میرا گاؤں میری جنت

شاہد اعوان، بلاتامل

پاکستان کی 70%سے زائد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے جس میں بیشتر کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ۔ دیہات کے جفاکش کسان محنت کر کے غلہ اگاتے ہیں اور پورے ملک کے لئے اناج فراہم کرتے ہیں۔ جہاں جہاں وسیع رقبے ہیں وہاں کے بڑے زمینداروں کو جاگیردار یا سردار کہاجاتا ہے، کچھ ریٹائر فوجی افسران کو جاگیریں الاٹ ہوتی ہیں، جاگیرداروں کے علاوہ کم زمین کے مالکان کو زمیندار کہاجاتا ہے جو بمشکل اپنی زندگی گزر بسر کرتے ہیں ان کی معاشرتی زندگی بڑی دشوار گزار ہوتی ہے۔ بقول شاعر:
دہقاں ہے کسی قبرکا اُگلا ہوا مردہ
کفن جس کا ابھی زیر زمین ہے
ابتدائیہ تو دیہاتی زندگی کا ایک اجمالی نقشہ ہے اصل موضوع تو میرا گاؤں اور خدمت کے جذبے سے سرشار گاؤں کے بے لوث نوجوانوں کے ایک گروپ کا تذکرہ ہے جن کے دلوں میں قدرت نے اپنے گاؤں کی محرومیوں اور ناہمواریوں پر ماتم کرنے اور حکومتوں کے آگے دست نگر ہونے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی مٹی کا قرض اتارنے کی امنگ پیدا کی ۔ اس سے قبل کہ ان بہادر اور غیور دیہاتی نوجوانوں کے کارنامے بیان کروں اپنے گاوں کے تعارف کے لئے چند سطریں لکھنا ضروری ہیں۔ میرا آبائی گاؤں’کھوئیاں‘ تحصیل تلہ گنگ کے پسماندہ ترین دیہاتوں میںشمار ہوتا ہے یہ گاؤں تلہ گنگ کے معروف قصبہ’ ٹمن‘ کی حدود ختم ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اسی گاوں میں میرا بچپن اور لڑکپن گزرا تاہم باقی کی ساری زندگی پردیس کی خاک چھانتے گزر گئی ہے۔ کھوئیاں کا شمار ان تاریخی دیہاتوں میں ہوتا ہے جہاں مغلیہ دور یا اس سے قبل کے زمانے کے آثار نمایاں ہیں، شیر شاہ سوری نے جہاں پشاور سے کلکتہ تک جی ٹی روڈ کی بنیاد رکھی وہاں اطراف میں جی ٹی روڈ تک پہنچنے کے لئے رابطہ سڑکوں کی تعمیرات بھی کی۔ دریائے سواں کے پار واقع موضع تراپ جو اب ’سی پیک‘راہداری کی وجہ سے معروف ہو چکا ہے وہاں شیر شاہ سوری کے زمانے کی ایک ’’باؤلی‘‘تھی جسے ہم مقامی زبان میں ’’واں‘‘ کہتے ہیں ، یہ دراصل ایسا اندھا کنواں ہوتا ہے جسے انسانوں کے علاوہ گھوڑوں اور ہاتھیوں وغیرہ کے پینے کے پانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا جس میں اترنے کے لئے سینکڑوں سیڑھیاں بنائی جاتی تھیں جہاں سے انسان بھی آسانی سے پانی بھر لیتے تھے اور جانور بھی خود نیچے اتر کر پانی نوشِ جاں کرلیتے۔ تراپ سے آگے ملتان خوردمیں بھی ایسی ہی ایک ’’واں‘‘ موجود تھی جب ہم بچپن میں ملتان خورد پڑھنے جایا کرتے تھے تو یہ ہمارے راستے میں آتی تھی اور مقامی لوگ وہاں سے پانی حاصل کیا کرتے تھے اب شاید اسے بند کر دیا گیا ہے۔ البتہ ہمارے دوست اسسٹنٹ کمشنر جنڈ عدنان انجم راجہ نے ایک ملاقات میں بتایا کہ انہوں نے تراپ کے مقام پر اس تاریخی کنویں کو محفوظ کر کے دلکش بنا دیا ہے ۔ ہم ان سطور کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ ندیم بلوچ سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ملتان خورد کے اس قدیم تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
خیر بات ہو رہی تھی میرے گاؤں کی، تو ٹمن سے شروع ہونے والا ایک برساتی نالہ ’’منجالہ‘‘ کھوئیاں اور ملتان خورد سے گزر کر شاہ محمد والی کے مقام پر دریائے سواں میں جا گرتا تھا اب ’’منجالہ‘‘ بھی تاریخی ورثہ نہیں رہا قبضہ گروپوں نے اس ورثے کو یرغمال بنا لیا ہے۔ میری عمر یا اس سے زائد عمر کے لوگوں نے اس برساتی نالے کے جو نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں وہ اب خواب معلوم ہوتے ہیں۔ اپنی جنم بھومی کے بارے لکھتے لکھتے شاید جذباتی ہو گیاہوں، کالم کے آغاز میں گاؤں کے ان ہونہار نوجوانوں کا ذکر کیا تھا جنہوں نے اپنے گاؤں کی پسماندگی کو ختم کرنے کے لئے 2018ء میں ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کو ’اتحاد ویلفیئر سوسائٹی کھوئیاں‘ کا نام دیا گیا یہ تنظیم ان نوجوانوں کے زرخیز ذہنوں کی اپنی اختراع تھی جس کا پہلے پہل لوگوں نے مذاق بنایا جیسا کہ رفاعی کاموں کے آغاز میں عموماٌ ہوا کرتا ہے اس تنظیم کے بانیوں میں ملک جاوید اقبال سیارا، ملک مختار احمد، ملک منیر احمد، حمزہ اوردیگر شامل تھے۔ اس ویلفیئر سوسائٹی کی سرپرستی گاؤں کی معروف فیملی کے ملک شہبا ز خان جو عرصہ دراز سے امریکہ میں مقیم ہیں اور پیشے کے اعتبار سے طب کے شعبے سے منسلک ہیں ، جبکہ اس خاندان کی ہونہار بیٹی ڈاکٹر عابدہ ملک نے کرنا شروع کی جو اب بھی جاری ہے ۔ چند ماہ قبل جب بذریعہ سوشل میڈیا ان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بھلائی کے اس کام میں ’’شریک کار ‘‘ ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ سب کچھ گاؤں کے نوجوان کر رہے ہیں۔ ان کی اس بات نے میرے چودہ طبق روشن کر دئیے کہ اصل صدقہ جاریہ اور ثواب کمانے کا یہی انداز ہونا چاہئے کہ بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کسی کی مدد کی ہے۔ بہرکیف یہ ان کا بڑا پن ہے اور اپنے گاؤں سے عقیدت و محبت کا ایک انوکھا اظہار ہے اللہ ان کے عمل و کردار کو مزید دوام بخشے۔ مذکورہ تنظیمی نوجوانوں نے سب سے پہلے گاؤں کی گلیوں کو ایسا پختہ کیا کہ وہ کئی سالوں تک مرمت کی محتاج نہیں رہیں جسے گاؤں کے ’’سیانوں‘‘ نے سیاسی رنگ بھی دینے کی کوشش کی ہو گی مگر ان نوجوانوں کی نیت صاف اور ارادے پختہ تھے اور ان کے دل میں صرف اللہ کی خوشنودی اور اپنی جنم دھرتی کے لئے کچھ کر گزرنے کا جنون سوار تھا۔ اس تنظیم کے تحت انہوں نے گاؤں کے چند نادار بے گھر افراد کو مکان بھی بنا کر دئیے اور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں بلکہ اس میں مزید رنگ بھرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ گاؤـں کو ماحولیاتی پاکیزگی کے لئے روڈ کے اطراف سایہ دار درخت لگانے کے کام کا آغاز کیا گیا، قبرستان میں درخت لگائے جا چکے ہیں، گاؤں کی حدود میں لاری اڈے کے اطراف میں کھجور کے خوبصورت پودے لگائے گئے ہیں اور ان کی آبیاری کا خاطر خواہ انتظام بھی کیا گیا ہے اب وہاں سے گزرنے والے ہزاروں افراد اس خوشگوار تبدیلی کو دیکھ کر پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اس سب کے پس پردہ آخر کون ہے؟ کیونکہ یہاں پر کسی سیاسی شخصیت کے نام کی تختی نظر نہیں آتی یقینا یہ سب ان بے لوث نوجوانوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
زمانہ قدیم میں اس تاریخی گاؤں کی واحد گزرگاہ یقینا برساتی نالہ ’’منجالہ‘‘ ہی رہا ہوگا جو تلہ گنگ تک جاتا ہو گا اس سے آگے ٹمن کا نالہ ’’انڈکر‘‘ بھی ہے جہاں موسم برسات میں اتنا پانی آجاتا کہ کئی کئی روز یہ علاقہ تلہ گنگ سے کٹ کر رہ جاتا تھا۔ چند روز قبل اتحا دویلفیئر سوسائٹی کھوئیاں کے روحِ رواں ملک مختار احمد اور عزیزم حسن ناصر نے فقیر کو دعوت دی کہ وہ17جولائی کو گاؤں میں فری میڈیکل کیمپ لگا رہے ہیں جس میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز لاہور سے تشریف لائیں گے، دنیاوی جھمیلوں کے باعث اس کیمپ میں شرکت کے لئے نہ جا سکا۔ یہ تنظیم اب صرف ضلع چکوال تک محدود نہیں بلکہ پنجاب بھر میں اپنی مثال آپ ہے جس کے لئے گاؤں کے مکینوں نے ایسی مثال قائم کی ہے جو دیگر دیہاتوں کے رہنے والوں کے لئے ایک مثال ہے۔ کھوئیاں کے یہ نوجوان علاقہ کے لئے باعث صدر افتخار ہیں ان کی تعریف و توصیف ہم پر لازم ہے، البتہ گاؤں پر تحقیق کی ذمہ داری میرے عزیز بھتیجے نوجوان صحافی حسن ناصر اور ان کے دوست ملک لیاقت اعوان کے سپرد کرنا چاہتا ہوں کہ وہ گاؤں کے بزرگوں سے رابطہ کر کے اپنے گاؤں پر ایک تحقیق مرتب کریں اس مقصد کے لئے ہمارے استاد محترم ملک فتح خان مرحوم و مغفور کے خانوادے کے ملک محمد اسلم سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہماری نوجوان نسل کے اس نیک مشن میں مزید برکتیں اور ثابت قدمی عطا فرمائے ۔

Shahid-Bla-Ta-Amul

شاہد اعوان

شاہد اعوان

Next Post

مقبول ذکی مقبول کی منتہائے فکر

جمعہ جولائی 22 , 2022
فکر و نظر کے پھول جب الہام میں خوشبو کے جھونکے لاتے ہیں تو صوتی ترنگ رقص کرتی ہوئی کاغذ پر بکھر کر شعر کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو جمالیاتی پہلو بکھیرتی ہوئی
مقبول ذکی مقبول کی منتہائے فکر