بے بے، چاچا، لالہ، کاکا رشتےداریاں

بے بے، چاچا، لالہ، کاکا رشتے داریاں

 اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اُس کو نسبی اور سسرالی رشتے عطا کئے، اور تمہارا پروردگار بڑی قدرت والا ہے

سورۃ فرقان آیت 54

 دروغ  بر گردن راوی    ایک چیک پوسٹ پر بہت سختی تھی کہ کوئی بی بی بغیر محرم کے سفر نہ کرے۔ایک موٹر سائیکل پر مرد کے ییچھے پردے میں خاتون تھی۔ سپاھی نے پوچھا   یہ بی بی تمہارا کیا لگتا ہے؟

جواب ملا   ۔اس بی بی کا سسر    امارے سسر کا والد ہے  

سپاہی بے چارے کو اس فصیح و بلیغ رشتے کی سمجھ نہ آئی لیکن اپنی لاعلمی کو چھپاتے ہوئے ان کو جانے کی اجازت دے دی ۔

 ایک استاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ایک ڈاکٹر صاحب کا ذکر خیر آ گیا   استار محترم فرمانے لگے    ڈاکٹر صاحب میری  بھابی کے بہنوئی ہیں۔ راقم کے چہرے سے ان کو اندازہ ہو گیا کہ یہ رشتہ راقم کی سمجھ میں نہیں آیا    اس پر انہوں نے ترجمہ کر کے بتایا   ڈاکٹر صاحب میرے بھائی کے ہم زلف ہیں۔

 چھتر مسجد ایک  بزرگ اعتکاف کے لئے تشریف لائے ۔ان کے ساتھ ایک برخوردار تھا۔ان سے پوچھا یہ کون ہیں ارشاد فرمایا    میری سالی کا  بیٹا ہے    ذرا اچھے انداز میں یوں کہنا زیادہ مناسب تھا   یہ میری بیگم صاحبہ کے بھتیجے ہیں   سالا  نامناسب لفظ ہے اس کی جگہ بچوں کا ماموں کہنا زیادہ مناسب ہے۔

 ایک پروفیسر صاحب کی بیگم صاحبہ فوت ہو گئیں انھوں نے چھوٹے بچوں کی خاطر ایک  بیوہ سے شادی کر لی  ۔اس کے  بھی پہلے نکاح سے بچے تھے ۔ اپنے پہلے بچوں کو بیگم صاحبہ  میرے بچے     کہتے تھے   پوفیسر صاحب  کے پہلے بچے    تمہارے بچے     کہلاتے تھے   دونوں کے مشترکہ بچے     ہمارے بچے    ۔کہلاتے تھے    ایک دن وہ گھر گئے تو  بیگم نے شکایت کی۔ گھر میں لڑائی ھوئی   تمہارے بچوں اور میرے بچوں نے مل کر     ہمارے بچوں کو مارا۔

 پروفیسر اشرف ہماری مسجد کے دوست ہیں۔ایک دن وہ کرنل یونس سے باتیں کر رہے تھے ۔میں نے ان سے پوچھا آپ کا ان سے کیا رشتہ ہے۔ فرمانے لگے   یونس صاحب کی بیٹی    بٹ صاحب کی بہو ہے   اور بٹ صاحب کی بیٹی میری بہو ہے ۔ یونس صاحب    بٹ صاحب کے    کڑم  ہیں اور بٹ صاحب میرے کڑم ہیں   اب میرا اور یونس صاحب کا کیا رشتہ ہے اس کے لئے ڈکشنری پھرولنی پڑے گی۔ کیا اس رشتے کو    ۔کڑم ان لاء  (Kudam in  law)کہا جا سکتا ہے    ۔

بے بے، چاچا، لالہ، کاکا رشتےداریاں

  لے پالک کی  شرعی لحاظ سے کوئی حیثیت نہیں۔ وہ اپنے اصلی / خونی والدین کی اولاد رہتا ہے۔ اس سے لے پالک بنانے والے سو کالڈ والدین سے شرعی محرم / پردے کے احکام بھی نہیں بدلتے اس لئے اگر لے پالک بنانا ہو تو ایسی رشتےدار بچی کو بنائیں جو شوھر کی شرعی محرم ہو     یا    ایسے رشتےدار بچے کو بنائیں جو بیوی کا شرعی محرم ہو۔

