حکومت پنجاب ٹورازم فارمنگ کے لئے ایگرو اینڈ فروٹ فارمز کے لئے معاونت کرے۔ سیاحت کے بھی کئی پہلو اور بہت سے روپ ہیں۔ سیاحت میں مذہبی سیاحت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ متواتر بڑھتی رہتی ہے۔پولیٹیکل ٹورازم بھی سیاحت کا اہم جزو ہے۔سیاست کے کئی نامور سیاسی تاجدار سیاسی سیاحت کے لئے اس علاقے میں آتے بھی رہے ہیں اور اسے دوسرا گھر بھی کہتے رہے ہیں۔یہ سیاسی سیاحت کا ہی کمال ہے کہ کئی مقامی سیاسی خانوادے زیرو پتی سے کروڑ پتی بن گئے سیاحت کا کوئی بھی روپ ہو علاقے کو مستفید کرتا ہے۔ اہل علاقہ کے وکلاء بھی "سونے کی ریت” کی آمدن کو ٹمن کی ساحتی ترقی کے لئے مختص کرانے عدالت میں جا سکتے ہیں۔ ٹمن کے سیاست دان بھی اگر چاہیں تو علاقائی سیاحت کو سیاست کی طاقت سے فروغ دے سکتے ہیں۔
ہمارے میگزین کی پہلی بولتی تحریر یعنی یہ مضمون تحریر کے علاوہ آواز میں بھی موجود ہے جسے آپ سن بھی سکتے ہیں۔ مضمون کے آخر میں موجود ہے
آغاجہانگیربخاری
علاقہ چھچھ کے لوگوں میں ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مہمان نوازی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ایک روایت مشہور ہے کہ چھچھ کے کسی گاؤں میں بھیڑیا گھس آیا، لوگ اسے مارنے کے لیے دوڑے تو وہ گاؤں کے ایک حجرے میں آگیا۔ حجرے کا مالک اس وقت وہیں موجود تھا ۔ اس نے ایک برچھی لی اور دروازے پر کھڑا ہوگیا اور لوگوں کو للکار کر کہا ” خبردار ! یہ میرا مہمان ہے، کوئی شخص اسے مارنے کے لیے آگے بڑھا تو میں اسے چیر کر رکھ دوں گا”۔
یہ اقتباس ہے جاوید شاہ صاحب کی کتاب’ جو اکثر یاد آتے ہیں’ میں سے، جسے میں نے دو ہی نشستوں میں پڑھ ڈالا اور اسے ناقابل یقین حد تک بصیرت انگیز اور متاثر کن پایا۔ جاوید شاہ صاحب کی اس کتاب میں عہد گزشتہ کی دلچسپ داستانیں ہیں ،یہ تاریخی کہانیاں پڑھ کر خوشی ہوئی اور انہوں نے مجھے مسحور کر دیا۔ ان کی یہ تاریخی کہانیاں 70 سال پہلے کے کرداروں کو زندہ کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں سے جو کہانیاں ایک ساتھ بُنی ہیں ان میں مجھ جیسے تاریخ کے رسیا کے لیے ایک خزانہ ہے کیونکہ میں ان داستانوں سے اپنے علاقے کی گم شدہ اور مانند پڑتی ثقافتوں اور رسم و رواج کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے میں کامیاب ہوا۔ شاہ صاحب کی کہانیوں میں لوک داستانوں اور افسانوں کے عناصر بھی شامل ہیں جو ان سب کو مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ ضلع اٹک بالعموم اور علاقہ چھچھ کے حالات و واقعات بالخصوص ان داستانوں کا حصہ ہیں۔
جاوید شاہ صاحب 1941 ء کو چھچھ کے گاؤں حمید میں پیدا ہوئے۔چوتھی جماعت تک گاؤں کے اسکول میں پڑھا اور پھر ایم سی مڈل اسکول کیمبلپور سے پانچویں پاس کی۔ پائیلٹ اسکول کیمبلپور سے میٹرک جبکہ ڈگری کالج کیمبلپور سے گریجویشن مکمل کی۔ آپ کے اساتذہ میں جناب اشفاق علی خانصاحب، جناب پرفیسر سعد اللہ کلیم صاحب ، جناب شریف کنجاہی صاحب اور جغرافیہ کے استاد جناب ضیاء اللہ صاحب کے نام نمایاں ہیں۔ضیاء اللہ صاحب کی صحبت کا اثر تھا جس نے آپ کو جغرافیہ کی طرف راغب کیا اور شاہ صاحب نے 1962 ء میں پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے بعد آپ نے بحیثیت پلاننگ آفیسر محکمہ بہبود آبادی میں ملازمت اختیار کی ۔ستمبر 1981 ء کو مارشل لاء کے ایک آرڈینینس کے ذریعے محکمہ بہبود آبادی کے ساڑھے سات ہزار ملازمین کو بیک جنبش قلم ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔شاہ صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ نوکری ختم ہونے پر شاہ صاحب نے اے ایم ایف کامرہ میں ملازمت اختیار کی اور تین سال کے بعد محکمہ تعلیم میں محکمانہ امتحان و طریقہ کار کے مطابق بھرتی ہوگئے۔ آپ محکمہ تعلیم سے بحییثیت ہیڈ ماسٹر سبکدوش ہوئے۔جاوید شاہ صاحب ا نتہائی ملنسار ، ہنس مکھ ،روایت پسند اور بلا کے مہمان نواز ہیں۔ ممتاز شاعر جناب مشتاق عاجزؔ صاحب آپ کے انتہائی قریبی دوست ہیں ۔جاوید شاہ صاحب نے اس سال اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب “جو اکثر یاد آتے ہیں” شائع کی اور سب سے پہلے مجھے عنایت کی۔ میری سستی اور کوتاہی ہے جو تبصرہ کرنے میں اتنی دیر کر دی ۔
جاوید شاہ صاحب
یوں تو پوری کتاب ہی ایک تاریخی دستاویز ہے لیکن میں شاہ صاحب کی کتاب میں سے چند ابواب کو یہاں مختصر طور پر ذکر کرتا ہوں۔ جو تاریخ اور ماضی میں جھانکنے والوں کے لئے یقینا دلچسپی کا باعث ہونگے۔
سپاہی صوبیدار نمبر 508 : تلہ گنگ سن 1985ء تک ضلع اٹک کی تحصیل تھا۔موضع لاوہ تحصیل تلہ گنگ کے ایک مجذوب سیّد شہابل شاہؒ کا روح پرور قصہ ۔
تین خوش لباس : علاقہ چھچھ ضلع اٹک کا خوبصورت ترین اور تاریخی علاقہ ہے۔ اس وادی کی تین نامور تاریخی شخصیات کا تذکرہ، چھچھ کے حجروں اور تہذیب و ثقافت کا احوال ۔
ایک تھا راجہ : سائیں کلوؒ سرکار کے جانشین سیّد انور شاہؒ اور راجہ اکرم صاحب کی پہلی ملاقات، ترک دنیا اور منازل سلوک کی داستان۔
ایک مشاعرہ : موضع ٹمن (تحصیل تلہ گنگ، جو اس وقت ضلع اٹک کا حصہ تھا) میں ہونے والے ایک مشاعرے کا احوال ،جسے ہل چلا کر آئے ہوئےایک کسان شاعر نے لوٹ لیا۔
راہ ہدایت : سرکار برطانیہ کی پولیس کے ایک بدتمیز، سخت گیر، بدزبان اور بد اخلاق حوالدار کا ماجرا جس کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ لوگ خوف کے مارےراستہ چھوڑ دیتے تھے بالآخر کیسے ایک ولی کامل کے درجے تک پہنچ گیا۔
رسُولا بدمعاش : تاریخی شہر حضرو کے ایک بدمعاش رسُولا کی کتھا جو کسی کو خاطر میں نہ لاتا جوئے باز اور ایک نمبر کا بدمعاش کیسے حاجی رسول خان بنا جس کی موت کا اعلان حضرو شہر کی ہر مسجد سے ہوا۔
ہاں کوئی اور بھی ہے: چھچھ کے ایک نائی کا قصہ جو مزدوری کی تلاش میں کراچی پہنچا اور پھر انڈر ورلڈ کا ایسا ڈان بن کر ابھرا جس سے سہگل، اصفہانی جیسے سیٹھ اور کراچی کے بڑے بڑے غنڈے خوف کھاتے تھے۔
ماہی نیاں وطناں توں : حاجی رمضان اور رتن لال کی بیٹیوں جمیلہ ، رضیہ، ساوتری، راجکماری کی دوستی ، تقسیم کے فسادات، ہجرت اور سکھ خاندان کا جانے سے پہلے درو دیوار سے لپٹ کر رونے کی دردناک داستان۔
اس کے علاوہ انجم اور پھول، مسیحا، دو شرابی، راہ ہدایت،ولیوں کا گاؤں، دو بے نمازی ، اکاون سال گاڑی کا انتظار اور بہت سے تاریخی چشم کشاء واقعات و داستانیں اس کا کتاب کا حصہ ہیں۔
ماضی کی یادیں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ پرانے جذبات، واقعات اور یہاں تک کہ جسمانی احساسات تک کو واپس کھینچ لاتی ہیں۔ انہی یادوں میں اُن بیتی خوشیوں کے حسین خواب بھی ہوتے ہیں جن میں ہم دوبارہ جا بسنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اور یہی یادیں ان تلخ تجربات اور غلطیوں کی یاددہانی بھی ہو تی ہیں جنہیں ہم بھولنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ماضی میں ایک عجیب سی کشش ہے اور رہے گی۔ ہم حال میں جیتے کم ہیں، مستقبل کو سوچتے کم ہیں لیکن ماضی کو یاد بہت کرتے ہیں۔
