Tag: ٹمن

  • ٹمن کے سیاسی برج

    ٹمن کے سیاسی برج

    ٹمن کے سیاسی برج

    ٹمن کی سیاست پر لکھی جانے والی کتاب "ٹمن کے سیاسی برج ” دراصل ٹمن اور علاقائی سیاست کی غیر مستند تاریخ کو مستند کرنے کی جانب پہلی کاوش جس کے مصنف ملک محمد فاروق خان ہیں جو روزنامہ اخبار اور ماہنامہ میگزین کے چیف ایڈیٹر اور معروف کالم نگار ہیں،جن کے کالم ملکی اور عالمی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں، ان کے انداز تحریر کو عوامی پزیرائی حاصل ہے۔ مستند صحافی ، مقبول کالم نگار ، مصنف،محقق اور تبصرہ نگار بھی ہیں۔
    ملک محمد فاروق خان کی تحریر میں ادبی چاشنی ، الفاظ کے چناو کی خوبصورتی اور ٹمن کی سیاست پر مضبوط گرفت نظر آتی ہے،ٹمن کے سیاسی برج کو سیاسی ادب کی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔
    سیاسی تاریخ سب سے زیادہ پڑھی ، سنی اور بحث کی جانے والی صنف ہے۔ سیاسی قائدین سے رائے دہندگان کو بہت کچھ پڑھنے، جاننے اور سوچنے کا موقع ملتاہے۔ان میں سیاسی عروج و زوال کے واقعات ملتے ہیں، سیاسی مفاد پرستی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے والے بے نقاب ہوتے ہیں ،سیاست دانوں کی سیاسی آزمائش کے دوران کمزور اور با قوت فیصلے اجاگر ہوتے ہیں،علاقائی مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے، عوامی خدشات اور محرومیوں سے آگاہی ہوتی ہے۔
    ‘ٹمن کے سیاسی برج’ 47 چیپٹر پر مشتمل ای بک ہے جسے ضلع تلہ گنگ کی پہلی ای بک کا اعزاز حاصل ہوگا جو امریکہ کے آن لائن بکس ڈسپلے پر قابل فروخت ہوگی اور جسے آن لائن پڑھا بھی جا سکے گا۔اس کا آغاز ابتدائیہ سے کیا گیا ہے،حرف آغاز میں لمحہ موجود کے سیاسی تقاضوں کو سنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ انتساب میں ٹمن کے سرداری نظام کی حقیقت کو پہلی مرتبہ منظر عام پر لایا گیا، ٹمن کے معنی اور وجہ تسمیہ انتہائی تحقیقی اور تاریخی ہے،ٹمن کی جغرافیائی حدود میں ٹمن کا مستند جغرافیہ اور اس سے ملحقہ رابطوں کی مفصل معلومات درج ہیں،تاریخ ٹمن کے چیپٹر میں تاریخ ٹمن کو مستند کرنے کے تاریخی حوالے دیئے گئے ہیں، ٹمن کی ترقیاتی تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے، ٹمن کی سماجی تاریخ کے تسلسل کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے،ٹمن کی وجہ شہرت بنتے والی شخصیات، عمارات اور جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ٹمن کا سیاسی مستقبل کیسا ہوگا اس پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ ٹمن کی معروف شخصیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ٹمن کے سیاسی ڈیرے جن سے سیاست پنپتی ہے،ٹمن کا خان بہادر کون تھا؟ تاریخ کے آئینے میں دیکھیے، ٹمن کے منتخب قومی،صوبائی اسمبلی اور چیئرمین کی تفصیل، تحصیل ٹمن ہوگی یا تحصیل ملتان خورد؟ حقائق پر مبنی تجزیہ، ٹمن میں کیا کچھ نہیں ہے؟ حیرت انگیز رپورٹ، ٹمن کی معلومات پر مبنی چپٹر، ضلع تلہ گنگ کے انتخابی حلقے کون کون سے ہیں، پاکستان کے قومی انتخابات کی تفصیل، الیکشن 2024 میں کیا ہوا، ملک اللہ یار خان کھنڈا ایم این اے، پیر سید محی الدین لال بادشاہ مکھڈ۔ایم این اے ،پیر صفی الدین مکھڈ ۔ایم این اے،سردار محمد حیات خان ٹمن وزیر ریلوے،ایئر مارشل نور خان ملک ۔ ایم این اے،سردار ممتاز خان ٹمن۔ایم این اے،سردار منصور حیات ٹمن ۔ایم این اے،ڈاکٹر سردار مقصود حیات ٹمن۔چیئر مین ضلع کونسل چکوال ،سردار محمد فیض ٹمن۔ایم این اے،چوہدری پرویز الٰہی ۔ایم این اے،سردار غلام عباس ۔ ایم این اے،ڈاکٹر سردار شہروز حان ٹمن۔امیدوار قومی اسمبلی ،محمد رومان احمد ۔امیدوار قومی اسمبلی،میجر محمد یعقوب نقشبندی۔امیدوار قومی اسمبلی،حسن سردار۔امیدوار قومی اسمبلی، سردار عظمت حیات ٹمن ممبر صوبائی اسمبلی، ملک محمد الطاف لاوہ ۔ممبر صوبائی اسمبلی، ملک سلیم اقبال ۔صوبائ وزیر،
    ملک محمد ظہور انور۔ممبر صوبائی اسمبلی،کرنل (ر)سلطان سرخرو ۔ممبر صوبائی اسمبلی ،ملک شیر یار اعوان ۔ممبر صوبائی اسمبلی،حافظ عمار یاسر ۔صوبائی وزیر،حکیم نثار احمد امیدوار صوبائی اسمبلی،عظمت حیات رانا۔امیدوار صوبائی اسمبلی،سردار سعد حیات ٹمن۔نیشنل کوارڈینیٹر ،ٹمن شکار گاہ اورٹمن پر لکھے گئے ملک محمد فاروق خان کے کالم موجود ہیں۔

    ٹمن کے سیاسی برج


    ٹمن کے سیاسی برج میں مختلف عنوانات کے تحت دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات قلم بند کیے گئے ہیں۔سارے حالات کو مختلف زاویوں سے کھول کر بیان کیا گیاہے۔ ایئر مارشل نور خان ملک عوامی قائد کیوں نہ بن سکے؟ سردار ممتاز خان ٹمن اپنی بھر پور سیاسی اننگز باعزت طور پر مکمل کرکے سیاسی طور پر کیسے سرخرو ہوئے؟ سردار غلام عباس اور ملک شیر یاراعوان نے 2024 کے الیکشن میں ٹمن کی سیاست کو کیسے مفلوج کیئے رکھا؟ کیا ٹمن کی سیاسی طبعی عمر پوری ہو چکی؟سردار محمد حیات خان ٹمن کو سیاست میں کونسا سیاسی اعزاز حاصل ہے؟ سردار شہروز خان ٹمن کی سیاست ابھی کتنی کچی ہے؟ حافظ عمار یاسر کی از خود جلاوطنی سیاسی عقلمندی یا زوال کی سیاست میں فیل ہونے کی نشانی؟ ملک سلیم اقبال گلشن سیاست کا سدا بہار پھول، پی ٹی آئی کی قیادت اور چوہدری پرویز الہی کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نے تحصیل تلہ گنگ کی سیاست کو کس قدر نقصان پہنچایا؟ ضلع چکوال اور تلہ گنگ میں ‘ن لیگ’ کے سیاسی قلعے پر فتح کا جھنڈا کس نے لہرایا؟ سردار فیض ٹمن سیاست کے آخری بال پر چھکا کیسے مارتے ہیں؟ کیا سردار محمد آصف ٹمن ریٹائرمنٹ کے بعد ٹمن کی سیاست کے سیاسی وارث ہو ں گے؟ مکھڈ کی گدی اور کھنڈا کی ملکائی کے سیاسی اثر سے ٹمن کی سیاست کیسے ابھری؟ کیا ضلع تلہ گنگ میں پیپلز پارٹی ‘ن لیگ’ کا بغل بچہ رہے گی؟ٹمن کے زرعی انقلاب کو کرپشن نے کس طرح زرخیز کیا؟ ٹمن کے سیاست دانوں کی اپس میں رشتہ داریاں؟ فضل حسین تبسم نے ادبی قلعے کیسے تعمیر کیئے؟محمود علی شاکر اور امیر خان منفرد کیسے ہوئے؟ٹمن کے کس سردار نے قرآن پاک کا سپینش میں ترجمہ کیا؟ ٹمن سرلی ڈیم کرپشن کی غضب کہانی۔شمالی آئر لینڈ اور امریکہ میں ٹمن فیملیز کب سے آباد ہیں؟
    یہ سب کچھ جاننے کے لئے ملک محمد فاروق خان کی تصنیف کردہ ای بک "ٹمن کے سیاسی برج” پڑھیئے اور جانیئے۔
    کتاب کے ابواب کی تفصیل کچھ یوں ہے

    ابتدائیہ
    حرف آغاز
    بک ٹائیٹل ،انتساب اور تبصرہ جات
    ٹمن کے معنی اور وجہ تسمیہ
    ٹمن کی جغرافیائی حدود
    تاریخ ٹمن
    ٹمن کی ترقیاتی تاریخ
    ٹمن کی سماجی تاریخ
    ٹمن کی وجہ شہرت
    ٹمن کا سیاسی مستقبل
    ٹمن کی معروف شخصیات
    ٹمن کے سیاسی ڈیرے
    خان بہادر
    ٹمن کے منتخب ممبران اسمبلی و چیئرمین
    تحصیل ٹمن یا تحصیل ملتان خورد
    ٹمن میں کیا کچھ نہیں ہے؟
    ٹمن کی معلومات
    ضلع تلہ گنگ کےانتخابی حلقے
    پاکستان کے قومی انتخابات
    الیکشن 2024
    ملک اللہ یار خان کھنڈا ایم این اے
    پیر سید محی الدین لال بادشاہ مکھڈ۔ایم این اے
    پیر صفی الدین مکھڈ ۔ایم این اے
    سردار محمد حیات خان ٹمن وزیر ریلوے
    ایئر مارشل نور خان ملک ۔ ایم این اے
    سردار ممتاز خان ٹمن۔ایم این اے
    سردار منصور حیات ٹمن ۔ایم این اے
    ڈاکٹر سردار مقصود حیات ٹمن۔چیئر مین ضلع کونسل چکوال
    سردار محمد فیض ٹمن۔ایم این اے
    چوہدری پرویز الٰہی ۔ایم این اے
    سردار غلام عباس ۔ ایم این اے
    ڈاکٹر سردار شہروز حان ٹمن۔امیدوار قومی اسمبلی
    محمد رومان احمد ۔امیدوار قومی اسمبلی
    میجر محمد یعقوب نقشبندی۔امیدوار قومی اسمبلی
    حسن سردار امیدوار قومی اسمبلی
    سردار عظمت حیات ٹمن۔ ممبر صوبائی اسمبلی
    ملک محمد الطاف لاوہ ۔ممبر صوبائی اسمبلی
    ملک سلیم اقبال ۔صوبائ وزیر
    ملک محمد ظہور انور۔ممبر صوبائی اسمبلی
    کرنل (ر)سلطان سرخرو ممبر صوبائی اسمبلی
    ملک شیر یار اعوان ممبر صوبائی اسمبلی
    حافظ عمار یاسر صوبائی وزیر
    حکیم نثار احمد امیدوار صوبائی اسمبلی
    عظمت حیات رانا امیدوار صوبائی اسمبلی
    سردار سعد حیات ٹمن۔نیشنل کوارڈینیٹر
    ٹمن شکار گاہ
    ٹمن پر لکھے گئے ملک محمد فاروق خان کے کالم

