منفرد شاعری ” کرچی کرچی”

منفرد انداز کی منفرد شاعری
” کرچی کرچی”

تبصرہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

میں اپنی تحریر کا آغاز پروفیسر عاصم بخاری کے اس خوب صورت “فرد” سے کرنا چاہتا ہوں

فرد ہیں یہ کہاں ،بخاری جی
پارہ پارہ ہے ان میں دل اپنا

مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میں نے صرف عاصم بخاری کی شاعری کو ہی نہیں بلکہ ان کی شخصیت کو بھی پڑھنے اور سمجھنے کا خوب موقع ملا ہے ۔عاصم بخاری کی اگر شخصیت سے بات کا آغاز کروں تو ایک باغ و بہار ، خوشبودار شخصیت ، بہترین و منفرد لب و لہجہ قدرت نے انہیں عطا فرمایا ہے ۔سوچتا ہوں یہ سادگی جو ان کے کلام کا خاصا ہے ان کی شخصیت سے کلام میں آئی یا کلام سے شخصیت میں سرایت کر گئی بہر کیف مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہےجیسے قدرت نے انہیں اردو اور ادب کے لیے ہی شاید بھیجا ہے
عاصم بخاری ، قاری کے نبض شناس اور خوب مزاج آشنا ہیں۔سوچتا ہوں اس ہشت پہلو شعری مجموعہ کا نفسیاتی پہلو سے جائزہ لوں ، سماجی و عمرانی پہلو قاری کو پیش کروں ، اسلو بیاتی پہلو سامنے لاؤں ، معاشرتی زاویہ اور عصری مسائل و عصری شعور کے حوالے سے اشعار پر روشنی ڈالوں۔
عاصم بخاری ہمہ جہت شاعر وادیب ہیں ۔ان کے نظم و نثر کےمتعدد مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔ایک فرد کہاں ، ایک دنیا ہیں۔ان سے مل کے علم و ادب اور تخلیق کی تحریک ملتی ہے ۔ہر صنف ِ شاعری میں طبع آزمائی کرتے ہیں لیکن ایک مدت سے مختصر نویسی ، اختصاریت اور “فرد گوئی” ان کی توجہ کی مرکز بنی ہوئی ہے۔فردیات ِ عاصم بخاری ، ریزہ ریزہ اور حال ہی میں “کرچی کرچی” کے عنوان سے مجموعہ ء فردیات منظر ِ عام پر آیا ہے ۔جب کہ “شعر لخت لخت” منتظرِ اشاعت ہے۔

منفرد شاعری ” کرچی کرچی”


اس مضمون میں مَیں ان کے مجموعہ کِرچی کِرچی” کو مختلف زاویوں سے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
عاصم بخاری کا چوں کہ بیک وقت متعدد لوگوں سے واسطہ و رابطہ رہتا ہے اس لیے مزاج شناس ہیں ۔قارئین کی توجہ اور دل چسپی کے پیش ِ نظر انہوں نے فرد گوئی کی راہ اپنائی ہے جس میں وہ بہت کامیاب ٹھہرے ہیں ۔قاری بڑی دل چسپی شوق اور بے تابی سے ان کے فردیات کا منتظر رہتا ہے ۔ان کے فردیات کے موضوعات متنوع ہوتے ہیں ۔حسب ِ حال لکھتے ہیں۔طنزو مزاح کی خفیف سی آمیزش بھی ان کے ہاں جابجا ملتی ہے۔
عاصم بخاری کے ہاں روایت سے انحراف بھی ملا ہے ۔انھوں نے صرف روایتی انداز میں محبت کو ہی موضوع نہیں بنایا بلکہ رویوں کی بات بھی کی ہے ایک شعر دیکھیۓ۔

تیر تلوار سے کہاں اس نے
مجھ کو حسن ِ سلوک سے مارا

اسی طرح عمل کی دعوت کچھ اس انداز میں دیتے ہوۓ بے عملی کی حوصلہ شکنی منفرد انداز میں کرتے ہیں۔