  چاچا / ابا / ابو/ پاپا / ڈیڈی  

 1920 والی ہم سے سینئر نسل والد صاحب کو    چاچا   کہتی تھی ۔1950 والی ہماری نسل نے   ابا جی   کا لفظ اپنایا   1980 والے ہمارے بچے ہمیں    ابو جی    کہتے ہیں۔2010 والے ہمارے پوتوں/ نواسوں میں      بابا     کا ٹرینڈ چل پڑا ہے۔

 اٹک میں  ہم سے سینئر نسل میں سے کچھ لوگ والد صاحب کو    چاچا    کہتے تھے۔یہ ہمیں بڑا عجیب لگتا تھا

 ہمارے والد صاحب کے خالو قاضی خورشید صاحب فارسی کے 1920 کے منشی فاضل تھے اور سکول ٹیچر تھے ان کو ان کے بیٹے    چاچا    کہتے تھے۔

 ہماری والدہ کے ماموں   منشی اللہ بخش 1926 کے اردو ورنیکولر مڈل تھے اور اس بنا پر پرائمری ٹیچر تھے ۔ان کو بھی ان کے بچے    چاچا   کہتے تھے ۔

 یہ دونوں حضرات اس زمانے کے لحاظ سے پڑہے لکھے لوگ تھے لیکن پھر بھی ابا کی بجائے چاچا کہلاتے تھے۔  کسی زمانے میں لدھیانہ ، حصار، لاہور ،گجرات اور جموں میں بھی والد صاحب کو چاچا کہنے کا رواج تھا۔

 خواجہ عتیق الرحمن نظامی صاحب فرماتے ہیں۔اک مثال دیکھیں    طارق  سب سے  چھوٹا بھائی ہے

اس کی شادی ہوگئی تو اس کے بھتیجے گھر میں   طارق کو  چاچا کہتے تھے اب  طارق کے ذاتی بچے بھی سن کر  چاچا کہنے لگے،  ایسے ہی اسکی بیوی کو نندیں اورجیٹھ بھابی کہتے تھے ۔بیگم طارق کے   اپنے  بچے بھی سن کر اس کو بھابی کہنے لگے۔یہ  سب کچھ  کئی گھروں میں دیکھا گیا ہے ۔اسی طرح    لالہ ،باؤ ، بھاء بھی سب کہتے ہیں۔     مفتی شفیع صاحب  دارلعلوم کراچی والے مفتی تقی عثمانی صاحب کے والد بزرگوار تھے ان کو ان کے بچے      بھائی    ۔کہتے تھے اس کی بھی یہی بیک گراؤنڈ ھو گی۔کچھ لوگ والد صاحب کو  آغا جی ،خان جی اور اجی بھی کہتے ہیں۔اجی   ۔اے جی کا مخفف ہے۔میری بیگم مجھے    اے جی     کہہ کے پکارتی ہے۔ایک دن پوتے نے ان کو ٹوکا کہ    دادا جان کہا کرو۔انہوں نے جواب دیا تمہارے دادا جان ہیں۔ہمارے ہاں عورتیں شوہروں کا نام نہیں لیتی تھی   اے جی  ، جی سنتے ہو یا زیادہ descriptive کرنا ہو تو منے کے ابا۔اب جو بجے ابا کو اجی کہتے تھے تو انہوں نے ماں کو کہتے سنا ہوگا۔

 ہمارے نانا پٹواری تھے    ۔اصلی والے   ان کو پتہ نھیں سب سے پہلے کس نے   بابوجی    کے نام سے پکارا ۔ ان کو سب بیٹے بیٹیاں  بابوجی  کہتی تھیں ۔ پھر باری ہم نواسوں / نواسیوں کی آئی تو ہم بھی پورے ادب سے ان کو اب تک    بابوجی   کہتے ہیں۔   بابو جی ادب / پیار کا نام تھا۔پیر سید غلام محی الدین گیلانی المعروف قبلہ بابو جی گولڑی پیر سید مہر علی شاہ گولڑی کے اکلوتے فرزند  تھے۔ بابو  بنگالی زبان کا ہے ، اور اسے زیادہ تر تحقیری معنی میں استعال کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس لفظ کومحبت ، احترام ، اور شفقت کا اظہارکرنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔مری روڈ پرمریڑ چوک سے مال روڈ کی جانب جائیں تو آدم جی روڈ  کے چوک میں کے ایف سی کے بالمقابل کلکتہ آفس کی دو منزلہ عمارت واقع ہے۔اس میں ملٹری اکاونٹس کے دفتر تھے ۔اس میں کام کرنے والے بنگالی بابو تمام کے تمام بابو محلہ صدرمیں آباد تھے۔