    کتاب منگوانے کے لئے03008500454 وٹس ایپ ٹمبر پر رابطہ کریں۔

  • ڈرائی پورٹ تلہ گنگ

    ڈرائی پورٹ تلہ گنگ

    ڈرائی پورٹ تلہ گنگ


    ملک محمد فاروق خان

    محمد اعجاز جسیال کو تلہ گنگ کی ترقیاتی محبت کا سفیر کہا جا سکتا ہے جو ہر دم تلہ گنگ کوعلمی،سیاسی،معاشی اور صنعتی طور پر آگے بڑھانے میں پر جوش اور مستعد نظر آتے ہیں ۔علاقائی خوشحالی کے خواب بنتے ہیں اور ان کی تعبیر ڈھونڈتے ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی Success Story نہ بنا سکے ہوں لیکن مثبت اور ترقیاتی سوچ بھی وژن کا صدقہ ہوتا ہے۔

    ڈرائی پورٹ تلہ گنگ


    تلہ گنگ کے ٹھہرے اور رکے ہوئے منجمند ترقیاتی سفر میں سماجی اور عوامی حلقے ضلع تلہ گنگ کی فعالی کے لئے سیمینارز کر رہے ہیں اور عوامی سہولت کے لئے ضلع تلہ گنگ کی فعالی کی تحریک کو نوجوان جذبوں کے حوالے کرکے اسے نتیجہ خیز بنانے جا رہے ہیں لیکن ضلع تلہ گنگ کی فعالی کے گلے میں منافقت کا تعویذ ہے جسے اتارنا ضروری ہے۔ کچھ احباب کا خیال ہے کہ ضلع تلہ گنگ کا کریڈٹ مسلم لیگ ق، چوہدری پرویز الٰہی اور حافظ عمار یاسر کو جاتا ہے لہذا اس کی فعالی کو آئیندہ الیکشن تک موخر رکھا جا ئے اور الیکشن سے پہلے اسے فعال کرکے اس کا سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے۔ کچھ با خبر حلقوں کے مطابق مسلم لیگ ق بھی ضلع تلہ گنگ کی فعالی موخر رہنے کو سیاسی طور پر سود مند سمجھتی ہے تاکہ حکومت پر عوامی پریشر بڑھتا رہے اور اس کی فعالی کا کریڈٹ بھی موجود حکومت نہ لے سکے۔
    محمد اعجاز جسیال تلہ گنگ میں موجودہ حکومت کے مقامی سیاسی قیادت کا حصہ ہیں ان کے لئے ڈرائی پورٹ کے منصوبے کے پی سی ون کی مصدقہ کاپی کاحصول مشکل نہیں ہے ویسے بھی وہ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ کے آئی ایس ایس بی کے بیج فیلو ہونے کا کلیم بھی کرتے ہیں انہیں تلہ گنگ کی ترقی کے لئے "شنید” سے کام نہیں چلانا چاہئے۔ انہیں علاقائی خوشحالی اور بے روزگاری میں کمی کے لئے ڈرائی پورٹ کے پراجیکٹ کو اپنی حکومت اور قیادت کے سامنے رکھنا چاہیے۔
    ان کی ایک تحریر کے مطابق پاکستان میں دو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا ایم او یو سائن ہو چکا ہے جس سے دو ڈرائی پورٹ تعمیر ہوں گے۔ ان میں سے ایک کی تعمیر تلہ گنگ میں ہونے کا دعوٰی کیا جا رہا ہے۔ ایک ڈرائی پورٹ لاہور سی پیک کے شرقی روٹ میں تعمیر ہوگا جس سے پورے ملک میں سپلائی جاتی ہے اس روٹ سے انڈیا کو بھی سپلائی جا سکتی ہے۔جبکہ دوسرا ڈرائی پورٹ سی پیک کے غربی روٹ پر تعمیر ہوگا یہ روٹ کراچی اور شاہراہ کابل پر ہے۔
    محمد اعجاز جسیال کے مطابق چونکہ سی پیک کا غربی روٹ تلہ گنگ کے قریب ہے اس لئے شنید ہے کہ دوسرے ڈرائی پورٹ کی تعمیر تلہ گنگ میں ہو۔ خبر تو انتہائی خوش آئند ہے اور تلہ گنگ کی ترقی کے لئے اس کی بڑی اہمیت ہو سکتی ہے لیکن زمینی حقائق ڈرائی پورٹ کے پراجیکٹ کے لئے تراپ انٹرچینج کو زیادہ فزیبل قرار دے رہے ہیں۔
    اکوال سے تراپ سی پیک روڈ دفاعی اور صنعتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے جو پنجاب اور سرحد کو کم وقت میں ملانے والی راہداری بھی ہے۔ موٹر وے اور سی پیک کو لنک کرنے والی روڈ مستقبل قریب میں نہ صرف اکوال ٹمن روڈ کی ترقیاتی حیثیت کو بدلنے والی ہے بلکہ پورے علاقے کی خوشحالی کا سبب بنے گی ۔یہ روڈ کمرشل تو ہو رہی ہے لیکن جلد اس روڈ کو صنعتی حیثیت حاصل ہو جاۓ گی۔یہ روڈ علاقائی اقتصادی گیٹ وے بننے جا رہی ہے۔اس روڈ کی دفاعی اہمیت پہلے سے موجود ہے لیکن سی پیک اور موٹر وے کو لنک کرنے اور پنجاب سرحد کی راہداری کے سبب اس کا مستقبل دفاعی لحاظ سے بھی اہم ہونے جا رہا ہے۔
    جب ڈیرہ اسماعیل خان سی پیک شروع ہونے لگا تو با خبر ذرائع اسے ٹمن اور ملتان خورد کے درمیان یا ملتان خورد سے مغرب کی طرف سے گزرنے کی اطلاع دے رہے تھے لیکن عملی طور پر اس کی تعمیر تراپ اور انجرہ کے درمیان میں ہوئی جس سے علاقائی طور پر محرومی کا احساس پیدا ہوا اور سیاست دانوں پر علاقائی ترقی سےعدم دلچسپی کا الزام آیا۔
    سی پیک پر تراپ انٹرچینج اور اس کے نزدیک با خبر اور با اثر انوسٹرز کی انتہائی سستے داموں بنجر اور ناکارہ زمین کی وسیع پیمانے پر خریداری ہوئی لیکن اس خریداری کا سبب واضع نہ ہوسکا کہ اتنا وسیع رقبہ کیوں خریدا جا رہا ہے اور سی پیک کو ٹمن ملتان خورد کے درمیان سے نہ گزارنے کی کیا وجوہات تھیں اس کی کہانی بھی موجود ہے؟

    مجوزہ ڈرائی پورٹ کے منصوبے کے لئے تراپ انٹرچینج بہترین آپشن ہے۔ جوکہ ٹیکنیکل گراونڈ پر بھی نہایت موزوں ہے۔ اس ڈرائی پورٹ کو انجرہ ریلوے اسٹیشن سے لنک کیا جا سکتا ہے۔اگر علاقے کو کوئی ویژن والا قائد نصیب ہو جائے تو مکھڈ کے ٹھہرے ہوئے گہرے پانی والے دریا کے قریب سی پورٹ بنا کر علاقے کو گہرے سمندر کی تجارت سے منسلک کر سکتا ہے ۔ گزشتہ ادوار میں کراچی بندرگاہ جھرک سے منسلک تھی، جہاں سے تجارتی بحری جہاز سیدھے مٹھن کوٹ اور پھر مکھڈ جاتے تھے۔مکھڈ کے مقام پر سندھ کا خاموش پانی پنجاب کو خیبرپختونخوا سے الگ کرتا ہے۔
    ایران کا شہنشاہ دارا کا امیر البحر بھی آبی راستوں کی تلاش میں مکھڈ سے گزرا تھا۔مکھڈ اس وقت ہندومت کا بہت بڑا مرکز تھا۔مکھڈ کے آبی راستوں کو قومی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔
    تراپ انٹرچینج پر ڈرائی پورٹ اور سی پورٹ بنانے کے فزیبل آپشن موجود ہیں۔اس کے لئے عمومی طور پر ٹمن تلہ گنگ روڈ لاجسٹک روڈ کے طور پر استعمال ہوگی۔اس پراجیکٹ کو فزیبل کرانے اور اس کی لانچنگ کے لئے اعلی سطحی حکومتی اور سیاسی ایڈوکیسی کی ضرورت رہے گی۔
    ضلع تلہ گنگ کی معاشی اور صنعتی ترقی کا درخشاں مستقبل تلہ گنگ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی وساطت ،دلچسپی اور ذمہ داری سے آگے بڑھے گا۔ تلہ گنگ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کو اٹک چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے باہمی تعاون سے تلہ گنگ و اٹک کی اقتصادی اور صنعتی ترقی کے لئے ڈرائی پورٹ کو تراپ انٹرچینج پر تعمیر کرانے کی منظوری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈرائی پورٹ تلہ گنگ بنے،تراپ انٹرچینج پر بنے جہاں بھی بنے علاقائی خوشحالی اور قومی ترقی کا گیٹ وے ہوگا۔
    تلہ گنگ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا ابھی ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے لیکن چیمبر کی قیادت کو اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کے لئے ڈرائی پورٹ اور سی پورٹ کے قیام کا چیلنج قبول کرنا چاہئے۔

    Title Image by Markus Distelrath from Pixabay

  • سیاسی بصیرت

    سیاسی بصیرت

    سیاسی بصیرت

    محمد فاروق خان

    ایئر مارشل نور خان نے دو بار قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا پہلی مرتبہ میجر اکبر خان نرگھی سے مقابلے میں کامیابی حاصل کی جبکہ دوسری مرتبہ سردار منصور حیات ٹمن مد مقابل تھے۔دوسری مرتبہ ایئر مارشل نور خان کو شکست کا سامنا کر نا پڑا۔انتخابی شکست کے بعد ایئر مارشل نور خان سیاست سے دستبردار ہو گئے۔
    پہلے الیکشن میں سردار محمد حیات خان ٹمن سردار منصور حیات ٹمن کی پولیٹیکل لانچنگ کا فیصلہ کر چکے تھے لیکن ایئر مارشل نور خان کے بطور امیدوار قومی اسمبلی الیکشن میں حصہ لینے کی خبر پر سردار محمد حیات خان ٹمن نے اپنے فیصلے کو بدل دیا سردار منصور حیات ٹمن کی بجائے ایئر مارشل نور خان کے مقا بلے کے لئے کئی امیدواروں پر غور کیا گیا ، میجر اکبر نرگھی کی الیکشن پر رضامندی پر انہیں ایئر مارشل نور خان کے مد مقابل لایا گیا۔ سردار محمد حیات خان ٹمن کی سیاسی بصیرت ہی تو تھی جس نے قبل از وقت اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ ایئر مارشل نور خان کے پہلے الیکش میں جو بھی مد مقابل آئے گا کامیابی ممکن نہیں ہوگی ۔جب ایئر مارشل نور خان اسمبلی پہنچ جائیں گے اپنا سیاسی رویہ عوام پر ظاہر کریں گے،عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے ایئر مارشل نور خان عوامی پہنچ سے دور رہیں گے۔ عوامی توقعات پوری نہیں ہوں گی تو ایر مارشل نور خان کی شخصیت کا سحر کم ہوگا تو سیاسی میدان میں مقابلہ آسان ہو گا۔ سردار محمد حیات خان ٹمن کے سیاسی اندازے کے مطابق دوسری مرتبہ قومی الیکشن میں ایئر مارشل نور خان سردار منصور حیات ٹمن سے ہار گئے۔

