جلتا چراغ (افسانہ)
مٹھی کے اس صحرا میں صبح کا آغاز اذان یا مندروں کی گھنٹی سے نہیں، بلکہ بھیڑ بکریوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی کھنک سے ہوتا تھا۔ ریتلی زمین پر پھیلے کانٹے دار جھاڑ، دور تک پھیلا آسمان اور ہوا میں اڑتی دھول یہی اس بستی کی پہچان تھی۔
احمد اور محمد روز اسی دھول میں چلتے تھے۔
محمد نو برس کا تھا۔عمر سے کچھ زیادہ سنجیدہ اس لڑکے کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ احمد اس سے دو سال چھوٹا اس کا ننھا ذہن سوالوں سے بھرا ہوا۔ دونوں کے ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھیاں ہوتیں اور سامنے بیس پچیس بھیڑ بکریوں کا ریوڑ۔ باپ نے انھیں یہ کام سونپ رکھا تھا اور انھوں نے اسے قسمت مان لیا تھا۔
جب وہ گاؤں کے سرکاری اسکول کے سامنے سے گزرتے تو احمدکے قدم اکثر آہستہ ہو جاتے۔
اسکول کی دیواریں مٹی کی تھیں، چھت پر لکڑی کے شہتیر، اور صحن میں نیم کا ایک پرانا درخت۔ بچے بستے لٹکائے ہنستے کھیلتے اندر داخل ہوتے۔ کبھی کبھی کوئی استاذ تختی پر زور سے چاک مارتا تو آواز باہر تک آ جاتی۔
“بھیا!” احمد ایک دن آہستہ سے بولا، “یہ بچے روز یہاں کیوں آتے ہیں؟”
محمد نے لاٹھی زمین پر مارتے ہوئے کہا۔
“پڑھنے آتے ہیں۔”
“بھیا! ہم اسکول نہیں جا سکتے؟”
محمد نے جواب نہ دیا اور خاموشی سے چلتا رہا۔ وہ جانتا تو تھا مگر جاننے کی ہر بات بتائی جائے یہ ضروری بھی نہیں ہوتا کچھ بات جان کر بھی نہیں بتائی جاتی۔
اس منظر کو روز ایک اور شخص بھی دیکھتا تھا۔
اشوک مقامی اسکول کا وہ استاذ جو صبح اکثر دروازے پر کھڑا ہو جاتا۔ اس کی عمر چالیس کے قریب تھی، چہرے پر مستقل ٹھہراؤ، آنکھوں میں شفقت۔ وہ ان بچوں کو دیکھتا جو اسکول کے سامنے سے جنگل کی طرف مڑ جاتے اور اس کا دل جیسے ہر روز تھوڑا سا بیٹھ جاتا۔
وہ جانتا تھا یہ بچے کون ہیں؟
الطاف کے بیٹے۔
الطاف،ماسٹر اشوک کے گھر کے قریب ہی چند فرلانگ کی دوری پر رہتا تھا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا مگر حالات کی سختی نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کی ایک بیٹی اور دو لڑکے تھے ۔ بیٹی بھائیوں سے چھوٹی تھی جو گھر پر ہی ماں کے پاس رہتی۔ احمد اور محمد کو چھوٹی سی عمر میں ہی بھیڑ بکریوں کے ساتھ لگا دیا تھا۔
“کام سے ہی مرد بنتا ہے۔” وہ اکثر کہتا۔
اشوک کا خاندان تقسیم کے وقت ہندوستان جانے والوں میں شامل نہیں ہوا تھا۔ جب ریلیں لاشوں سے بھری جا رہی تھیں اور نفرت مذہب کی زبان بول رہی تھی تب اس کے دادا نے کہا تھا:
“ہم نے یہ ملک،یہ دھرتی نہیں چھوڑنی کیوں کہ خدا ہر جگہ ایک ہی ہے۔”
اشوک نے وہ بات دل میں بسا لی تھی۔
