Tag: غالب

  • برآمدی آم اور عوامی چوسنیاں

    برآمدی آم اور عوامی چوسنیاں

    برآمدی آم اور عوامی چوسنیاں

    Dubai Naama

    آجکل آموں کا موسم ہے۔ ایک خبر کے مطابق اس سال پاکستان 1 پوانٹ 8 ملین ٹن آم برآمد کر کے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے۔ اس سے آموں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اب عام آدمی آموں کو منہ نہیں لگا سکتا۔ مسئلہ صرف آم کا نہیں۔ ہمارے ملک میں ہر میٹھی چیز "ایکسپورٹ کوالٹی” بن کر باہر چلی جاتی ہے۔ شہد گیا، کھجور گئی۔ چلو شہد اور کھجور ملاوٹ والی ہے  مگر المیہ دیکھیں کہ بچوں کا دودھ بھی "پاوڈر والا” ہے۔ ایک آم بچ گیا تھا، عوام کے حصے میں "گٹھلی” آئی۔ ویسے گٹھلی کا بھی فائدہ ہے، اس سے ہم "آم کا شربت” بنا سکتے ہیں۔ بس پانی میں چینی گھولیں، گٹھلی ڈبوئیں، اور دل کو تسلی دیں کہ ہم نے "آم پی لیا ہے”۔

    ہمارے حکمران بڑے ذہین اور مارکیٹنگ میں پی ایچ ڈی ہیں، وہ آم کو صرف پھل نہیں، "قومی بیانیہ” بنا سکتے ہیں۔ اخبار میں ہیڈلائن لگنے کی دیر ہے: "پاکستان نے آم سے دنیا فتح کر لی”۔ اندر کی خبر یہ ہو گی کہ فتح تو ہو گئی، بس عوام کو اس کی خوشبو سونگھنے نہیں دی گئی۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام کو کھلانا نہیں، بہلانا ہے۔ اسی لیئے بجٹ میں "آم سبسڈی” کی بجائے "آموں پر شاعری سبسڈی” آ جائے گی۔ ٹی وی پر ایک وزیر فرمائیں گے: "آم قوم کی پہچان ہے، اس کی عزت کریں”۔ دوسرا وزیر فوراً جواب دے گا: "جی بالکل، اسی لیئے ہم نے اسے دبئی بھیج دیا ہے تاکہ وہاں عزت سے رہے”۔

    پنجابی کا ایک محاورہ ہے: "اک تیر تے دو شکار”۔ ہمارے حکمرانوں نے اسے "اک انمب تے دس شکار” بنا دیا ہے۔ ایک آم ایکسپورٹ کرو، ڈالر کماؤ۔ پھر اسی آم کی تصویر چھاپ کر "قومی ورثہ” کا سٹیمپ لگاؤ۔ اس پر سیمینار کرو۔ تب سیمینار کے ڈیلی الاؤنس کھاؤ۔ اور آخر میں عوام کو بتاو’: "دیکھو، ہم نے آم بچا لیا”۔

    برآمدی آم اور عوامی چوسنیاں

    آپکو مرزا غالب والا واقعہ یاد ہو گا۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا غالب آموں کے باغ میں ٹہل رہے تھے۔ مرزا غالب آم کھانے کے بہت شوقین تھے، وہ ٹہلتے ہوئے بار بار آموں کے پیڑوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے پوچھا: "مرزا اوپر کیا دیکھتے ہو”؟ غالب نے جواب دیا: "میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آموں کے کس کس دانے پر میرا نام لکھا ہے”۔ اگلے دن بہادر شاہ ظفر نے مرزا کے گھر میٹھے آموں کی پیٹیاں بھجوا دیں۔

    آج اگر بہادر شاہ ظفر مرزا غالب کو آم بھیجیں تو ڈیلیوری کے راستے میں 3 بار عملہ "کسٹم ڈیوٹی” مانگے گا۔ جب پیٹی کھلے گی تو اندر سے صرف ایک پرچی برآمد ہو گی، جس پر لکھا ہو گا: "آم آپ کے نام لکھ دیا گیا ہے وصولی اگلی نسل کرے گی”۔ اس پر مرزا غالب بیچارے فوراً شعر کہہ دیتے: "ہیں اور بھی دنیا میں آم خور بہت اچھے، کہتے ہیں کہ غالب کو کھانے کا ہنر نہیں آتا”۔ سائنس کہتی ہے کہ آم میں وٹامن اے، سی اور پوٹاشیم ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں بھی وٹامن اے یعنی "اقتدار”، وٹامن سی یعنی "کرپشن”، اور پوٹاشیم یعنی "دھمکی” وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ تو اصل غذا تو ہم پہلے ہی کھا رہے ہیں۔

    اس کا حل یہ ہے کہ حکومت بیرون ملک سرکاری وفود، اشرافیہ اور فنکار بھیجے۔ واپسی پر اگر وہ آم نہ لائیں تو کم از کم "آم چوسنے کی تربیت” کی ورکشاپ کا سرٹیفکیٹ تو لے آئیں۔ پنجابی محاورہ ہے: "آپ وہاں انمب لینے گئے تھے”۔ آموں کی طرح وطن عزیز میں گندم بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے جسے پہلے برآمد کیا جاتا ہے اور پھر اسی کو مہنگے داموں واپس درآمد کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی یہ محاورہ مشہور نہیں ہوا کہ: "آموں کے آم گٹھلیوں کے دام”۔ ویسے گٹھلی کے بھی درجات ہوتے ہیں، ایکسپورٹ والی گٹھلی، چکنی، موٹی، "پریمیم کوالٹی”، اور عوام والی گٹھلی، یہ سوکھی ہونے کے باوجود ریشے دار ہوتی ہے، جسے بار بار چوسنے سے بھی دانت نہیں تھکتے۔ پھر بھی ہم عوام شکر ادا کرتے ہیں کہ چلو گٹھلی تو ملی۔ ویسے گٹھلی کا ایک فائدہ اور ہے: بچپن میں ہم اس سے "آموں کی لڑائی” کھیلتے تھے، بڑے ہو کر پتہ چلا کہ اصل لڑائی تو گٹھلی کے دام کی ہے۔

    ہماری حکومت باہر سے آموں اور گندم کی واپس درآمد کی بجائے عوام کے لیئے کچھ سستی "چوسنیاں” درآمد کرے۔ اس کے بعد ہم عوام میں حکومت سرٹیفکیٹ تقسیم کر دے، جنہیں ہم دیوار پر لگا کر فخر سے پڑوسی کو دکھائیں گے: "دیکھو، حکومت نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ اب ہم بغیر آم کے بھی ان چوسنیوں سے آم کا مزہ لے سکتے ہیں”۔

    دعا ہے کہ خدا، ہمارے حکمرانوں کو اتنے آم نصیب کرے کہ انکا جی بھر جائے، اور ہمیں اتنی "چوسنیاں” دے کہ ہمارا صبر نہ ٹوٹے۔ بچوں کی طرح ہماری معصوم عوام کا ایک یہی علاج بچا ہے۔ اس ملک میں انکے لیئے میٹھے نام کی کوئی شے نہیں بچی، بس ایک صبر کا پھل میٹھا ہے، جو اصل "نعمت” ہے۔ 

  • مکتوب چترالی بنام اقبال

    مکتوب چترالی بنام اقبال

    (یوم اقبال پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    میراندھ وادی کھوت

    اپر چترال خیبرپختونخوا

    پاکستان

    مؤرخہ 8 نومبر 2025

    السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ

    شاعر مشرق حضرت ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال صاحب، امید ہے کہ آپ جنت الفردوس میں خیریت سے ہونگے،میں ایک چترالی اقبال شناس یہ مکتوب آپ کی خدمت میں ہندوکش اور تریچ میر کے پہاڑوں کے دامن میں واقع وادی چترال کے کھوت میراندھ سے لکھ رہا ہوں۔ اسے میں بذریعہ پاکستان پوسٹ بھیج رہا ہوں کیونکہ آپ کا واٹس ایپ نمبر میرے پاس نہیں ہے۔ یہاں چترال میں ہوا اب بھی بہت ٹھنڈی ہے پہاڑوں پر برف کے اپنی بہادر بچھا دی ہے۔ وادی ویرمین کے اوشاک اوچ کے چشمے کا پانی اب بھی ٹھنڈا اور میٹھا ہے۔ مگر میرے محسن اقبال صاحب یہاں میرے گاؤں میراندھ میں ٹماٹر سات سو روپے کلو ہو گئے ہیں۔ اور چترالی عوام دیگر پاکستانی عوام کی طرح ٹماٹر خود خریدنے کی سکت نہیں رکھتا اس لیے سالن اور ترکاری میں ٹماٹر کی جگہ نیمبو اور دہی ڈال کر ذائقہ برابر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ نے جس ملک پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ ملک آپ کے بعد وجود میں آ گیا۔ پر اس ملک میں عام آدمی کے دن آج بھی آسان نہیں بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر میں نے یک مصرعی نظم لکھی ہے وہ یہ ہے کہ

    "غلامی ختم ہوئی پر صرف انگریز کی”۔

    اقبال صاحب اب ہم انگریزی کے غلام ہیں۔ اور اردو کو ہم نے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اقبال صاحب آپ نے یہ کہا تھا کہ

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    لیکن آپ کے ملک پاکستان میں معاملہ اب اس سے بھی زیادہ تلخ دکھائی دے رہا ہے۔ ایک اور میری یک مصرعی نظم ملاحظہ کیجیے:

    "میرے دیس میں چمن کے مالی کے بچے بھی ننگے پاؤں ہیں”۔

    اور دیدہ ور پاکستانی نوجوانوں کے ہاتھ میں اب موبائل ریچارج بھی نہیں ہوتا کیونکہ آپ کے جانے کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی ہے۔ آپ تو جناح، سر سید اور غالب کے ساتھ جنت الفردوس میں آرام کر رہے ہوں گے۔ یہاں کا مزدور اب بھی تھکا ہارا شام ڈھلنے پر گھر آ کر کہتا ہے کہ واقعی اقبال نے سچ کہا تھا کہ

    "ہیں تلخ بہت بندہء مزدور کے اوقات”

    میرے پیارے علامہ صاحب، میں نے آپ کی فکر کو اس دیس کی پہاڑی زبان کھوار کے قالپ میں ڈھالا۔ یہ زبان ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں بولی جاتی ہے۔ میں نے آپ کی شخصیت و فن پر کھوار اور اردو دونوں زبانوں میں کتابیں لکھی ہیں جن میں

    فکر اقبال

    فلسفہ اقبال

    میرا اقبال

    پھوپھوکان اقبال

    اور آپ کی ذاتی ڈائری Stray Reflections کے اردو ترا جم شامل ہیں۔ ان سب کو کھوار اور اردو میں منتقل کیا ہے اب میں ان کتابوں کو آپ کو بھیجنا چاہتا ہوں لیکن میری والدہ اور والد صاحب کو جلدی جلدی تھی وہ دونوں جنت الفردوس چلے گئے ورنہ ان کے ہاتھ بھیج دیتا۔ میرے والدین جنت کے کسی اعلیٰ درجے پر فائز ہونگے ان کو میرا سلام کہئیے گا۔ اب میں آپ کے جناح صاحب کو لکھے گئے انگریزی خطوط کا اردو اور کھوار ترجمہ بھی کر رہا ہوں۔ میری یہ سب مزدوری دل سے ہے۔ میں زبانوں کے لیے سافٹویر بنا دیا ہے تاکہ کلام اقبال کے پاکستانی زبانوں میں تراجم ہو سکیں۔ اس اقبالیاتی خدمات پر مجھے چار علامہ اقبال گولڈ میڈلز بھی ملے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ میں نے آپ کی بات ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کی زبانوں تک پہنچائی ہے جوکہ میری اقبال دوستی کی اعلیٰ مثال ہے۔

    مکتوب چترالی بنام اقبال

    اقبال صاحب جنت الفردوس میں آپ کے رفیق کون کون ہیں وہاں مرزا غالب موجود ہیں؟ سر سید احمد خان؟، محمد علی جناح؟، چوہدری رحمت علی؟ اور وہ سردار عبدالرب نشتر؟ اگر ان سے ملاقات ہو تو ان سب کی طرف ایک چترالی سلام کہہ دیجئے یعنی سلامالیکو۔ اقبال صاحب آپ اور آپ کے وہ ساتھی جو مملکت خداداد پاکستان بنا گئے اور پھر خود جنت الفردوس میں جا بیٹھے۔ الله ان کے درجات بلند کرے۔ ابھی نومبر 2025 چل رہا ہے چند مہینے بعد 2026 کی عید آرہی ہے اس لیے عید کی پیشگی مبارک باد قبول کیجیئے۔