  ہماری جنریشن نے اباجی کا لفظ شروع کیا ہمارے ہیڈ ماسٹر حسیب التواب صاحب اس دور (1967)میں بھی    پاپا    کہلاتے تھے ۔ہماری فیملی میں    ابو  کا لفظ ہمارے خالہ زاد خاور الہی نے شروع کیا اور بہت نامانوس لگتا تھا ۔ پاپا کا لفظ   ہمارے بھانجے  جنیدآفتاب نے 1990 میں شروع کیا ۔صوبیدار عبدالوالی صاحب گنڈاکس    اَجّی   کہلاتے تھے     والد کے لئے بابا کا لفظ ہماری فیملی میں میرے چھوٹے ندیم السلام کے بچوں نے شروع کیا ۔

 ماں کو   راقم 1965 تک     ما     کہتا تھا بغیر     جی    کا لاحقہ لگائے ۔ پھر دیکھا دیکھی امی کہنا شروع کیا۔

    نانی جان کو ما موں لوگ اور ہم اماں جی کہتے تھے۔

  خالہ عجائب بہن بھائیوں سے بڑی تھیں اس لیے    آپا    کہلاتی تھیں۔اس کے بعد انکے بچوں نے بھی ان کو اسی نام سے پکارا    نواسے /  نواسیاں بھی ان کو    آپا    کہتے تھے۔ پھر نواسوں کے بچے بھی ان کو آپا ہی کہتے ہیں۔

   بےبے ہمارے علاقے میں بڑی بہن کو کہتے ہیں    پنجاب میں والدہ کو بےبے کہتے ہیں ۔ پوٹھوہار میں والدہ کو    بے      کہتے ہیں    ۔یعنی   بےبے کی (abbreviation)مختصر شکل۔آج کل    ماما   کا راج ہے۔

 ہماری جنریشن ماموں کو ماما کہتی ہے۔دہلی  والے نوکرانی کو     ماما    کہتے تھے ۔ جیسے اب ہمارے بچے نوکرانی کو    ماسی  کہتے ہیں۔

خوشاب میں بھرا سے بھراوا اور پیو سے    پوآ    کہتے ہیں ۔ہمارے گاؤں میں سائیں بابا کے بچے ان کو    پوآ   کہتے تھے ۔اس لفظ کی بیک گراؤنڈ     جے ولسن ڈپٹی کمشنر شاہ پور کی  ڈکشنری آف ویسٹرن پنجابی 1898  سے معلوم ہوا۔

کسی زمانے میں ملکی سیاست میں تین نام روز سنتے تھے۔   بابا   ( غلام اسحق خان)،بابو   ۔( نواز شریف)۔بی بی    ۔( بینظیر بھٹو)۔حرف   ب   کی جگہ کچھ علاقوں میں    و      بولتے ہیں۔  اور      و       کی جگہ       ب      بولتے ہیں    اس طرح بابا کا باوا        بابو کا باؤ     اود       بی بی کا بیوی  بن جاتا ہے۔ہمارے گاؤں میں پھوپھی کو    بی بی    کہتے ہیں   کچھ لوگ    ببو    ب پر پیش    کہتے ہیں۔

 بڑے بھائی کو بوسنیا سے لے کر انڈیا تک لالا کہتے ہیں۔ ترکی میں شہزادوں کے استاد کو  لالا کہتے تھے ۔ لالا مصطفی پاشا 1580 میں گزرے ہیں۔ ایران اور افغانستان / صوبہ سرحد میں بھی لالا کا لفظ عام ہے۔ کریم لالا بمبئی کا افغانی مافیا ڈان ہے   پشاوری تو سٹائل سے    لالے دی جان   کہتے ہیں ۔ ہندو دکانداروں کو عزت سے لالا کہا جاتا ہے۔لالا لاجپت رائے متوفی 1928 ایک سیاستدان تھے ۔ہماری فیملی میں صرف بھائی جان  افتخار    لالا کہلاتے ہیں ۔

