برآمدی آم اور عوامی چوسنیاں
آجکل آموں کا موسم ہے۔ ایک خبر کے مطابق اس سال پاکستان 1 پوانٹ 8 ملین ٹن آم برآمد کر کے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے۔ اس سے آموں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اب عام آدمی آموں کو منہ نہیں لگا سکتا۔ مسئلہ صرف آم کا نہیں۔ ہمارے ملک میں ہر میٹھی چیز "ایکسپورٹ کوالٹی” بن کر باہر چلی جاتی ہے۔ شہد گیا، کھجور گئی۔ چلو شہد اور کھجور ملاوٹ والی ہے مگر المیہ دیکھیں کہ بچوں کا دودھ بھی "پاوڈر والا” ہے۔ ایک آم بچ گیا تھا، عوام کے حصے میں "گٹھلی” آئی۔ ویسے گٹھلی کا بھی فائدہ ہے، اس سے ہم "آم کا شربت” بنا سکتے ہیں۔ بس پانی میں چینی گھولیں، گٹھلی ڈبوئیں، اور دل کو تسلی دیں کہ ہم نے "آم پی لیا ہے”۔
ہمارے حکمران بڑے ذہین اور مارکیٹنگ میں پی ایچ ڈی ہیں، وہ آم کو صرف پھل نہیں، "قومی بیانیہ” بنا سکتے ہیں۔ اخبار میں ہیڈلائن لگنے کی دیر ہے: "پاکستان نے آم سے دنیا فتح کر لی”۔ اندر کی خبر یہ ہو گی کہ فتح تو ہو گئی، بس عوام کو اس کی خوشبو سونگھنے نہیں دی گئی۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام کو کھلانا نہیں، بہلانا ہے۔ اسی لیئے بجٹ میں "آم سبسڈی” کی بجائے "آموں پر شاعری سبسڈی” آ جائے گی۔ ٹی وی پر ایک وزیر فرمائیں گے: "آم قوم کی پہچان ہے، اس کی عزت کریں”۔ دوسرا وزیر فوراً جواب دے گا: "جی بالکل، اسی لیئے ہم نے اسے دبئی بھیج دیا ہے تاکہ وہاں عزت سے رہے”۔
پنجابی کا ایک محاورہ ہے: "اک تیر تے دو شکار”۔ ہمارے حکمرانوں نے اسے "اک انمب تے دس شکار” بنا دیا ہے۔ ایک آم ایکسپورٹ کرو، ڈالر کماؤ۔ پھر اسی آم کی تصویر چھاپ کر "قومی ورثہ” کا سٹیمپ لگاؤ۔ اس پر سیمینار کرو۔ تب سیمینار کے ڈیلی الاؤنس کھاؤ۔ اور آخر میں عوام کو بتاو’: "دیکھو، ہم نے آم بچا لیا”۔
آپکو مرزا غالب والا واقعہ یاد ہو گا۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا غالب آموں کے باغ میں ٹہل رہے تھے۔ مرزا غالب آم کھانے کے بہت شوقین تھے، وہ ٹہلتے ہوئے بار بار آموں کے پیڑوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے پوچھا: "مرزا اوپر کیا دیکھتے ہو”؟ غالب نے جواب دیا: "میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آموں کے کس کس دانے پر میرا نام لکھا ہے”۔ اگلے دن بہادر شاہ ظفر نے مرزا کے گھر میٹھے آموں کی پیٹیاں بھجوا دیں۔
آج اگر بہادر شاہ ظفر مرزا غالب کو آم بھیجیں تو ڈیلیوری کے راستے میں 3 بار عملہ "کسٹم ڈیوٹی” مانگے گا۔ جب پیٹی کھلے گی تو اندر سے صرف ایک پرچی برآمد ہو گی، جس پر لکھا ہو گا: "آم آپ کے نام لکھ دیا گیا ہے وصولی اگلی نسل کرے گی”۔ اس پر مرزا غالب بیچارے فوراً شعر کہہ دیتے: "ہیں اور بھی دنیا میں آم خور بہت اچھے، کہتے ہیں کہ غالب کو کھانے کا ہنر نہیں آتا”۔ سائنس کہتی ہے کہ آم میں وٹامن اے، سی اور پوٹاشیم ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں بھی وٹامن اے یعنی "اقتدار”، وٹامن سی یعنی "کرپشن”، اور پوٹاشیم یعنی "دھمکی” وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ تو اصل غذا تو ہم پہلے ہی کھا رہے ہیں۔
اس کا حل یہ ہے کہ حکومت بیرون ملک سرکاری وفود، اشرافیہ اور فنکار بھیجے۔ واپسی پر اگر وہ آم نہ لائیں تو کم از کم "آم چوسنے کی تربیت” کی ورکشاپ کا سرٹیفکیٹ تو لے آئیں۔ پنجابی محاورہ ہے: "آپ وہاں انمب لینے گئے تھے”۔ آموں کی طرح وطن عزیز میں گندم بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے جسے پہلے برآمد کیا جاتا ہے اور پھر اسی کو مہنگے داموں واپس درآمد کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی یہ محاورہ مشہور نہیں ہوا کہ: "آموں کے آم گٹھلیوں کے دام”۔ ویسے گٹھلی کے بھی درجات ہوتے ہیں، ایکسپورٹ والی گٹھلی، چکنی، موٹی، "پریمیم کوالٹی”، اور عوام والی گٹھلی، یہ سوکھی ہونے کے باوجود ریشے دار ہوتی ہے، جسے بار بار چوسنے سے بھی دانت نہیں تھکتے۔ پھر بھی ہم عوام شکر ادا کرتے ہیں کہ چلو گٹھلی تو ملی۔ ویسے گٹھلی کا ایک فائدہ اور ہے: بچپن میں ہم اس سے "آموں کی لڑائی” کھیلتے تھے، بڑے ہو کر پتہ چلا کہ اصل لڑائی تو گٹھلی کے دام کی ہے۔
ہماری حکومت باہر سے آموں اور گندم کی واپس درآمد کی بجائے عوام کے لیئے کچھ سستی "چوسنیاں” درآمد کرے۔ اس کے بعد ہم عوام میں حکومت سرٹیفکیٹ تقسیم کر دے، جنہیں ہم دیوار پر لگا کر فخر سے پڑوسی کو دکھائیں گے: "دیکھو، حکومت نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ اب ہم بغیر آم کے بھی ان چوسنیوں سے آم کا مزہ لے سکتے ہیں”۔
دعا ہے کہ خدا، ہمارے حکمرانوں کو اتنے آم نصیب کرے کہ انکا جی بھر جائے، اور ہمیں اتنی "چوسنیاں” دے کہ ہمارا صبر نہ ٹوٹے۔ بچوں کی طرح ہماری معصوم عوام کا ایک یہی علاج بچا ہے۔ اس ملک میں انکے لیئے میٹھے نام کی کوئی شے نہیں بچی، بس ایک صبر کا پھل میٹھا ہے، جو اصل "نعمت” ہے۔