وہ صرف استاذ نہیں تھا بلکہ ایک رہ نما اور ہم درد انسان تھا ۔وہ علم کی اہمیت سے بہ خوبی آشنا تھا اس لیے وہ تعلیم کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس کے اسکول میں سب بچے ہندو تھے مگر اس کی نظر میں مذہب کوئی شناخت نہیں تھی۔ وہ انسانیت کو اہم سمجھتا تھا
ایک دن جب احمد اور محمد اسکول کے سامنے سے گزر رہے تھے اشوک نے پہلی بار آواز دی۔
“ارے بیٹا!ذرا رکو۔”
دونوں چونک گئے۔ کسی استاذ نے انھیں اس طرح کبھی نہیں بلایا تھا۔
“تم الطاف کے بیٹے ہو نا؟” اشوک نے پوچھا۔
محمد نے اثبات میں سر ہلایا۔
“روز یہاں سے گزرتے ہو… اسکول اچھا نہیں لگتا؟”
احمد کی آنکھوں میں چمک آ گئی تاہم وہ کچھ بول نہ سکا۔ محمد نے بس اتنا کہا۔
“ابا کہتے ہیں ہمیں بس کام کرنا ہے۔”
اشوک نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا۔
“اچھا! جاؤ۔”
وہ جانتا تھا بات بچوں سے نہیں ان کے باپ سے کرنا ہوگی۔
اسی شام اشوک،الطاف کے گھر پہنچا۔صحرا کا مخصوص مٹی کا بنا گھر، صحن میں بندھی بھیڑ بکریاں اور چولھے پر چڑھی ہوئی ہانڈی۔ الطاف نے استاذ کو دیکھ کر حیرت سے کہا۔
“آئیے ماسٹر جی! خیریت؟”
اس نے اشوک کو صحن میں بچھی چارپائی پر بٹھایا اور آنے کی وجہ دریافت کی۔
اشوک نے بہتر سمجھا کہ بات گھما پھرا کر کرنے کی بہ جائے صاف اور واضح کی جائے۔
“الطاف بھائی! آپ کے بچے روز میرے اسکول کے سامنے سے گزرتے ہیں تو دل دکھتا ہے۔ یہ وقت ان کی پڑھائی کا ہے اگر یہ بچے آج علم حاصل کر لیں گے تو کل آپ کے لیے اور علاقے کے لیے نیک نامی کا باعث بنیں گے۔”
الطاف نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
“ماسٹر جی!پیٹ کتابوں سے تو نہیں بھرتا نا۔ بچے چھوٹے ہیں کام سیکھیں گے تو آگے چل کر سنبھل جائیں گے۔”
“تعلیم بھی سنبھالنا سکھاتی ہے۔” اشوک نے نرمی سے کہا۔
“صرف نوکری کے لیے نہیں شعور کے لیے۔”
الطاف کے چہرے پر سختی آ گئی۔
“پڑھ لکھ کر کون سا یہ ڈی سی لگ جائیں گے؟”
اشوک خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا یہ جنگ ایک دن میں نہیں جیتی جاتی۔
اس رات اشوک دیر تک جاگتا رہا۔ اسے احمد کی آنکھوں میں موجود چمک اور محمد کی خاموشی رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔ اسے لگا جیسے وہ دونوں بچے نہیں سوال تھے۔ایسے سوال جو اشوک کے ساتھ ساتھ اس بستی سے پوچھے جا رہے تھے۔
کیا غربت جرم ہے؟
کیا تعلیم صرف امیروں کا حق ہے؟
اور کیا مذہب انسانیت سے بڑا ہو سکتا ہے؟
اشوک نے اگلی صبح اسکول کی گھنٹی بجائی تو اس کی آواز میں عزم شامل تھا۔
گاؤں دیہات میں باتیں دیر تک چھپی نہیں رہتیں۔
اشوک کے الطاف کے گھر آنے کی خبر بھی اگلے ہی دن چائے کے کھوکھے سے مسجد کے صحن تک پھیل چکی تھی۔
“ہندو ماسٹر مسلمان بچوں کو اسکول بلانا چاہتا ہے۔”
“اپنا دھرم بدلنے کا ارادہ تو نہیں؟”
“آج بچے کل خاندان۔”
یہ جملے آہستہ آہستہ علاقے کی ہر زبان پر پھیل رہے تھے۔