یادداشتیں لکھنا کوئی معمولی کام نہیں ہے ، اس کے لیے غور و فکر اور خود شناسی کی ضرورت ہے۔ یہ فرد کی اپنی زندگی کی مکمل کھوج ہے، اور اس کام کے لیے ساعاتِ وقتِ گزشتہ کے کوہ گراں کا لمحہ لمحہ کریدنا پڑتا ہے۔ جاوید شاہ صاحب کمال یاداشت سے ماضی کے تعاقب میں بہت دور تک گئے۔ اور ان کا ماضی کا یہ سفر ہم سب کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوا۔
مجموعی طور پر، میں نے واقعی اس کتاب کا لطف اٹھایا ہے ۔ یہ کتاب ماضی کے کرداروں اور واقعات کا انتہائی دلکش بیان ہے۔ ہر باب وقت میں واپسی کا سفر ہے جہاں میں نے خود کو پچھلی نسلوں کے جذبات کا تجربہ کرتے ہوئے پایا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے سے پہلے لوگوں کے محرکات اور تاریخ کو سمجھنے کے سفر پر تھا۔یہ ایک بہترین کتاب ہے ، مصنف نے اپنی واضح کہانی سنانے اور تفصیلی وضاحت کے ساتھ ماضی کی داستانوں کو زندہ کرنے کا ایک بہترین کام کیا ہے۔ میں ان قارئین کو جو کتابوں سے دلچسپی رکھتے ہیں بالعموم اور ضلع اٹک کے تاریخ رسیاؤں کو بالخصوص یہ کتاب پڑھنے کی صلاح دیتا ہوں۔ یہ ایک جذباتی سفر ہے جو کتاب کے اختتام تک پہنچنے کے بعد بھی آپ کے ساتھ رہے گا۔
کتاب کے حصول کے لیے جاوید شاہ صاحب سے ان کے نمبر(03315708325) پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور تلہ گنگ سے منتخب ہونے واے معروف سیاست دان سابقہ ممبر قومی اسمبلی سردار منصور حیات ٹمن نے جب اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر سابق وزیراعظم سینئرنائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی ،پنجاب مسلم لیگ ن کے صدر رانا ثناء اللہ اور دیگر مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت کی موجودگی میں دوبارہ مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا تو نہ صرف قومی سیاست میں ہلچل پیدا ہوئی بلکہ،چکوال اور تلہ گنگ کے سیاسی حلقوں نے بھی اسے علاقائی سیاست میں بڑی تبدیلی قرار دیا۔ جس وقت سردار منصور حیات ٹمن نے اعلان کیا تو بعض دانشوروں نے اسے غلط وقت پر صحیح فیصلہ قرار دیا تھا۔اس وقت مسلم لیگ ن سے سیاسی پروازوں اور سیاسی وکٹوں کے اڑنے کی خبروں میں تیزی آرہی تھی۔سردار منصور حیات ٹمن نے اس مشکل وقت مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرکے سیاسی ماحول کو بدلا جس سے مسلم لیگ ن سے سیاسی ا نخلا میں ٹھہراؤ آیا۔سردار منصور حیات ٹمن کی ن لیگ میں شمولیت سے شاہد خاقان عباسی کی اس سیاسی پیش رفت نے پارٹی کو نیا حوصلہ دیا۔ مسلم لیگ ن اگر مشکل وقت میں سردار منصور حیات ٹمن کی سیاسی قربانی کو یاد رکھ سکے تو ائیندہ آمدہ الیکشن میں ضلعی سطح کے سیاسی اور پارٹی فیصلے انہیں کی مشاورت اور سربراہی میں ہو نے چاہیں لیکن سیاست تو ہر دم اپنا مزاج اور رخ بدلتی رہتی ہے۔انتخاب کی غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف معیشت کو متاثر کیا ہے بلکہ اس صورتحال سےسیاسی جمود بھی دیکھنے میں آیا ہے۔اس غیر یقینی سیاسی ماحول نے سیاست دانوں کو بھی عوامی حلقوں سے بے ربط کر دیا۔جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا سیاسی سرد مہری موجود رہے گی اور سیاسی سرگرمیاں منجمند رہیں گی۔
بہت سارے سیاست دان سیاسی پلیٹ فارم پر الیکشن کی ٹرین کے منتظر کھڑے ہیں لیکن کچھ سیاست دان سیاسی حالات کے جبر میں بھی پر امید ہیں اور سیاسی جدوجہد میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں۔سردار منصور حیات ٹمن کے سیاسی اور عوامی را بطے کا تسلسل جاری ہے۔ سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟، قومی اسمبلی کا ٹکٹ کسے ملے گا؟ ان تمام خدشات سے ماورا وہ اپنے سیاسی اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں سردار منصور حیات ٹمن ملتان خورد میں گھاڑا برادری کی دعوت پر تشریف لائے اور نوجوانوں سے سیاسی مکالمہ کیا۔ اور انہیں آمدہ انتخابات میں بھر پور کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔گھاڑا برادری نہ صرف ملتان خورد میں سیاسی برتری کیلئے لازم ہے بلکہ تحصیل تلہ گنگ میں بھر پور سیاسی قوت بھی رکھتی ہے۔پرجوش نوجوانوں نے سردار منصور حیات ٹمن کا سیاسی طور پر بھر پور ساتھ دینے کا عزم کیا۔ عبداللہ گھاڑا کی دعوت پر سردار منصور حیات ٹمن نے ملتان خورد کا دورہ کیا۔عبداللہ گھاڑا سیاسی اور سماجی اہلیت رکھنے والا متحرک نوجوان ہے۔
تلہ گنگ تاریخی ، تہزیبی اور ثقافتی نقط نظر سے بہت اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی لحاظ سے بھی اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ محترمہ عطیہ عمر صاحبہ کا تعلق بھی اس مردم خیز خطہ سے ہے ۔ وہ تلہ گنگ میں ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد محترم ملک الطاف الرحمٰن اور ان کے تایا جان ملک فضل الرحمٰن کا شمار تلہ گنگ کی معروف معزز کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے ۔ عطیہ عمر نے پانچ سال کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ ختم کیا ۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول تلہ گنگ سے حاصل کی ۔ سکول میں انہیں محترمہ کنیر صاحبہ ، محترمہ زاہدہ صاحبہ اور محترمہ نرجس سلیم صاحبہ جیسی قابل اساتذہ سے استفادہ کرنے کا موقع میسر آیا ۔ ان دنوں سکول کی ہیڈ مسٹریس باوقار اور فرض شناس شخصیت محترمہ بیگم خورشید اسلم صاحبہ تھیں ۔ عطیہ عمر نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ گرلز ہائی سکول تلہ گنگ سے پاس کیا۔ یہاں بھی محترمہ مسز طاہر ملک صاحبہ ، محترمہ خورشید الطاف صاحبہ اور محترمہ نذیر فاطمہ صاحبہ جیسے قابل اساتذہ کا دست شفقت رہا ۔ مزید تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج فارویمن لاہور میں داخلہ لیا ۔
1987 ء میں بی اے کے فوراً بعد ان کی شادی کردی گئی ۔ عطیہ رحمان سے عطیہ عمر بن کر کراچی شفٹ ہوگئیں ۔ ان کے سسر حافظ عزیز الرحمن تحریک ختم نبوت کے سرگرم رکن تھے رشتے میں وہ ان کے والد کے چچا تھے ۔ عطیہ عمر تلہ گنگ کے ممتاز معلم ، ادیب ، نثر نگار اور شاعر جناب فضل حسین تبسم ( ٹمن ) مرحوم کی نواسی ہیں ۔ لکھنے پڑھنے کا رجہان انہیں ورثہ میں میسر آیا ۔ گھر میں اردو ڈائجسٹ ، ستارہ ، حکایت ، قومی ڈائجسٹ ، زندگی ، چٹان ، عصمت ، نونہال اور بچوں کی دنیا وغیرہ منگوائے جاتے تھے ۔ زمانہ طالب علمی سے لکھنے کی ابتدا کی ۔ عطیہ عمر کی پہلی کتاب ,, بس ایک دعا,, 2006 ء میں المجاہد پبلیشر نے شائع کی ۔ کتاب خواتین کے مختلف ماہناموں میں ان کی شائع ہونے والی کچھ تحریریں اور ناولٹس پر مشتمل ہے ۔ عطیہ عمر کتاب کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں
( اقتباس ) میرے بچپن میں کمپیوٹر اور ٹی وی نے والدین اور اساتذہ کے فرائض نہیں سنبھالے تھے اور کتاب نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے ہاتھوں میں بھی دکھائی دیتی تھی اور بچے اپنی ماؤں ، نانیوں اور دادیوں سے کہانی سننے کے منتظر اور شائق رہتے تھے ۔ چناچہ نانا جان جب بھی ہمارے ہاں آ تے یا ہم ان کے پاس ,,ٹمن,, جاتے میں ان سے خاص طور پر کہانی سننے کی فرمائش کرتی تھی اور وہ ہمیں مثنوی مولانا روم یا گلستان بوستان کی حکایت آسان انداز میں سنایا کرتے۔ بچپن میں ہی اپنی دانست میں کہانی لکھے کا آغاز کر دیا تھا میں پرندوں اور جنوں بھوتوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ایک کاپی میں لکھا کرتی تھی ، پھر کچھ بڑی ہوئی تو بچوں کے کرداروں پر مشتمل اخلاقی کہانیاں لکھیں ، جو یقیناً نانا جان سے سنی ہوئی کہانیوں کی بازگشت تھیں ۔کچھ کہانیاں سبزیوں ، پھلوں اور پھولوں وغیرہ کے کرداروں پر تھیں اور کچھ بے جان اشیاء مثلاً کھمبا ، قلم ، گھڑی وغیرہ کی۔۔۔۔ مگر اشاعت کی غرض سے کہیں نہیں بھیجیں ۔ پہلی بار ,, نوائے وقت ,, راولپنڈی میں ایک مضمون بھیجا جو خواتین ایڈیشن میں شائع ہوا پھر اس کے بعد کئ ایک مضامین نوائے وقت کے خواتین طلبا اور بچوں کے صفحات پر شائع ہوئے ۔ تب میں کالج کی طالبہ تھی ۔ انہی دنوں کچھ افسانے اور ناولٹ وغیرہ لکھے جو اشاعت کی غرض سے کہیں نہیں بھیجے بعد میں ڈائجسٹ میں میرے افسانے شائع ہونے لگے تو ان افسانوں وغیرہ کو جزوی ترمیم و اضافے کے بعد اور کچھ کو اسی طرح اشاعت کی غرض سے بھیج دیا ۔ ,,چراغ آخری شب ,, ، اور ,, بیت العنکبوت ,, تب ہی لکھا تھا ۔ جب میرا پہلا مضمون شائع ہوا تو میں بہت خوش تھی گھر میں پہلے سے کسی کو نہیں بتایا ہوا تھا کہ اگر شائع نہ ہو سکا تو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ جب وہ مضمون جو خواتین کے لئے حجاب کی اہمیت اور پردے کی اہمیت کے سلسلے میں تھا ، شائع ہوا اور نانا جان مرحوم کی نظروں سے گزرا تو انہوں نے مجھے خط لکھا کہ تمہارے بتائے بغیر میں جان گیا تھا کہ مضمون نگار میری بیٹی ہے ۔ تمہاری یہ کوشش اچھی ہے ۔ ایک بات یاد رکھنا کہ صرف ،،نام ،، شائع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ،، نام ،، کام کے ساتھ آنا چائیے، پھر مضمون میں زبان اور املا کی ایک دو غلطیوں کی نشاندہی کی تھی ۔ والد صاحب مرحوم نے خط پڑھ کر فرمایا تھا ، بچے پہلی اور آخری بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے ، ہمارا نام اور کام بھی اسی امر کا مظہر ہونا چاہئے کہ ہم مسلمان ہیں ۔
عطیہ عمر مزید لکھتی ہیں خانگی معاملات میں مذہب کس طرہ ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہم کتنے لا علم ہیں میں نے اپنی تحریروں سے یہ موضوع اجاگر کرنے کا سوچا 1990ء میں میرا پہلا افسانہ شائع ہوا تھا تب سے لے کر آ ج تک میں نے اپنی ہر تحریر سے کوئی نہ کوئی اخلاقی پیغام دینے کی کوشش کی ہے اور کسی نہ کسی آ یت قرآنی یا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ ضرور دیا ہے ۔ جب بھی لکھا ہے یہ سوچ کر لکھا کہ میں مسلمان ہوں اور ایک مسلمان نہ صرف مسلمانوں بلکہ بنی نوع انسان کی بھلائی اور سلامتی کا خواہاں رہتا ہے ۔ دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے قلم میں وہ روانی اور تاثیر بخشیں کہ میں اپنا مافی الضمیر قارئین تک پہنچا سکوں اور میری تحریروں سے لڑکیاں اور خواتین کو اخلاقی اور مذہبی رہنمای میسر آتی رہے آمین ثم آمین ۔ قارئین محترمہ انجم انصار مدیرہ ماہنامہ ,, پاکیزہ ڈائجسٹ ,, ،( کراچی) محترمہ عطیہ عمر کے بارے رقم طراز ہیں ,, عطیہ عمر ہمیشہ بامقصد موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں ۔ عام فہم انداز تحریر ہے ۔ جس میں سلاست بھی ہے اور برجستگی بھی ۔۔۔ روانی بھی ہے اور دل نشینی بھی ۔ ایسے وہ اپنا پیغام اتنی خوبصورتی سے کہہ جاتی ہیں جس کا تاثر پڑھنے والے پر دیر تک رہتا ہے ۔ نئی نسل میں اسلامی تشخص بیدار کرنا ان کو دین سے قریب کرنا خاندان کی یکجہتی پر زور دینا ، اپنی ذات سے لوگوں میں خوشیاں پہنچانا ، بلعموم ان کے موضوعات ہوتے ہیں جن پر وہ بڑی مہارت سے لفظوں کے ستارے ٹانکتی ہیں ۔
عطیہ عمر کی تحریر کی ایک بڑی خوبی شگفتگی بھی ہے ۔ انکا افسانہ ہو یا ناولٹ ، کبھی بوچھل سا نہیں ہوتا کہ جس کو پڑھ کر تھکان کا احساس ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ دولت بخشی ہے کہ اصلاحی تحریریں لکھنے کے باوجود آپ کا اسلوب تحریر سبک ، چابک دستی ، بے تکلف ، تروتازہ اور مزیدار سا ہے ۔ خوبصورت جزبات نگاری اس مہارت سے بیان کرتی ہیں کہ پڑھنے والا آپ کی تحریر کے سحر میں ڈوب جاتا ہے ,, ۔ محترمہ امت الصبور مدیرہ ماہنامہ ،، خواتین ڈائجسٹ ،، ( کراچی) لکھتی ہیں عطیہ نے ایک مقصد کو سامنے رکھ کر قلم اٹھایا ہے ۔ وہ تخلیق کے فنی پہلوؤں کو نظر انداز کر سکتی ہے لیکن اپنے مقصد کو نہیں ۔ اس کی شخصیت اور اس کی تحریریں دودھ میں مٹھاس کی طرح ہیں ، جنہیں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ٹھنڈی میٹھی شخصیت ۔۔۔ قدرت نے تخلیق کار بنایا ہے تو کہیں آگ کی چنگاری بھی ضرور ہوگی لیکن یہ آگ جگنو کی سی ٹھنڈک رکھتی ہے ۔ عطیہ کے کردار جاذبیت رکھتے ہیں ، وہ اس ماحول کا حصہ ہیں ۔ عطیہ بڑے سادہ سے روز مرہ انداز میں ان کی منظر کشی کرتی ہے ۔ دراصل وہ سادگی کو کام میں لانا جانتی ہے ، اس کے قرداروں پر گردوپیش کی نسبت دیکھنے والی آ نکھ کا رنگ حاوی ہوتا ہے ۔ وہ اپنی نظر اور علم سے کردار تخلیق کرتی ہے ۔ صراط مستقیمی کردار جو عطیہ کا ہاتھ پکڑ کر چلتے ہیں ۔ یہ عطیہ کی بڑی خوبی ہے کہ ایک مقصد کے تحت لکھنے کے باوجود اس کی تحریروں میں دلچسپی کا عنصر قائم رہتا ہے اور پڑھنے کے دوران کہیں بھی بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا ۔ عطیہ عمر نے کہانیاں لکھنے کی ابتدا ، نوائے وقت ، جنگ وغیرہ سے بچوں اور طلبہ کے صفحات سے کی ازاں بعد ان کے افسانے ، ناولٹ اور کہانیاں پاکیزہ ڈائجسٹ ، کرن ، دوشیزہ ، اردو ڈائجسٹ ، شعاع ، خواتین ڈائجسٹ وغیرہ میں شائع ہوئیں ۔
