ماہر تعلیم دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

ممتاز ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

تحریر طارق محمود ملک

ممتاز ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر تحریر طارق محمود ملک بشیر جعفرصاحب کا نام تلہ گنگ کے شعراء کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ ان کا شمار ضلع تلہ گنگ اور ضلع چکوال کے نامور شعراء میں ہوتا ہے ۔ بشیر جعفر صاحب 14 جنوری 1951ء کو تلہ گنگ کے معروف گاؤں تھوہا محرم خان ڈھوک کھوڑ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد محترم کا اسمِ گرامی شاہ محمد ہے ۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھوک کھوڑ سے حاصل کی ۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے والد کے ہمراہ ہارون آ باد ( ضلع بہاولپور) آ گئے ۔ان دنوں وہ بسلسلہ ملازمت وہاں قیام پذیر تھے ۔ مڈل تک تعلیم چک نمبر 97_6R تحصیل ہارون آ باد سے حاصل کی ۔ میٹرک کا امتحان 1966ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ہارون آ باد اور ایف اے کا امتحان 1969ء میں رضویہ اسلامیہ کالج ہارون آ باد سے پاس کیا ۔ بی اے کی سند 1972 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ بشیر جعفر صاحب نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ سے متاثر ہو کر 1972ء میں پاکستان آرمی میڈیکل کور میں نرسنگ اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت شروع کی ۔ مگر دو سال بعد ملازمت ترک کر دی ۔ 1976ء میں کالج آف ایجوکیشن ملتان سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا ۔ انہوں نے 1978ء میں ملازمت کا آغاز محکمہ تعلیم سے کیا ۔ ان کی پہلی تقرری گورنمنٹ مڈل سکول حاصل ضلع چکوال میں بطور ہیڈماسٹر ہوئی ۔ اس سکول میں پانچ سال تک فرائضِ منصبی انجام دیے ۔1984 ء میں انہیں اے ای او لاوہ متعین کر دیا گیا ۔ چھ سال بعد اے ای او ٹمن اور ازاں بعد اے ای او چکوال کی اسامیوں پر ذمہ داریاں ادا کیں ۔

بشیر جعفر صاحب نے دوران ملازمت تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور 1993ء میں کالج آ ف ایجوکیشن لاہور سے ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے کامیابیوں کا سفر طے کرتے ہوئے 1995ء میں PPSC کا امتحان پاس کیا ۔ انہیں گریڈ16سے گریڈ 18 میں ترقی دے کرگورنمنٹ ہائی سکول نارنگ ( چکوال ) کا سینئر ہیڈماسٹر تعینات کر دیا گیا ۔ ایک سال بعد گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان آ گئے ۔ 1997ء میں ڈپٹی ڈی ای او تلہ گنگ متعین کر دے گئے ۔ 1999ء میں دوبارہ گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان تبادلہ کر دیا گیا ۔ 2004ء میں ترقی پاکر ڈی ای او سکینڈری چکوال بنا دیے گئے ۔ 2007ء میں ان کی پوسٹنگ ڈی ای او ایلیمنٹری چکوال کر دی گئی ۔ بشیر جعفر تمام تر تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعد 2011ء میں EDO چکوال کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے ۔ انہوں نےایک ملاقات کے دوران شاعری کے حوالے سے بتایا کہ ایم اے اردو کی نصابی کتب کے مطالعہ کے دوران اردو شاعری میں طبع آزمائی کی ، چند غزلیں موزوں کیں ، لاہور اور کراچی کے ادبی رسائل میں اشاعت کے لئے ارسال کر دیں ، اولین کاوش کی پزیرائی سے حوصلہ افزائی ہوئی ، اس کے بعد اردو اور پنجابی شاعری کو جز وقتی مشغلہ کے طور پر اپنا لیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بزم دانش تلہ گنگ کی ماہانہ نشستوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے ۔ جناب سید منظور حیدر شاہ ، ملک مختار حیدر منظر ، پروفیسر اقبال حسین شاہ ، نور زمان ناوک ، خلش ہمدانی ، پروفیسر محمد اکبر خان نیازی ، ملک محمد اکرم ضیاء ، مظہر عباس ہمالیہ حکیم لال حسین صابر ، پروفیسر ڈاکٹر ملازم حسین اختر ، پروفیسر غلام شبیر شاکر ، محمد امین ذاہد ، محمد عزیز ہمدانی، صداقت شفیق ، ڈاکٹر محمد بن اکبر نیازی سلیم حیدر ، ظہیر احمد ظہیر ، اظہر علی ملک ، منیر احمد مصور ، عبد الرحمٰن شاد ، حسنین عاکف اور متعدد دیگر شعراء کو سننے اور محضوظ ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