الطاف نے یہ باتیں سنی تو اس کا دل بیٹھ سا گیا۔ وہ مذہب کا کٹر تو نہیں تھا لیکن معاشرے سے کٹنے کی ہمت بھی اس میں نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا غریب آدمی کے پاس عزت کے سوا کچھ نہیں ہوتااور وہ بھی لوگ چھین لیں تو آدمی بالکل ننگا ہو جاتا ہے۔
اسی شام وہ اپنا ریوڑ واپس آنے پر احمد اور محمد کو غور سے دیکھنے لگا۔
“آج اسکول کے پاس کیا کر رہے تھے؟” اس نے پوچھا۔
محمد نے فوراً کہا۔
“کچھ نہیں ابا۔”
احمد نے نظریں جھکا لیں۔
الطاف کو پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کے بچوں کے ذہنوں میں کوئی نئے خیال جنم لے رہے ہیں۔ایسے خیال جنھیں وہ محسوس کر سکتا تھا۔اسے اندازہ ہو چلا کہ اس کے بچے ماسٹر اشوک کی باتوں پر سنجیدہ ہیں۔
دوسری طرف اشوک بھی بے چینی کے عالم میں تھا۔
اسکول میں اس کے ساتھی استاذ تھے جو اسے اس بات پر سمجھا رہے تھے۔ اشوک کوئی اسکول آئے یا نہ آئے ہمارا کام ادارے کے اندر ہے نہ کہ گھر سے بچوں کو پکڑ پکڑ کر لانا ۔اس کے علاوہ گاؤں کے پنڈت، کمیٹی کے بزرگ اور چند والدین اس سے بات کرنے آ چکے تھے۔
“ماسٹر جی!” ایک بزرگ نے کہا۔
“آپ اچھا کام کرتے ہیں مگر آپ اپنی ذمے داری پوری طرح نبھائیں جس کی آپ تنخواہ لیتے ہیں۔ یہ سب باتیں فساد کو جنم دیتی ہیں۔”
اشوک نے نرمی سے جواب دیا۔
“میں صرف بچوں کو پڑھانا چاہتا ہوں۔”
“ہر بچے کو نہیں” پنڈت نے آنکھیں تنگ کرتے ہوئے کہا۔
“ہر جگہ کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔”
اشوک خاموش رہالیکن اس کی خاموشی کم زوری نہیں تھی۔
وہ جانتا تھااگر وہ پیچھے ہٹ گیا تو صرف احمد اور محمد نہیں ہاریں گے سوچ اور انسانیت سب کچھ ہار جائے گا۔
اگلے دن اس نے اسکول میں ایک نیا طریقہ اپنایا۔
وہ بچوں کو صرف سبق نہیں پڑھاتا تھا بلکہ سوال کرنے کی عادت ڈالتا تھا۔
“اگر تمھارے پاس دو راستے ہوں۔ایک آسان اور دوسرا کٹھن تو کون سا چنو گے؟”
بچوں نے مختلف جواب دیے۔
کسی نے کہا آسان کسی نے کہاکٹھن ۔
اشوک مسکرایا۔
“زندگی میں اکثر درست راستا مشکل ہوتا ہے مگر وہی ہمیں انسان بناتا ہے۔”
اسی وقت احمد اور محمد اسکول کے باہر سے گزر رہے تھے۔
احمد رک گیا۔
“بھیا!” اس نے محمد کا ہاتھ کھینچا “سنو وہ کیا کِہ رہے ہیں۔”
محمد نے اردگرد دیکھا پھر آہستہ سے کہا۔
“جلدی چل۔ ابا دیکھ لے گا۔”
الفاظ احمد کے دل میں اتر چکے تھے۔
اسی رات احمد نے باپ سے پہلی بار سوال کیا۔
“ابا!ہم اسکول کیوں نہیں جاتے؟”
چولھے میں آگ جل رہی تھی۔ محمد کی ماں روٹی بنا رہی تھی۔الطاف رات کا کھانا کھا رہا تھا۔اس نے لقمہ منھ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا۔
“اس لیے کہ تمھیں کام کرنا ہے۔”
“پر ابا!اگر ہم پڑھ جائیں گے تو؟”
احمد کی اس بات پر الطاف چونک گیا۔
“کس نے سکھایا یہ سبق تمھیں؟”
“کسی نے نہیں” احمد نے سادگی سے کہا۔
“دل کہتا ہے۔”
دل!