 گولڑہ شریف کے بزرگ بابو جی کے  صاحبزادے سید غلام معین الدین شاہ گیلانی بڑے لالہ جی کے نام ولقب سے مشہور ہیں  دوسرے صاحبزادے  سید شاہ عبدالحق گیلانی چھوٹے لالہ جی کے لقب سے مشہورہیں۔

 ایبٹ آباد والے لالا کو     بھا   جی   کہتے ہیں اور ان کی زبان سے یہ لفظ بہت پیارا لگتا ہے۔پوٹھوھار والے لالے کو    بھاپا   کہتے ہیں ۔ راولپنڈی سے انڈیا ہجرت کرنے والے کاروباری کھتری / اروڑے وہاں پر     بھاپا    کہلاتے ہیں۔ جٹ سکھ ان بھاپا سکھوں کو اپنے برابر کا نہیں سمجھتے۔

 ماما منور کھوکھر لوگ  میری یادداشت سے پہلے ہی یتیم ہو گئے تھے ۔ ان کے سوتیلے والد گنڈاکس کے تھے ۔ بلند قامت اور بھاری جسم تھا۔ بڑی بڑی سفید مونچھیں تھیں۔

  سوتیلے والد کو پنجابی میں   پتندر (Pitundur)   کہتے ہیں ۔ اس لفظ کے ساتھ میرے ذہن میں ہمیشہ ان بابا جی کی تصویر آ جاتی ہے ۔وہ اکثر ملہوولہ     اٹک    آتے رہتے تھے ۔

 میجر ڈاکٹر امین خٹک سے روایت ہے کہ گورنمنٹ کالج کیمبلپور کے پری میڈیکل گروپ سال 1972 تا 1974  کاطارق شینکہ بہت ہی دلچسپ بندہ تھا۔ارشادات و حرکات بہت ہی نرالی تھیں۔ ہاسٹل کے واچ مین چاچا وارث کی ہر سٹوڈنٹ پہ نظر ہوتی تھی اور رپورٹ فٹا فٹ وارڈن پروفیسر افضل صاحب کو دیتا تھا شینکہ چاچا وارث کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ ہمارے سوتیلے باپ ہیں۔

  مولانا مودودی صاحب سے ایک ساتھی نے گھریلو پریشانیوں کا ذکر  کر کے دعا کی درخواست کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنی بیگم کی تفصیلی شکائتیں کیں۔اس پر مولانا نے فرمایا    اپ کے بیان سے تو ایسا لگتا ہے کہ آپ کی بیگم آپ کی    سوتیلی بیوی    ہیں۔

 فقہی احکام کے اعتبار سے  بھائی بہن دو طرح کے ہیں رضاعی یا نسبی رضاعی (دودھ شریک) بہن بھائی جنہوں نے ایک عورت سے دودھ پیا ہو وہ آپس میں رضاعی بہن بھائی ہوتے ہیں یہ ایک دوسرے کے محرم ہوتے ہیں اور ان کا نکاح نہیں ہو سکتا۔

نسبی: دو ایسے افراد آپس میں نسبی بہن بھائی قرار پاتے ہیں جو ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک میں شریک ہوں ان کی تین اقسام ہے۔

اعيانى  (Real Brother)ماں اور باپ دونوں کے ایک ہوں،علاتی (Half Brother) باپ شریک بہن بھائی(باپ ایک مگر ماں الگ الگ) اور اخیافی (Half Brother)  ماں شریک بہن بھائی(ماں ایک اور باپ الگ الگ)۔

 انڈیا میں حقیقی چچا ، حقیقی ماموں وغیرہ لکھنے کا رواج عام ہے۔مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب نے بھی اس لفظ کو استعمال کیا ہے    ۔ہمارے ہاں رشتے کے چچا اور سگے چچا کے درمیان  اتنے فرق کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔

فوج میں ایک اچھا رواج ہے کہ بیٹ مین / خادم کو بچہ لوگ احترام سے   چاچا جی    کہتے ہیں۔

  کاکا اور دادا کا کیا مطلب ہے۔ اس کا دارومدار علاقے پر ہے ۔ پشتو میں کاکا       کا مطلب چاچا ہے اور پنجاب والے بچے کو  کاکا کہتے ہیں۔  زیارت کاکا صاحب نوشھرہ کا مشہور خاندان کاکاخیل ہے۔ فیصل آباد والے کمال کے فقرہ باز ہیں۔ایک کاکا خیل بزرگ کسی فیصل آبادی سے بحث کر رہے تھے۔ علمی  بحث سے تنگ آکر فیصل آبادی نے کہا   بس بھائی بس   بات ختم    جا   کاکا   ،کھیل   ( جاؤ بچے کھیلو)۔