    اور ہاں اقبال صاحب ایک عرض ہے کہ راجستھان میں ایک صاحب ہیں سرفراز بزمی وہ اقبالیاتی بحر میں شعر لکھ رہے ہیں اور لوگ اسے فیس بک پر آپ سے جوڑ کر بیچ رہے ہیں یہ کاروبار بھی شروع ہو گیا ہے، حسد عجیب چیز ہے، اور کاروبار شاعری چوری تک جا پہنچا ہے۔ میں نے مارک زکربرگ کو خط بھیج دیا ہے کہ ہمارے اقبال سے منسوب غلط اشعار فیس بک پر شیئر ہو رہے ہیں ان پر کوئی ایکشن لیجئیے ورنہ ہم پاکستانی فیس بک یوز کرنا چھوڑ دینگے۔

    اقبال صاحب وہ پنجابی زبان میں کہتے ہیں کہ

    "کووں کے کہنے سے ڈھگے نہیں مرا کرتے”

    سو آپ ان اشعار کی فکر نہ کیجئے میں تو بس آپ کو اطلاع دے رہا ہوں۔ اور آخر میں

    آپ ہی کا ایک شعر دل میں لگا رہتا ہے کہ

    "خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”

    ہم پاکستانی کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہاں مہنگائی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ "اب تقدیر خود حساب کر کے بھاگ جاتی ہے”

    آپ کے اشعار کا عاشق

    ایک چترالی اقبال شناس

    رحمت عزیز خان چترالی

  • ڈاکٹر وحید الزماں طارق: ایک ہمہ جہت شخصیت کا زندہ حوالہ

    ڈاکٹر وحید الزماں طارق: ایک ہمہ جہت شخصیت کا زندہ حوالہ

    ڈاکٹر وحید الزماں طارق: ایک ہمہ جہت شخصیت کا زندہ حوالہ

    تحریر علامہ عبد الستار عاصم
    ڈاکٹر وحید الزماں طارق سے تعلق محض تعارف یا عقیدت کا رشتہ نہیں، بلکہ یہ ایک قلبی واردات اور روحانی انسلاک کا نام ہے۔ ان کی شخصیت ایسی طلسماتی کشش رکھتی ہے کہ جو بھی ان کی قربت میں آتا ہے، اس کے دل و دماغ پر ایک ان مٹ نقش چھوڑ جاتی ہے۔
    جب بھی ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ایسا محسوس ہوا جیسے علم و حکمت کے چشمے رواں دواں ہیں۔ ہر نشست ایک نادر موقع بن گئی کہ کچھ نیا سیکھا جائے، دل کی دنیا میں خوشی کی کونپلیں کھلیں اور روح تازگی اور سرشاری سے ہمکنار ہو۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ گویا ایک قیمتی موتی ہے، جسے دل کے خزانے میں سنبھال کر رکھا جا سکتا ہے۔
    ڈاکٹر صاحب کے بارے میں قلم اٹھاتے ہوئے عجب سی طمانیت دل و جاں کو گھیر لیتی ہے۔ ایک غیر معمولی شخصیت کا تذکرہ کرنا کسی سعادت سے کم نہیں، کیونکہ وہ صرف اپنے نام کی خوشبو ہی نہیں رکھتے، بلکہ جن جن شعبوں سے وابستہ رہے، ان میں اپنے خلوص، دیانت اور قابلیت کی ایسی خوشبو بکھیر دی کہ وہ میدان نیک نامی سے معطر ہو گئے۔
    چاہے فوج کا میدان کارزار ہو، طب کا شعبہ ہو یا ادب کا وسیع افق , ڈاکٹر وحید الزماں طارق نے ہر جگہ اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا۔ وہ ایک ایسے درویش صفت سپاہی ہیں جو دل میں قوم کا درد، ہاتھ میں علم کا چراغ، اور زبان پر حکمت کے موتی سجائے ہوئے ہیں
    ان کی زندگی کا سفر ایک ایسے چراغ کی مانند ہے، جو اندھیروں میں جل کر نہ صرف خود روشن ہوتا ہے بلکہ اپنے گرد و نواح کو بھی نور بخشتا ہے۔ وہ گوجرانوالہ کے ایک نہایت چھوٹے اور سادہ سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایک عام سرکاری اسکول سے حاصل کی، مگر فطرت نے اُن کے دامن میں جو قابلیت اور بصیرت کے خزانے رکھے تھے، وہ بچپن ہی سے نمایاں ہونے لگے۔
    جو کہا جاتا ہے کہ "ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات”، تو ڈاکٹر صاحب کی ابتدائی کامیابیاں اسی کہاوت کی عملی تفسیر بن گئیں۔ میٹرک کے امتحان میں طلائی تمغہ حاصل کرنا اور قومی ذہانت کے وظیفے سے نوازا جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قدرت نے اُنہیں عظمت کے راستوں پر گامزن کرنے کا فیصلہ پہلے ہی صادر فرما دیا تھا۔
    یہ محض آغاز تھا، آگے چل کر اُنہوں نے علمی فتوحات کا وہ سلسلہ شروع کیا جو انتہائی قابل رشک یے۔ ایم بی بی ایس کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایف آر سی ایس جیسا قابلِ فخر اعزاز بھی اُن کی جھولی میں آیا۔ پھر تو علم کے یہ دریا اس طرح بہنے لگے کہ اُنہوں نے دنیا کی کئی نامور یونیورسٹیوں میں نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ تحقیق و تدریس کے منصب پر بھی فائز رہے۔
    اپنی فطری تشنگی علم کے پیشِ نظر اُنہوں نے طب و سائنس کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کی وادیوں میں بھی قدم رکھا۔ فارسی و عربی سے اُنہیں لڑکپن ہی سے خاص شغف تھا، چنانچہ فارسی زبان میں ماسٹرز کرنے کے بعد ڈاکٹریٹ کی معراج بھی حاصل کی۔ یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ طب اور سائنس کی دنیا اور فارسی شعر و ادب کی بزم دو الگ الگ اور متضاد علمی کہکشائیں ہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف ان دونوں کہکشاؤں پر قدم رکھا بلکہ اُنہیں اپنے علم و تحقیق کے نکھار سے روشن کر دیا۔ نے ڈاکٹر صاحب نے1980ء میں کمیشن حاصل کیا۔ 1986ء میں پاک آرمی میں میجر کے عہدے پر فائز ہوئے، جبکہ 1993ء میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک ترقی پائی۔ بعد ازاں 1996ء میں کرنل بنے اور 2002ء میں انہیں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ وہ پاک فوج سے بطور بریگیڈیئر ریٹائر ہوئے۔
    ریٹائرمنٹ کے بعد، وہ متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں ایک معروف ہسپتال میں 9 برس سے بطور ڈاکٹر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔
    وہ ہمہ گیر فکری جہان کا روشن مینارہیں
    ان کا نام جب لیا جاتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلا حوالہ اقبال شناسی اور فارسی زبان میں ان کی غیر معمولی دسترس کا ابھرتا ہے۔ ان کا مطالعۂ اقبال اتنا عمیق اور ان کی فارسی دانی اتنی رواں ہے کہ وہ اقبال کے افکار و فلسفہ کو صرف سمجھتے نہیں، بلکہ اس کا روحانی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ اقبال کی نظموں کی تہہ داری اور ان کے فلسفے کا جو طلسم ڈاکٹر صاحب کے قلب و دماغ میں کھلتا ہے، وہ عام قاری کی رسائی سے بہت بلند ہے۔
    شاعرِ مشرق حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی فکر انگیز شاعری اور ان کے گہرے فلسفیانہ نظریات کا عرفان ہر کس و ناکس کے نصیب میں کہاں! یہ سعادت معدودے چند صاحبان دانش کو میسر آتی ہے
    میری دانست میں یہ منصب انہیں فطرت کی طرف سے عطا کردہ تھا، کیونکہ جس انداز سے وہ فکرِ اقبال کے نکتے سمجھاتے ہیں اور اس کے گہرے اسرار و رموز کو اجاگر کرتے ہیں، وہ محض علمی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک روحانی عنایت کا عکس ہے۔
    ڈاکٹر صاحب کی تصانیف اور تحقیقی مقالات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ اُن کی نگارشات صرف اقبالیات تک محدود نہیں بلکہ فارسی اور اردو شاعری کے میدان میں بھی اُنہوں نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کے شعری مجموعے ہمارے لیے کسی گراں بہا ارمغان سے کم نہیں۔ یہ تخلیقات نہ صرف علم و ادب کے متوالوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے فکری تربیت کا سرچشمہ بھی ہیں
    انہوں نے حضرت علامہ اقبالؒ کی حیاتِ فکر و فن کا نہایت باریک بینی اور عرق ریزی سے مطالعہ کیا ہے۔ چونکہ اقبالؒ کا بیش تر کلام فارسی زبان میں ہے، اور اُن کے افکار کی گہرائی تک رسائی کیلئے فارسی پر عبور ناگزیر ہے، سو ڈاکٹر صاحب نے فارسی زبان میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کر کے اپنے شوقِ تحقیق کو عملی صورت عطا کی۔
    علامہ اقبال جیسی عبقری ہستی کو پیشوا و راہنما ماننا دراصل حکمت و عرفان کے اُس سرچشمے سے وابستگی کا اظہار ہے، جو قلب و روح کی ویرانیوں کو گلزار بنا دیتا ہے۔ یہی نسبت اگر کسی شخص کو حاصل ہو جائے تو وہ اپنے وقت کا "وحیدالعصر” بن جاتا ہے۔ یہی مقام ان کا ہے، جن کے فیوض و برکات نہایت یکتا و منفرد ہیں۔
    پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق کے علمی فیضان کی روشن مثالیں چغتائی ریسرچ سنٹر کے اُس آڈیٹوریم میں دیے جانے والے وہ خطبات ہیں، جہاں وہ فکرِ اقبال کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے حاضرین کے دلوں اور اذہان میں اٹھنے والے سوالات اور پیچیدہ علمی مغالطے نہایت سہولت سے، گویا پلک جھپکنے میں رفع فرما دیتے ہیں۔
    ان کے خطبات کی گونج محض وطنِ عزیز کی حدود تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کا اثر و رسوخ عالمگیر بن چکا ہے۔ اب اُنہیں تسلسل کے ساتھ یورپ، امریکہ، برطانیہ، مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر ممالک کی ممتاز جامعات اور علمی اداروں میں مدعو کیا جاتا ہے، جہاں وہ فکرِ اقبال کی گہرائیوں اور معانی کے دریچے وا کر کے عالمِ علم و عرفان کو منور کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر وحید الزماں طارق: ایک ہمہ جہت شخصیت کا زندہ حوالہ

