اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

اقبال اشہر اردو کے ممتاز شاعر ہیں، آپ کی وجہ شہرت آپ کی شاہکار نظم “اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی” سے ہوئی۔ اردو کے لیے تہنیتی اشعار میں لکھی گئی یہ نظم ایک پہیلی نما ساخت کے ذریعے اردو زبان کی خوبصورتی کو بیان کرتی ہے۔ اس نظم میں اردو کے نامور شاعروں اور ان کی شراکت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے، جس میں شاعر استعاراتی حوالوں کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے ارتقاء اور اردو کی لسانی خوبصورتی کو تشکیل دینے والے اثرات کی عکاسی کی ہے۔ اور راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کی طرف سے اس نظم کا کھوار زبان میں ترجمہ ثقافتی خلاء کو پُر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے قارئین کی بڑی تعداد اردو شاعری کے ساتھ ساتھ کھوار تراجم سے بھی مستفید ہوگی۔
اقبال اشہر کی نظم اردو زبان کے ارتقاء، اثر و رسوخ اور ثقافتی دولت کو شاعرانہ انداز میں بیان کرنے کے گرد گھومتی ہے۔ اس نظم میں مختلف ادبی عناصر اور متنوع شاعرانہ امتزاج پر زور دیا گیا ہے جس نے اردو کی شناخت کو پروان چڑھایا ہے۔ مزید برآں پہیلی کی شکل قارئین کو علامت کی تہوں میں جانے کی دعوت دیتی ہے، جس میں زبان پر بااثر شاعروں کے گہرے اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔
اقبال اشہر نے اپنی نظم میں ایک انوکھی ساخت کا استعمال کیا ہے جو ایک پہیلی سے ملتا جلتا ہے۔ ہر شعر زبان کی ترقی کی ایک معمے کی طرح کی تصویر کشی کرتا ہے، جس میں میر تقی میر، مرزا غالب، الطاف حسین حالی اور علامہ محمد اقبال جیسے ممتاز شاعروں کے حوالے شامل کیے گئے ہیں۔ ان ادبی شخصیات کے لیے استعاروں اور اشارے کا استعمال نظم کی گہرائی اور شاعرانہ مزاج کو بڑھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ مزید برآں “پیر ناصر خسرو” کا بار بار تذکرہ زبان کے سفر کی خفیہ نوعیت پر زور دیتا ہے، جو خود شناسی اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
نظم کا آغاز ایک دلکش پہیلی سے ہوتا ہے، جو اردو کی ترقی کو تاریخی اور ادبی شخصیات کے حوالے سے جوڑتا ہے۔ “میں ‘میر’ کا ہمراز ہوں اور ‘غالب’ کی سہیلی ہوں” ایک بہترین اور دلچسپ لہجہ ترتیب دیتا ہے، جو اردو کے بااثر شاعروں کی صحبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بعد کا ہر شعر اردو کی ترقی کے مختلف پہلوؤں کو مختلف شاعروں سے منسوب کرتے ہوئے پراسرار سفر کو جاری رکھتا ہے۔
شاعر کی پوری نظم میں ‘پیر ناصر خسرو’ کا ذکر اپنے اندر ایک پہیلی نما دلچسپ کہانی کا کام کرتا ہے، جو قارئین کو اردو کے ارتقا کے تناظر میں اس کی اہمیت سے پردہ اٹھانے پر اکساتا ہے۔ اس پراسرار شخصیت کے نام کا بار بار استعمال تشریح کی دعوت دیتا ہے اور ممکنہ طور پر اردو زبان کے پیچیدہ جوہر کو سمجھنے کی ایک پوشیدہ کلید کی نشاندہی کرتا ہے۔
نظم کی اختتامی سطریں، “کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی” پہلے سے سوچے گئے تصورات اور ثقافتی حدود کو سختی سے چیلنج کرتی ہیں۔ یہ سطریں زبان کی شناخت اور عصری معاشرے میں اردو کے مقام و مرتبے کے بارے میں قارئین کو غور و فکر پر اکساتی ہیں اور مذہبی یا ثقافتی تقسیم سے بالاتر ہو کر شمولیت اور تفہیم کی وکالت کرتی ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اقبال اشہر کی نظم “اردو ہے میرا نام” اردو کے حق میں ایک شاہکار اور کثیر جہتی نظم ہے جو اردو کے ارتقاء، اثرات اور ثقافتی اہمیت کو ایک پیچیدہ لیکن دلکش پہیلی نما ساخت کے ذریعے بیان کرتی ہے۔ راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کی جانب سے کھوار زبان میں اس نظم کے تراجم اردو شاعری کی رسائی کو مزید وسعت دیتے ہیں اور بین الثقافتی تعریف اور تفہیم کو فروغ دینے کے لیے ایک اچھی کوشش ہے۔ نظم میں بہترین علامت نگاری، خوبصورت ادبی آلات، اور فکر انگیز اشعار کے ذریعے نظم قارئین کو ایک دلچسپ سفر پر مدعو کرتی ہے جس میں اردو کی لازوال خوبصورتی اور سماجی مطابقت کو بیان کیا گیا ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے اقبال اشہر کی نظم اور کھوار تراجم پیش خدمت ہیں۔