   اسی طرح دادا بنگال میں بھائی کو کہتے ہیں ۔1971 سے پہلے کیمبلپور میں کئی بنگالی والد صاحب کے کولیگ تھے وہ ان کو    دادا    بمعنی    بھائی کہتے تھے ۔  پنجاب میں اجنبی بزرگ کو چاچا کہہ کر پکارتے ہیں۔سرحد والے ایسے موقعہ پر ماما کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

 بھنی آ     اور بھنے۔آ ، کنفیوز کرنے والے الفاظ ہیں۔ ان کے کہنے یا سننے میں ذرا سی بے احتیاطی  جھگڑے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے بھانجا اور بہنوئی استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا ۔بھنی آ     کا مطلب ہے    بہنوئی،بھنے آ       کا مطلب ہے    بھانجا۔

    چچا کے بیٹے کو    دادی پوترا ۔کہتے ہیں لیکن خالہ کے بیٹے کو    نانی دوہترا    نہیں کہتے    بلکہ    مسیرا   کہتے ہیں۔

    دادی پوترا سے ملتا جلتا لفظ۔

داؤد  پوتہ/ پوترا    ہے۔امیر چنی خان عباسی  کے دو بیٹے تھے امیر مہدی خان اور داؤد خان    ۔ مہدی خان کی اولاد کلہوڑا کہلائی انہوں نے سندھ پر حکومت کی ۔ داؤد پوتہ عباسی اسی داؤد خان کی اولاد ہیں۔ ان نوابوں نے بہاولپور پر حکومت کی ۔

 سندھ کی عباسی فیملی بھی داؤد پوترے ہیں۔  ائیر مارشل  عظیم داؤد پوتہ نے 1993  میں مسرور کراچی کے میس میں 1965 کی جنگ کے حالات سنائے تھے ۔اس وقت وہ سرگودھا میں سکواڈرن لیڈر تھے ایم ایم عالم ان کے سامنے مشن سے واپس آئے اور جہاز سے اترتے ہی    پنجہ   دکھا کر  بتایا کہ دشمن کے پانچ جہاز گرائے ہیں۔

  کسی بھائی صاحب سے پوچھا گیا کیا آپ کے سارے رشتے دار مالی/ سماجی لحاظ سے برابر ہیں ۔ اس نے جواب دیا

کچھ رشتے دار ہم سے بہت زیادہ امیر ہیں   ،وہ  ہمیں  نہیں جانتے۔

کچھ رشتے دار ہم سے بہت زیادہ غریب ہیں   ،ہم  انہیں   نہیں جانتے۔

 صلہ رحمی کا مطلب ہے   رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا۔  ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا،  اپنی ہمت کے بقدر ان کامالی تعاون کرنا،ان کی خدمت کرنا، ان کی ملاقات کے لیے جاتے رہنا، وغیرہ۔ اس میں”اصول“(جیسےوالدہ اور والدہ کے آگے والدین،اسی طرح والد اور والد کےآگےوالدین )

۔اور”فروع“ (جیسے بیٹی اور بیٹی کی آگے اولاد ،نیز بیٹے او ربیٹےکی آگے اولاد) ان کےساتھ ساتھ قریب وبعید کےباقی تمام رشتہ دار بھی داخل ہیں۔ البتہ جو زیادہ اقرب ہے اُس کا حق مقدم ہے۔

    دو گناہ ایسے شدید تر ہیں جن کی سزا نہ صرف یہ کہ آخرت میں ہوگی، : ایک ظلم، دُوسرے قطع رحمی۔ (ابن ماجہ:4211، ترمذی:2511، الترغیب:3848) رشتہ داروں کے حقوق کا خیال نہ کرنا قطع رحمی کہلاتا ہے۔

[email protected] | تحریریں

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

جمہوریت اور خواندگی دو ضروری ستون

اتوار اکتوبر 22 , 2023
جمہوریت اور خواندگی کسی بھی مہذب معاشرے کے دو اہم ترین جزو ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے باہم متصل اور ایک دوسرے پر منحصر ہیں
جمہوریت اور خواندگی دو ضروری ستون

مزید دلچسپ تحریریں