قارئین پروفیسر اقبال حسین شاہ صاحب کے وصال کے بعد بشیر جعفر بزم دانش تلہ گنگ کے صدر بنے ، ایوانِ ادب چکوال کے چیئرمین کے عہدہ پر فائز رہے ۔ قومی اخبارات روز نامہ جنگ ، روز نامہ نوائے وقت ، روز نامہ مساوات میں ان کا کلام شائع ہو تا رہا ہے ۔اردو ادب کے بیشتر رسائل میں ان کے مضامین ، نظمیں اور غزلیں شائع ہوئیں، ان میں اجراء کراچی ، نالہء دل ، فن زار ، الحمراء ، تخلیق ، آموزش ، لالہ صحرائی ، قابل ذکر ہیں ۔ مقامی اخبارات ہفت روزہ تلہ گنگ ٹائمز اور ہفت روزہ متقارب میں بھی ان کی ادبی کاوشیں چھپتی رہی ہیں ۔ بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ کے علاوہ لاہور ، راولپنڈی ، مری ، اسلام آباد ، سرگودھا اور چکوال کے مشاعروں میں متعدد مرتبہ کلام پیش کر چکے ہیں ۔ بشیر جعفر نے جناب سعید اختر ملک ، میڈم عائشہ مسعود ملک کے علاوہ درجن بھر دیگر احباب کی کتابوں کی تقاریب میں کنوینر کے طور پر فرائص سر انجام دیے ۔ وہ مشاعروں میں متعدد مرتبہ نقیب محفل کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں ۔ روزنامہ نوائے وقت کے ادبی صفحے کی انچارج میڈم عائشہ مسعود ملک صاحبہ کی تحریک میں منظوم مزاح نگاری کا آغاز کیا ۔ مارگلہ پنچ کے زیرِ عنوان ان کی طنز یہ ومزاحیہ نظمیں ، غزلیں نوائے وقت میں تین سال تک تواتر سے شائع ہوتی رہیں، ازاں بعد یہی نظمیں اور غزلیں ‘ ہنستے بسورتے لفظ ‘کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی گئیں ۔ سنجیدہ شاعری کے دو مجموعے ‘زلفوں میں نایاب سی خوشبو ‘اور ‘ عشق میری مجبوری ‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں ۔ بشیر جعفر کی کتاب زلفوں میں نایاب سی خوشبو (نظمیں ، غزلیں) الحق پبلیکیشز لاہور سے جنوری 2003ء میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کا دیباچہ وطن عزیز کے نامور ادیب اور شاعر جناب عطاء الحق قاسمی صاحب نے تحریر کیا ، وہ لکھتے ہیں:

 بشیر جعفر حقیقتوں کے شاعر ہیں ۔ محض خیال آرائی ان کا شیوہ نہیں ۔ وہ جو کہتے ہیں کسی علامتی سہارے کے بغیر کہتے ہیں ۔ صنفِ شعر سے بالعموم اجتناب ہی برتتے ہیں ۔ ان کے موضوعات ہمارے ارد گرد سانس لیتے نظر آ تے ہیں ۔ان کے شعر کی تفہیم کے لئے ہمیں آ سمان تک پرواز کی ضرورت نہیں پڑتی، صرف اپنے اندر جھانک کر یا گردوپیش پر ایک نظر ڈال کر ہم ان کی بات آ سانی سے سمجھ جاتے ہیں ۔ بشیر جعفر لفظ کی معنویت اور اس کے استعمال کے ہنر سے خوب واقف ہیں ۔ دور ازکار تشبیہات سے گریز کرتے ہیں ، شستہ وشائستہ تراکیب اور مفہوم کی مناسبت سے بولتے الفاظ ان کے کام کا جوہر ہیں ۔ بے رس شاعری کو محض فنی چابک دستی قابل قبول نہیں بنا سکتی ۔ بشیر جعفر کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں فن سے ان کی شناسائی کا معترف ہونا پڑتا ہے وہاں قاری مسلسل ایک خوشگوار تاثر کی زد میں رہتا ہے ۔