    سیاسی بصیرت


    اس الیکشن میں وہی سیاسی حالات سردار منصور حیات ٹمن کی سیاسی بصیرت کے امتحان کے لئے موجود ہیں ۔ دیکھنا ہوگا کہ سردار منصور حیات ٹمن تازہ دم ڈاکٹر شہروز خان ٹمن کا مقابلہ خود کرتے ہیں، سردار سعد حیات کو سامنے لاکر سیاست کو متحیر کرتے ہیں یا اپنے بیٹے کو سیاست میں پلانٹ کرکے اپنی سیاست کو برقرار اور سدا بہار رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
    سیاسی بصیرت مشکل فیصلوں کو آسان بناتی ہے اور سیاسی منظر نامے کو غیرمتوقع طور پر یکدم بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔

  • سیاست سے سیاحت

    سیاست سے سیاحت

    سیاست سے سیاحت

    ٹمن پنجاب کا اہم گاوں جو شہر میں آپ گریڈ ہونے کے مرحلے میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انکڑ کے کنارے سحر انگیز نظاروں اور سر بلند چوٹیوں والی وادی اگر کسی اور علاقے میں ہوتی تو اس کے کناروں پر پکنک سپاٹ بن چکے ہوتے اور علاقے بھر سے لوگ اپنے بچوں کو چھٹیاں انجوائے کرانے کے لئے آتے۔ وادی ٹمن کے حسن کو ، اس میں بہتےصاف پانی کو اور اس پانی کے نیچے "سونے کی ریت” کے جزیرے کے حسن کی دلکشی میں کشش پیدا نہ ہو سکی ۔نہ تو کسی قلم کار نے اس حسین وادی کے حسن کو آشکار کیا، نہ ہی کسی شاعر کی غزل کا موضوع بن سکا اور نہ ہی کوئی مصور اس کے نظاروں کا شاہکار تخلیق کرکے دلوں کی آرٹ گیلری میں نمائش کے لئے پیش کرسکا۔ سیاست دانوں کی تخلیقی حسن اگر گلیوں اور نالیوں سے آگے بڑھتا تو وادی ٹمن کے دونوں کناروں کو علاقائی سیاحت کے لئے مختص کرچکے ہوتے جس سے علاقائی ترقی اور بزنس کو سپورٹ ملتی۔
    سردار ممتاز خان ٹمن نے شکاری سیاحت کو فروغ دیا جس کی وجہ سے صوبہ سرحد سے خرگوش کے شکاری اور پنجاب اور جنوبی پنجاب تک باز اور تیتر کے شکار کے لئے قافلے آتے رہے جس سے باہمی تعلقات کو فروغ ملا۔ اس علاقے میں ہر سال موسمیاتی ہجرت کرنے والےکونج،بٹیرے اور کئی انواع کے پرندے آتے ہیں یہ علاقہ وائلڈ لائف کے لئے محفوظ پناہ گاہ بھی ہے۔ سردار منصور حیات ٹمن جو معاشی گرو کے طور پر شناخت رکھتےہیں اور جن کی عالمی سیاست، معیشت اور زراعت پر گہری نظر ہے جو زراعت سے عملی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ سردار محمد حیات خان ٹمن سے یہ خاندان زراعت کی جدت کے لئے مصروف کار ہے۔ ایگرو و فروٹ ٹورازم کی طرف علاقے کو موڑ کر علاقائی ترقی میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی پولیٹیکل ٹورازم پر ہیں واپس آتے ہیں تو ان سے بھی مستقبل میں علاقائی سیاحت پر ڈیل ہو سکتی ہے کیونکہ سیاسی ڈیل تو وہ پہلے کر چکے ہیں۔ حافظ عمار یاسر سے سیاحتی فروغ کے لئے دعا کی استدعا کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ خود بھی ریلیجس ٹورازم پر ہیں۔
    سردار فیض ٹمن نے وادی ٹمن میں پہلا فارم ہاوس تعمیر تو کر لیا ہے لیکن اس میں کوئی سیاحتی تقریب کا انعقاد ابھی تک نہ ہو سکا اگر کسی ٹوارازم کے وفاقی یا صوبائی وزیر ٹورازم کو دعوت دیتے اور اپنے فارم ہاوس سے پوری وادی کا نظارہ کرا کر اس میں اہم کردار ادا کر تے تو منزل آسان ہو سکتی ہے۔،ڈپٹی کمشنر ضلع چکوال بھی ترقیاتی کاموں کے لئے کوشاں ہیں ان سے بھی ریت فنڈ کو سیاحت فنڈ میں بدلنے کا کہا جا سکتا ہے۔میڈیا کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ صوبائی صوبیدار بھی انہیں کی برادری سے ہے۔ امیدوار صوبائی اسمبلی ملک شیر یار اعوان جو سیاسی طور پر متحرک بھی ہیں اور بیوروکریسی سے ان کی رشتہ داری بھی بنتی ہے۔ڈاکٹر شہروز خان ٹمن اور سردار سعد حیات ٹمن واٹر سپلائی اسکیم کی طرح باہمی فلاحی اشتراک اور زمان فاونڈیشن کے مالی تعاون سے انکڑ کے کنارے پارک کے لئے پہلے سے مختص پلاٹ پر فیملیز اور بچوں کا تفریحی پارک بنانے میں پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں۔کھوئیاں ویلفئر سوسائٹی جو عوامی اور فلاحی کاموں میں آگے بڑھی ہے، جن کے پاس اورسیز ڈونرز بھی ہیں اگر اس کے منتظمین کھوئیاں سے باہر نکل کر اپنے آپ کو علاقائی منظر نامے میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو وہ بھی آسانی سے انٹرنیشنل ڈونر سے انکڑ کی کسی چوٹی پر پہلا سیاحتی پوائنٹ بنوانے کے لئے رضامند کر سکتے ہیں۔ سیاحتی پراجیکٹ کو ابتدائی شکل میں کسی پہاڑی چوٹی پر سردار ممتاز خان ٹمن کے چھپر کی طرح ، بیٹھنے کے بینچوں اور ٹک شاپ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ٹمن کو تیز ترین ترقی کی طرف لے جانے میں آگے کون بڑھتا ہے؟
    ویران اور بے نام وادی کو ٹرک ٹرانسپورٹرز ٹمن نے اپنے ٹرکوں کے پیچھے "وادی ٹمن” لکھ کر پہلی بار قومی سطح پر ٹمن کے حسن میں کشش پیدا کی ۔صوبہ پنجاب اس کی لیز کی نیلامی سے سالانہ کروڑوں روپے کی آمدنی وصول کرتا ہے ۔ طاقت ور محکمے کو کون کہے کہ( ساڈا حصہ ایتھے رکھ) لیکن ٹمن کے
    پرجوش نوجوان ایسا کہہ بھی سکتے ہیں اور "سونے کی ریت” سے علاقائی ترقی کا حصہ مانگ بھی سکتے ہیں۔ سیاست دان اگر ہر سال ٹمن ریت فنڈ کو سیاحت فنڈ کے لئے مختص کرالیتے تو اسلام آباد سےکم فاصلے اور کم وقت کی وجہ سے انٹرنیشنل ٹورسٹ متوجہ ہو تے۔ موٹر وے اور سی پیک کے درمیان ہونے کی وجہ سے سڑک سے ملحقہ علاقے مستقبل کا دوبئی بن سکتے ہیں۔
    ضلع تلہ گنگ اپنے ساتھ صنعتی پسماندگی بھی لایا ہے اس ضلع کو صنعتی ترقی میں آگے بڑھانے کے لئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ضلع تلہ گنگ کا ہنگامی بنیادوں پر اجراء کراکر فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ زمانہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی جمود کو نئے جہتوں میں بدل کر عالمی رجحانات کی تیز ترین رفتار سے ہم آہنگ ہو کر نئی روایات قائم کرنے والا ہے۔ ہمارا علاقہ ایگرو، فروٹ بیسڈ انڈسٹری، کو فروغ دے کر ایکسپورٹ کی طرف بڑھ سکتا ہے، ٹنل ویجیٹیبل اور فروٹ فارمنگ کے ساتھ مونگ پھلی کی پیداوار کو برینڈڈ کرنے سے انڈسٹریل کمرشل کرنے تک تکنیکی اور مشاورتی مرکز قائم کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں غیر معمولی ذہانت اور اہلیت ہے اگر انہیں بنیادی معلومات اور پروفیشنل سکلز فراہم کر دی جائیں تو علاقائی ترقی کے فروغ کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کے عفریت کو بھی قابو کیا جا سکتا ہے ۔وفاقی اور صوبائی ٹورازم کے محکموں کو کون بتائے کہ دنیا اپنی معیشت کے استحکام کیلئے سیاحت کو بڑھا رہی ہے "وادی ٹمن” کو سیاحت کے لئے مختص کیا جائے، اس کے حسن کو آشکار کرکے ایگری ٹورازم اور ویلج ٹورازم پر بہت کام ہو سکتا ہے۔ حکومت پنجاب ٹورازم فارمنگ کے لئے ایگرو اینڈ فروٹ فارمز کے لئے معاونت کرے۔
    سیاحت کے بھی کئی پہلو اور بہت سے روپ ہیں۔ سیاحت میں مذہبی سیاحت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ متواتر بڑھتی رہتی ہے۔پولیٹیکل ٹورازم بھی سیاحت کا اہم جزو ہے۔سیاست کے کئی نامور سیاسی تاجدار سیاسی سیاحت کے لئے اس علاقے میں آتے بھی رہے ہیں اور اسے دوسرا گھر بھی کہتے رہے ہیں۔یہ سیاسی سیاحت کا ہی کمال ہے کہ کئی مقامی سیاسی خانوادے زیرو پتی سے کروڑ پتی بن گئے سیاحت کا کوئی بھی روپ ہو علاقے کو مستفید کرتا ہے۔ اہل علاقہ کے وکلاء بھی "سونے کی ریت” کی آمدن کو ٹمن کی ساحتی ترقی کے لئے مختص کرانے
    عدالت میں جا سکتے ہیں۔ ٹمن کے سیاست دان بھی اگر چاہیں تو علاقائی سیاحت کو سیاست کی طاقت سے فروغ دے
    سکتے ہیں۔

    Title Image by Cindy Lever from Pixabay

  • ماہی نیاں وطناں توں

    ماہی نیاں وطناں توں

    ماہی نیاں وطناں توں

    ہمارے میگزین کی پہلی بولتی تحریر یعنی یہ مضمون تحریر کے علاوہ آواز میں بھی موجود ہے جسے آپ سن بھی سکتے ہیں۔ مضمون کے آخر میں موجود ہے

    آغاجہانگیربخاری

    علاقہ چھچھ کے لوگوں میں ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مہمان نوازی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ایک روایت مشہور ہے کہ چھچھ کے کسی گاؤں میں بھیڑیا گھس آیا، لوگ اسے مارنے کے لیے دوڑے تو وہ گاؤں کے ایک حجرے میں آگیا۔ حجرے کا مالک اس وقت وہیں موجود تھا ۔ اس نے ایک برچھی لی اور دروازے پر کھڑا ہوگیا  اور لوگوں کو للکار کر کہا ” خبردار ! یہ میرا مہمان ہے، کوئی شخص اسے مارنے کے لیے آگے بڑھا تو میں اسے چیر کر رکھ دوں گا”۔