    لیکن یہ تعارف صرف ان کی شخصیت کا ایک پہلو ہے درحقیقت، وہ ایک کثیرالجہات انسان ہیں، ایک جہانِ معنی جو کئی جہانوں پر محیط ہے۔
    وہ صرف شاعر نہیں، سخن فہم بھی ہیں؛ صرف نثر نگار نہیں، نثر کے سحر کو کہانی کی لذت میں ڈھالنے والے ماہر فنکار ہیں۔ ان کا اسلوبِ تحریر ایسا دلنشین ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے گویا الفاظ سانس لے رہے ہوں، اور تحریر کے جملے کسی داستان گو کی طرح گوش گزار ہو رہے ہوں۔ ان کی تحریروں میں ایک فطری روانی ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، اور اسے فکری دنیا کے ایک نئے منظرنامے سے آشنا کرتی ہے۔
    ڈاکٹر صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ صرف الفاظ کے کھلاڑی نہیں، بلکہ تجربات کے امین ہیں۔
    بطور ایک سرکاری اور شخصی حیثیت کے، انہوں نے دنیا کے متعدد ممالک کی خاک چھانی ہے۔ ہر سرزمین سے انہوں نے علم کے موتی چُنے، ہر تہذیب سے کچھ نہ کچھ اخذ کیا اور ہر مجلس سے دانائی کا چراغ روشن کیا۔ ان کے مشاہدات میں بین الاقوامی ثقافتوں کی رنگا رنگی ہے، اور ان کی تحریروں میں وہ بصیرت جھلکتی ہے جو صرف سفر کے تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔
    ان کے قلم کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ خشک علمی مباحث کو بھی اس دلآویز انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری بوریت محسوس نہیں کرتا، بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی داستان گو، ماضی کی مجلسوں میں بیٹھا دلکش حکایات سنا رہا ہو۔ ان کی نثر میں شعریت کی لطافت ہے اور ان کی نظم میں فکری گہرائی، یوں گویا ان کے قلم نے دونوں جہانوں کو اپنے سحر میں باندھ رکھا ہے۔
    یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ڈاکٹر وحید الزماں طارق علم و ادب کے قافلے کے وہ سالار ہیں جنہوں نے اپنی بصیرت سے کئی قلوب کو منور کیا، کئی اذہان کو بیدار کیا، اور فکری افق پر روشنی کی ایسی کرنیں بکھیریں جو رہروانِ علم و حکمت کے لیے مینارۂ نور بن گئیں۔
    ان کے فکری سرمائے میں جہاں روایت کی جمالیات ہے، وہیں جدت کا شعور بھی نمایاں ہے۔ وہ ماضی کی عظمتوں کے امین ہیں تو حال کی پیچیدگیوں کے نباض بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں صرف کتابوں کے اوراق تک محدود نہیں رہتیں بلکہ قاری کے قلب و ذہن میں مستقل جا بسنے والی آواز بن جاتی ہیں
    ڈاکٹر وحید الزمان طارق کا اردو شعری مجموعہ زمزمۂ احوال محض شعری اظہار کا مجموعہ نہیں بلکہ اُن کے قلب و روح کی جھلک ہے، جس میں اُنہوں نے نہ صرف شخصیات کے تذکرے کو محبت اور عقیدت سے سنوارا ہے بلکہ اپنے محبوب شہروں کا ذکر بھی اس درجہ والہانہ انداز میں کیا ہے کہ قاری خود کو اُن بستیوں کی گلیوں میں محسوس کرنے لگتا ہے۔
    خصوصاً لاہور، جو اُن کے خوابوں کا شہر، اُن کی جوانی کا گہوارہ اور اُن کی ادبی تربیت کی آماجگاہ رہا، اس کا ذکر جس جذباتی وابستگی کے ساتھ کیا گیا ہے، وہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے ایک لطیف مگر روشن پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ اُن کی نظم لاہور میں وہ عشق کی حدوں کو چھوتی محبت نظر آتی ہے، جو اپنے شہر کے کوچہ و بازار سے ایک زندہ تعلق کا پتہ دیتی ہے:
    "جہاں کے کوچہ و بازار رستے
    ہیں پر رونق وہ ہنستے اور بستے
    جوانی کی مری معصوم یادیں
    مرے جذبات کی موہوم یادیں
    اسی گلشن سے وابستہ رہی ہیں
    وہاں سو داستانیں ان کہی ہیں”
    یہ اشعار صرف یادوں کی مالا نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی منظرنامہ ہے، جس میں لاہور کے رنگ، خوشبو، اور اُس کی علمی فضا ایک ہمہ گیر جذبے کے ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔
    ان کی اردو شاعری پر فارسی شاعری کے اثرات نمایاں ہیں۔خود فرماتےہیں
    طارق سخن میں بیدل و غالب کا ہوں مرید
    شیراز کے ہے رنگ میں اسلوب دہلوی
    ڈاکٹر وحید الزمان طارق کی نثر بھی اُن کی شاعری کی طرح سحر انگیز ہے۔ اُن کی تحریریں محض واقعات کا بیان نہیں بلکہ فکری بالیدگی کا مظہر ہیں۔ عسکری ادبی روایت میں جن فوجی افسران نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے دوران گراں قدر نثری شہ پارے تخلیق کیے، ڈاکٹر وحید کی نثر اُنہی کی روایت کی ایک حسین کڑی ہے۔ ان کے مضامین، تجزیے، اور تحقیقی مقالات ایسے ہیں کہ جنہیں آنے والے دنوں میں ہماری اعلیٰ درسی کتب کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہوگا۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی علمی کاوشوں کو اس مقام تک پہنچنے میں زیادہ وقت درکار نہیں رہا۔ ان کی فارسی شاعری کو تو پہلے ہی یہ اعزاز نصیب ہو چکا ہے۔ اُن کی فارسی نظموں کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ فارسی نے اپنے نصاب میں شامل کر کے اُن کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ یہ صرف ڈاکٹر صاحب کے لیے ہی نہیں بلکہ اردو اور فارسی ادب کے لیے بھی ایک فخر کی بات ہے کہ ہمارے عہد میں ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت موجود ہے جو بیک وقت علم، تحقیق، شاعری، اور فکری بلند نگاہی کا استعارہ بن چکی ہے۔

    ڈاکٹر عرفانی کو کون نہیں جانتا
    ڈاکٹر عرفانی کا خاندانِ اقبال سے قریبی تعلق محض ایک نسبتِ رسمی نہیں، بلکہ فکری و روحانی رشتہ بھی تھا۔ یہی نسبت ڈاکٹر وحید الزمان طارق کی عرفانی صاحب کے ساتھ بھی ایک گہرا تعلق رکھتی ہے۔ وہ نہ صرف ڈاکٹر عرفانی کے چہیتے تھے بلکہ قرابت داری کا رشتہ بھی ان دونوں کے درمیان حائل نہ تھا۔
    وہ فرماتے ہیں کہ وہ آج بھی اپنے علمی سفر میں انہی کے نقشِ پا پر گامزن ہیں، اور اپنے لیے راہنمائی انہی کے چھوڑے ہوئے چراغوں سے پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عرفانی کے وہ اشعار، جو گویا ایک علمی ورثے کے طور پر اُنہیں عطا ہوئے، ڈاکٹر وحید الزمان طارق کے لیے سرمایۂ افتخار بن گئے ہیں۔ ان اشعار کو وہ نہ صرف دل سے لگائے ہوئے ہیں بلکہ اپنی علمی حیات کا نشانِ راہ سمجھتے ہیں:

    ای پسراعصاب من برہم شدست
    قوت فکر و‌ تخیل کم شدست
    دل نمی میرد دگر از مرگِ تن
    تو مرا دل باش ای فرزندِ من
    اے میرے بیٹے! میری قوتِ اعصاب کمزور ہو چکی ہے)
    فکر و تخیل کی توانائی بھی ماند پڑ گئی ہے۔
    لیکن جان لو! دل کبھی جسمانی موت سے نہیں مرتا،
    (بس تو میرا دل بن جا، اے میرے فرزندِ عزیز!
    یہ اشعار صرف چند مصرعے نہیں، بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والی فکری مشعل ہیں۔ ان میں ڈاکٹر عرفانی کی فکر کی گہرائی اور اپنے عزیز شاگرد و فرزندِ معنوی کے لیے بے پایاں محبت جھلکتی ہے۔ گویا ایک روح نے دوسری روح میں اپنی روشنی منتقل کر دی ہو، تاکہ چراغِ علم و حکمت ہمیشہ روشن رہے۔
    ڈاکٹر وحید الزماں طارق ایک ایسا چراغ ہیں جو خود جل کر دوسروں کو روشنی عطا کرتا ہے۔ ان کے فکر کی روشنی دور دور تک پھیلتی ہے اور نہ جانے کتنے تشنہ دل اس سے سیراب ہو رہے ہیں۔ ان کا وجود اپنے اندر علم، تجربے اور روحانیت کی ایک مکمل دنیا سموئے ہوئے ہے۔ ایسے لوگ کم ہی پیدا ہوتے ہیں، جو اپنے عمل اور کردار سے اپنے عہد کا حوالہ بن جائیں۔
    یقیناً، ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ معاشرے کے لیے نعمت خداوندی ہوتے ہیں۔ ان کا ذکر کرنا صرف تحریر کا حق ادا کرنا نہیں، بلکہ ان کا حقِ محبت بھی ہے۔ ان جیسی شخصیات پر جتنا بھی لکھا جائے، کم ہے، کیونکہ ان کی عظمت کے آسمان کی کوئی حد نہیں، اور ان کے کمالات کا احاطہ کرنا الفاظ کی محدود دنیا سے ماورا ہے

  • لکھے مُو سا پڑھے خود آ

    لکھے مُو سا پڑھے خود آ

    لکھے مُو سا پڑھے خود آ

    Dubai Naama

لکھے مُو سا پڑھے خود آ

    ہمارے ایک مسلم سکالر اپنے پوڈکاسٹ کی کلپس میں ایک بڑا مشکل لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے جیسے متوسط پڑھے لکھوں اور زبان کے تھوتلوں کے لیئے تو یہ لفظ اکٹھا بولنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر وہ اسے بڑی روانی اور سلاست کے ساتھ بولتے ہیں۔ ان کا یہ پسندیدہ لفظ "اینتھروپومارفزم” (Anthropomorphism) ہے۔ سکول کے زمانے میں اس سے ایک چھوٹے لفظ "قسطنطنیہ” کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر کے یاد کیا کرتے تھے اور "اینتھروپومارفزم” تو کرکٹ کے فاسٹ بولر کے رن اپ جتنا لمبا ہے جسے طے کرنا ہم جیسے نالائق طالب علموں کے لیئے اتنا آسان نہیں ہے۔
    ایک دن ان صاحب سے ایک صحافی نے اس لفظ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے انتہائی پرسکون انداز میں جواب دیا کہ اس لفظ کا مطلب "عالمِ ناسوت کو عالمِ لاہوت میں خلط کرنا۔” ہے۔ اب ہر دوسرا شخص اس جملے کو لے کر پریشان ہے کہ عالمِ ناسوت کو عالمِ لاہوت میں خلط کرنے کے کیا معنی ہیں؟ اس لفظ کے صحیح اور اصل معنی جاننا اسی طرح مشکل ہے جیسے "لکھے مُو سا پڑھے خود آ” کے محاورے کو جاننا مشکل ہے۔ مُو بال کو کہتے ہیں یعنی کہ بال جیسا باریک لکھے اور پڑھنے کے لئے بھی خود ہی آئے۔ حالانکہ ہم اردو اہل زبان اتنے سست اور کاہل ہیں کہ اس صحیح محاورے کو بھی اپنی آسانی کے لیئے، "لکھے موسی پڑھے خدا” کے طور پر لکھتے، پڑھتے اور بولتے ہیں۔

    مرزا اسداللہ غالب کو شروع میں لوگ اردو زبان کا مشکل ترین شاعر سمجھتے تھے مگر جب انہیں احساس ہوا تو انہوں نے اردو زبان کو اپنی شاعری سے ایسی روانی اور سلاست بخشی کہ جو کسی دوسرے شاعر کے حصے میں نہ آ سکی، گو کہ ان کے کچھ شعروں کو آسان الفاظ کے باوجود سمجھنا اسی طرح مشکل ہے جیسا کہ اینتھروپومارفزم کا مشکل لفظ ہے یا پھر غالب ہی کا ایک آسان لفظوں کا مشکل شعر ہے کہ: "نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا، کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا۔” غالب کا یہ شعر دنیا کی بے ثباتی کو ظاہر کرتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز فریاد لیئے ہوئے ہے جس کے تن پر کاغذ کا لباس ہے اور وہ اپنے مٹنے کے لیئے اسی طرح ہر پل تیار کھڑی ہے جیسا کہ شاعر کی شوخی تحریر وقت کے لمحات میں گم ہونے کو تیار ہے۔

    قدیم ایران میں رسم تھی کہ مظلوم فرد حاکم کے سامنے کاغذی لباس پہن کر جاتا تھا یا بانس پر خون آلود کپڑا لٹکا کر لے جاتا تھا کہ حاکم کے دربار میں سب کو معلوم ہو جائے کہ کوئی مظلوم داد رسی کے لیئے دربار میں حاضر ہوا ہے۔

    گوگل یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اس لفظ کو آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو
    "اینتھروپومارفزم” سے مراد کسی غیر انسانی چیز، مخلوق، یا خدائی وجود کو انسانی صفات دینے سے ہے۔
    یہ ایک عام رویہ ہے جو ہم روزمرہ کی زبان میں بھی استعمال کرتے ہیں مثلاً، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ "بادل غصے میں ہے” یا "چاند اداس لگ رہا ہے” تو یہ دراصل اینتھروپومارفزم کی مثالیں ہیں۔ حقیقت میں نہ بادل کو غصہ آتا ہے اور نہ چاند کو اداسی محسوس ہوتی ہے، مگر ہم انسانی جذبات کو ان پر منطبق کر دیتے ہیں تاکہ اپنی بات کو زیادہ مؤثر اور بامعنی بنایا جا سکے۔

    ہمارے یہ عالم فاضل اس لفظ کو ایک تصور بنا کر زیادہ گہری اور فکری سطح پر بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اینتھروپومارفزم کا مطلب ہے "عالمِ ناسوت کو عالمِ لاہوت میں خلط کرنا” یعنی انسانی دنیا (ناسوت) کی صفات اور محدودات کو خدائی دنیا (لاہوت) پر لاگو کرنا ہے۔