دوشیزہ ڈائجسٹ کی طرف سے انہیں تین افسانوں پر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ کراچی میں پاکیزہ ڈائجسٹ کی سالگرہ کے موقع پر چند بہترین رائٹرز کا انتخاب کیا جاتا تھا ، عطیہ عمر کو کئی سال تک ان رائٹرز میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ پاکیزہ ڈائجسٹ کی سالگرہ کی ایک تقریب ڈیفینس کلب کراچی میں منعقد ہوئی جس میں عطیہ عمر نے پاکستان کی نامور ادیبہ محترمہ فاطمہ ثریا بجیا سے شیلڈ وصول کی ۔ اس تقریب میں جناب انور مقصود ، نیلوفر عباسی ، قربان علی عباسی ، ضیاء محی الدین کی بیگم عزرا محی الدین کے علاوہ علم و ادب سے محبت رکھنے والی شخصیات اور وطن عزیز کی نامور اداکاراؤں نے شرکت کی ۔ پاکیزہ ڈائجسٹ کی ایک اور تقریب کا انعقاد سن سیٹ کلب کراچی میں ہوا جس میں عطیہ عمر کو ان کے ایک خوبصورت افسانے پر شیلڈ سے نوازا گیا ۔ انہوں نے شیلڈ تقریب کے مہمان خصوصی گورنر سندھ جنرل (ر) جناب معین الدین حیدر سے وصول کی ۔ قارئین عطیہ عمر صاحبہ کراچی میں ادبی سرگرمیوں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ ضیاء محی الدین مرحوم کی بیگم عزرا محی الدین کی کزن محترمہ عزرا رسول پاکیرہ ڈائجسٹ کی مالک عطیہ عمر صاحبہ کی اچھی دوست ہیں ان کے ساتھ انہیں ایک تقریب میں مشتاق احمد یوسفی کی زبانی ان کی اپنی کتاب ,, زرگزشت ,, سے مختصر اقتباس سننے کا موقع ملا ۔ جیو ٹیلی ویژن کے ابتدائی دنوں میں 13 اقساط پر مبنی عطیہ کے ڈرامے کی کہانی کا مرکزی خیال اور مختصر خاکہ منظور کیا گیا تھا مگر ان کے چند تحفظات مثلآ لباس ، مکالمے اور اسکرپٹ میں غیر ضروری تبدیلیوں کی وجہ سے نشر نہ ہو سکا ،کیوں کہ نشریاتی ادارے کی بھی کچھ اپنی انتظامی مجبوریاں ہوتی ہیں ۔ عطیہ عمر صاحبہ ان دنوں گراچی میں اقامت پذیر ہیں ان کے شوہر محترم عمر فاروق اعوان ایک بزنس مین ہیں ۔ وہ اور ان کے بھائی کراچی کے مشہور و معروف ریسٹورنٹ سلور اسپون کے مالک ہیں ۔ ان کا گھرانہ آبائی علاقے سے بھی جوڑا ہوا ہے اکثر گاؤں میں بھی آتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ عطیہ عمر صاحبہ کے علم وعمل میں مزید برکتیں عطا فرمائے آمین ۔
ممتاز ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر تحریر طارق محمود ملک بشیر جعفرصاحب کا نام تلہ گنگ کے شعراء کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ ان کا شمار ضلع تلہ گنگ اور ضلع چکوال کے نامور شعراء میں ہوتا ہے ۔ بشیر جعفر صاحب 14 جنوری 1951ء کو تلہ گنگ کے معروف گاؤں تھوہا محرم خان ڈھوک کھوڑ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد محترم کا اسمِ گرامی شاہ محمد ہے ۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھوک کھوڑ سے حاصل کی ۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے والد کے ہمراہ ہارون آ باد ( ضلع بہاولپور) آ گئے ۔ان دنوں وہ بسلسلہ ملازمت وہاں قیام پذیر تھے ۔ مڈل تک تعلیم چک نمبر 97_6R تحصیل ہارون آ باد سے حاصل کی ۔ میٹرک کا امتحان 1966ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ہارون آ باد اور ایف اے کا امتحان 1969ء میں رضویہ اسلامیہ کالج ہارون آ باد سے پاس کیا ۔ بی اے کی سند 1972 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ بشیر جعفر صاحب نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ سے متاثر ہو کر 1972ء میں پاکستان آرمی میڈیکل کور میں نرسنگ اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت شروع کی ۔ مگر دو سال بعد ملازمت ترک کر دی ۔ 1976ء میں کالج آف ایجوکیشن ملتان سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا ۔ انہوں نے 1978ء میں ملازمت کا آغاز محکمہ تعلیم سے کیا ۔ ان کی پہلی تقرری گورنمنٹ مڈل سکول حاصل ضلع چکوال میں بطور ہیڈماسٹر ہوئی ۔ اس سکول میں پانچ سال تک فرائضِ منصبی انجام دیے ۔1984 ء میں انہیں اے ای او لاوہ متعین کر دیا گیا ۔ چھ سال بعد اے ای او ٹمن اور ازاں بعد اے ای او چکوال کی اسامیوں پر ذمہ داریاں ادا کیں ۔
بشیر جعفر صاحب نے دوران ملازمت تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور 1993ء میں کالج آ ف ایجوکیشن لاہور سے ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے کامیابیوں کا سفر طے کرتے ہوئے 1995ء میں PPSC کا امتحان پاس کیا ۔ انہیں گریڈ16سے گریڈ 18 میں ترقی دے کرگورنمنٹ ہائی سکول نارنگ ( چکوال ) کا سینئر ہیڈماسٹر تعینات کر دیا گیا ۔ ایک سال بعد گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان آ گئے ۔ 1997ء میں ڈپٹی ڈی ای او تلہ گنگ متعین کر دے گئے ۔ 1999ء میں دوبارہ گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان تبادلہ کر دیا گیا ۔ 2004ء میں ترقی پاکر ڈی ای او سکینڈری چکوال بنا دیے گئے ۔ 2007ء میں ان کی پوسٹنگ ڈی ای او ایلیمنٹری چکوال کر دی گئی ۔ بشیر جعفر تمام تر تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعد 2011ء میں EDO چکوال کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے ۔ انہوں نےایک ملاقات کے دوران شاعری کے حوالے سے بتایا کہ ایم اے اردو کی نصابی کتب کے مطالعہ کے دوران اردو شاعری میں طبع آزمائی کی ، چند غزلیں موزوں کیں ، لاہور اور کراچی کے ادبی رسائل میں اشاعت کے لئے ارسال کر دیں ، اولین کاوش کی پزیرائی سے حوصلہ افزائی ہوئی ، اس کے بعد اردو اور پنجابی شاعری کو جز وقتی مشغلہ کے طور پر اپنا لیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بزم دانش تلہ گنگ کی ماہانہ نشستوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے ۔ جناب سید منظور حیدر شاہ ، ملک مختار حیدر منظر ، پروفیسر اقبال حسین شاہ ، نور زمان ناوک ، خلش ہمدانی ، پروفیسر محمد اکبر خان نیازی ، ملک محمد اکرم ضیاء ، مظہر عباس ہمالیہ حکیم لال حسین صابر ، پروفیسر ڈاکٹر ملازم حسین اختر ، پروفیسر غلام شبیر شاکر ، محمد امین ذاہد ، محمد عزیز ہمدانی، صداقت شفیق ، ڈاکٹر محمد بن اکبر نیازی سلیم حیدر ، ظہیر احمد ظہیر ، اظہر علی ملک ، منیر احمد مصور ، عبد الرحمٰن شاد ، حسنین عاکف اور متعدد دیگر شعراء کو سننے اور محضوظ ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔
قارئین پروفیسر اقبال حسین شاہ صاحب کے وصال کے بعد بشیر جعفر بزم دانش تلہ گنگ کے صدر بنے ، ایوانِ ادب چکوال کے چیئرمین کے عہدہ پر فائز رہے ۔ قومی اخبارات روز نامہ جنگ ، روز نامہ نوائے وقت ، روز نامہ مساوات میں ان کا کلام شائع ہو تا رہا ہے ۔اردو ادب کے بیشتر رسائل میں ان کے مضامین ، نظمیں اور غزلیں شائع ہوئیں، ان میں اجراء کراچی ، نالہء دل ، فن زار ، الحمراء ، تخلیق ، آموزش ، لالہ صحرائی ، قابل ذکر ہیں ۔ مقامی اخبارات ہفت روزہ تلہ گنگ ٹائمز اور ہفت روزہ متقارب میں بھی ان کی ادبی کاوشیں چھپتی رہی ہیں ۔ بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ کے علاوہ لاہور ، راولپنڈی ، مری ، اسلام آباد ، سرگودھا اور چکوال کے مشاعروں میں متعدد مرتبہ کلام پیش کر چکے ہیں ۔ بشیر جعفر نے جناب سعید اختر ملک ، میڈم عائشہ مسعود ملک کے علاوہ درجن بھر دیگر احباب کی کتابوں کی تقاریب میں کنوینر کے طور پر فرائص سر انجام دیے ۔ وہ مشاعروں میں متعدد مرتبہ نقیب محفل کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں ۔ روزنامہ نوائے وقت کے ادبی صفحے کی انچارج میڈم عائشہ مسعود ملک صاحبہ کی تحریک میں منظوم مزاح نگاری کا آغاز کیا ۔ مارگلہ پنچ کے زیرِ عنوان ان کی طنز یہ ومزاحیہ نظمیں ، غزلیں نوائے وقت میں تین سال تک تواتر سے شائع ہوتی رہیں، ازاں بعد یہی نظمیں اور غزلیں ‘ ہنستے بسورتے لفظ ‘کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی گئیں ۔ سنجیدہ شاعری کے دو مجموعے ‘زلفوں میں نایاب سی خوشبو ‘اور ‘ عشق میری مجبوری ‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں ۔ بشیر جعفر کی کتاب زلفوں میں نایاب سی خوشبو (نظمیں ، غزلیں) الحق پبلیکیشز لاہور سے جنوری 2003ء میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کا دیباچہ وطن عزیز کے نامور ادیب اور شاعر جناب عطاء الحق قاسمی صاحب نے تحریر کیا ، وہ لکھتے ہیں:
بشیر جعفر حقیقتوں کے شاعر ہیں ۔ محض خیال آرائی ان کا شیوہ نہیں ۔ وہ جو کہتے ہیں کسی علامتی سہارے کے بغیر کہتے ہیں ۔ صنفِ شعر سے بالعموم اجتناب ہی برتتے ہیں ۔ ان کے موضوعات ہمارے ارد گرد سانس لیتے نظر آ تے ہیں ۔ان کے شعر کی تفہیم کے لئے ہمیں آ سمان تک پرواز کی ضرورت نہیں پڑتی، صرف اپنے اندر جھانک کر یا گردوپیش پر ایک نظر ڈال کر ہم ان کی بات آ سانی سے سمجھ جاتے ہیں ۔ بشیر جعفر لفظ کی معنویت اور اس کے استعمال کے ہنر سے خوب واقف ہیں ۔ دور ازکار تشبیہات سے گریز کرتے ہیں ، شستہ وشائستہ تراکیب اور مفہوم کی مناسبت سے بولتے الفاظ ان کے کام کا جوہر ہیں ۔ بے رس شاعری کو محض فنی چابک دستی قابل قبول نہیں بنا سکتی ۔ بشیر جعفر کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں فن سے ان کی شناسائی کا معترف ہونا پڑتا ہے وہاں قاری مسلسل ایک خوشگوار تاثر کی زد میں رہتا ہے ۔
عطاء الحق قاسمی
نمونہ کلام
زلفوں میں نایاب سی خوشبو سانسوں میں کستوری ہے
یارو اس کی زات سے عشق میری مجبوری ہے
دوچار گھروندے ہیں جو لو دیتے ہیں شب بھر
اس شہر میں دل والوں کی تعداد ہی کیا ہے
کو بکو اڑتی پھریں گی دامنوں کی دھجیاں
دشت والے شہر میں در آئے تو پھر دیکھنا
ٹوٹ جائیں گے بکھر جائیں گے شیشے کے یہ گھر
دست جعفر میں بھی پتھر آ یے تو پھر دیکھنا
بشیر جعفر صاحب کی کتاب ‘ ہنستے بسورتے لفظ’ اگست 2011ء میں شائع ہوئی ۔ کتاب کے دیباچہ میں قیوم طاہر لکھتے ہیں ۔
‘ہنستے بسورتے لفظ’بشیر جعفر کا اولین طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام ہے ۔ اس کی سنجیدہ شاعری تو کئی بار سنی اور پڑھی ہے لیکن مزاح کھبی کبھار صرف اخبارات میں دیکھا اور لطف اٹھایا ۔ یہ اندازہ ہر گز نہ تھا کہ اس کے ترکش میں مزاح کی نسبت سے ایسے ایسے تیر موجود ہیں ۔ در اصل تخلیقی عمل کی مثال اس دیگ کی سی ہے جس کے ایک چاول سے پوری دیگ کی لذت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ میرا خیال تھا بشیر جعفر محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے مزاحیہ اشعار لکھتا ہے ۔ اس کا کلام مسودے کی شکل میں سامنے آیا تو پتا چلا کہ وہ تو خالصتاً ایک کھری قسم کا مزاح گو شاعر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ دل کو یہ حقیقت تسلیم کر نے میں مشکل پیش آ ئی کہ اسے مزاح نگار شاعر مان لیا جائے ۔ لیکن اب جبکہ اس کا مسودہ میرے سامنے ہے اور میں اسے بغور پڑھ رہا ہوں تو اس کے گن کھل بھی رہے ہیں اور میں اسکے گن گا بھی رہا ہوں ۔ یہ اشعار پڑھنے کے بعد میرا تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اگر بشیر جعفر اس میدان میں نہ آ تا تو فکاہیہ ادب کے لئے ایک بڑا نقصان ہوتا۔ اس کی مزاحیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اس نے عام اور معمولی موضوعات کو بھی اپنے لفظوں کے ورتاوے سے خاص اور غیر معمولی بنادیا ہے ۔ اچھوتے قافیوں کے جلو میں متنوع موضوعات پر اس سلیقے سے مزاح تخلیق کیا گیا ہے کہ اس کے اس مجموعہ کلام کو اردو کے مزاحیہ ادب میں بلا خوف تردید ایک قابل قدر اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔
قیوم طاہر
اسی کتاب کے بارے میں معروف ماہر تعلیم اور شاعر جناب صداقت شفیق لکھتے ہیں۔
( اقتباس ) جعفر کی سنجیدہ شاعری کے راستے مزاحیہ شاعری کی راہ میں کہاں ، کیوں اور کیسے ضم ہوئے؟ کیا محض ذائقہ بدلنے کے لئے اس نے ایک بڑے حصار سے نسبتاً چھوٹے حصار میں زقند بھری ؟کیا آسازوں کے ہجوم میں اس سنجیدہ شاعری میں انفرادیت قائم رکھنا مشکل نظر آ یا تو اس نے ادھر کا رخ کیا ؟ کیا اس کی جودت طبع طنز و مزاح سے زیادہ لگا کھا تی تھی؟ کہیں اسکی مزاح گوئی کے پس منظر میں ہجر کے روگ اور نارسائی اور تشنگی کی کچھ ایسی پرچھائیاں تو نہیں جنہیں وہ سنجیدہ شاعری میں تصویرنہ کرسکا ؟ اس قبیل کے سوالوں کے جواب تو ظریفانہ شعروادب کا کوئی سکہ بند ناقد اور پارکھ ہی دے سکتا ہے لیکن اسکی مزاحیہ شاعری کے ابتدائی نقوش اور قہقہے اور مسکراہٹیں بانٹتی اٹھان سے یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس نے محض سنجیدہ خدو خال کی فرغل پہن رکھی تھی ۔ اس کے اندر کا کھلنڈرا ، نٹ کھٹ اورشوخ و شنگ بشیر جعفر زیادہ دیر چھپا نہ رہ سکا اور وہ نیم وا آنکھوں میں رقص کرتی ذہانت بھری شرارت کی پھلجھڑیاں چھوڑتا بالآخر مزاحیہ غزلوں ، نظموں کے تخلیق کار کی شکل میں ہمارے سامنے آ موجود ہوا ۔ اللہ کرے زور مزاح اور زیادہ ۔
صداقت شفیق
ڈاکٹر انعام الحق جاوید رقم طراز ہیں ۔
جناب بشیر جعفر صاحب مزاح کی دنیا میں اپنی کتاب کے ساتھ اچانک نمودار ہوئے ہیں اور مجھے حیرت ہے کہ طنزو مزاح کا محقق ہونے کے باوجود ، یہ اب تک مجھ سے کیسے چھپے رہے ۔ میں نے ان کی کتاب کا مسودہ تفصیلا پڑھا ہے ۔ اس کتاب میں شستہ ظنز ومزاح اور شائستہ مزاح کی تہہ در تہہ کئی پرتیں پائی جاتی ہیں ۔ کلام انتہائی پختہ ہے ۔ کوئی وجہ نہیں کہ خاص و عام کی توجہ کھینچنے میں کامیاب نہ ہو اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سلسلہ کو جاری رکھیں گے ۔ بشیر جعفر کا نوکرانی سے خطاب پر مبنی قطعہ ؛ننگے پاؤں کیوں پھرو؟ ہم نے کہا؛ جیب میں رکھتے ہیں ہم پیسے بہت ؛ مسکرا دی اور پھر کہنے لگی ؛ سر سلامت آ پ کا ، جوتے بہت ۔
ڈاکٹر انعام الحق جاوید
بشیرجعفر صاحب کی دعائیہ غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔
مری دھوپ کو بھی گداز دے مرے کرب کو بھی تمام کر
کوئی سایہ لطفِ عمیم کا سر دشت غم مرے نام کر
مری روسیاہی سے روٹھ کر نہ رلا مجھے، نہ گنوا مجھے
مری راحتیں مجھے پھیر دے ، مجے تھام مجھ سے کلام کر
یہ جو بوند بوند ٹپک رہی ییں مری جبیں سے ندامتیں
سر باب لطف و قبولیت انہیں بہرہ مند مقام کر
تری فرصتوں کا بس ایک پل مری سرخوشی کا دوام ہے
مری ارض دل پہ اتر کبھی مرے شہر جاں میں قیام کر
تری زر نگار کتاب میں جو دمک رہی ہیں ورق ورق
انہی آیتوں ، انہی حکمتوں کو مرے جہاں کا نظام کر
تیری رحمتوں نے امر کیا ہے سرود میرو منیر کو
خدو خال شعر بشیر کو بھی عطا ثبات دوام کر
ان دنوں بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ میں قیام پذیر ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے آمین ۔
کمپیوٹر لیب اینڈ بوائز سکول بلڈنگ کی افتتاحی تقریب
تحریر : محمد فاروق خان
اتحاد ویلفئر سوسائیٹی کھوئیاں ۔
۔ ” اے جذبہ جنوں!