    ماہی نیاں وطناں توں

    یہ اقتباس ہے  جاوید شاہ صاحب  کی کتاب’ جو اکثر یاد آتے ہیں’ میں سے، جسے میں  نے دو ہی نشستوں میں پڑھ ڈالا اور اسے ناقابل یقین حد تک بصیرت انگیز اور متاثر کن پایا۔ جاوید شاہ  صاحب کی  اس کتاب  میں عہد گزشتہ  کی دلچسپ  داستانیں ہیں ،یہ تاریخی کہانیاں پڑھ کر خوشی ہوئی اور انہوں نے  مجھے مسحور کر دیا۔ ان کی یہ تاریخی کہانیاں 70 سال پہلے کے کرداروں کو زندہ کرتی ہیں۔  انہوں نے اپنی یادداشتوں سے جو کہانیاں ایک ساتھ بُنی ہیں  ان میں مجھ جیسے  تاریخ کے رسیا کے لیے ایک خزانہ ہے  کیونکہ میں ان داستانوں سے   اپنے  علاقے کی گم شدہ اور مانند پڑتی  ثقافتوں اور رسم و رواج کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے میں کامیاب ہوا۔ شاہ صاحب  کی کہانیوں میں لوک داستانوں اور افسانوں کے عناصر بھی شامل ہیں جو ان سب کو مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ ضلع اٹک بالعموم اور  علاقہ چھچھ کے  حالات و واقعات بالخصوص ان داستانوں کا حصہ ہیں۔

    جاوید شاہ صاحب  1941 ء  کو  چھچھ کے گاؤں حمید میں پیدا ہوئے۔چوتھی جماعت تک گاؤں کے اسکول میں پڑھا اور پھر ایم سی مڈل  اسکول کیمبلپور سے پانچویں پاس کی۔ پائیلٹ اسکول کیمبلپور سے میٹرک جبکہ ڈگری کالج کیمبلپور سے گریجویشن مکمل کی۔ آپ کے اساتذہ  میں  جناب اشفاق علی خانصاحب، جناب پرفیسر  سعد اللہ کلیم صاحب ، جناب شریف کنجاہی صاحب اور  جغرافیہ کے استاد جناب  ضیاء اللہ صاحب  کے نام نمایاں ہیں۔ضیاء اللہ صاحب  کی صحبت کا اثر تھا  جس نے آپ کو جغرافیہ کی طرف راغب کیا اور شاہ صاحب نے 1962 ء میں  پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے بعد آپ نے بحیثیت   پلاننگ آفیسر  محکمہ بہبود آبادی میں ملازمت اختیار کی ۔ستمبر 1981 ء  کو مارشل لاء کے ایک آرڈینینس کے ذریعے محکمہ بہبود  آبادی کے ساڑھے سات ہزار  ملازمین کو بیک جنبش قلم  ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔شاہ صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ نوکری ختم ہونے پر شاہ صاحب نے  اے ایم ایف کامرہ میں ملازمت اختیار کی اور تین سال  کے بعد  محکمہ تعلیم میں  محکمانہ امتحان و طریقہ کار کے مطابق بھرتی ہوگئے۔ آپ محکمہ تعلیم سے بحییثیت ہیڈ ماسٹر  سبکدوش ہوئے۔جاوید شاہ صاحب ا نتہائی ملنسار ، ہنس مکھ ،روایت پسند اور بلا کے مہمان نواز ہیں۔   ممتاز شاعر جناب مشتاق عاجزؔ صاحب آپ کے انتہائی قریبی دوست ہیں ۔جاوید شاہ صاحب نے اس سال اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب “جو اکثر یاد آتے ہیں”  شائع کی اور    سب سے پہلے    مجھے عنایت کی۔ میری سستی اور کوتاہی ہے جو تبصرہ کرنے میں اتنی دیر کر دی ۔ 

    Javed Shah Sb
    جاوید شاہ صاحب

    یوں تو پوری کتاب ہی ایک تاریخی دستاویز ہے لیکن  میں شاہ صاحب کی کتاب میں سے چند ابواب کو یہاں  مختصر طور پر ذکر کرتا ہوں۔ جو تاریخ اور ماضی میں جھانکنے والوں کے لئے یقینا دلچسپی کا باعث ہونگے۔

    سپاہی صوبیدار نمبر 508 :   تلہ گنگ   سن  1985ء تک ضلع اٹک کی تحصیل تھا۔موضع لاوہ تحصیل تلہ       گنگ  کے ایک مجذوب سیّد شہابل شاہؒ کا روح پرور   قصہ             ۔      

    تین خوش لباس :                                                                          علاقہ چھچھ ضلع اٹک کا  خوبصورت ترین اور  تاریخی علاقہ ہے۔ اس وادی کی تین نامور تاریخی شخصیات کا تذکرہ، چھچھ کے حجروں اور تہذیب و ثقافت کا احوال        ۔

    ایک تھا راجہ  :                                                        سائیں کلوؒ سرکار  کے جانشین سیّد انور شاہؒ اور راجہ  اکرم صاحب کی پہلی ملاقات، ترک دنیا  اور  منازل سلوک کی داستان۔

    ایک مشاعرہ :                                                     موضع ٹمن  (تحصیل تلہ گنگ، جو اس وقت ضلع اٹک کا حصہ تھا) میں ہونے والے ایک مشاعرے کا احوال ،جسے    ہل چلا کر آئے ہوئےایک  کسان  شاعر نے لوٹ لیا۔

    راہ ہدایت :                                                                 سرکار برطانیہ کی پولیس کے ایک  بدتمیز، سخت گیر، بدزبان اور بد اخلاق حوالدار کا ماجرا جس کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ لوگ خوف کے مارےراستہ چھوڑ دیتے تھے بالآخر کیسے ایک ولی کامل کے درجے تک پہنچ گیا۔

    رسُولا بدمعاش :                                                تاریخی شہر حضرو کے ایک بدمعاش رسُولا کی کتھا جو  کسی کو خاطر میں نہ لاتا جوئے باز اور ایک نمبر کا بدمعاش کیسے حاجی رسول خان بنا جس کی موت کا اعلان حضرو شہر کی ہر مسجد سے ہوا۔

    ہاں کوئی اور بھی ہے:                                                           چھچھ کے ایک نائی کا قصہ جو  مزدوری کی تلاش میں  کراچی پہنچا اور پھر انڈر ورلڈ کا ایسا ڈان بن کر ابھرا جس سے سہگل، اصفہانی جیسے سیٹھ اور  کراچی کے بڑے بڑے غنڈے خوف کھاتے تھے۔

    ماہی نیاں  وطناں توں :                                                حاجی رمضان اور رتن لال کی بیٹیوں جمیلہ ، رضیہ، ساوتری، راجکماری کی دوستی ، تقسیم کے فسادات، ہجرت اور سکھ خاندان  کا   جانے سے پہلے درو دیوار سے لپٹ کر رونے کی دردناک داستان۔

    اس کے علاوہ  انجم اور پھول، مسیحا، دو شرابی، راہ ہدایت،ولیوں کا گاؤں، دو بے نمازی ، اکاون سال گاڑی کا انتظار اور بہت سے تاریخی  چشم کشاء  واقعات و داستانیں اس کا کتاب کا حصہ ہیں۔

    جو اکثر یاد آتے ہیں

    ماضی کی یادیں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ  وہ پرانے جذبات، واقعات اور یہاں تک کہ جسمانی احساسات تک کو واپس کھینچ لاتی  ہیں۔ انہی یادوں میں  اُن بیتی خوشیوں کے حسین خواب بھی ہوتے ہیں جن میں ہم دوبارہ جا بسنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اور یہی  یادیں  ان تلخ  تجربات اور غلطیوں کی یاددہانی بھی ہو تی ہیں جنہیں ہم بھولنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ماضی میں ایک عجیب سی کشش ہے اور رہے گی۔ ہم حال میں جیتے کم ہیں، مستقبل کو سوچتے کم ہیں لیکن ماضی کو یاد بہت کرتے ہیں۔

    یادداشتیں  لکھنا کوئی معمولی کام نہیں ہے ، اس کے لیے غور و فکر اور خود شناسی کی ضرورت ہے۔ یہ فرد کی اپنی  زندگی کی مکمل کھوج ہے، اور اس کام  کے لیے ساعاتِ وقتِ  گزشتہ کے کوہ  گراں کا لمحہ لمحہ کریدنا پڑتا ہے۔ جاوید شاہ صاحب کمال یاداشت سے ماضی کے تعاقب میں بہت دور تک گئے۔  اور ان کا ماضی کا یہ سفر ہم سب کے لئے  بہت کارآمد ثابت ہوا۔

    مجموعی طور پر، میں نے واقعی اس کتاب کا لطف اٹھایا ہے ۔ یہ کتاب ماضی کے کرداروں اور واقعات کا انتہائی  دلکش بیان ہے۔ ہر باب وقت میں واپسی کا سفر ہے جہاں میں نے خود کو پچھلی نسلوں کے جذبات کا تجربہ کرتے ہوئے پایا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے سے پہلے لوگوں کے محرکات اور تاریخ کو سمجھنے کے سفر پر تھا۔یہ ایک بہترین کتاب ہے ،  مصنف نے اپنی واضح کہانی سنانے اور تفصیلی وضاحت کے ساتھ  ماضی کی داستانوں  کو زندہ کرنے کا ایک بہترین کام کیا ہے۔ میں ان قارئین کو  جو کتابوں سے دلچسپی رکھتے ہیں بالعموم اور ضلع اٹک کے تاریخ  رسیاؤں کو  بالخصوص یہ کتاب پڑھنے کی صلاح دیتا ہوں۔ یہ ایک جذباتی سفر ہے جو کتاب کے اختتام تک پہنچنے کے بعد بھی آپ کے ساتھ رہے گا۔

    کتاب کے حصول کے لیے جاوید شاہ صاحب سے ان کے نمبر(03315708325) پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  • ملتان کا سلطان