    اس کا ایک عام مظہر یہ ہے کہ ہم خدا کو انسانی جذبات جیسا کہ غصہ، محبت، خوشی یا ناراضی کے ساتھ بیان کرتے ہیں، یا اسے کسی انسانی شکل میں تصور کرنے لگتے ہیں حالانکہ خدائی حقیقت انسانی فہم و ادراک سے ماوراء ہے، مگر ہم اسے اپنے تجربے اور زبان کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی اینتھروپومارفزم ہے، یعنی خدائی کو انسانی دائروں اور پیمانوں کے مطابق جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔
    مشکل الفاظ سے گھبرانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چایئے۔
    اینتھروپومارفزم جیسے مشکل الفاظ سن کر اگر پہلی بار میں سمجھ نہ آئے تو دوسری کوشش کرنی چایئے۔ یہ بالکل نارمل ہے بعض اوقات، جب ہم کوئی نیا یا غیر مانوس لفظ سنتے ہیں اور اسے سمجھ نہیں پاتے تو ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے ہم کچھ کم جانتے ہیں یا ہماری تعلیم میں کوئی کمی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں یہ لمحہ ہمیں سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ کسی بھی زبان میں، خاص طور پر ادبی یا فلسفیانہ گفتگو میں، ایسے الفاظ آتے رہتے ہیں جو عام بول چال میں استعمال نہیں ہوتے۔
    یہ صرف اردو تک محدود نہیں۔ اگر آپ انگریزی کے پرانے کلاسیکی الفاظ پڑھیں تو وہاں بھی ایسے الفاظ ملتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے ڈکشنری کھولنی پڑتی ہے مثلاً اگر کوئی شیکسپیئر یا قدیم فلسفیوں کی تحریریں پڑھے تو وہاں بھی ایسے الفاظ آتے ہیں جو آج کے عام انگریزی بولنے والے کے لئے نئے ہوں گے۔ لہٰذا اگر کسی لفظ کا مطلب سمجھ نہ آئے تو اسے کمتر ہونے کی بجائے نئے سیکھنے کے موقعہ کے طور پر دیکھیں۔ اگلی بار جب کوئی مشکل اصطلاح آئے تو بجائے الجھن میں پڑنے کے، اسے جاننے اور سمجھنے کی جستجو کریں سیکھنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ خود انسان کے لیئے زندگی گزارنا اینتھروپومارفزم جتنا مشکل مرحلہ ہے مگر جب ہم اسے جینے کے عادی ہو جاتے ہیں اور زندگی کا مطلب سمجھ جاتے ہیں تو یہ ہمارے لیئے اتنی ہی آسان ہو جاتی ہے جتنا کہ "لکھے مُو سا پڑھے خود آ” جیسا محاورہ آسان ہے کہ زندگی میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیئے کبھی بھی جلد بازی سے کام نہ لیں اور چیزوں کو بے شک دھیرے دھیرے سمجھنے کی کوشش کریں مگر انہیں ہمیشہ اپنے لیئے سادہ اور آسان بنانے کی کوشش کریں

    Title Image by M. H. from Pixabay

  • کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ

    کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ

    کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    مرزا اسد اللہ خان غالب کہتے ہیں ”رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل/جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے” پھر کہتے ہیں ”ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ/کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا”۔

    مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ایک عظیم شاعر تھے، جنہوں نے اپنی شاعری سے فارسی اور اردو زبان کو ایک نئی جہت دی۔ غالب کا کلام ان کے عمیق خیالات، انسانی نفسیات کی گہرائیوں اور زندگی کے فلسفے کا آئینہ دار ہے۔ ان کی شاعری میں عشق، فلسفہ، زندگی کے تضادات، اور انسانی جذبات کی مختلف کیفیات نہایت خوبصورتی سے بیان کی گئی ہیں۔ فاقہ مستی کے بارے میں غالب کہتے ہیں:

    ”قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن”

    مرزا غالب 27 دسمبر 1797ء کو کالا محل، آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا عبد اللہ بیگ اور والدہ عزت النساء بیگم ترک مغل خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ غالب نے بچپن میں فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی اور 11 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کے پہلے استاد عبدالصمد ایرانی تھے جنہوں نے غالب کو فلسفہ، منطق، اور فارسی ادب کی تعلیم دی۔ مے خانہ اور واعظ کی بات یوں کرتے ہیں:

    ”کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ

    پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے”

    غالب نے ابتدا میں "اسد” تخلص اختیار کیا لیکن بعد میں "غالب” کے نام سے شہرت پائی۔ ان کے کلام میں فارسی اور اردو کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جس نے اردو شاعری کو نیا آہنگ دیا۔ غالب کی شاعری میں جدت، تخیل کی بلندی اور تراکیب کی انفرادیت انہیں دیگر اردو اور فارسی شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔ غالب اپنے دل کی بات یوں کرتے ہیں:

    ”کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو

    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا”

    غالب کی شاعری میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا گہرا مشاہدہ ملتا ہے جس میں عشق، فلسفہ، غم اور خوشی شامل ہیں۔ان کی شاعری میں عشق ایک مرکزی موضوع ہے، جو نہ صرف جسمانی محبت بلکہ روحانی تعلقات کو بھی بیان کرتا ہے۔ غالب کی شاعری میں زندگی، موت اور کائنات کے فلسفیانہ سوالات کی عکاسی ہوتی ہے۔ غالب نے انسانی زندگی کے دکھ درد اور خوشیوں کو بڑی سادگی اور گہرائی سے بیان کیا ہے۔ غالب مشکلات کا زکر اس طرح کرتے ہیں:

    ”رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں”

    غالب کو فارسی اور اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کی شاعری میں جدت اور زبان کی خوبصورتی نے انہیں فارسی اور اردو ادب کا ایک ستون بنا دیا۔ غالب کی غزلیں ان کی انفرادیت اور تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین مظہر ہیں۔ ان کے خطوط بھی اردو نثر کے شاہکار مانے جاتے ہیں، جن میں ان کی شخصیت، خیالات اور زمانے کی جھلک نمایاں ہے۔

    غالب فارسی کے ایک عظیم شاعر تھے اور ان کی فارسی شاعری میں فلسفیانہ اور عارفانہ موضوعات غالب ہیں۔

    غالب کے خطوط اردو نثر کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان خطوط نے نثر کو ایک نیا اسلوب دیا۔

    غالب نے سرسید احمد خان کی تصنیف "آئین اکبری” پر ایک فارسی تقریظ لکھی، جس میں انہوں نے جدیدیت اور ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

    غالب ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب مغلیہ سلطنت زوال پذیر تھی اور انگریزوں کا اقتدار بڑھ رہا تھا۔ اس سیاسی اور سماجی تبدیلی نے غالب کی شاعری پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی شاعری اس دور کے المیے اور انسانی جذبات کی عکاس ہے۔

    مرزا غالب 15 فروری 1869ء کو دہلی میں وفات پا گئے۔ ان کی رہائش گاہ "غالب کی حویلی” آج بھی ان کی یادگار کے طور پر موجود ہے۔ غالب کی شاعری آج بھی اردو اور فارسی ادب کے قارئین کے دلوں میں زندہ ہے۔

    مرزا غالب کی شخصیت اور فن اردو ادب کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف اردو زبان کی ترقی کا باعث بنی بلکہ انسانی جذبات اور فلسفے کو ایک نئی بلندی پر پہنچایا۔ غالب کا کلام آج بھی دلوں کو چھوتا ہے ۔

  • جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی

    جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی

    جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی

                                                                                        از: جنید احمدنور

                                                                                                    بہرائچ ، اتر پردیش

                                                                                                    موبائل : 919648176721+

    بہرائچ ہی وہ سرزمین ہے جس کوحضرت سیدسالار مسعود غازی رحمہ اللہ(خواہر زادے سلطان محمود غزنوی)نے اپنے قیمتی خون کے قطروں سے سیراب کیا اور اپنے ہزاروں ساتھوں کے ساتھ اس سرزمین کو شہیدوں کا مسکن بنا دیا اور تاریخ میں بہرائچ کا نام درج کرادیا۔ اکابرصوفیا و علما ء نے یہاں کی سرزمن کو اپنی خاک سے منور کیا۔اس طرح یہاں پر خاص طور پر اردو ادب نے بہت ترقی پائی۔بہرائچ زمانہ قدیم سے ہی علم کا گہوارہ رہا ہے۔ سرزمین بہرائچ ادب اور شعر و شاعری کے سلسلے میں اس قدر مردم خیز ہے کہ یہاں ہر دور میں متعدد اساتذۂ اکرام اپنے اطراف میں تلامذہ کی ایک بھیڑ کے ساتھ نظر آتے تھے۔یہ سرزمین وہ زمین ہے جہاںشہنشاہ غزل میر تقی میرؔنے اپنی مثنوی’’ شکار نامہ‘ تصنیف کی تھی۔ میر ؔنے بہرائچ کا ذکرکرتے ہوئے اپنی تصنیف میں لکھاہے ؎
    چلے ہم جو بہرائچ سے پیش تر
    ہوئے صید دریا کے واں پیش تر
    (کلیات میرؔ ،۱۹۴۱ء، ص۸۷۲)


    انشاءاللہ خاں انشا ؔبھی بہرائچ آئے تھے اور بہرائچ کی مقدس سرزمین پر اپنی قلم کا جادو بکھرا ہے۔ آپ کا یہ شعربہت مشہور ہے جس میں آپ نے بہرائچ کی سرزمین کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ ؎
    دل کی بہرائچ نہیں ہے ترک تازی کا مقام
    ہے یہاں پر حضرت مسعود غازی کا مقام
    (کلیات انشا اللہ خاں انشاؔ انشا۔۱۸۷۶ء،ص۸۶)


    ایک دوسرے شعرمیں ا نشا ءاللہ خاں انشا ؔلکھتے ہیں ؎
    یوں چلے مژگان سے اشکِ خوں فشاں کی میدنی
    جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی
    (کلیات انشا اللہ خاں انشاؔ۱۸۷۶ء،ص۱۵۷)


    ضلع بہرائچ خطہ اودھ کا ایک ایسا مردم خیز ضلع ہے جس کی ذرخیزی کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ تین صدیوں پر محیط ضلع بہرائچ کی تاریخ اردو ادب اپنے میں سمیٹے ہوئےجو حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز و اولین سوانح نگار حضرت مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچی رحمہ اللہ سے شروع ہوتی ہے۔میری تحقیق کے مطابق شاہ نعیم اللہ صاحب بہرائچیؒ کوبہرائچ کا پہلا اردو شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ کا کلام آج بھی آپ کے خانوادے کے پاس محفوظ ہے۔اس بہرائچ کو مرزا غالبؔ کے شاگرد بے صبرؔ کاٹھوی کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ مولوی ضامن علی خاں انیقؔ بہرائچی بہرائچ کے اس عظیم المرتب شاعر کا نام ہے جو میر انیسؔ کے صاحبزادے اور شاگرد رشید میر نفیسؔ کے شاگرد تھے ۔ جن کے ذریعہ بہرائچ میں میر انیسؔ کا فیض بہرائچ میں پہونچا ۔ حضرت انیقؔ مشہور استاد شاعر حضرت عبدالرحمٰن خاں وصفی ؔکے حقیقی پردادا تھے۔انیق ؔصاحب موجودہ وقت کے مشہور و معروف شاعر فرحتؔ احساس کے جد اعلیٰ ہیں۔مسعود حسن رضوی ادیب کی جائے ولادت،منشی پریم چند نے بھی یہاں اپنے دن گزارے ہیںا س کے علاوہ مشہور ترقی پسند شاعر کیفیؔ اعظمی نے اپنے بچپن کے کئی سال یہاں گزارے اور اپنی پہلی غزل یہیں کہیں تھی جس کا تذکرہ کیفیؔ نے اپنے مجموعہ ’’سرمایہ‘‘میں اس واقعے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔کیفی ؔ اعظمی ہمارے پرنانا اور اپنے وقت کے معروف تاجر اور شاعر حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی اور رافتؔ بہرائچی کے قریبی دوستوں میں سے تھے اور جب بھی بہرائچ آتے تھے شفیعؔ صاحب کی دکان جو ادبی مرکز تھا وہاں تشریف رکھتے تھے۔دبستان بہرائچ کے ساتھ ساتھ ضلع کے مشہور دبستانوں جرول اور نان پارہ نے بھی اردو ادب کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہے جہاں شیخ مشیرؔ جرولی ، جرول کے تعلقہ داران سید ظفر مہدی اثیم ؔجرولی،ان کے صاحب زادوں سید حیدر مہدی شمیمؔ جرولی ،مولوی حکیم سید باقر مہدی بلیغؔ جرولی،اثیمؔ کے پسر زادے،شمیم ؔکے صاحب زادےسید فضل مہدی نسیمؔ جرولی نے براہ راست مرزا سلامت علی دبیرؔ اور ان کے صاحب زادے مرزا اوجؔ لکھنوی سے شرف شاگردی حاصل کی ۔اسی طرح نان پارہ میں شمسؔ لکھنوی، اصغریؔ رشیدی(شاگر د پیارے میاں رشیدؔ لکھنوی)،واصفؔ القادری نان پاروی نے شمع ادب کو جلایا۔

    جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی
    پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی


    ہر دور میں اپنے اپنے فن کے جواہر پاروں نے بہرائچ کا نام روشن کیا ہے انہیں جواہر پاروں میں سے ایک اہم نام ڈاکٹر محمد اسلام کا ہے جنہوں نے شہنشاہ تغزل حضرت جگرؔ مرادآبادی کی حیات و خدمات پر لکھنؤ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور جگرؔ مرادآبادی اور اردو ادب کی خدمات پر اپنی تصانیف کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا اور آپ کی تصانیف مقبول خاص و عام ہوئی اور برصغیر ہند و پاک سے ایک ساتھ شائع ہوتی رہیں۔
    ڈاکٹر محمد اسلام کی ولادت ۲۷؍اکتوبر ۱۹۳۰ء کو ضلع بہرائچ کی تاریخی سابق ریاست نان پارہ کے قریب واقع گاؤں امبوا مولوی گاؤں کے ایک معزز گھرانے میں حاجی محمد رحمت اللہ مرحوم کے یہاں ہوئی تھی۔آپ کا خاندان اپنے علاقہ کا ایک معزز علمی گھرانہ تھا ۔علاقہ کے لوگوں سے معلوم ہ واس دور میں بھی آپ کے اطراف کے گاؤوں میں واحد پختہ مکان آپ کے خانوادے کا تھا جو آج بھی الحمد للہ موجود ہے۔گاؤں میں آپ کے بہت سےعزیز آج بھی قیام کرتے ہیں ۔آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم بہرائچ میں مقامی طور پر حاصل کی اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لکھنؤ یونی ورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں سے ایم۔ اے، ایل ایل بی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور لکھنؤ مین رہائش اختیار کی۔ آپ نے۱۹۶۰ء میں لکھنؤ یونی ورسٹی سے ’’جگر مرادآبادی:حیات اور شاعری‘‘ پرمقالہ لکھ کر پی۔ایچ۔ڈی کی اور اس کے کچھ سالوں بعد پاکستان ہجرت کر گئے جہاں آپ ایک کالج میں پروفیسر ہوئے ۔ جگرؔ صاحب کی حیات اور خدمات پر آپ کے تحقیقی کاموں کو ادبی شخصیات نے بہت پسند کیا اور اپنی تحریروں میں لکھا جن میں سے کچھ یہاں نقل کئے جاتے ہیں :۔
    حضرت عبد الماجد دریابادی ؒ آپ کی تصینف ’’ یادگار جگر‘‘ کے لئے لکھتے ہیں:۔
    ’’یہ جگرؔ کے ایسے کلام مجموعہ ہے جو اب تک غیر مطبوعہ تھا۔ جامع اور مرتب کی تلاش اور ان کا حسن ذوق دونوں قابل داد ہیں۔‘‘ (نگارشات جگر(محمد اسلام،۱۹۶۵ء، بیک کور) بہ شکریہ ریختہ)
    رشید احمد صدیقی(علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی) آپ کی جگرؔ سناشی پر لکھتے ہیں:۔
    ’’مسٹر محمد اسلام نے جگرؔ کی حیات و شاعری پر جتنا کثیر اور مستند مٹیریل جس محنت، قابلیت اورسلیقے اکٹھا کر دیا ہے وہ میعاری اور قابل تحسین ہے۔ اب تک اس موضع پراتنا مفید مواد کہیں اور یکجا نہ ملے گا۔جگرؔ پر آئندہ کام کرنے والوں کو اس زخیرۂ معلومات سے بہت فائدہ پہنچے گا اور ان کے تحقیقی کاموں میں سہولت پیدا ہوگی۔ (جگر مرادآبادی حیات اور شاعری(محمد اسلام،۱۹۶۶ء،ص ۵)
    ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی (لکھنؤ یونی ورسٹی) لکھتے ہیں:۔
    ’’محمد اسلام صاحب قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے جگرؔ کی حیات اور شاعری پر تحقیقی کام کرنے کے سلسلہ میں جگرؔ کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کی اور انہوں نے یہ راز پالیا کہ کہ جگرکی شاعر اور شخصیت کی مکمل تصویر اسی وقت ممکن ہے جب شاعری کے علاوہ مرحوم کی نثر کا بھی جائزہ لیا جائے ۔ اس سلسلہ میں مرتب(ڈاکٹر محمد اسلام)نےبڑی محنت اور کاوش سے کام کیا ہے ۔ڈاکٹر اسلام نے جگرؔ کے غیرمطبوعہ اور قلمزدکئے ہوئے کلام کوبھی فراہم کیا اور جگرکی تمام تحریروں، تقریظوں،دیباچوں وغیرہ کو بھی، یہ دونوں مجموعہ ’’یادگارجگر‘‘ اور ’’نگارشات جگر‘‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ (جگرؔ کے خطوط(محمد اسلام، ۱۹۶۵ء، ص ۱۱-۱۲)
    آپ ممتازماہر تعلیم،محقق، ادیب، استاد اردو شپ اونرز کالج کراچی۔ ’’جگر مرادآبادی:حیات اور شاعری‘‘پر مقالہ لکھ کر لکھنؤ یونی ورسٹی۱۹۶۰ء میں پی۔ایچ۔ڈی کی۔جگر مرادآبادی پر عمر بھر تحقیق کی اور ان پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ (بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ،ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،مطبوعہ۲۰۱۸ء،لاہور،ص۳۵۶)
    آپ کی تصانیف:۔(۱)یادگارِ جگر(۲)جگر کے خطوط(۳)نگارشات جگر(۴)جگر معاصرین و مخلصین کی نظر میں(۵)اردو غزل کی مختصر تاریخ (۶) بیسویں صدی کے چند اکابر غزل گو (وفیات ناموران پاکستان،ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،مطبوعہ۲۰۰۶ء،لاہور،ص۶۹۳)
    ڈاکرمحمد اسلام کی وفات کے بعد ان پر لکھے سوانحی خاکے میں ڈاکٹر اسلم فرّی صاحب لکھتے ہیں:۔
    ڈاکٹر اسلام شکلاً اور طبعاً ایک شریف آدمی تھے۔نان پارہ کے رہنے والےتھے۔ وہاں سے لکھنؤ آ گئے تھے۔ تحقیق کا شوق تھا۔جگرؔ صاحب کو موضوعِ تحقیق بنایا اور حق یہ ہے کہ حق ادا کر دیا۔ ان کا تحقیقی مقالہ جگرؔ صاحب کے بارے میں شائع ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے اس کا مواد بڑی محنت سے جمع کیا تھا اور حلقۂ جگرؔ کے تمام لوگوں سے وہ یا تو باذات خود ملے یا خط و کتابت کے ذریعے رابطہ پیدا کیاتھا۔میرے علم میں ہے کہ وہ اس سلسلے میں شہروں شہروں پھرتے رہے۔میرے بزرگ کرم فرما مظہر جلیل شوقؔ کبھی کبھی ڈاکٹر اسلام کے علمی انہماک کا تذکرہ کرتے تھے تو یہ بھی کہتے تھے کہ اس شخص نے مجھے ڈھونڈ نکالا اور جگرؔصاحب کے بارے میں میری معلومات سے پورا پورا فائدہ آٹھایا۔ڈاکٹر صاحب نے ستمبر ۱۹۶۱ء سے ستمبر ۱۹۶۵ء تک کے دوران پاک وہند کے ۴۶ مختلف اشخاص سے جو جگرؔ صاحب کے حلقے سے تعکلق تھے ملاقاتیں کیں اور’’ حیات جگرؔ ‘‘کاخاکہ مرتب کیا۔ (ہماری زبان،اکتوبر ۱۹۸۷ء، ص ۷)


    ڈاکٹر اسلام بڑے محنتی انسان تھے ۔جگر ؔکے خطوط جمع کیے اور انہیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ بعض کتابیں دوسری کتابیں بھی لکھیں ۔ڈاکراسلام صاحب کی وفات ۲۲؍ ستمبر ۱۹۸۷ء کو کراچی میں ہوئی اور آپ کی تدفین قبرستان بلاک- II ، نارتھ کراچی صوبہ سندھ (پاکستان) میں ہوئی۔‏آپ کی اہلیہ بھی کراچی کے ایک کالج میں پروفیسرتھی اورماشاء اللہ ابھی بقید حیات ہیں۔آپ کے ایک صاحب زادے جناب ضیاء اسلام صاحب کراچی میں مقیم ہیں ۔

  • تدوینِ دیوانِ غالب کی ایک ما بہ الامتیاز کوشش !

    تدوینِ دیوانِ غالب کی ایک ما بہ الامتیاز کوشش !

    تدوینِ دیوانِ غالب کی ایک ما بہ الامتیاز کوشش !

    ڈاکٹر عزیزاحسن

    جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو اپنے اردو کے استاد محمد احمد نقوی صاحب سے ایک شعر سنا
    طاعت میں تارہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
    دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو(نسخہء طاہر، ص۷۷)
    پھر جب استاد نے اس شعر کی معنوی جہت سے پردہ سرکایا تو خالص اللہ کے لیے عبادت کرنے کا ادراک ہوا۔ اس شعر نے میرے ذہن و دل کو جکڑ لیا ۔ میں ایک مدت تک یہی شعر دہراتا رہا۔ بعد ازاں غالب کے دیگر اشعار بھی پڑھے جو میرے سر سے گزرگئے۔ کالج میں کامرس کی بارھویں جماعت تک اردو پڑھائی گئی تو نصاب میں غالب کی غزلیں بھی تھیں۔وہاں پروفیسر وسیم فاضلی اور پروفیسر انورخلیل نے اردو پڑھائی۔ ایک شعر کی تشریح کرتے ہوئے انور خلیل صاحب نے غالب کے کلام کا محاکاتی عنصر ظاہر کرنے کے لیے بڑی خوبصورت تشریح کی:
    میں نے کہا کہ بزمِ ناز غیر سے چاہیے تہی
    سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں؟
    شاعر نے اپنے محبوب سے کہا کہ ہماری بزم میں غیر کو نہیں ہونا چاہیے۔ محبوب نے یہ سن کے شاعرہی کو کان سے پکڑ کے اٹھادیا۔۔۔اور شوخی سے کہا ’’یوں‘‘؟؟؟
    پروفیسر وسیم فاضلی نے بتایا کہ غالب کے اشعار میں لہجے کے بدلنے سے اشعار کے معانی بدل جاتے ہیں:
    کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
    دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
    یہ شعر صرف لہجے کے فرق سے دشت کی ویرانی کو لائق زکر یا گھر کے مقابلے میں ہیچ بناتا دیتا ہے۔ انھوں نے چہرے کے تاثرات اور شعر کی قرا ءت سے شعر میں ویرانی کو گھر کی ویرانی کے مقابلے میں بہت زیادہ اور پھر گھر کے مقابلے میں بہت معمولی ظاہر کیا۔
    ۱۹۶۹ءمیں غالب کی صد سالہ برسی منائی گئی تو ملک کے تقریبا ً تمام ہی ادبی رسائل نے غالب نمبر شائع کیے۔ میں نے غالب شناسی کے شوق میں تقریباً سارے ہی غالب نمبر جمع کرلیے۔ آرٹس کونسل پاکستان، کراچی میں دو تین روزہ کانفرنس بھی ہوئی۔ میں نے وہاں بھی مقررین کو سنا۔
    کچھ دن بعد انگلینڈ سے پروفیسر رالف رسل تشریف لائے تو ان کا لیکچر بھی آرٹس کونسل ہی میں سُنا۔ انھوں نے بتایا کہ غالب کے دیوان کا انگریزی میں ترجمہ ہوا۔’’ لیکن اشعار کی قراءت میں ،کتابت کی اغلاط کے باعث مترجم نے بڑی ٹھوکریں کھائیں۔ مثلاً