تو ہمت نہ ہار ۔۔۔
اگر اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر دیکھنی ہو
تو اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں کو دیکھ لیا جائے
پچھلے 5 سالوں میں اس تنظیم کے نوجوانوں نے جسطرح خدمت خلق کے جذبے سے لبریز ہوکر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گاؤں کی تقدیر بدلی ہے ۔
اپنے گاؤں کے باسیوں کیلئے معیار تعلیم اور معیار زندگی کو بہتر کیا ہے ۔
وہ اپنی مثال آپ ہے ۔
اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں کی بے شمار کامیابیوں میں سے ایک شاندار کامیابی کی افتتاحی تقریب 13 مارچ 2023 بروز سوموار کو بوائز ہائی سکول کھوئیاں میں منعقد ہوئی ۔
اس تاریخی تقریب کا مقصد اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں کیطرف سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کھوئیاں میں کمپیوٹر لیب اور سکول بلڈنگ (دو کلاس روم اور برآمدہ) کے مکمل ہونے کے بعد کمپیوٹر لیب اور سکول بلڈنگ کا افتتاح کرنا تھا ۔
افتتاحی تقریب میں اہلیان کھوئیاں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کرکے تقریب کو چارچاند لگا دئے ۔
۔ تحصیل تلہ گنگ کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب، پروفیسر صابر حیات پرنسپل Superior College تلہ گنگ، ٹمن ویلفیئر سوسائٹی، چنیجی ویلفیئر سوسائٹی، سگھر ویلفیئر سوسائٹی، ملتان خورد ویلفئیر سوسائٹی، دندی ویلفیئر سوسائٹی، نیشنل سروسز ٹرسٹ اسلام آباد کے چیرمین ملک محمد فاروق خان۔ضلع تلہ گنگ سوشل ویلفیئر آفیسر، صحافی برادری، کرنل محمد افضل، ڈاکٹر عابدہ ملک، ڈاکٹر نعیم آفتاب احمد، الطاف خان، نسیم ملک خان صاحبہ اور طاہرہ حیات سوشل ورکر/ سوشل آرگنائزر، Shed Organization پچنند (تحصیل لاوہ) نے بھی اس تقریب میں شرکت کرکے پروگرام کو خصوصی رونق بخشی ۔
45 لاکھ کی خطیر رقم سے تیار ہونے والی سکول بلڈنگ اور جدید قسم کی کمپیوٹر لیب کے قیام سے کھوئیاں ہائی سکول کے سٹوڈنٹس کو کمپیوٹر کی جدید تعلیم حاصل کرکے اپنے تعلیمی کیرئیر میں مدد ملے گی۔
اور انکی Skills میں اضافہ ہوگا ۔
اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں بلاشبہ اس وقت اپنے ضلع کی سب سے بہترین ویلفئیر سوسائیٹی ہے ۔
اور گردونواح کی تمام سوسائیٹز کیلئے ایک رول ماڈل کا مقام حاصل کر چکی ہے ۔
جو کہ 24/7 اپنے گاؤں میں معیار زندگی کو بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔
۔ کل کے اس شاندار افتتاحی پروگرام کے انعقاد پر IWSK کی ایجوکیشن کمیٹی ہیڈ سعید احمد ملک، نسیم خان ملک، ڈاکٹر عابدہ ملک، استاد مسعود صاحب، سکول ہیڈ ماسٹر صاحب، چئیرمین ثاقب جمیل، وائس چیئرمین ناصر حسین، وائس چئیرمین جاوید ذیشان، بانی تنظیم امیر معاویہ، سرپرست اعلی حاجی رفیق سلطان، بانی تنظیم ملک جی ایم اعوان، اور دیگر ایگزیکٹو ممبران (شفقت حسین، قیصر ملک، مہتاب احمد، ارشد محمود، رفاقت حسین، مدثر عارف)، ٹیم IWSK ممبران، سکول انتظامیہ، اساتذہ کرام، اور اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کی انتظامی امور کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم سپیشل داد کی مستحق ہے ۔
ادب کا میلہ لگے یا کتابوں کاشہر سجےہماری یاداشت کا گوگل جبی شاہ دلاور کا میلہ ڈھونڈ کرسامنے لے آتا ہے۔جبی میلے کئی دہائیوں تک علاقائی تفریح کا واحد ذریعہ رہاجس سےعلاقائی ثقافت کو سہارااور کاروبار ی ترقی کو سنبھالا ملا۔جبی میلے پر کتابوں کے سٹال تو کبھی نہ لگے البتہ کتابی چہرے اور ثقافتی ماڈلز گڑ کی ریوڑیوں کے سٹال پہ ضرور دیکھے جاتےتھے۔نئے ضلع تلہ گنگ کو پاکستان کے نقشے پر نمایاں اور منفرد کرنے کے لئے لٹریری فیسٹیول کا انعقاد خوش آئند ہے۔منتظمین میلہ اور قومی ادب کی نامور شخصیات کو خوش آمدید۔اس میلے کی وساطت سے ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ ادب کے سالاراس دھرتی پر بھی ادب کے بیج بوئیں گے تاکہ جب اگلی گلاب رتوں میں وہ دوبارہ آئیں تو انہیں ادب کے سرخ گلابوں کی مہک محسوس ہو۔
تلہ گنگ پروفیشنلزنیٹ ورک کے میلے سے پہلے سعید اختر ملک دڑبٹہ میں قومی سطح کے کامیاب مشاعرے کا انعقاد کر چکے ہیں جسے علاقائی طور پر خوب پذیرائی ملی۔اب تلہ گنگ میں ادبی میلے کا پہلامنفردتجربہ یقینا علاقائی پسندیدگی کا باعث بنے گا۔ مقامی ثقافت بھی اپنا رنگ جمائے گی ڈھول کی تھاپ،شہنائی کی گونج اورلاوہ تلہ گنگ کی لڈی میلہ لوٹ لے جائے گی۔منتظمین میلہ اور ادب کی منفرد شخصیات میں بیوروکریٹک ٹچ نمایاں ہے شاید اسی لئے وہ علاقے سے کسی نامعلوم و بے نام( شاکر شجاع آبادی) کو حالات کے کرب سے نکال کر آسمان ادب تک نہ لا سکے شاید بہت سارا بے نام ٹیلنٹ جسے کھوجنے کی ضرورت تھی محروم اور ما یوس رہ جائے گا۔
ادب کے دائرے سے باہر کھڑے ہم جیسے لوگ جو ادب کی تعریف کرنےسے بھی نا بلد ہیں وہ ادب اور ادبی میلے کا احاطہ کیسے کرسکتے ہیں؟ ادب کو جاننے کے لئے ادب کے درباروں سے فیض یاب ہونے کی ضرورت ہے۔(کارڈینل نیومن )کے بقول انسانی افکار و احساسات کا زبان اور افکار کے ذریعے اظہار ادب کہلاتا ہےجبکہ (میتھیو آرنلڈ )ہر اس علم کو جو کتاب کے ذریعے ہم تک پہنچے ادب قرار دیتا ہے۔(والٹر پیٹر )کا خیال ہے کہ ادب واقعات یا حقائق کو صرف پیش کر دینے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لئے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔ادیب جس میں ادراک کی صلاحیت اور اظہار کی قوت بھی ہوتی ہے۔ادیب کا کردار انفرادی اور ذاتی ہونے کے ساتھ ساتھ آفاقی بھی ہوتا ہے۔ادیب اور ادب معاشرتی ذمہ داریوں سے لا تعلق نہیں رہ سکتے۔
جب سیاست دان طاقت کے تخت پر قبضے کی جنگ میں دست و گریباں ہوں اور جمہوریت صرف تقریروں اور تحریروں میں شرمندہ ہو رہی ہو۔جب حالات کا جبر بے یقینی پیدا کر رہا ہو۔جب سفید پوشوں کو مہنگائی سے عزت نفس کے مجروح ہونے کا یقین پختہ ہو رہا ہو۔قوت خرید دم توڑ رہی ہو۔جب دشت زندگی میں کوئی شجر سایہ دار کم کم میسر ہو۔ جب ظلم کے سامنے حق پیش کرنے والے نا پید ہونے لگیں۔دہلیز پہ سستا اور فوری انصاف والا سلوگن اپنی موت آپ مر جائے تو لازم ہے کہ معاشرتی جمود کو ادبی ارتعاش سے متحرک کیا جائے۔