    ملتان کا سلطان

    ملتان کا سلطان


    یہ کالم میری یاداشت اور معلومات پر مبنی ہے میں گاوں میں نہیں رہتا اگر کوئی نام رہ گیا ہو معذرت۔ملتان خورد مرکز کونسل ٹمن اور تحصیل تلہ گنگ کا معرو ف کاروباری مرکز ہے۔ملتان خورد سے اسلام آباد ایر پورٹ193کلو میٹر اور ڈرائیونگ ٹائم2.51 گھنٹے ہے۔ ملتان خورد ایم2موٹر وے بلکسر انٹرچینج سے مغرب کی طرف 70.8کلو میٹر پر واقع ہے ڈرائیونگ ٹائم1.27گھنٹہ ہے۔تلہ گنگ سے۔42.2 کلومیٹر ڈرائیونگ ٹائم56 منٹ ہے۔ملتان خورد تحصیل تلہ گنگ کا تیسرابڑا گاوٗں ہے۔کاروباری ترقی میں تحصیل بھر میں نمایاں ہے۔انجرہ کے قریب سے گزرنے والے سی پیک کے تراپ انٹر چینج سے ملتان خورد کی ترقی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔باہر سے آئے ہوئے پراپرٹی انوسٹرز بھی زمین کی خریداری کر رہے ہیں۔زمین کا ریٹ اسلام آباد کے قریب قریب ہے۔ ملتان خورد کے مشرق میں ٹمن،مغرب کی طرف شاہ محمدوالی، تراپ اور انجرہ ہیں۔شمال کی طرف کوٹگلہ، کوٹ شیرا،پچند، اور لاوہ ہیں جنوب کی طرف جبی شاہ دلاور، کوٹیڑہ ہے۔
    ملتان خورد میں ملک،اعوان،عطرال،مبال،کسمال،نواب خیل،گھاڑا برادری،مصاحب خیل، میال،سید،ترڈھ، ارائیں اور انصاری براریاں آباد ہیں۔ملتان خورد میں اگر کسی الیکشن میں ارائیں اور انصار ی برادری متحد ہوگئی تو روائتی سیاست دم توڑ دے گی اور کئی سیاسی نامور گمنام ہو جائیں گئے۔کئی ڈیرے ویران اور کئی سیاسی دوکانیں بند ہو جائیں گی۔ ملحقہ دیہاتوں کی اکثریتی آبادی یہاں منتقل ہو رہی ہے جس وجہ سے گاوں تیزی سے شہر میں بدل رہا ہے۔کاروباری اور زرعی شعبہ میں پٹھان بھی اس علاقے میں نمایاں ہو رہے ہیں۔سیاسی لحاظ سے ہر کوئی آزاد ہے اور مرضی کے فیصلے کرنے میں خود مختار ہے۔ملتان خورداردو اور فارسی میں پڑھا اور لکھا جاتا ہے۔(خور کے معنی کھایا ہوا مجازاً۔جبکہ اُجاڑا یا برباد کیا ہوا۔ وزن،عمر جسامت، قامت یا مرتبہ وغیرہ میں دوسرے سے کم چھوٹا) دو ایک جیسے ناموں کو علیحدہ پہچان دینے کے لیئے فارسی کے لفظوں کا استعمال کیا گیا ہے۔کلاں اور خورد یعنی بڑا اورچھوٹاملتان۔ایک غیر مصدقہ روایت کے مطابق ملتان کلاں کے اعوان نے یہاں آ کر ملتان خورد آباد کیا تھا۔یہاں کی آبادی کی مادری زبان پوٹھواری پنجابی ہے اب اردو بھی بولی جاتی ہے۔یہاں تمام معروف سکولز کی برانچیں موجود ہیں جبکہ مکہ کمپلیکس کی کثیر المنزلہ عمارت سے گاوں کو شہر میں بدلنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستان بننے سے پہلے یونین کونسل کے دفتر والی گلی میں مین بازار ہوا کرتاتھاجس میں ہندوں کی دوکانیں تھیں۔خرگوش اور تیتر کا شکار عام تھا شکاری کتے رکھے جاتے تھے۔ سردیوں میں لاوہ سے نواب زاہد ممارز اورپشاور،نوشہرہ سے لوگ خرگوش کے شکار کے لیئے آتے تھے، اب بھی سردیوں میں باز کے ساتھ تیتر کے شکار کے لیئے ملتان کے مخدوم ملتان خورد میں شکار کے لیئے آتے ہیں۔ سردار منصور حیات ٹمن جب امریکہ سے تعلیم مکمل کرکے سیاست میں آئے تو انہوں نے بھی ملتان خورد کے بیلوں کے جلسوں میں شرکت کی۔ ملک محمد نواز کا (کالا بیل)علاقائی طور پرمعروف تھا۔ملک مظفر خان نے بھی علاقائی ثقافت اور تفریح کو قائم رکھا ہوا ہے،نیزہ بازی اور جبی شاہ دلاور کا میلہ علاقائی تفریح اور ثقافت کا حصہ رہے ہیں۔ملک محمد نواز اور ملک مظفر خان کا ذکر اگر مرزا خان نواب خیل کے بغیر کیا جائے تو یہ ثقافتی تاریخ نا مکمل ہوگی داندوں کے جلسوں میں نواب خیل برادی کو اگر ثقافتی اکیڈیمی کا درجہ حاصل ہے۔ملک محمد خان سلاری اور ملک محمد اسلم بھی اس ثقافت کا حصہ ہیں۔

    ملتان کا سلطان
    Images copyrights to their respective owners

    صادق ہوٹل والے کے گھر سے بس سٹاپ شروع ہوا۔حاجی غلام رسول گھاڑا کا ملتان خور دپر احسان ہے کیونکہ ملتان خورد کی مین سڑک پر اندھا موڑ تھا۔ شوکت عطرال کے چوبارے کے مغرب کی طرف سڑک دائرے کی شکل میں گھوم کر پھر مین سڑک سے ملتی تھی یہ اندھا موڑ تھا ریت کی وجہ سے بسیں عموماً پھنس جاتی تھیں۔اُس وقت حاجی غلام رسول گھاڑا نے سڑک کے سامنے والے گھر متبادل جگہ شفٹ کرکے انہیں گرا کر سڑک کو سیدھا کیااگر یہ اندھا موڑ ختم نہ ہوتا تو ملتان خورد کے مین بازار کی آمدورفت میں مشکلات ہوتیں۔حاجی غلام رسول گھاڑاکا بڑا سیاسی ویژن تھا جس کے تحت انہوں نے شہر کی خوبصورتی اور عوامی سہولت کے حوالے سے بنیادی کام کیا۔ ملتان خورد کی سیا ست علاقائی سیاست پر اثر انداز رہتی ہے۔یہ عجب اتفاق ہے کہ ایم این اے ٹمن میں دستیاب ہوتے ہیں لیکن سیاسی شعور ملتان خورد میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں سیاسی دھڑے انتہائی متحرک رہتے ہیں سیاسی وفاداری اور سیاسی دھڑا بندی میں کسی حد تک جا سکتے ہیں۔
    ملتا ن خورد کے بریگیڈیر (ر) اافتخار احمد شاہد اعلی عسکری عہدے تک پہنچے، ایئر فورس کے ملک امیر خان۔لیفٹنٹ کرنل عبدالعزیز، وائس چانسلر،ڈین،چیئرمین، پروفیسر،ڈاکٹر حیات محمد پی ایچ ڈی بہاوالدین یونیورسٹی ملتان بھی ملتان خورد کے پہلے پی ایچ ڈی ہیں۔صابر شاہ کی بیٹی،مشتاق بخاری اور انجینئر اشفاق شاہ کی بھانجی نے حال ہی میں امریکہ سے فزکس میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ملتان خورد کے پہلے ایم بی بی ایس ڈاکٹرکیپٹن ڈاکٹر فتح شاہ اورسلطان شاہ شہزاد پہلے بیوروکریٹ ہیں۔غلام رسول جا ن واحدی (ر)جوائنٹ سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی ملتان خورد سے ہیں۔ضلع چکوال کے پہلے روزنامے کے چیف ایڈیٹر اور پبلک لمیٹڈ کمپنی کے سی ای اوملک محمد فاروق خا ن کا تعلق بھی ملتا ن خورد سے ہے۔پہلے چارٹر اکاوٹنٹ عبدالجبارتھے۔1965 کے شہید صوبیدار کرم شاہ 6 ایف ایف۔پہلے پائیلٹ محمد عثمان ہیں۔پہلے انجینئر الطاف حسین،ملک محمد نواز اور اشفاق شاہ ہیں۔ملتا ن خورد کی معروف شخصیت مستری محمد دین جو بغیر کسی ڈگری کے مکینکل انجینئر تھے ساری زندگی علاقائی خدمت کی۔ہیڈ ماسٹر ممتاز علی شاہ ملتان خورد کی معزز شخصیت تھے۔اساتذہ میں انگلش ٹیچر محمد اکر م معروف ہیں۔جب طبی سہولتوں کا فقدان تھا اس وقت حکیم عبدالصمد،حکیم عمر خان اور حکیم غلام شاہ اور ایلوپیتھی کے زمانے میں ڈاکٹر احمد شاہ نے علاقائی خدمت کی۔ملتان خورد صنعتی شہر ہوتا اگر ہم نے اللہ کے دوستوں (ہاتھ سے کام کرنے والے) کو کمی کہہ کر اُن کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا ہوتا تو ہمارہ صنعتی ورثہ قائم ہوتا،نوجوانوں کو صنعتی شعور ملتا اور وۂ نوکریاں ڈھونڈھنے کی بجائے صنعتیں لگانے کا سوچتے۔
    مکھڈ اور میرا شریف کے دربار روحانی طور پر علاقائی سیاست پر اثر انداز رہتے ہیں۔ملتان خورد میں ہندوں کی ماڑی اور باولی(واں) اب بھی کسی شکل میں موجود ہے۔ ملتان خورد کی سب سے اونچی اور قدیمی مسجد محلہ سگھر ال میں ہے۔ملتان خورد میں ڈھیری پر چمڑا رنگا جاتا رہا ہے،مٹی کے برتن بنانے کی بھٹیاں اور کپڑا بنانے کی کھڈیاں تھیں،زری چپل،سرسوں کا تیل بنانے کے کوہلو تھے۔ یہ گھریلو یا مقامی صنعتیں قومی صنعتوں میں بدل چکی ہوتیں۔اب اگر کھڈیوں پر کپڑا بن رہا ہوتا تووۂ دنیا کا نایاب کپڑا ہوتا (سلارے اور ست کنی والی شلواریں)اورہمارے بے روزگار نوجوان DRAZ پر آن لائین بیچ رہے ہوتے۔امریکہ میں ہوٹلوں پر مٹی کے برتنوں کا رواج بڑھ رہا ہے مٹی کے برتن پاکستان سے جا رہے ہیں۔
    ملتان خورد کی سیاست میں تناؤ حاجی غلام رسول اور حکیم ریاض احمد کے زمانے میں رہا۔ملک اکبر خان، ملک شاہ پسند،ملک زمرد خان،حافظ جامی گل چیئرمین یونین کونسل رہے جبکہ ملک محمد حیات ایڈوکیٹ ناظم یونین کونسل رہے۔ چیئرمین یاسر عزیز پر ا ٓکر تھانے اور پٹواری کی سیاست میں نمایاں کمی آئی جس کی وجہ سے سیاست میں دہشت ختم ہوئی ہے۔ ملک مظفر خان ضلع کونسل کے ممبر اور تحصیل کونسل کے نائب ناظم رہے ہیں اور اب بھی علاقائی سیاست میں فعال ہیں لیکن ملتان خورد کی سیاست پر10سال مسلسل سرداری کرنے والے چیئرمین ملک محمد اکبر خان کو ہی ملتان کا سلطان کہا جا سکتا ہے۔

  • ماہر تعلیم دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    ماہر تعلیم دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    ممتاز ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    تحریر طارق محمود ملک