عطاء الحق قاسمی

نمونہ کلام

 زلفوں میں نایاب سی خوشبو سانسوں میں کستوری ہے

 یارو اس کی زات سے عشق میری مجبوری ہے

دوچار گھروندے ہیں جو لو دیتے ہیں شب بھر

 اس شہر میں دل والوں کی تعداد ہی کیا ہے

کو بکو  اڑتی پھریں گی دامنوں کی دھجیاں

 دشت والے شہر میں در آئے تو پھر دیکھنا

  ٹوٹ جائیں گے بکھر جائیں گے شیشے کے یہ گھر

  دست جعفر میں بھی پتھر آ یے تو پھر دیکھنا

بشیر جعفر صاحب کی کتاب ‘ ہنستے بسورتے لفظ’ اگست 2011ء میں شائع ہوئی ۔ کتاب کے دیباچہ میں قیوم طاہر لکھتے ہیں ۔

‘ہنستے بسورتے لفظ’بشیر جعفر کا اولین طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام ہے ۔ اس کی سنجیدہ شاعری تو کئی بار سنی اور پڑھی ہے لیکن مزاح کھبی کبھار صرف اخبارات میں دیکھا اور لطف اٹھایا ۔ یہ اندازہ ہر گز نہ تھا کہ اس کے ترکش میں مزاح کی نسبت سے ایسے ایسے تیر موجود ہیں ۔ در اصل تخلیقی عمل کی مثال اس دیگ کی سی ہے جس کے ایک چاول سے پوری دیگ کی لذت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ میرا خیال تھا بشیر جعفر محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے مزاحیہ اشعار لکھتا ہے ۔ اس کا کلام مسودے کی شکل میں سامنے آیا تو پتا چلا کہ وہ تو خالصتاً ایک کھری قسم کا مزاح گو شاعر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ دل کو یہ حقیقت تسلیم کر نے میں مشکل پیش آ ئی کہ اسے مزاح نگار شاعر مان لیا جائے ۔ لیکن اب جبکہ اس کا مسودہ میرے سامنے ہے اور میں اسے بغور پڑھ رہا ہوں تو اس کے گن کھل بھی رہے ہیں اور میں اسکے گن گا بھی رہا ہوں ۔ یہ اشعار پڑھنے کے بعد میرا تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اگر بشیر جعفر اس میدان میں نہ آ تا تو فکاہیہ ادب کے لئے ایک بڑا نقصان ہوتا۔ اس کی مزاحیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اس نے عام اور معمولی موضوعات کو بھی اپنے لفظوں کے ورتاوے سے خاص اور غیر معمولی بنادیا ہے ۔ اچھوتے قافیوں کے جلو میں متنوع موضوعات پر اس سلیقے سے مزاح تخلیق کیا گیا ہے کہ اس کے اس مجموعہ کلام کو اردو کے مزاحیہ ادب میں بلا خوف تردید ایک قابل قدر اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔

قیوم طاہر

 اسی کتاب کے بارے میں معروف ماہر تعلیم اور شاعر جناب صداقت شفیق لکھتے ہیں۔

 ( اقتباس ) جعفر کی سنجیدہ شاعری کے راستے مزاحیہ شاعری کی راہ میں کہاں ، کیوں اور کیسے ضم ہوئے؟ کیا محض ذائقہ بدلنے کے لئے اس نے ایک بڑے حصار سے نسبتاً چھوٹے حصار میں زقند بھری ؟کیا آسازوں کے ہجوم میں اس سنجیدہ شاعری میں انفرادیت قائم رکھنا مشکل نظر آ یا تو اس نے ادھر کا رخ کیا ؟ کیا اس کی جودت طبع طنز و مزاح سے زیادہ لگا کھا تی تھی؟ کہیں اسکی مزاح گوئی کے پس منظر میں ہجر کے روگ اور نارسائی اور تشنگی کی کچھ ایسی پرچھائیاں تو نہیں جنہیں وہ سنجیدہ شاعری میں تصویرنہ کرسکا ؟ اس قبیل کے سوالوں کے جواب تو ظریفانہ شعروادب کا کوئی سکہ بند ناقد اور پارکھ ہی دے سکتا ہے لیکن اسکی مزاحیہ شاعری کے ابتدائی نقوش اور قہقہے اور مسکراہٹیں بانٹتی اٹھان سے یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس نے محض سنجیدہ خدو خال کی فرغل پہن رکھی تھی ۔ اس کے اندر کا کھلنڈرا ، نٹ کھٹ اورشوخ و شنگ بشیر جعفر زیادہ دیر چھپا نہ رہ سکا اور وہ نیم وا آنکھوں میں رقص کرتی ذہانت بھری شرارت کی پھلجھڑیاں چھوڑتا بالآخر مزاحیہ غزلوں ، نظموں کے تخلیق کار کی شکل میں ہمارے سامنے آ موجود ہوا ۔ اللہ کرے زور مزاح اور زیادہ ۔

صداقت شفیق

 ڈاکٹر انعام الحق جاوید رقم طراز ہیں ۔

جناب بشیر جعفر صاحب مزاح کی دنیا میں اپنی کتاب کے ساتھ اچانک نمودار ہوئے ہیں اور مجھے حیرت ہے کہ طنزو مزاح کا محقق ہونے کے باوجود ، یہ اب تک مجھ سے کیسے چھپے رہے ۔ میں نے ان کی کتاب کا مسودہ تفصیلا پڑھا ہے ۔ اس کتاب میں شستہ ظنز ومزاح اور شائستہ مزاح کی تہہ در تہہ کئی پرتیں پائی جاتی ہیں ۔ کلام انتہائی پختہ ہے ۔ کوئی وجہ نہیں کہ خاص و عام کی توجہ کھینچنے میں کامیاب نہ ہو اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سلسلہ کو جاری رکھیں گے ۔ بشیر جعفر کا نوکرانی سے خطاب پر مبنی قطعہ ؛ننگے پاؤں کیوں پھرو؟ ہم نے کہا؛ جیب میں رکھتے ہیں ہم پیسے بہت ؛ مسکرا دی اور پھر کہنے لگی ؛ سر سلامت آ پ کا ، جوتے بہت ۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید

 بشیرجعفر صاحب کی دعائیہ غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔

مری دھوپ کو بھی گداز دے مرے کرب کو بھی تمام کر

 کوئی سایہ لطفِ عمیم کا سر دشت غم مرے نام کر

مری روسیاہی سے روٹھ کر نہ رلا مجھے، نہ گنوا مجھے

مری راحتیں مجھے پھیر دے ، مجے تھام مجھ سے کلام کر

 یہ جو بوند بوند ٹپک رہی ییں مری جبیں سے ندامتیں

 سر باب لطف و قبولیت انہیں بہرہ مند مقام کر

تری فرصتوں کا بس ایک پل مری سرخوشی کا دوام ہے

 مری ارض دل پہ اتر کبھی مرے شہر جاں میں قیام کر

تری زر نگار کتاب میں جو دمک رہی ہیں ورق ورق

 انہی آیتوں ، انہی حکمتوں کو مرے جہاں کا نظام کر

 تیری رحمتوں نے امر کیا ہے سرود میرو منیر کو

 خدو خال شعر بشیر کو بھی عطا ثبات دوام کر

ان دنوں بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ میں قیام پذیر ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے آمین ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

شہدائے یونان اور قومی بے حسی کی انتہاء

بدھ جون 21 , 2023
پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ سوویت افغان جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی جس کے بعد لاکھوں افغان پناہ گزین پاکستان آئے اور انہوں نے رشوت کے عوض
شہدائے یونان اور قومی بے حسی کی انتہاء

مزید دلچسپ تحریریں