آپ کرتے ہیں صرف باتیں اور
صرف باتوں سے کچھ نہیں ہوتا

مذہب کا بھی گہرا مطالعہ رکھتے ہیں عصری مسائل پر بھی ان کی نظر ہے
عورت کے موضوع پر بھی ان کے ہاں اصلاح کا اپنا ایک خاص انداز ملتا ہے شعر دیکھیۓ۔

گھر میں منہ ہاتھ بھی نہیں دھوتی
شہر جاتی ہے بن سنور کے وہ

معاملات پر غور کی بات کا انداز بھی کچھ اپنا ، منفرد اور اچھوتا ہے ۔اس میں بھی اسلامی تعلیمات کی جھلک کس خوب صورتی سے دیتے ہو ۓ معاملات کا قبلہ درست کرنے کی تعلیم دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

دن ہوا تو اسی نے کم تولا
شب عبادت میں جس کی سب گزری

صلہ ء رحمی کی بات بھی ان کی بامقصد اور اصلاحی شاعری میں ہمیں جابجا ملتی ہے سادگی اور سہل ممتنع کی عمدہ مثال شعر دیکھیۓ ۔
تم سمجھتے ہو بوجھ رشتوں کو
بوجھ ہوتے نہیں ،کبھی رشتے
عاصم بخاری کی شاعری میں آج موجود ہے ۔اس کی شاعری عصری شعور کی غماز ہے۔مسائل کو اجاگر کرنے والی ہے۔چھوٹی بحر میں بڑی بات کرنا عاصم بخاری کا ہی اعزاز ہے

نہیں پیناڈال ان کو عاصم میسر
ترے شہر میں لوگ یوں جی رہے ہیں

گھر کی علامت اور تلازمے کا استعمال بھی ان کی شاعری میں ملتا ہے شعر دیکھیے

چین آرام ڈھونڈنے باہر
گھر سے نکلا ہے بور ہو کے وہ

اسی طرح گھر کی اہمیت اجاگر کرتا بحر ِ خفیف کا ایک شعر

اپنے گھر کی یہ چیز ہے بابا
ہوٹلوں میں سکون مت ڈھونڈو

عاصم بخاری کی فکر اور فن اپنے اس مجموعے میں اپنی ارتقائی پختگی پر نظر آتا ہے ان کا مطالعہ و مشاہدہ عمیق ہے ان کے موضوعات اپنے ارد گرد کے مسائل معاشرتی خرابیاں اور ناہمواریاں ہیں۔دو اشعار دیکھیۓ

اس کی اولاد مغرب میں پڑھتی رہی
جس نے مشرق کا جھنڈا اٹھاۓ رکھا

اس کو درکار تھی فقط ڈگری
اس کو تعلیم کب ضرورت تھی

معاشرے کے دہرے معیار عاصم بخاری کو چبھتے ہیں ۔ایسے بے شمار جدیدموضوعات ہیں جن پر اس مجموعہ میں شامل اشعار آپ کے ضمیر اور جھنجوڑ کے رکھ دینے کے لیے کافی ہیں۔اک ایک فرد پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔آخر میں قارئین کے ذوق کی تسکین کے سامان کے طور پر “کرچی کرچی ” سے مزید چند اشعار

پہلی باتیں کہاں رہیں اب تو
کتا کھاتا ہے ماس ،کتے کا

کھانے میں ہی” حلال”کا وہ تو
انتہائی خیال ، رکھتا ہے

صحت اچھی ہے اس لیے اس کی
حسن ظن اس میں پایا جاتا ہے

یہ ملاوٹ کہاں ، ہے چیزوں میں
” خون” میں زہر تم ملاتے ہو

ماقبہہل

مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

سفرنامہ جاپان

جمعہ نومبر 18 , 2022
میں اپنے تمام جگر فروشوں کو یادوں میں سنائے سینے سے لپیٹا کر(جاپان) لایا ہوں۔۔جیسے شاعر نے کہا” جب کبھی گردن جھکائی دیکھ لی۔
سفرنامہ جاپان