    ممتاز ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر تحریر طارق محمود ملک بشیر جعفرصاحب کا نام تلہ گنگ کے شعراء کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ ان کا شمار ضلع تلہ گنگ اور ضلع چکوال کے نامور شعراء میں ہوتا ہے ۔ بشیر جعفر صاحب 14 جنوری 1951ء کو تلہ گنگ کے معروف گاؤں تھوہا محرم خان ڈھوک کھوڑ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد محترم کا اسمِ گرامی شاہ محمد ہے ۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھوک کھوڑ سے حاصل کی ۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے والد کے ہمراہ ہارون آ باد ( ضلع بہاولپور) آ گئے ۔ان دنوں وہ بسلسلہ ملازمت وہاں قیام پذیر تھے ۔ مڈل تک تعلیم چک نمبر 97_6R تحصیل ہارون آ باد سے حاصل کی ۔ میٹرک کا امتحان 1966ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ہارون آ باد اور ایف اے کا امتحان 1969ء میں رضویہ اسلامیہ کالج ہارون آ باد سے پاس کیا ۔ بی اے کی سند 1972 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ بشیر جعفر صاحب نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ سے متاثر ہو کر 1972ء میں پاکستان آرمی میڈیکل کور میں نرسنگ اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت شروع کی ۔ مگر دو سال بعد ملازمت ترک کر دی ۔ 1976ء میں کالج آف ایجوکیشن ملتان سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا ۔ انہوں نے 1978ء میں ملازمت کا آغاز محکمہ تعلیم سے کیا ۔ ان کی پہلی تقرری گورنمنٹ مڈل سکول حاصل ضلع چکوال میں بطور ہیڈماسٹر ہوئی ۔ اس سکول میں پانچ سال تک فرائضِ منصبی انجام دیے ۔1984 ء میں انہیں اے ای او لاوہ متعین کر دیا گیا ۔ چھ سال بعد اے ای او ٹمن اور ازاں بعد اے ای او چکوال کی اسامیوں پر ذمہ داریاں ادا کیں ۔

    ماہر تعلیم دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر
     ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    بشیر جعفر صاحب نے دوران ملازمت تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور 1993ء میں کالج آ ف ایجوکیشن لاہور سے ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے کامیابیوں کا سفر طے کرتے ہوئے 1995ء میں PPSC کا امتحان پاس کیا ۔ انہیں گریڈ16سے گریڈ 18 میں ترقی دے کرگورنمنٹ ہائی سکول نارنگ ( چکوال ) کا سینئر ہیڈماسٹر تعینات کر دیا گیا ۔ ایک سال بعد گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان آ گئے ۔ 1997ء میں ڈپٹی ڈی ای او تلہ گنگ متعین کر دے گئے ۔ 1999ء میں دوبارہ گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان تبادلہ کر دیا گیا ۔ 2004ء میں ترقی پاکر ڈی ای او سکینڈری چکوال بنا دیے گئے ۔ 2007ء میں ان کی پوسٹنگ ڈی ای او ایلیمنٹری چکوال کر دی گئی ۔ بشیر جعفر تمام تر تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعد 2011ء میں EDO چکوال کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے ۔ انہوں نےایک ملاقات کے دوران شاعری کے حوالے سے بتایا کہ ایم اے اردو کی نصابی کتب کے مطالعہ کے دوران اردو شاعری میں طبع آزمائی کی ، چند غزلیں موزوں کیں ، لاہور اور کراچی کے ادبی رسائل میں اشاعت کے لئے ارسال کر دیں ، اولین کاوش کی پزیرائی سے حوصلہ افزائی ہوئی ، اس کے بعد اردو اور پنجابی شاعری کو جز وقتی مشغلہ کے طور پر اپنا لیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بزم دانش تلہ گنگ کی ماہانہ نشستوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے ۔ جناب سید منظور حیدر شاہ ، ملک مختار حیدر منظر ، پروفیسر اقبال حسین شاہ ، نور زمان ناوک ، خلش ہمدانی ، پروفیسر محمد اکبر خان نیازی ، ملک محمد اکرم ضیاء ، مظہر عباس ہمالیہ حکیم لال حسین صابر ، پروفیسر ڈاکٹر ملازم حسین اختر ، پروفیسر غلام شبیر شاکر ، محمد امین ذاہد ، محمد عزیز ہمدانی، صداقت شفیق ، ڈاکٹر محمد بن اکبر نیازی سلیم حیدر ، ظہیر احمد ظہیر ، اظہر علی ملک ، منیر احمد مصور ، عبد الرحمٰن شاد ، حسنین عاکف اور متعدد دیگر شعراء کو سننے اور محضوظ ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

    قارئین پروفیسر اقبال حسین شاہ صاحب کے وصال کے بعد بشیر جعفر بزم دانش تلہ گنگ کے صدر بنے ، ایوانِ ادب چکوال کے چیئرمین کے عہدہ پر فائز رہے ۔ قومی اخبارات روز نامہ جنگ ، روز نامہ نوائے وقت ، روز نامہ مساوات میں ان کا کلام شائع ہو تا رہا ہے ۔اردو ادب کے بیشتر رسائل میں ان کے مضامین ، نظمیں اور غزلیں شائع ہوئیں، ان میں اجراء کراچی ، نالہء دل ، فن زار ، الحمراء ، تخلیق ، آموزش ، لالہ صحرائی ، قابل ذکر ہیں ۔ مقامی اخبارات ہفت روزہ تلہ گنگ ٹائمز اور ہفت روزہ متقارب میں بھی ان کی ادبی کاوشیں چھپتی رہی ہیں ۔ بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ کے علاوہ لاہور ، راولپنڈی ، مری ، اسلام آباد ، سرگودھا اور چکوال کے مشاعروں میں متعدد مرتبہ کلام پیش کر چکے ہیں ۔ بشیر جعفر نے جناب سعید اختر ملک ، میڈم عائشہ مسعود ملک کے علاوہ درجن بھر دیگر احباب کی کتابوں کی تقاریب میں کنوینر کے طور پر فرائص سر انجام دیے ۔ وہ مشاعروں میں متعدد مرتبہ نقیب محفل کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں ۔ روزنامہ نوائے وقت کے ادبی صفحے کی انچارج میڈم عائشہ مسعود ملک صاحبہ کی تحریک میں منظوم مزاح نگاری کا آغاز کیا ۔ مارگلہ پنچ کے زیرِ عنوان ان کی طنز یہ ومزاحیہ نظمیں ، غزلیں نوائے وقت میں تین سال تک تواتر سے شائع ہوتی رہیں، ازاں بعد یہی نظمیں اور غزلیں ‘ ہنستے بسورتے لفظ ‘کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی گئیں ۔ سنجیدہ شاعری کے دو مجموعے ‘زلفوں میں نایاب سی خوشبو ‘اور ‘ عشق میری مجبوری ‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں ۔ بشیر جعفر کی کتاب زلفوں میں نایاب سی خوشبو (نظمیں ، غزلیں) الحق پبلیکیشز لاہور سے جنوری 2003ء میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کا دیباچہ وطن عزیز کے نامور ادیب اور شاعر جناب عطاء الحق قاسمی صاحب نے تحریر کیا ، وہ لکھتے ہیں:

     بشیر جعفر حقیقتوں کے شاعر ہیں ۔ محض خیال آرائی ان کا شیوہ نہیں ۔ وہ جو کہتے ہیں کسی علامتی سہارے کے بغیر کہتے ہیں ۔ صنفِ شعر سے بالعموم اجتناب ہی برتتے ہیں ۔ ان کے موضوعات ہمارے ارد گرد سانس لیتے نظر آ تے ہیں ۔ان کے شعر کی تفہیم کے لئے ہمیں آ سمان تک پرواز کی ضرورت نہیں پڑتی، صرف اپنے اندر جھانک کر یا گردوپیش پر ایک نظر ڈال کر ہم ان کی بات آ سانی سے سمجھ جاتے ہیں ۔ بشیر جعفر لفظ کی معنویت اور اس کے استعمال کے ہنر سے خوب واقف ہیں ۔ دور ازکار تشبیہات سے گریز کرتے ہیں ، شستہ وشائستہ تراکیب اور مفہوم کی مناسبت سے بولتے الفاظ ان کے کام کا جوہر ہیں ۔ بے رس شاعری کو محض فنی چابک دستی قابل قبول نہیں بنا سکتی ۔ بشیر جعفر کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں فن سے ان کی شناسائی کا معترف ہونا پڑتا ہے وہاں قاری مسلسل ایک خوشگوار تاثر کی زد میں رہتا ہے ۔

    عطاء الحق قاسمی

    نمونہ کلام

     زلفوں میں نایاب سی خوشبو سانسوں میں کستوری ہے

     یارو اس کی زات سے عشق میری مجبوری ہے

    دوچار گھروندے ہیں جو لو دیتے ہیں شب بھر

     اس شہر میں دل والوں کی تعداد ہی کیا ہے

    کو بکو  اڑتی پھریں گی دامنوں کی دھجیاں

     دشت والے شہر میں در آئے تو پھر دیکھنا

      ٹوٹ جائیں گے بکھر جائیں گے شیشے کے یہ گھر

      دست جعفر میں بھی پتھر آ یے تو پھر دیکھنا

    بشیر جعفر صاحب کی کتاب ‘ ہنستے بسورتے لفظ’ اگست 2011ء میں شائع ہوئی ۔ کتاب کے دیباچہ میں قیوم طاہر لکھتے ہیں ۔

    ‘ہنستے بسورتے لفظ’بشیر جعفر کا اولین طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام ہے ۔ اس کی سنجیدہ شاعری تو کئی بار سنی اور پڑھی ہے لیکن مزاح کھبی کبھار صرف اخبارات میں دیکھا اور لطف اٹھایا ۔ یہ اندازہ ہر گز نہ تھا کہ اس کے ترکش میں مزاح کی نسبت سے ایسے ایسے تیر موجود ہیں ۔ در اصل تخلیقی عمل کی مثال اس دیگ کی سی ہے جس کے ایک چاول سے پوری دیگ کی لذت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ میرا خیال تھا بشیر جعفر محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے مزاحیہ اشعار لکھتا ہے ۔ اس کا کلام مسودے کی شکل میں سامنے آیا تو پتا چلا کہ وہ تو خالصتاً ایک کھری قسم کا مزاح گو شاعر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ دل کو یہ حقیقت تسلیم کر نے میں مشکل پیش آ ئی کہ اسے مزاح نگار شاعر مان لیا جائے ۔ لیکن اب جبکہ اس کا مسودہ میرے سامنے ہے اور میں اسے بغور پڑھ رہا ہوں تو اس کے گن کھل بھی رہے ہیں اور میں اسکے گن گا بھی رہا ہوں ۔ یہ اشعار پڑھنے کے بعد میرا تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اگر بشیر جعفر اس میدان میں نہ آ تا تو فکاہیہ ادب کے لئے ایک بڑا نقصان ہوتا۔ اس کی مزاحیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اس نے عام اور معمولی موضوعات کو بھی اپنے لفظوں کے ورتاوے سے خاص اور غیر معمولی بنادیا ہے ۔ اچھوتے قافیوں کے جلو میں متنوع موضوعات پر اس سلیقے سے مزاح تخلیق کیا گیا ہے کہ اس کے اس مجموعہ کلام کو اردو کے مزاحیہ ادب میں بلا خوف تردید ایک قابل قدر اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔

    قیوم طاہر

     اسی کتاب کے بارے میں معروف ماہر تعلیم اور شاعر جناب صداقت شفیق لکھتے ہیں۔

     ( اقتباس ) جعفر کی سنجیدہ شاعری کے راستے مزاحیہ شاعری کی راہ میں کہاں ، کیوں اور کیسے ضم ہوئے؟ کیا محض ذائقہ بدلنے کے لئے اس نے ایک بڑے حصار سے نسبتاً چھوٹے حصار میں زقند بھری ؟کیا آسازوں کے ہجوم میں اس سنجیدہ شاعری میں انفرادیت قائم رکھنا مشکل نظر آ یا تو اس نے ادھر کا رخ کیا ؟ کیا اس کی جودت طبع طنز و مزاح سے زیادہ لگا کھا تی تھی؟ کہیں اسکی مزاح گوئی کے پس منظر میں ہجر کے روگ اور نارسائی اور تشنگی کی کچھ ایسی پرچھائیاں تو نہیں جنہیں وہ سنجیدہ شاعری میں تصویرنہ کرسکا ؟ اس قبیل کے سوالوں کے جواب تو ظریفانہ شعروادب کا کوئی سکہ بند ناقد اور پارکھ ہی دے سکتا ہے لیکن اسکی مزاحیہ شاعری کے ابتدائی نقوش اور قہقہے اور مسکراہٹیں بانٹتی اٹھان سے یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس نے محض سنجیدہ خدو خال کی فرغل پہن رکھی تھی ۔ اس کے اندر کا کھلنڈرا ، نٹ کھٹ اورشوخ و شنگ بشیر جعفر زیادہ دیر چھپا نہ رہ سکا اور وہ نیم وا آنکھوں میں رقص کرتی ذہانت بھری شرارت کی پھلجھڑیاں چھوڑتا بالآخر مزاحیہ غزلوں ، نظموں کے تخلیق کار کی شکل میں ہمارے سامنے آ موجود ہوا ۔ اللہ کرے زور مزاح اور زیادہ ۔

    صداقت شفیق

     ڈاکٹر انعام الحق جاوید رقم طراز ہیں ۔

    جناب بشیر جعفر صاحب مزاح کی دنیا میں اپنی کتاب کے ساتھ اچانک نمودار ہوئے ہیں اور مجھے حیرت ہے کہ طنزو مزاح کا محقق ہونے کے باوجود ، یہ اب تک مجھ سے کیسے چھپے رہے ۔ میں نے ان کی کتاب کا مسودہ تفصیلا پڑھا ہے ۔ اس کتاب میں شستہ ظنز ومزاح اور شائستہ مزاح کی تہہ در تہہ کئی پرتیں پائی جاتی ہیں ۔ کلام انتہائی پختہ ہے ۔ کوئی وجہ نہیں کہ خاص و عام کی توجہ کھینچنے میں کامیاب نہ ہو اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سلسلہ کو جاری رکھیں گے ۔ بشیر جعفر کا نوکرانی سے خطاب پر مبنی قطعہ ؛ننگے پاؤں کیوں پھرو؟ ہم نے کہا؛ جیب میں رکھتے ہیں ہم پیسے بہت ؛ مسکرا دی اور پھر کہنے لگی ؛ سر سلامت آ پ کا ، جوتے بہت ۔

    ڈاکٹر انعام الحق جاوید

     بشیرجعفر صاحب کی دعائیہ غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔

    مری دھوپ کو بھی گداز دے مرے کرب کو بھی تمام کر

     کوئی سایہ لطفِ عمیم کا سر دشت غم مرے نام کر

    مری روسیاہی سے روٹھ کر نہ رلا مجھے، نہ گنوا مجھے

    مری راحتیں مجھے پھیر دے ، مجے تھام مجھ سے کلام کر

     یہ جو بوند بوند ٹپک رہی ییں مری جبیں سے ندامتیں

     سر باب لطف و قبولیت انہیں بہرہ مند مقام کر

    تری فرصتوں کا بس ایک پل مری سرخوشی کا دوام ہے

     مری ارض دل پہ اتر کبھی مرے شہر جاں میں قیام کر

    تری زر نگار کتاب میں جو دمک رہی ہیں ورق ورق

     انہی آیتوں ، انہی حکمتوں کو مرے جہاں کا نظام کر

     تیری رحمتوں نے امر کیا ہے سرود میرو منیر کو

     خدو خال شعر بشیر کو بھی عطا ثبات دوام کر

    ان دنوں بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ میں قیام پذیر ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے آمین ۔

  • کمپیوٹر لیب , اسکول بلڈنگ افتتاحی تقریب

    افتتاحی تقریب کمپیوٹر لیب , اسکول بلڈنگ

    کمپیوٹر لیب اینڈ بوائز سکول بلڈنگ کی افتتاحی تقریب

    تحریر : محمد فاروق خان

    اتحاد ویلفئر سوسائیٹی کھوئیاں ۔

    ۔ ” اے جذبہ جنوں! 

    تو ہمت نہ ہار ۔۔۔

    اگر اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر دیکھنی ہو

    تو اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں کو دیکھ لیا جائے

    پچھلے 5 سالوں میں اس تنظیم کے نوجوانوں نے جسطرح خدمت خلق کے جذبے سے لبریز ہوکر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گاؤں کی تقدیر بدلی ہے ۔

    اپنے گاؤں کے باسیوں کیلئے معیار تعلیم اور معیار زندگی کو بہتر کیا ہے ۔

    وہ اپنی مثال آپ ہے ۔

    اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں کی بے شمار کامیابیوں میں سے ایک شاندار کامیابی کی افتتاحی تقریب 13 مارچ 2023 بروز سوموار کو بوائز ہائی سکول کھوئیاں میں منعقد ہوئی ۔

    اس تاریخی تقریب کا مقصد اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں کیطرف سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کھوئیاں میں کمپیوٹر لیب اور سکول بلڈنگ (دو کلاس روم اور برآمدہ) کے مکمل ہونے کے بعد کمپیوٹر لیب اور سکول بلڈنگ کا افتتاح کرنا تھا ۔ 

    crowd

    افتتاحی تقریب میں اہلیان کھوئیاں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کرکے تقریب کو چارچاند لگا دئے ۔

    ۔ تحصیل تلہ گنگ کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب، پروفیسر صابر حیات پرنسپل Superior College تلہ گنگ، ٹمن ویلفیئر سوسائٹی، چنیجی ویلفیئر سوسائٹی، سگھر ویلفیئر سوسائٹی، ملتان خورد ویلفئیر سوسائٹی، دندی ویلفیئر سوسائٹی، نیشنل سروسز ٹرسٹ اسلام آباد  کے چیرمین ملک محمد فاروق خان۔ضلع تلہ گنگ سوشل ویلفیئر آفیسر، صحافی برادری، کرنل محمد افضل، ڈاکٹر عابدہ ملک، ڈاکٹر نعیم آفتاب احمد، الطاف خان، نسیم ملک خان صاحبہ اور طاہرہ حیات سوشل ورکر/ سوشل آرگنائزر، Shed Organization پچنند (تحصیل لاوہ) نے بھی اس تقریب میں شرکت کرکے پروگرام کو خصوصی رونق بخشی ۔

    45 لاکھ کی خطیر رقم سے تیار ہونے والی سکول بلڈنگ اور جدید قسم کی کمپیوٹر لیب کے قیام سے کھوئیاں ہائی سکول کے سٹوڈنٹس کو کمپیوٹر کی جدید تعلیم حاصل کرکے اپنے تعلیمی کیرئیر میں مدد ملے گی۔

    کمپیوٹر لیب , اسکول بلڈنگ افتتاحی تقریب

    اور انکی Skills میں اضافہ ہوگا ۔

    اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کھوئیاں بلاشبہ اس وقت اپنے ضلع کی سب سے بہترین ویلفئیر سوسائیٹی ہے ۔

    اور گردونواح کی تمام سوسائیٹز کیلئے ایک رول ماڈل کا مقام حاصل کر چکی ہے ۔

    جو کہ 24/7 اپنے گاؤں میں معیار زندگی کو بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔

    ۔ کل کے اس شاندار افتتاحی پروگرام کے انعقاد پر IWSK کی ایجوکیشن کمیٹی ہیڈ سعید احمد ملک، نسیم خان ملک، ڈاکٹر عابدہ ملک، استاد مسعود صاحب، سکول ہیڈ ماسٹر صاحب، چئیرمین ثاقب جمیل، وائس چیئرمین ناصر حسین، وائس چئیرمین جاوید ذیشان، بانی تنظیم امیر معاویہ، سرپرست اعلی حاجی رفیق سلطان، بانی تنظیم ملک جی ایم اعوان، اور دیگر ایگزیکٹو ممبران (شفقت حسین، قیصر ملک، مہتاب احمد، ارشد محمود، رفاقت حسین، مدثر عارف)، ٹیم IWSK ممبران، سکول انتظامیہ، اساتذہ کرام، اور اتحاد ویلفئیر سوسائیٹی کی انتظامی امور کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم سپیشل داد کی مستحق ہے ۔

    "قافلہ جب ہمارا عزم و یقیں سے نکلے گا ۔

    جدھر سے چاہیں گے، رستہ وہیں سے نکلے گا "۔

    ” وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے ۔

    ” مجھے یقیں ہے کہ رستہ یہیں سے نکلے گا ".

    farooq

    محمد فاروق خان

    ٹمن، ملتان

    پنجاب، پاکستان

  • عاشق مست جلالی

    عاشق مست جلالی

    عاشق مست جلالی

    تحریر: محمد فاروق خان

    ادب کا میلہ لگے یا کتابوں کاشہر سجےہماری یاداشت کا گوگل جبی شاہ دلاور کا میلہ ڈھونڈ کرسامنے لے آتا ہے۔جبی میلے کئی دہائیوں تک علاقائی تفریح کا واحد ذریعہ رہاجس سےعلاقائی ثقافت کو سہارااور کاروبار ی ترقی کو سنبھالا ملا۔جبی میلے پر کتابوں کے سٹال تو کبھی نہ لگے البتہ کتابی چہرے اور ثقافتی ماڈلز گڑ کی ریوڑیوں کے سٹال پہ ضرور دیکھے جاتےتھے۔نئے ضلع تلہ گنگ کو پاکستان کے نقشے پر نمایاں اور منفرد کرنے کے لئے لٹریری فیسٹیول کا انعقاد خوش آئند ہے۔منتظمین میلہ اور قومی ادب کی نامور شخصیات کو خوش آمدید۔اس میلے کی وساطت سے ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ ادب کے سالاراس دھرتی پر بھی ادب کے بیج بوئیں گے تاکہ جب اگلی گلاب رتوں میں وہ دوبارہ آئیں تو انہیں ادب کے سرخ گلابوں کی مہک محسوس ہو۔

    تلہ گنگ پروفیشنلزنیٹ ورک کے میلے سے پہلے سعید اختر ملک دڑبٹہ میں قومی سطح کے کامیاب مشاعرے کا انعقاد کر چکے ہیں جسے علاقائی طور پر خوب پذیرائی ملی۔اب تلہ گنگ میں ادبی میلے کا پہلامنفردتجربہ یقینا علاقائی پسندیدگی کا باعث بنے گا۔ مقامی ثقافت بھی اپنا رنگ جمائے گی ڈھول کی تھاپ،شہنائی کی گونج اورلاوہ تلہ گنگ کی لڈی میلہ لوٹ لے جائے گی۔منتظمین میلہ اور ادب کی منفرد شخصیات میں بیوروکریٹک ٹچ نمایاں ہے شاید اسی لئے وہ علاقے سے کسی نامعلوم و بے نام( شاکر شجاع آبادی) کو حالات کے کرب سے نکال کر آسمان ادب تک نہ لا سکے شاید بہت سارا بے نام ٹیلنٹ جسے کھوجنے کی ضرورت تھی محروم اور ما یوس رہ جائے گا۔