    ’’ہم موحدہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
    ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں
    اس شعر میں کاتب کی مہربانی سے لفظ موَحِّد ’’موجد‘‘ بن گیا تھا۔لہٰذا مترجم نے بھی اسی طرح ترجمہ کرڈالا یعنی انھوں نے بلا تکلف Inventor لکھ دیا۔ حالاں کہ لفظ موجد کی وجہ سے شعر کا وزن بھی بگڑ گیا تھا‘‘۔
    مجھے حیرت اور مسرت ہوئی کہ ایک انگریز اردو شاعری کے نظامِ عروض سے بھی اس حد تک واقف ہے!!!
    اسی زمانے میں مجھے ماہنامہ ’’کتاب‘‘ کا شمارہ ملا جس میں غالب کا دیوان شائع کیا گیا تھا۔اس دیوان میں ’’نسخہء طاہر‘‘ کا مکمل متن تھا۔
    غالب شناسی کے شوق نے مجھے بہت سی شرحیں بھی پڑھنے کی طرف مائل کیا۔ غلام رسول مہر کی شرحِ کلامِ غالب ’’نوائے سروش‘‘ بھی میرے ذاتی کتب خانے کی زینت بن گئی۔
    میں نے یہ کہانی اس لیے سنائی ہے کہ کافی عرصے سے میں تقدیسی ادب کے طالب علمانہ مطالعے میں مصروف ہونے کے باعث
    عام ادب General Literature) ( سے کٹ سا گیا ہوں۔آج میں نے مکرمی ڈاکٹر اشفاق انجم کے اصرار پر ان کے مرتب کردہ دیوانِ غالب پر کچھ لکھنے کا ڈول ڈالا ہے۔ اس لیے میری تحریر محض خانہ پُری ہی سمجھی جائے!
    غالب کا کلام ’’دیوان‘‘ کے نام سے متعدد بار مختلف مرتبین کی کاوشوں سے منصہء شہود پر آیا۔ لیکن سچی بات ہے کہ اس میں نہ تو اردو کے تمام حروفِ تہجی کا اہتمام تھا اور نہ ہی ردیف وار ترتیب تھی۔ ظاہر ہے ان دواوین میں قطعات ، رباعیات، مثنویات اور قصائد بھی تھے۔ اس لوازمے کی موجودگی کی وجہ سے وہ کتابیں دواوین کے ذیل میں نہیں آتیں ، انھیں کلیات کا نام دینا چاہیے تھا۔
    ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب نے ،غالب کے دیوان کو اردو کے حروفِ تہجی کے لحاظ سے ترتیب دیا ہے اور جو حروف خود غالب نے یا دواوین کے مرتبین نے نظر انداز کردیے تھے انھیں بھی کسی نہ کسی طرح مکمل کردیا ہے۔ انھوں نے اپنی اس کاوش کی ان الفاظ میں تشریح کی ہے:
    ’’دیوان‘‘ اس شعری مجموعے کو کہتے ہیں جس میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے ردیف وار غزلیں شامل ہوں یعنی ’’الف‘‘ سے ’’یای‘‘ تک!! اس میں بعض شعرأ نے صرف عربی حروفِ تہجی کو پیش نظر رکھا تو بعض نے فارسی کو اور بعض نے کچھ ہندی حروف بھی شامل کر لئے، اِس اعتبار سے دیکھیں تو اکثر متداول دواوینِ غالبؔ میں،
    ’’ پ ، ث ، ح ، خ ، ذ ، ص ، ض ، ط ، ظ ، غ ، ق ‘‘
    حروف کی ردیفوں میں غزلیں نہیں ملتیں جب کہ بعض نسخوں میں ’’ث، ح، غ‘‘ کی غزلیں موجود ہیں ساتھ ہی ’’ط‘‘ کا صرف ایک شعر دستیاب ہے لیکن نہ جانے کیوں اُسے مرتبین نے نظر انداز کر دیا۔ ڈاکٹر اشفاق انجم نے لکھا:
    [دیوان کو حروف تہجی کے لحاظ سے ]مکمل کرنے کی غرض سے۔۔۔۔’’خ ۔ ذ ۔ ص ۔ ض ۔ ظ ۔ ق ‘‘
    ردیفوں میں مرزا کی فارسی غزلوں سے اشعار مستعار لے کر ’’دیوان‘‘ مکمل کر دیا ہے، مستعار یوں کہ اگر کبھی اُردو غزلیں دستیاب ہو گئیں تو اُنھیں واپس کر دیا جائے گا!!‘‘
    اس طرح موصوف نے دیوان کی معنوی شرط پوری کردی ہے۔
    ڈاکٹر صاحب نے دوسرے مطبوعہ دواوین کا بہ نظرِ غائر مطالہ کرکے ان میں در آنے والی کتابت کی یا متنی اغلاط کی نشاندہی بی کردی ہے اورجو لفظ ان کی دانست میں ضروری تھا اس کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے۔
    میں نے صرف ایک غزل کے متن کی موجود گی جاننے کےلیے کچھ نسخے دیکھے۔ غزل ہے:
    ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
    یہ غزل نسخہء طاہر میں صفحہ ۶۱ پر ،غلام رسول مہر کی شرح، نوائے سروش کے ضمیمہء اوَّل میں صفحہ ۸۸۶ پر ہے اور دیوانِ غالب کامل مرتبہ کالی داس گپتا رضا کے صفحہ ۴۱۷ پر ہے۔
    ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب نے مذکورہ تینوں نسخوں میں شامل مشترک، درجِ ذیل تین اشعارحذف کردیئے:
    ہوں درد مند جبر ہو یا اختیار ہو
    گہہ نالہء کشیدہ کہہ اشکِ چکیدہ ہوں
    جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
    از بسکہ تلخیِ غمِ ہجراں چشیدہ ہوں
    ہوں خاکسار پر نہ کسی سے ہے مجھکو لاگ
    نے دانۂ فتادہ ہوں نے دامِ چیدہ ہوں
    یہ اشعار حذف کرکے کالی داس گپتا رضا کے نسخے سے تین اشعار(خورشید دیدہ ہوں، نا آفریدہ ہوں اور بختِ رمیدہ ہوں) ایزاد فرمالیے اوراسی نسخے کے صفحہ ۱۸۵ پر اسی قافئیے اور ردیف کی دوغزلوں کے بقیہ اشعار نظر انداز کردیئے۔ان غزلوں کے مطلعے درجِ ذیل ہیں:


    خوں در جگر نہفتہ ، بہ زردی رمیدہ ہوں
    خود آشیانِ طائرِ رنگِ پریدہ ہوں
    اور
    سودائے عشق سے دمِ سردِ کشیدہ ہوں
    شامِ خیالِ زلف سے صبحِ دمیدہ ہوں
    اس میں کیا مصلحت ہے اس کو خود ڈاکٹر صاحب ہی جان سکتے ہیں۔
    ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب نے جن نسخہ ہائے دواوین سے استفادہ کیا ان کی تفصیل انھوں نے اس طرح درج کی ہے:
    ’’اِس کام کے لئے درج ذیل نسخوں اور شروحات کا انتخاب کیا جنھیں ماہرینِ غالبیات معتبر و مستند جانتے ہیں،
    ۱ – دیوانِ غالبؔ (صدی ایڈیشن) شیام کشن نگم (ممبئی) ۱۹۶۹ء
    ۲ – نسخۂ حمیدیہ، مؤلفہ مفتی محمد انوارالحق، مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال ۱۹۸۲ء
    ۳ – دیوانِ غالبؔ (کامل) کالی داس گپتا رضاؔ، ساکار پبلشرز پرائیویٹ لمیٹیڈ
    (ممبئی) ۱۹۸۸ء
    گپتا صاحب کا یہ دیوان، نسخۂ حمیدیہ، نسخۂ بھوپال، نسخۂ رام پور، نسخۂ بدایونی، نسخۂ لاہور، نسخۂ شیرانی، نسخۂ دیسنہ، نسخۂ کریم الدین (کراچی)، عمدۂ منتخبہ، عیارالشعرأ، گلِ رعنا، نسخۂ عرشی اور نسخۂ مالک رام کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔
    ۴ – دیوانِ غالبؔ(اردو+ ہندی) مرتبہ علی سردار جعفری، اردو اکیڈمی، دہلی ۲۰۰۱ء
    ۵ – دیوانِ غالبؔ، غالبؔ انسٹی ٹیوٹ (دہلی) سیّد مظفر حسین برنی۔ ۲۰۰۳ء
    ۶ – دیوانِ غالبؔ۔ ثنا پبلی کیشنز، کراچی (پاکستان) ۲۰۰۹ء
    ۷ – دیوانِ غالبؔ مع شرح۔ مولانا غلام رسول مہر، فرید بکڈپو، دہلی۔ ۲۰۱۱ء
    ۸ – بیانِ غالبؔ، شرح دیوانِ غالبؔ، آغا محمد باقر، کتابی دنیا، دہلی
    (مقدمے میں انھیں، نگم، حمیدیہ، گپتا، سردار، برنی، ثنا، مہر اور باقر سے ظاہر کیا گیا ہے۔)
    ان نسخوں کے تقابلی موازنے سے مجھ پر ایسے ایسے انکشافات ہوئے کہ طبیعت باغ باغ ہو گئی۔
    اوّل، تو یہ کہ بیشتر مرتبین و مؤلفینِ دیوانِ غالبؔ نے مکھی پر مکھی مارنے کا کام کیا ہے یعنی ایک مطبوعہ دیوان سامنے رکھ لیا اور اسے بعینہٖ نقل کر دیا۔
    دوّم، یہ کہ بعض نے ماقبل نسخے میں ’’اپنی دانست‘‘ میں کوئی خامی دیکھی تو اس کی ’’اصلاح‘‘ کر دی جسے بعد کے نقل کرنےو الوں نے برقرار رکھا۔
    سوّم، کسی نے بھی اشعار میں لفظ کی تبدیلی، اِملے کی صحت حتیٰ کہ کتابت کی خامیوں پر بھی توجہ نہیں دی اور ویسے ہی نقل کر دیا مثلاً، دیوانِ غالبؔ (کامل) مرتبہ کالی داس گپتا رضاؔ میں جہاں جہاں شعر میں لفظ ’’خورشید‘‘ آیا ہے، اُسے کاتب نے ’’خرشید‘‘ لکھا ہے اور غالباً اُسی کی نقل میں غالبؔ انسٹی ٹیوٹ کے نسخے میں بھی ’’خرشید‘‘ موجود ہے۔ (دیکھئے ص ۲۴۰)
    تبدیلیوں اور بے توجہی کے مراحل سے گزرنے کےبعد دیوانِ غالبؔ کے ان نسخوں میں در آنے والے متنی اختلافات کے درمیان یہ جاننا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ،
    ’’خود غالبؔ نے کیا کہا تھا!؟ غالبؔ کی تحریریں محفوظ بھی ہیں یا نہیں! یا پھر کس حد تک!!‘‘
    راقم الحروف نے متذکرہ بالا نسخوں میں جو متنی اختلافات پائے ہیں، اُن کی تعداد ایکسو پینتیس (۱۳۵) ہے۔ اگر کچھ اور نسخے دیکھے ہوتے تو اِس تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔
    بہرحال اِن متنی اختلافات کے تجزیئے سے راقم کو جو متن صحیح معلوم ہوا اُسے توجیہہ و تشریح کے ساتھ ’’دیوانِ غالبؔ (مکمل)‘‘ میں شامل کر لیا ہے۔
    اِس دیوان کی تالیف کا مقصد بھی یہی ہے کہ
    ’’دیوانِ غالبؔ کا کم از کم ایک نسخہ تو ایسا ہو جسے متن کے اعتبار سے معتبر کہا جا سکے۔‘‘
    اس طویل اقتباس کے لیے معذرت۔لیکن بات بنانے کے لیے یہ معلومات فراہم کرنا ناگزیر تھا۔
    ڈاکٹراشفاق انجم صاحب نے متداول دواوینِ غالب میں جن ۱۳۵ متنی اختلافات کی نشاندہی کی ہے وہ کسی سرسری مطالعے سے ہرگز نہیں ہوسکتی تھی۔ انھوں نے بڑی عرق ریزی اور باریک بینی سے یعنی meticulously یہ کام انجام دیا ہے۔پھر اس نسخے کی امتیازی جہت ظاہر کرنے کے لیے لکھا:
    ’’پ‘‘ ردیف کا ایک بھی شعر کسی بھی متداول نسخے میں موجود نہیں ہے۔ ناچیز کو ایک مطلع دستیاب ہوا، جسے شامل کر لیا ہے، یہ بھی اس نسخے کا امتیاز ہے‘‘۔
    ڈاکٹر اشفاق انجم نے غالب کے اشعار میں آنے والے بعض ادق الفاظ کے معانی بھی درج کردیے ہیں،غالب کی غزلوں کی عروضی بحریں بھی درج کردی ہیں، نیز املا بھی درست کردیا ہے۔اس نسخے کی مابہ الامتیاز نوعیت ڈاکٹر صاحب کے ایسے ہی اقدامات سے ظاہر ہے۔
    پیشِ نظر نسخے میں جو فارسی کلام شامل کیاگیا ہے، اس میں ایک غزل حرف ’’ص‘‘ والی ہے۔اردو دیوان میں فارسی کا جوڑ صرف دیوان کے حروفِ تہجی کی تکمیل کی غرض سے لگایا گیا ہے۔ اس موقع پر مجھے یاد آیا کہ
    افتخار احمد عدنی نے فارسی اشعار کا منظوم ترجمہ کیا تھا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ وہ ترجمہ یہاں نقل کردوں جو اصل فارسی غزل کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔ اس کی شمولیت سے غالب کے فارسی متن کا اردو پیکر بھی شاید اس نسخے کے معنوی حسن میں اضافے کا باعث ہوسکے:
    کر عکسِ پل کی طرح سے سیلِ بلا پہ رقص
    اپنی جگہ پہ رہ کے کسی اور جا پہ رقص
    کیا خواہشِ وفا کہ غنیمت ہے ایک پل
    کر التفات شاہدِ شیریں ادا پہ رقص
    ذوقِ سفر میں ہم ہوئے منزل سے بے نیاز
    رفتار چھوڑ، کرتے ہیں بانگِ درا پہ رقص
    سر سبز تھے تو سیرِ چمن میں رہے مدام
    اب شعلہ کررہا ہے ہماری فنا پہ رقص
    حاصل نوائے چغد سے ہولذَّتِ سماع
    کر انبساطِ جنبشِ بالِ ہُما پہ رقص
    ملتی ہے جن کو راحتِ بے پایاں عشق میں
    کرتے ہیں خاک ہو کے وہ دوشِ صبا پہ رقص
    فرسودہ رسم چھوڑ کے کرتے ہیں اہلِ دل
    عیش و طرب پہ نوحہ تو آہ و بکا پہ رقص
    زہد و نفاق دونوں انا کے اسیر ہیں
    کر بندِ نفس توڑ کے دل کی صدا پہ رقص
    جلنے سے کوئی رنج، نہ کھلنے سے کچھ خوشی
    صرصر پہ وجد کیجیے ، بادِ صبا پہ رقص
    وابستہ ہے کسی سے تو غالب نشاط میں
    کر ناز اپنی ذات پہ‘ بندِ بلا پہ رقص