اہل دانش کوتدبر کرنا ہوگا کہ عہد رفتہ میں ادب نےمعاشرے کو کیا دیا اور مستقبل قریب میں ادب کیا کچھ دینے والا ہے۔ ۔مزاحمتی ادب مزاحمت سے نا آشنا ہورہا ہے ۔ ادیب اور شاعرکی عزت نفس بھی خطرے میں ہے ۔ کتاب بھی اشاعت سے گریزاں ہونے کو ہے۔ادب کو شخصی دائروں میں بند رکھ کر تواصی بالحق سے گریزاں نہیں ہونا چاہئے،ادب جب ظلم و ناانصافی کا ادبی حصار نہ کر سکے اور معاشرے کو تنہا چھوڑ دے تو ادب کے لئےلمحہ فکریہ ہو جاتاہے۔ادب اگر بے لگام سیاستوں کو ویژن نہیں دیتا اور نوجوان کو اقبال کا شاہین نہیں بناتا۔بے یقینی کو یقین کی دولت سے سرفراز نہیں کرتا تو ادب کو نئی تحریک دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ادب کو بے ضرر امن کا خرگوش بھی رہنا چاہئے لیکن کبھی کبھی ادب کے شیر کی دھاڑ بھی سنائی دینی چاہیے تاکہ طاقت اور اختیار کے فرعونوں کو ادب سے بھی خطرہ محسوس ہو۔ادب برگر کی طرح نہیں ہونا چاہئے کہ فوڈ سٹریٹ میں جا کر کھایا جائے اور کولڈ ڈرنک پی کر گھر چلا جائے۔ادب کامعاشرتی کردار ہونا چاہئے ، جسےنظر بھی آنا چاہیے اور انسانیت کو مستفید بھی کرنا چاہیے ۔ادب کی طاقت مصلحت اور مفاد کے طابع نہیں ہونی چاہیے۔ادب پر معاشرتی اعتبار قائم رہنا چاہئے۔ ادب کو اجتماعی طاقت اور حرمت ادب کی طرف بڑھنا ہوگا۔ادب کو بھی عاشق مست جلالی ہونا چاہئے۔
تاریخی تھانہ ٹمن اور ایس ایچ او کی دبنگ کاروائی ( شاہد اعوان)
تھانہ ٹمن کا شمار ضلع تلہ گنگ کے تاریخی اور قدیم ترین تھانوں میں ہو تا ہے انگریز عہد کا یہ تھانہ تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ افسانوی کہانیوں کا حامل رہا ہے۔ کسی زمانے میں جب پولیس کے پاس ابھی گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں تو دور دراز دیہاتوں تک پہنچنے کے لئے تھانیدار یا تو سرکاری گھوڑے کا استعمال کرتا یا سائلین کی طرف سے فراہم کردہ گھوڑے پر متعلقہ علاقہ میں جاتا۔ ایوبی دور میں ملک محمد خان ڈھرنال اسی تھانے کے متعلقہ کیسوں کے فیصلے کیا کرتے تھے یہ عدالتیں عموماٌ رات کے پچھلے پہر لگا کرتی تھیں اور ملک محمد خان کے فیصلوں کو عدالتوں یا تھانوں میں چیلنج بھی نہیں کیا جاتا تھا ۔ اس زمانے میں جب انجرا سے تلہ گنگ تک دن مین صرف ایک ہی بس چلا کرتی تھی جس کی فرنٹ سیٹ عموماٌ خالی ہوا کرتی تھی اس سیٹ پر صرف ایس ایچ او تھانہ ٹمن کا استحقاق تھا اور سیٹ پر باقاعدہ لکھاہوتا تھا کہ یہ سیٹ SHOکے لئے مختص ہے۔ اس زمانے میں اسی حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بھی رونما ہوا تھا ہوا کچھ یوں کہ مذکورہ بس تلہ گنگ سے واپس آرہی تھی جب بس ٹمن تھانہ کے سامنے پہنچی تو پولیس اہلکاروں نے بس ڈرائیور کو حکم دیا کہ SHOصاحب نے تلہ گنگ جانا ہے مسافروں کو یہیں اتارو اور تلہ گنگ واپس چلو۔ بس اتنا سننا تھا مسافر خاموشی کے ساتھ بس سے اتر گئے لیکن بس میں سوار ایک نوجوان طالبعلم جس کا نام شہباز خان تھا، بس کے اندر بیٹھا رہا اور اترنے سے انکار کر دیا۔ ڈرائیور نے اسے بڑا سمجھایا کہ باقی سواریوں کی طرح آپ بھی یہیں اتر جائیں۔ مگر وہ پڑھا لکھا نوجوان بضد تھا کہ مسافروں کو اتار کر بس واپس آجائے گی کیونکہ تراپ اور انجرا کے مسافر بھی بس میں سوار تھے۔ اس سے قبل کہ معاملات مزید بگڑتے تھانیدار نے سٹوڈنٹ کے سامنے ہار مان لی اور یوں جیت طالبعلم شہباز خان کی ہوئی۔۔۔ اس دور میں ایک عام سے طالبعلم کا تھانیدار کے سامنے یوں ڈٹ جانا اور پھر اس سے اپنی بات منوا لینا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا ۔ خیر بس جب ملتان خورد سٹاپ پر پہنچی تو بس ڈرائیور نے تمام مسافروں کو وہاں اتارا اور واپس تھانہ ٹمن کا رخ کیا ۔ اس اصول پسند طالبعلم کا نام شہباز خان تھا جو تلہ گنگ کے ایک غیر معروف گائوں’ کھوئیاں‘ کا رہنے والا تھا جس نے گارڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن کے بعد سکالرشپ حاصل کی اور اس طرح ضلع اٹک کا پہلا پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ ڈاکٹر ملک شہباز خان کھوئیاں اور گردونواح کے پہلے ماہر تعلیم تھے جو تقریباٌ 50سال امریکہ میں یونیورسٹی کے پروفیسر رہے ۔ خیر بات کہیں اور نکل گئی، ہمارا موضوعِ سخن چند روز قبل تھانہ ٹمن کے علاقہ کوٹ گلہ میں منظم ڈکیتیاں کرنے والا غیر ملکی گروہ پکڑا گیا جہاں تھانہ انچارج نوجوان سب انسپکٹر نعمان تعینات ہے جس کی نیک نامی کے بڑے چرچے ہیں۔ موصوف نے ان وارداتوں کا ’’کھرا‘‘ لگانے کے لئے نہایت دانشمندی دکھاتے ہوئے سب سے پہلے گائوں والوں کو اعتماد میں لیا کیونکہ علاقہ میں کئی ماہ سے پالتو جانور چوری کی وارداتیں مسلسل ہو رہی تھیں ۔ کوٹ گلہ کے رہائشیوں نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی حامی بھر لی اور بالآخر کئی ماہ سے جانور چوری کرنے والا چار رکنی غیر ملکی گروہ پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اہل علاقہ نے سب سے پہلے تو پکڑے جانے والے ان افغان نژاد چوروں کی خوب درگت بنائی کیونکہ پکڑے جانے والے ڈاکو افغانی نژاد بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ افغانی پورے ملک میں سرعام دندناتے پھر تے ہیں، تلہ گنگ کے دیہی علاقوں میں مقامی افراد کا طرزِ زندگی قبائلیوں کی طرح ہے ڈھوکوں میں رہنے والے اپنی زمینوں میں وسیع و عریض گھر بناتے ہیں جس کا کوئی داخلی گیٹ یا دروازہ نہیں ہوتا اور پالتو جانور گھروں کے کشادہ صحنوں میں باندھے جاتے ہیں جس کا بھرپور فائدہ باہر سے نئے آنے والے افغانی اٹھا رہے ہیں اور ان کے پاس اسلحہ بھی ہوتاہے ۔ ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ افغانی درخت خریدتے ہیں انہوں نے علاقہ سے درختوں کا صفایا کر دیا ہے اور مقامی لوگ لالچ میں دھڑا دھڑ درخت بیچ رہے ہیں، اکثر زمینداروں نے ان افغانیوں کو رہائش کے لئے مفت گھر بھی دے رکھے ہیں جس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر یہ غیر ملکی ایک تیر سے کئی شکار کر رہے ہیں۔ افغانیوں نے اس علاقے کا کلچر مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے زمینوں میں ان کی بھیڑیں چرتی ہیں اور منع کرنے پر نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ ہم ان سطور کے ذریعےSHOنعمان کو اس سلسلہ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے انتہائی مہارت سے افغان چوروں کا یہ گروہ پکڑا، لیکن ساتھ ساتھ ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی کہ ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟ مقامی سیاسی اکابرین کو بھی چاہئے کہ ان عناصر پر ترس نہ کھائیں اگر انہیں زیادہ شوق ہے تو صرف ایک بار ذرا کابل کا چکر لگا آئیں اگر تو زندہ بچ گئے تو پھر افغانیوں کو اپنی زمینیں اورگھر ضرور دیں اور ان کی مہمان نوازی خوب دل کھول کر کریں مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قوم وفاداری کے معنی سے مبرا ہے۔ مذکورہ کاروائی پر پولیس کے ساتھ تعاون کرنے والے نوجوانوں اور پولیس اہلکاروں کو ڈی پی او کی طرف سے انعام و اکرام سے بھی نوازا جانا چاہئے جنہوں نے بڑی بہادری سے علاقہ میں امن و امان اور جرائم کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیاہے۔ آئی جی پنجاب کو بھی چاہئے کہ ایس ایچ او ٹمن کو تعریفی اسناد اور نقد انعام دیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ شاباش SHOٹمن شاباش!!