    ادب کے دائرے سے باہر کھڑے ہم جیسے لوگ جو ادب کی تعریف کرنےسے بھی نا بلد ہیں وہ ادب اور ادبی میلے کا احاطہ کیسے کرسکتے ہیں؟ ادب کو جاننے کے لئے ادب کے درباروں سے فیض یاب ہونے کی ضرورت ہے۔(کارڈینل نیومن )کے بقول انسانی افکار و احساسات کا زبان اور افکار کے ذریعے اظہار ادب کہلاتا ہےجبکہ (میتھیو آرنلڈ )ہر اس علم کو جو کتاب کے ذریعے ہم تک پہنچے ادب قرار دیتا ہے۔(والٹر پیٹر )کا خیال ہے کہ ادب واقعات یا حقائق کو صرف پیش کر دینے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لئے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔ادیب جس میں ادراک کی صلاحیت اور اظہار کی قوت بھی ہوتی ہے۔ادیب کا کردار انفرادی اور ذاتی ہونے کے ساتھ ساتھ آفاقی بھی ہوتا ہے۔ادیب اور ادب معاشرتی ذمہ داریوں سے لا تعلق نہیں رہ سکتے۔

    جب سیاست دان طاقت کے تخت پر قبضے کی جنگ میں دست و گریباں ہوں اور جمہوریت صرف تقریروں اور تحریروں میں شرمندہ ہو رہی ہو۔جب حالات کا جبر بے یقینی پیدا کر رہا ہو۔جب سفید پوشوں کو مہنگائی سے عزت نفس کے مجروح ہونے کا یقین پختہ ہو رہا ہو۔قوت خرید دم توڑ رہی ہو۔جب دشت زندگی میں کوئی شجر سایہ دار کم کم میسر ہو۔ جب ظلم کے سامنے حق پیش کرنے والے نا پید ہونے لگیں۔دہلیز پہ سستا اور فوری انصاف والا سلوگن اپنی موت آپ مر جائے تو لازم ہے کہ معاشرتی جمود کو ادبی ارتعاش سے متحرک کیا جائے۔

    اہل دانش کوتدبر کرنا ہوگا کہ عہد رفتہ میں ادب نےمعاشرے کو کیا دیا اور مستقبل قریب میں ادب کیا کچھ دینے والا ہے۔ ۔مزاحمتی ادب مزاحمت سے نا آشنا ہورہا ہے ۔ ادیب اور شاعرکی عزت نفس بھی خطرے میں ہے ۔ کتاب بھی اشاعت سے گریزاں ہونے کو ہے۔ادب کو شخصی دائروں میں بند رکھ کر تواصی بالحق سے گریزاں نہیں ہونا چاہئے،ادب جب ظلم و ناانصافی کا ادبی حصار نہ کر سکے اور معاشرے کو تنہا چھوڑ دے تو ادب کے لئےلمحہ فکریہ ہو جاتاہے۔ادب اگر بے لگام سیاستوں کو ویژن نہیں دیتا اور نوجوان کو اقبال کا شاہین نہیں بناتا۔بے یقینی کو یقین کی دولت سے سرفراز نہیں کرتا تو ادب کو نئی تحریک دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ادب کو بے ضرر امن کا خرگوش بھی رہنا چاہئے لیکن کبھی کبھی ادب کے شیر کی دھاڑ بھی سنائی دینی چاہیے تاکہ طاقت اور اختیار کے فرعونوں کو ادب سے بھی خطرہ محسوس ہو۔ادب برگر کی طرح نہیں ہونا چاہئے کہ فوڈ سٹریٹ میں جا کر کھایا جائے اور کولڈ ڈرنک پی کر گھر چلا جائے۔ادب کامعاشرتی کردار ہونا چاہئے ، جسےنظر بھی آنا چاہیے اور انسانیت کو مستفید بھی کرنا چاہیے ۔ادب کی طاقت مصلحت اور مفاد کے طابع نہیں ہونی چاہیے۔ادب پر معاشرتی اعتبار قائم رہنا چاہئے۔ ادب کو اجتماعی طاقت اور حرمت ادب کی طرف بڑھنا ہوگا۔ادب کو بھی عاشق مست جلالی ہونا چاہئے۔

    farooq khan
عاشق مست جلالی

    محمد فاروق خان

    ٹمن، ملتان

    پنجاب، پاکستان

  • تھانہ ٹمن، ایس ایچ او کی دبنگ کاروائی

    تھانہ ٹمن، ایس ایچ او کی دبنگ کاروائی

    تاریخی تھانہ ٹمن اور ایس ایچ او کی دبنگ کاروائی
    ( شاہد اعوان)

    تھانہ ٹمن کا شمار ضلع تلہ گنگ کے تاریخی اور قدیم ترین تھانوں میں ہو تا ہے انگریز عہد کا یہ تھانہ تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ افسانوی کہانیوں کا حامل رہا ہے۔ کسی زمانے میں جب پولیس کے پاس ابھی گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں تو دور دراز دیہاتوں تک پہنچنے کے لئے تھانیدار یا تو سرکاری گھوڑے کا استعمال کرتا یا سائلین کی طرف سے فراہم کردہ گھوڑے پر متعلقہ علاقہ میں جاتا۔ ایوبی دور میں ملک محمد خان ڈھرنال اسی تھانے کے متعلقہ کیسوں کے فیصلے کیا کرتے تھے یہ عدالتیں عموماٌ رات کے پچھلے پہر لگا کرتی تھیں اور ملک محمد خان کے فیصلوں کو عدالتوں یا تھانوں میں چیلنج بھی نہیں کیا جاتا تھا ۔ اس زمانے میں جب انجرا سے تلہ گنگ تک دن مین صرف ایک ہی بس چلا کرتی تھی جس کی فرنٹ سیٹ عموماٌ خالی ہوا کرتی تھی اس سیٹ پر صرف ایس ایچ او تھانہ ٹمن کا استحقاق تھا اور سیٹ پر باقاعدہ لکھاہوتا تھا کہ یہ سیٹ SHOکے لئے مختص ہے۔ اس زمانے میں اسی حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بھی رونما ہوا تھا ہوا کچھ یوں کہ مذکورہ بس تلہ گنگ سے واپس آرہی تھی جب بس ٹمن تھانہ کے سامنے پہنچی تو پولیس اہلکاروں نے بس ڈرائیور کو حکم دیا کہ SHOصاحب نے تلہ گنگ جانا ہے مسافروں کو یہیں اتارو اور تلہ گنگ واپس چلو۔ بس اتنا سننا تھا مسافر خاموشی کے ساتھ بس سے اتر گئے لیکن بس میں سوار ایک نوجوان طالبعلم جس کا نام شہباز خان تھا، بس کے اندر بیٹھا رہا اور اترنے سے انکار کر دیا۔ ڈرائیور نے اسے بڑا سمجھایا کہ باقی سواریوں کی طرح آپ بھی یہیں اتر جائیں۔ مگر وہ پڑھا لکھا نوجوان بضد تھا کہ مسافروں کو اتار کر بس واپس آجائے گی کیونکہ تراپ اور انجرا کے مسافر بھی بس میں سوار تھے۔ اس سے قبل کہ معاملات مزید بگڑتے تھانیدار نے سٹوڈنٹ کے سامنے ہار مان لی اور یوں جیت طالبعلم شہباز خان کی ہوئی۔۔۔ اس دور میں ایک عام سے طالبعلم کا تھانیدار کے سامنے یوں ڈٹ جانا اور پھر اس سے اپنی بات منوا لینا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا ۔ خیر بس جب ملتان خورد سٹاپ پر پہنچی تو بس ڈرائیور نے تمام مسافروں کو وہاں اتارا اور واپس تھانہ ٹمن کا رخ کیا ۔ اس اصول پسند طالبعلم کا نام شہباز خان تھا جو تلہ گنگ کے ایک غیر معروف گائوں’ کھوئیاں‘ کا رہنے والا تھا جس نے گارڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن کے بعد سکالرشپ حاصل کی اور اس طرح ضلع اٹک کا پہلا پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ ڈاکٹر ملک شہباز خان کھوئیاں اور گردونواح کے پہلے ماہر تعلیم تھے جو تقریباٌ 50سال امریکہ میں یونیورسٹی کے پروفیسر رہے ۔
    خیر بات کہیں اور نکل گئی، ہمارا موضوعِ سخن چند روز قبل تھانہ ٹمن کے علاقہ کوٹ گلہ میں منظم ڈکیتیاں کرنے والا غیر ملکی گروہ پکڑا گیا جہاں تھانہ انچارج نوجوان سب انسپکٹر نعمان تعینات ہے جس کی نیک نامی کے بڑے چرچے ہیں۔ موصوف نے ان وارداتوں کا ’’کھرا‘‘ لگانے کے لئے نہایت دانشمندی دکھاتے ہوئے سب سے پہلے گائوں والوں کو اعتماد میں لیا کیونکہ علاقہ میں کئی ماہ سے پالتو جانور چوری کی وارداتیں مسلسل ہو رہی تھیں ۔ کوٹ گلہ کے رہائشیوں نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی حامی بھر لی اور بالآخر کئی ماہ سے جانور چوری کرنے والا چار رکنی غیر ملکی گروہ پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اہل علاقہ نے سب سے پہلے تو پکڑے جانے والے ان افغان نژاد چوروں کی خوب درگت بنائی کیونکہ پکڑے جانے والے ڈاکو افغانی نژاد بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ افغانی پورے ملک میں سرعام دندناتے پھر تے ہیں، تلہ گنگ کے دیہی علاقوں میں مقامی افراد کا طرزِ زندگی قبائلیوں کی طرح ہے ڈھوکوں میں رہنے والے اپنی زمینوں میں وسیع و عریض گھر بناتے ہیں جس کا کوئی داخلی گیٹ یا دروازہ نہیں ہوتا اور پالتو جانور گھروں کے کشادہ صحنوں میں باندھے جاتے ہیں جس کا بھرپور فائدہ باہر سے نئے آنے والے افغانی اٹھا رہے ہیں اور ان کے پاس اسلحہ بھی ہوتاہے ۔ ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ افغانی درخت خریدتے ہیں انہوں نے علاقہ سے درختوں کا صفایا کر دیا ہے اور مقامی لوگ لالچ میں دھڑا دھڑ درخت بیچ رہے ہیں، اکثر زمینداروں نے ان افغانیوں کو رہائش کے لئے مفت گھر بھی دے رکھے ہیں جس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر یہ غیر ملکی ایک تیر سے کئی شکار کر رہے ہیں۔ افغانیوں نے اس علاقے کا کلچر مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے زمینوں میں ان کی بھیڑیں چرتی ہیں اور منع کرنے پر نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ ہم ان سطور کے ذریعےSHOنعمان کو اس سلسلہ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے انتہائی مہارت سے افغان چوروں کا یہ گروہ پکڑا، لیکن ساتھ ساتھ ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی کہ ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟ مقامی سیاسی اکابرین کو بھی چاہئے کہ ان عناصر پر ترس نہ کھائیں اگر انہیں زیادہ شوق ہے تو صرف ایک بار ذرا کابل کا چکر لگا آئیں اگر تو زندہ بچ گئے تو پھر افغانیوں کو اپنی زمینیں اورگھر ضرور دیں اور ان کی مہمان نوازی خوب دل کھول کر کریں مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قوم وفاداری کے معنی سے مبرا ہے۔ مذکورہ کاروائی پر پولیس کے ساتھ تعاون کرنے والے نوجوانوں اور پولیس اہلکاروں کو ڈی پی او کی طرف سے انعام و اکرام سے بھی نوازا جانا چاہئے جنہوں نے بڑی بہادری سے علاقہ میں امن و امان اور جرائم کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیاہے۔ آئی جی پنجاب کو بھی چاہئے کہ ایس ایچ او ٹمن کو تعریفی اسناد اور نقد انعام دیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ شاباش SHOٹمن شاباش!!

    تھانہ ٹمن , ایس ایچ او کی دبنگ کاروائی