    اسی طرح افتخار احمد عدنی نے ’’ض‘‘ کے بھی دو اشعار کا ترجمہ کیا ہے:
    تسبیح کے شمار سے خوش ہوں کہ آخرش
    پایا ہے میں نے اک کفِ پیالہ ستاں عوض
    غالب ہر اک وفا کے صلے میں جفا نئی
    دیتا ہے کس کمال سے وہ مہرباں عوض
    ’’ق‘‘ کی ردیف والی فارسی غزل کے بھی تین اشعار مع ترجمہ حاضر ہیں:
    غلط کند رہ و آید بہ کُلبہ ام ناگاہ
    صنم فریب بود شیوۂ ہدایتِ شوق
    وہ راہ بھول کے ناگاہ میرے گھر آیا
    صنم فریب ہے کیا شیوہء ہدایتِ شوق
    متاعِ کاسدِ اہل ہوس بہم بر زن
    کنوں کہ خود شدہء شحنہء ولایتِ شوق
    متاعِ کا سدِ اہلِ ہوس کو برہم کر
    ہوا ہے خود ہی جو تو شحنہء ولایتِ شوق
    بخود مناز و بہ آموزگار ہم بپذیر
    من و نہایتِ عشق و تو و ہدایتِ شوق
    نہ بے نیاز ہو، ہم جیسے پختہ کاروں سے
    کہ ابتدا ہے تری اور یہاں نہایتِ شوق
    (غالب کی فارسی غزلوں سے انتخاب اردو اور انگریزی ترجموں کے ساتھ۔ [اردو، افتخار احمد عدنی]، [انگریزی، رالف رسل]پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی، بہ تعاون انجمن ترقی اردو، پاکستان،۱۹۹۹ ء )
    غالب کے کلام کی مقبولیت اور اس پر ہونے والےمسلسل تحقیقی و تنقیدی کام کو دیکھ کر غالب کی پیشین گوئی یاد آتی ہے۔غالب نے بہت دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا:
    کوکبم را در عدم اوج قبولی بودہ است
    شہرت شعرم بہ گیتی بعد من خواہد شدن
    (میرے ستارہء بخت کو عدم میں اوجِ قبول حاصل تھا۔ میری شاعری کی شہرت بھی اس دنیا میں میرے دنیا سے گزرجانے کے بعد ہی ہوگی)۔
    غالب کی صد سالہ تقریبات میں ایک صاحب نے باقاعدہ علم نجوم کی اصطلاحات کی روشنی میں ستاروں کی چال دکھانے کے لیے ایک زائچہ بناکر، اس شعر کی تشریح کی تھی۔ان کی پیش کردہ تفصیلات سے غالب کی علم نجوم پر دست رس بھی ظاہر ہوتی ہے۔
    دنیا بھر میں غالب پر اب تک ہونے والے کام کی روشنی میں غالب کی پیشین گوئی کے پورا ہونے کی گواہی ملتی رہی ہے، اور نہ جانے کب تک اس پیشین گوئی کے اثرات ظاہر ہوتے رہیں گے؟ غالب نے خود کو شاعرِ فردا بھی کہا تھا:
    ہوں گرمیِ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
    میں عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ ہوں
    غالب کے مختلف دواوین میں متنی،ملفوظی اور املا کے اختلافات کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے لکھا: ’’ ممکنہ حد تک درست متن انتخاب کر کے شائع کیا جا رہا ہے‘‘ نیز فارسی کلام کی شمولیت کے ساتھ یہ فرمایا ’’ ۔’’خ ۔ ذ ۔ ص ۔ ض ۔ ظ ۔ ق ‘‘ ردیفوں میں مرزا کی فارسی غزلوں سے اشعار مستعار لے کر ’’دیوان‘‘ مکمل کر دیا ہے، مستعار یوں کہ اگر کبھی اُردو غزلیں دستیاب ہو گئیں تو اُنھیں واپس کر دیا جائے گا!!‘‘
    ڈاکٹراشفاق انجم کا یہ بیان ،اس بات کی شہادت ہے کہ غالب کے کلام کی اشاعت اور اس کی تفہیم کے لیے کاوشوں کا سلسلہ رُکا نہیں ہے تحقیق کی دنیا میں اس سلسلے کے جاری رہنے کے امکانات بہت ہیں۔ بقول اقبال
    گماں مبر کہ بپایاں رسید کارِ مغاں
    ہزار بادہء ناخوردہ در رکِ تاک است
    یہ گمان نہ کر کہ شراب کشید کرنے کا کام ختم ہوچکا ہے۔ [نہیں نہیں] ابھی تک انگور کی بیلوں میں ہزاروں ایسی شرابیں موجود ہیں جنھیں پیا ہی نہیں گیا ہے۔
    غالب پر تحقیقی اور تنقیدی کام ہوتا رہے گا، لیکن اب دیوانِ غالب کا یہ نسخہء اشفاقیہ ہی مستند ترین متن تسلیم کیا جائے گا۔ میں اس اہم کام کی تکمیل پر ڈاکٹر صاحب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
    ڈاکٹر عزیزاحسن
    جمعرات:۲۶محرم الحرام ۱۴۴۴ھ
    مطابق: ۲۵ اگست ۲۰۲۲ء

  • اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

    اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

    اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

    اقبال اشہر اردو کے ممتاز شاعر ہیں، آپ کی وجہ شہرت آپ کی شاہکار نظم "اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی” سے ہوئی۔ اردو کے لیے تہنیتی اشعار میں لکھی گئی یہ نظم ایک پہیلی نما ساخت کے ذریعے اردو زبان کی خوبصورتی کو بیان کرتی ہے۔ اس نظم میں اردو کے نامور شاعروں اور ان کی شراکت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے، جس میں شاعر استعاراتی حوالوں کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے ارتقاء اور اردو کی لسانی خوبصورتی کو تشکیل دینے والے اثرات کی عکاسی کی ہے۔ اور راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کی طرف سے اس نظم کا کھوار زبان میں ترجمہ ثقافتی خلاء کو پُر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے قارئین کی بڑی تعداد اردو شاعری کے ساتھ ساتھ کھوار تراجم سے بھی مستفید ہوگی۔
    اقبال اشہر کی نظم اردو زبان کے ارتقاء، اثر و رسوخ اور ثقافتی دولت کو شاعرانہ انداز میں بیان کرنے کے گرد گھومتی ہے۔ اس نظم میں مختلف ادبی عناصر اور متنوع شاعرانہ امتزاج پر زور دیا گیا ہے جس نے اردو کی شناخت کو پروان چڑھایا ہے۔ مزید برآں پہیلی کی شکل قارئین کو علامت کی تہوں میں جانے کی دعوت دیتی ہے، جس میں زبان پر بااثر شاعروں کے گہرے اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔
    اقبال اشہر نے اپنی نظم میں ایک انوکھی ساخت کا استعمال کیا ہے جو ایک پہیلی سے ملتا جلتا ہے۔ ہر شعر زبان کی ترقی کی ایک معمے کی طرح کی تصویر کشی کرتا ہے، جس میں میر تقی میر، مرزا غالب، الطاف حسین حالی اور علامہ محمد اقبال جیسے ممتاز شاعروں کے حوالے شامل کیے گئے ہیں۔ ان ادبی شخصیات کے لیے استعاروں اور اشارے کا استعمال نظم کی گہرائی اور شاعرانہ مزاج کو بڑھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ مزید برآں "پیر ناصر خسرو” کا بار بار تذکرہ زبان کے سفر کی خفیہ نوعیت پر زور دیتا ہے، جو خود شناسی اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
    نظم کا آغاز ایک دلکش پہیلی سے ہوتا ہے، جو اردو کی ترقی کو تاریخی اور ادبی شخصیات کے حوالے سے جوڑتا ہے۔ "میں ‘میر’ کا ہمراز ہوں اور ‘غالب’ کی سہیلی ہوں” ایک بہترین اور دلچسپ لہجہ ترتیب دیتا ہے، جو اردو کے بااثر شاعروں کی صحبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بعد کا ہر شعر اردو کی ترقی کے مختلف پہلوؤں کو مختلف شاعروں سے منسوب کرتے ہوئے پراسرار سفر کو جاری رکھتا ہے۔
    شاعر کی پوری نظم میں ‘پیر ناصر خسرو’ کا ذکر اپنے اندر ایک پہیلی نما دلچسپ کہانی کا کام کرتا ہے، جو قارئین کو اردو کے ارتقا کے تناظر میں اس کی اہمیت سے پردہ اٹھانے پر اکساتا ہے۔ اس پراسرار شخصیت کے نام کا بار بار استعمال تشریح کی دعوت دیتا ہے اور ممکنہ طور پر اردو زبان کے پیچیدہ جوہر کو سمجھنے کی ایک پوشیدہ کلید کی نشاندہی کرتا ہے۔
    نظم کی اختتامی سطریں، "کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
    میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
    دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
    اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی” پہلے سے سوچے گئے تصورات اور ثقافتی حدود کو سختی سے چیلنج کرتی ہیں۔ یہ سطریں زبان کی شناخت اور عصری معاشرے میں اردو کے مقام و مرتبے کے بارے میں قارئین کو غور و فکر پر اکساتی ہیں اور مذہبی یا ثقافتی تقسیم سے بالاتر ہو کر شمولیت اور تفہیم کی وکالت کرتی ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اقبال اشہر کی نظم "اردو ہے میرا نام” اردو کے حق میں ایک شاہکار اور کثیر جہتی نظم ہے جو اردو کے ارتقاء، اثرات اور ثقافتی اہمیت کو ایک پیچیدہ لیکن دلکش پہیلی نما ساخت کے ذریعے بیان کرتی ہے۔ راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کی جانب سے کھوار زبان میں اس نظم کے تراجم اردو شاعری کی رسائی کو مزید وسعت دیتے ہیں اور بین الثقافتی تعریف اور تفہیم کو فروغ دینے کے لیے ایک اچھی کوشش ہے۔ نظم میں بہترین علامت نگاری، خوبصورت ادبی آلات، اور فکر انگیز اشعار کے ذریعے نظم قارئین کو ایک دلچسپ سفر پر مدعو کرتی ہے جس میں اردو کی لازوال خوبصورتی اور سماجی مطابقت کو بیان کیا گیا ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے اقبال اشہر کی نظم اور کھوار تراجم پیش خدمت ہیں۔

    "اردو ہے میرا نام”

    اردو ہے میرا نام میں "خسرو” کی پہیلی
    میں "میر” کی ہمراز ہوں "غالب” کی سہیلی
    دکّن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
    "سودا” کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
    ہے "میر” کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
    میں "داغ” کے آنگن میں کھلی بن کے چمیلی
    اردو ہے میرا نام میں "خسرو” کی پہیلی
    "غالب” نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
    "حالی” نے مرووت کا سبق یاد دلایا
    "اقبال” نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا
    "مومن” نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی
    اردو ہے میرا نام میں "خسرو” کی پہیلی
    ہے "ذوق” کی عظمت کہ دیئے مجھ کو سہارے
    "چکبست” کی الفت نے میرے خواب سنوارے
    "فانی” نے سجائے میری پلکوں پہ ستارے
    "اکبر” نے رچائی میری بے رنگ ہتھیلی
    اردو ہے میرا نام میں "خسرو” کی پہیلی
    کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
    میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
    دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
    اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی
    اردو ہے میرا نام میں "خسرو” کی پہیلی

    "کھوار تراجم”
    اردو شیر مہ نم، اوا "خسروو” پہیلی
    اوا "میرو” ہمراز اسوم "غالبو” سہیلی
    دکّنو ولی مه تان شیکہ لوسنوک لاسئیتائے
    "سوداوو” قصیدہ مه حسنو زیادئیتائے
    اوشوئے یہ "میرو” عظمت کہ مہ کوسیک ݯیݯھئیتائے
    اوا "داغو” شرانہ بوچھوݰیتام غیری چمبیلی
    اردو شیر مہ نم، اوا "خسروو” پہیلی
    "غالب” ݱانگیو سفرو مه ݯیݯھئیتائے
    "حالی” مرووتو سبقو یادی دئیتائے
    "اقبال” حقو ہرینو مه پاشئیتائے
    "مومن” ساوزیتاۓ مه خوشپان حویلی
    اردو شیر مہ نم، اوا "خسروو” پہیلی
    شیر "ذوقو” عظمت کہ ہسے پرائے مت سہارا
    "چکبستو” الفت مه خوشپان شئیلئتائے
    "فانی” شئیلئتائے مه پھتوکن سوری استاریان
    "اکبر” رنگین اریر مہ بے رنگ پھانو
    اردو شیر مہ نم، اوا "خسروو” پہیلی
    کو مه ساوزیسیان تعصبو نشانہ
    اوا تانتے کیاوت دی بسلمان نو را اسوم
    پوشی اسیتم کیاوت اوا دی خوشانیان زمانہ
    تان بطھنہ اوا آسوم مگم ہنون غیژی
    اردو شیر مہ نم، اوا "خسروو” پہیلی

  • دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

    دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

    غالب کے بہترین اشعار

    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

    فرصت

    دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    خبر

    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی

    زندگی

    پھر اسی بے وفا پے مرتے ہیں
    پھر وہی زندگی ہماری ہے

    خبر

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
    خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    ronaq

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    ronaq

    آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    ronaq

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

  • کلام غالبؔ میں حالات حاضرہ کی عکّاسی

    کلام غالبؔ میں حالات حاضرہ کی عکّاسی

    27 دسمبر برصغیر کے بین الاقوامی طور پر مسلمہ اب تک کے سب سے بڑے اردو شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کا یوم پیدائش ہے۔ وہ تاج محل کی نگری آگرہ (حاکم وقت کی اصطلاح میں’’ اگرون‘‘)  میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد میں غریب پرور شہر دہلی میں آبسے تھے ( جو شاید جلد ہی اندرپرستھ بن جائے گا)۔ آج انکے نام سے دہلی میں غالب اکیڈمی، غالب انسٹی ٹیوٹ اور غالب فاؤنڈیشن قائم ہیں۔ پرانے فصیل بند شہر کے علاقہ بلیماران میں انکی حویلی کو بھی قومی وراثت کے طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے پھر بھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ برصغیر کی ایک اور عظیم شخصیت ڈاکٹر سر محمداقبالؔ نے اپنی ایک نظم میںغالبؔ کو خراج تحسین کرتے ہوئے اپنے دور کے تعلّق سے کہا تھاکہ انکے سارے کلام میں اس ’’سوز زندگی‘‘ کی عکاسی ہے جو اس دور میں ہر طرف نظر آتاتھا ۔ اب تو اقبالؔ کا  دور گزرے بھی ایک زمانہ بیت چکا لیکن وہ سوز زندگی جسکا غالبؔ کی دور بیں اور دور اندیش نظروں نے خوب خوب مشاہدہ کیا تھا  آج ہمارے آپ کے دور میں بھی چاروں طرف اس طرح بکھرا پڑا ہے کہ عوامی زندگی کے ہر پہلو کی موجودہ کیفیت انکے کسی نہ کسی مشہور شعر کی تشریح لگتی ہے۔غالبؔ کا انکے اشعار میں آنے والے ہر لفظ کے ’’گنجینہ معنی کا طلسم‘‘ ہونے کا دعویٰ شاعرانہ تعلّی نہیں ایک حقیقت ہے جوانکی ’’فردوس تخیل‘‘ کی خوشہ چینی کرنے والوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔ آئیے ہم بطور مشتے نمونہ از خروارے آپ کو اسکی کچھ جھلکیاں دکھاتے ہیں۔

      ۔۔۔۔۔

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

    آدمی کو بھی  میسّر نہیں انساں ہونا

                    آج عالمی سطح پرحقوق انسانی کا ہرطرف ذکرخیر ضرور ہے، نہ انکا دم بھرنے والوں کی کہیں کمی ہے نہ قسمیں کھانے والوں کی ۔اقوام متحدہ کا  1948؁ میں جاری کردہ حقوق انسانی کاعالمی منشور بدستور رونق افروز ہے جسکی سالگرہ  ہرسال اسی ماہ  دسمبر کی ۱۰ تاریخ کو شان و شوکت سے منائی جاتی ہے۔ مغرب میں حقوق انسانی کے تحفظ کی ٹھیکیداری کے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں مگر ارض فلسطین میں بدترین صہیونی بربریت سے نہ صر ف چشم پوشی بلکہ اسکی ہر طرح سے ہمت افزائی کی جاتی ہے۔ تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرنے کیلئے کبھی ایک ملک کی دہشتناک بربادی کبھی دوسرے کو تباہ کرنے کی بہ بانگ دہل دھمکیاں ۔ کہیں مذہب کے نام پر قتل و غارت کے خوفناک مناظر ہیں تو کہیں مسلک کے نام لوگ آپس ہی میں دست بہ گریباں ہیں ۔ اپنے وطن عزیز پر نظر ڈالیں تو آج ایک سو تیس کروڑ کی آبادی والے اس ملک کے طول و عرض میں بسنے والے آدمیوںکے جمّ غفیر میں سے کتنوں کو انسان ہونا میسّرہے ؟      دستور ہند کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق و فرائض کا باب بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے اورقومی و ریاستی حقوق انسانی کمیشن بھی مصروف عمل ہیں، لیکن روزانہ اخباروں کی سرخیاںاو ر ٹی وی کی نشریات کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں۔ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانا حقوق انسانی کی بدترین خلاف ورزی بھی ہے اور بھارتی قانون میں سنگین جرم بھی، پھر بھی ہمارے یہاں آشرموں میں سادھو سنت پوری انسانی دنیا کے دوسرے سب سے بڑے مذہب کی سب سے محترم شخصیت پر بے تکلف کیچڑ اچھالتے نظر آتے ہیں اور حقوق انسانی کے محافظ اور قانون کے رکھوالے دم نہ کشیدم کی کیفیت میں بیٹھے ملتے ہیں کیونکہ انکا  فرض منصبی تو بس حالات پر نظر بنائے رکھنا ہی ہے نا۔کہیں کسی عیدگاہ پر دن دہاڑے قبضے کی تیاریاں ہوتی ہیں تو کہیں سرکاری طور پر منظور شدہ کھلے میدان میں چند منٹوں کی ہفتہ وار عبادت پر طوفان بے تمیزی ہوتا نظر آتا ہے۔ کہیں محافظین گا ؤ  کے غیض و غضب کا شکار ہوئے بے قصوروں کے اہل خانہ آہ و بکا کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں ’’چہرہ فروغ مے سے گلستاں کئے ہوئے‘‘ موٹرگاڑیاںچلا تے سڑکوں پرخون کی ندیاں بہاتے امرائے کرام کے صاحبزدگان۔ کبھی جاڑوں کی سردراتوںمیںفٹ پاتھوں پرٹھٹھرتے ہوئے بے سہارا لوگ دکھائی دیتے ہیں تو کبھی گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں چوراہوں پر کاسہ گدائی لئے ہاتھ پھیلاتے بچے۔ کیا اسی سب کو آدمی کو انسان ہونا میسّرہونے کی شہادت  مانا جائے گا؟

      ۔۔۔۔۔

     ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

    بہت نکلے  مرے ارمان لیکن  پھر بھی کم نکلے

                     غالبؔ کے اس معنی خیز شعرکی تعبیر کے نمونوں کی کیا آج معاشرے میں کوئی کمی ہے؟ حکومت کا کوئی وزیر با تدبیر ہویا عدات کا کوئی منصف اعلیٰ، کسی بڑی سے بڑی سرکاری کمیٹی کا محترم سربراہ ہو یا معزز رکن، ان قدآوران ملک و ملّت کی امیر سے امیرتر ہوجانے کی خواہش پوری ہو بھی جائے تو اس سے کیا ہوتا ہے، ارمان پھر بھی کم نکلنے کا احساس تو انھیں رہتا ہی ہے اور مزید ہری بھری چراگاہوں پر نظر بھی رہتی ہے۔ نتیجتاً بدترین بدعنوانیوں کی کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی ہے، نہ وزارتوں میں نہ عدالتوں میںنہ بین الاقوامی کھیلوں کی انعقاد کمیٹیوں میں، نہ دیگر سرکاری تنظیموں میں اور نہ بڑے بڑے سرکاری و نیم سرکاری تجارتی اداروں میں ۔ سرکاری عہدوں کے مشاہرے آج اگر آسمان سے

     باتیں کر بھی رہے ہیں تو کیا، اس سے ان معزز عہدے داران کے سارے ارمان تھوڑی پورے ہوجائیں گے۔ تو پھر ان حالات میں عوام کی خون پسینے کی کمائی پر لگائے جانے والے سرکاری ٹیکسوں سے حاصل دولت میں سے حسب توفیق حصہ نکال کر اپنے بچے کھچے ارمان پورے کرنے کے علاوہ ان بچاروںکے پاس اور چارہ بھی کیا ہے۔

      ۔۔۔۔۔

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

     ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

                    غالبؔ کا  یہ شعر پڑھ کے تو ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے ملک میں آئندہ آنے والے نظام حکومت کے تحت بنائی جانے والی مجالس قانون ساز کے انداز کاروائی کو یقیناً ًخواب میں دیکھا تھا۔ افسوسناک حقیقت یہی ہے کہ شہریوں کیلئے قوانین وضع کرنے کی اہم دستوری ذمّہ داری کی تکمیل کی خاطر بنائے گئے سرکاری اداروں کو بچّوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے اور ان میں اکثر و بیشتر ہر طرح کے تماشے ہی ہوتے رہتے ہیں ۔ اپنی بال ہٹ منوانے کیلئے ہفتوں تک ان اداروں کی کاروائی نہ چلنے دینا، کانوں کے پردے پھاڑدینے والا شور شرابہ۔ برسر اقتدار پارٹی کی طرف سے حزب مخالف کو درکنار کرکے انکی ہربات پر ہنگامہ آرائی، بے نظیر لیاقت و شرافت اور بے مثال دیانتداری کے حامل سابق سربراہان حکومت پرہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے ذاتی حملے۔ کیا کیا تماشے نہیں ہوتے ان اہم اداروں میںجنھیں اب تو ساری دنیا ٹی وی پر دیکھتی ہے اور شائد غالبؔ خود بھی عدم آباد سے انکا مشاہدہ کرکے اپنی بھوشیہ وانی کے حرف بہ حرف صحیح نکلنے پر خوش ہوتے ہوں گے۔ غنیمت ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں ورنہ یہ کیفیت بہ چشم خود دیکھ کر اگر انھوں نے اس پر اب یہ شعری تبصرہ کیا ہوتا تو پارلیمانی مراعات شکنی کے الزام میں دھر لئے جاتے۔

      ۔۔۔۔۔

    چلتا ہوں تھوڑی دور ہر ایک راہ رو کے ساتھ

    پہچانتا  نہیں ہوں  ابھی  راہبر  کو  میں

                     فنّ سیاست کے بارے میں یوں تو نہ جانے کس کس نے کیا کیا کہا ہے لیکن اس میدان میں فی زمانہ جودائوں پیچ  چلے جاتے ہیں انھیں کو بھانپ کر حضرت غالبؔ نے شاید یہ شعر کہا تھا۔ ایک مغربی مفکر نے سیاست کو ’’ بدمعاشوں کا کھیل‘‘ قرار دیا تھا تو یہاں ہندوستان میں مرحوم حکیم عبد الحمید صاحب نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ’’آجکل سیاست ایسی شیطنت کی مظہر ہوتی جارہی ہے کہ اچھا ہوا میں اس گندگی میں نہیں پڑا‘‘۔ بہرحال اہل سیاست کے دیگر کمالات کو چھوڑئیے ہم تو صرف انکی’ کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل خار پر‘ کی ادا کی بات کر رہے ہیں۔ آج کی صاحب اقتدار جماعت کو برسوں تک کوسنے اور اسکی پالیسیوں پر گرجنے برسنے والے اصحاب اپنی پارٹی کی نیّا ڈوبتی دیکھ اسی کی آغوش شفقت میں پناہ لے کراب اسکی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ مستقبل سے پر امید کسی دیگر بڑی پارٹی نے گھاس نہیں ڈالی تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لی جائے گی۔ دل بدلی مخالف قانون بن تو گیا تھا برسوں پہلے مگر پیشہ ور ان شاطران سیاست کو گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے سے کبھی روک نہیںسکا۔ اور اب تو یہ ’’ دل بدلی‘‘ جانے کیسے کیسے بھیس بدل رہی ہے ۔کہیں ملّت کی قیادت کے دعوے دار غالبؔ کے الفاظ ’’آزاد رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل‘‘ کا کلمہ پڑھتے ہوئے  ملّت سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والوں سے خفیہ ملاقاتیں کر ر ہے ہیں، توکہیں کوئی صاحب ایمان غالبؔ ہی کے اس صائب مشورے  پر بڑی عقیدت سے عمل کررہا ہے کہ ’’زنّار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال، رہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر‘‘۔

                    قارئین کرام ! ہم  نے یہاں صرف چند مثالیں ہی پیش کی ہیں ورنہ غالب ؔکا معجزانہ کلام تو نہ جانے کتنے ایسے معنی خیز اشعار سے لبالب بھرا ہوا جنکی صداقت آج چہار سو بکھری نظرآتی ہے۔ حالات حاضرہ پر صد ق دل سے دبی زبان تبصرہ کروا لے بھی آج خود کو جتنا غیرمحفوظ محسوس کرتے ہیں اس کے پیش نظر ہم غالب ؔہی کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتے ہیں کہ:

    نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانئے

    بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن 

    ۔۔۔۔                  

    tahir mahmood

    پروفیسر سیّد طاہر محمود

    سابق چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن حکومت ہند