بعض پھل پودے کیاریوں میں قرینے سے لگائے جاتے ہیں مگر بعض خودرو بھی ہوتے ہیں آپ ہی آپ جنگلوں بیابانوں میں پتھروں کے بیچوں بیچ اگ جاتے ہیں اس کے لئے نہ زمین کو تیار کرنے کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے نہ ہی کھاد اور پانی کی ضرورت پڑتی ہے، ایسے پھولوں پر موسمی اثرات بھی اثر انداز نہیں ہوتے پھر بھی ان پھولوں کی تازگی اور دل کو بھا لینے والی خوشبو، رعنائی اور دلکشی دیدنی ہوتی ہے ۔ کہتے ہیں ٹیلنٹ وہ سورج ہے جسے ہاتھوں کی اوٹ سے چھپایا نہیں جا سکتا شرط فقط اتنی ہے کہ موقع میسر آجائے ۔ بقول گلزار بخاری بس یوں کرو سیپ مہیا کرو ہمیں قطرے بنیں گے کیسے گہر، ہم پہ چھوڑ دو بندہ فقیر نے زندگی میں چار طرح کے انسان دیکھے ہیں پہلے وہ جو دریا کی لہروں کے ساتھ چپ چاپ بہتے چلے جاتے ہیں دوسرے وہ جو بہاؤ کے مخالف سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تیسرے وہ جو دریا کے بیچوں بیچ ہی اپنے وجود کی چٹان بنت کر دیتے ہیں اور چوتھے وہ جو یہاں سو رہے تھے یعنی اپنی زندگیوں میں ہی نفس کا دریا عبور کر کے انسانیت کا بیڑا پار لگا دیتے ہیں۔ گزشتہ روز ایسی ہی ایک نابغہ روزگار شخصیت سے شرفِ ملاقات ہوا اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مذکورہ چاروں صفات میں سے وہ کس رتبے پر فائز ہیں۔ خوشبوؤں کے اس سفیر کا نام مصور احمد خان نیازی ہے وہ دنیاوی مرتبے کے لحاظ سے ڈپٹی کمشنر ہیں اور آج کل نئے وجود میں آنے والے ضلع تلہ گنگ کے پہلے ڈپٹی کمشنر تعینات ہیں۔ موصوف سے غائبانہ تعارف تو پہلے سے تھا کہ وہ ممتاز بیوروکریٹ ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کے بھانجے ہیں ان کے دوکزن ڈپٹی کمشنر اور ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمقدم ہیں۔ ڈاکٹر لیاقت علی خان کا یہ وصف ہے کہ وہ بیوروکریسی کے تکبر میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے وہ جہاں بھی رہے انہوں نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں آج بھی اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے وہ دیگر بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ علم و ادب سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کے کالموں کو پڑھ کر فقیر کو لکھنے کا شوق ہوا ۔ مصور احمد خان کو مل کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ بھی اپنے ماموں کی طرح علم و ادب کے دلدادہ نکلے اور پہلی ہی نشست میں ہماری گفتگو کا محور کتاب اور کتاب دوستی رہی، وہ اپنی تعیناتی کے چند ماہ ہی میں اپنے ذوقِ سلیم سے وہ خوشگوار تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں ان کے دفتر سے لے کر دیگر افسران کے دفاتر کی تعزین و آرائش بھی شامل ہے غالب گمان ہے کہ گزشتہ سال یہاں آنے والا کوئی شخص نئے دفاتر کو دیکھ کر یہ کہہ اٹھے کہ شاید وہ کسی دوسرے دفتر میں آ گیا ہے ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) راجہ عدنان نے یہاں آکر دفاتر کی تعزین و آرائش کا بیڑا اٹھایا اور اب وہاں جا کر پتہ چلتا ہے کہ نیازی صاحب اور راجہ صاحب نے دن رات ایک کر کے ماحول کو پروقار بنا دیا ہے۔ ڈی سی صاحب نے نیا کانفرنس روم بھی دکھایا وہاں نیا فرنیچر نصب ہو چکا ہے اسی طرح دیگر دفاتر بھی تقریباٌ مکمل ہیں ان دفاتر کی دنوں میں تکمیل پر یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ ضلعی کمپلیکس تلہ گنگ کی عمارت کتنی عالیشان اور خوبصورت ہو گی۔ اس حوالے سے سابق صوبائی وزیر و بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کی دوررس نگاہوں کو داد دینا پڑتی ہے جنہوں نے اپنے ضلع کے لئے ان اچھی شہرت کے حامل روشن چہرہ افسران کا چناؤ کیا ہے جو محض آرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر احکامات جاری کرنے کے قائل نہیں بلکہ ان کے طرز عمل نے شہر کو ان خطوط پر استوار کر دیا ہے کہ تلہ گنگ اب بڑے شہروں میں شمار ہونے لگا ہے تجاوزات ، ریڑھی اور رکشوں کی بھرمار کے خاتمے سے ایک خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوتا ہے۔ اس ضمن میں شہریوں کی بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے کہ افسران تو آتے جاتے رہتے ہیں ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہمیں اپنا کردارا دا کر نا چاہئے اس سلسلہ میں گاڑیوں کی پارکنگ اور تجاوزات کے خاتمے میں تاجروں اور شہریوں کو اپنے حصے کا کام کرنا چاہئے۔ ہمیں تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ایسے ذمہ دار اور فرض شناس افسران ہمیں میسر آئے ہیں ۔ نیازی صاحب بتا رہے تھے کہ وہ تلہ گنگ کی تاریخ مرتب کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، یہ کام تو تلہ گنگ والوں کو بہت پہلے کر لینا چاپئے تھا تاہم وہ اس احسن ذمہ داری کو نبھانے کے لئے میدانِ عمل میں نکل کھڑے ہوئے ہیں اللہ ان کی خواہش و سعی میں برکتیں فرمائے ۔ موصوف تلہ گنگ کے اہلِ قلم کا ایک اجلاس بھی بلا رہے ہیں ہم سب کو مل کر یہ فریضہ انجام دینا ہو گا تاکہ نئی نسل جو سوشل میڈیا کے بخار میں ’’تپ‘‘ رہی ہے اسے کتاب بینی کی جانب واپس لایا جا سکے۔ مولائے رومؒ فرماتے ہیں: شاد باش اے عشق خوش سودائے ما اے علاج جملہ علت ہائے ما اے دوائے نخوت و ناموس ما اے تو افلاطون و جالینوس ما