“اردو ہے میرا نام”

اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی
میں “میر” کی ہمراز ہوں “غالب” کی سہیلی
دکّن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
“سودا” کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے “میر” کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں “داغ” کے آنگن میں کھلی بن کے چمیلی
اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی
“غالب” نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
“حالی” نے مرووت کا سبق یاد دلایا
“اقبال” نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا
“مومن” نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی
اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی
ہے “ذوق” کی عظمت کہ دیئے مجھ کو سہارے
“چکبست” کی الفت نے میرے خواب سنوارے
“فانی” نے سجائے میری پلکوں پہ ستارے
“اکبر” نے رچائی میری بے رنگ ہتھیلی
اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی
کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی

“کھوار تراجم”
اردو شیر مہ نم، اوا “خسروو” پہیلی
اوا “میرو” ہمراز اسوم “غالبو” سہیلی
دکّنو ولی مه تان شیکہ لوسنوک لاسئیتائے
“سوداوو” قصیدہ مه حسنو زیادئیتائے
اوشوئے یہ “میرو” عظمت کہ مہ کوسیک ݯیݯھئیتائے
اوا “داغو” شرانہ بوچھوݰیتام غیری چمبیلی
اردو شیر مہ نم، اوا “خسروو” پہیلی
“غالب” ݱانگیو سفرو مه ݯیݯھئیتائے
“حالی” مرووتو سبقو یادی دئیتائے
“اقبال” حقو ہرینو مه پاشئیتائے
“مومن” ساوزیتاۓ مه خوشپان حویلی
اردو شیر مہ نم، اوا “خسروو” پہیلی
شیر “ذوقو” عظمت کہ ہسے پرائے مت سہارا
“چکبستو” الفت مه خوشپان شئیلئتائے
“فانی” شئیلئتائے مه پھتوکن سوری استاریان
“اکبر” رنگین اریر مہ بے رنگ پھانو
اردو شیر مہ نم، اوا “خسروو” پہیلی
کو مه ساوزیسیان تعصبو نشانہ
اوا تانتے کیاوت دی بسلمان نو را اسوم
پوشی اسیتم کیاوت اوا دی خوشانیان زمانہ
تان بطھنہ اوا آسوم مگم ہنون غیژی
اردو شیر مہ نم، اوا “خسروو” پہیلی

رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ''کافرستان''، اردو سفرنامہ ''ہندوکش سے ہمالیہ تک''، افسانہ ''تلاش'' خودنوشت سوانح عمری ''چترال کہانی''، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

صدام فدا کا نعتیہ مجموعہ جادہ ٕ نور

جمعہ دسمبر 15 , 2023
صدام فدا جو سرکار ﷺ کے متعلق سوچتے ہیں اس کا شعر میں اظہار کر دیتے ہیں ان کا انداز فقیرانہ ہے دل کے سخی ہیں محبت سراپا ہیں
صدام فدا کا نعتیہ مجموعہ جادہ ٕ نور

مزید دلچسپ تحریریں