یہ لفظ الطاف کو اچھا نہیں لگا۔
دل امیروں کے پاس ہوتا ہے غریبوں کے پاس ذمہ داریاں ہوتی ہیں ذمہ داریاں۔
اگلے چند مہینوں میں اشوک کی کوششیں جاری رہیں۔ وہ کبھی الطاف کے پاس بیٹھ کر مثالیں دیتا۔ اسے اپنے خاندان کی کہانیاں سناتا کہ کیسے اس کے باپ دادا نے نفرت کے طوفان میں بھی انسانیت نہیں چھوڑی۔انھوں نے اس مٹی کی محبت میں مرنا قبول کیا لیکن یہاں سے جانا گوارا نہ کیا۔ اس مٹی کا قرض چکانا ہم پر فرض ہے۔ یوں بھی ایک استاذ تو علم بانٹتا ہے وہ قوم قبیلے اور مذاہب سے بالا تر ہوتا ہے۔
“میں مسلمان نہیں ہوں۔” اشوک ایک دن بولا۔
“مگر یاد رکھو میں انسان ضرور ہوں، استاذ ضرور ہوں اور استاذ تو بچوں کو اندھیرے میں کبھی نہیں چھوڑتا۔”
الطاف نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہاں لالچ نہیں تھا، غرض نہیں تھی بس خلوص تھا، یقین تھا اور مصمم ارادہ تھا۔
ادھر گاؤں والوں کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔
کچھ لوگ الطاف کو طعنے دینے لگے۔
“ماسٹر جی کے پیچھے لگ گئے ہو؟”
کچھ نے اسے ڈرایا۔
“کل کو بچے ہاتھ سے نکل گئے تو مت کہنا بتایا نہیں تھا۔”
الطاف راتوں کو کروٹیں بدلتا۔
ایک طرف غربت اور دوسری طرف بچوں کا مستقبل۔
اب وہ جب بھی احمد اور محمد کو ریوڑ کے ساتھ دیکھتا تو اسے لگتا یہ بچے واقعی بچے ہیں مزدور نہیں۔وہ ماسٹر اشوک کی باتوں پر غور کرنے لگا۔
اس دن طویل عرصے کے بعد صحرا میں بارش آ گئی۔
تیزاور موسلا دھار بارش۔ اس سے ہر طرف کیچڑ بن گیا۔
احمد جو بکریوں کو ہانک رہا تھا اچانک پھسل کر گر پڑا۔ اس کے گھٹنے سے خون بہنے لگا۔ محمد نے ریوڑ سنبھالا۔ احمد شدید درد اور بے بسی کے عالم میں روتا رہا۔
اشوک نے یہ منظر اسکول کی کھڑکی سے دیکھا۔
وہ دوڑتا ہوا باہر آیا۔احمد کو اٹھایا اور اسکول کے اندر لے آیا۔ زخم صاف کیااور کپڑے کے ایک ٹکڑے سے پٹی باندھی۔
“درد ہو رہا ہے؟” اس نے پوچھا۔
احمد نے سر ہلایا۔ وہ ڈر بھی رہا تھا کہ اسکول کے اندر جانے پر اس کےابا ناراض ہوں گے۔
اشوک نے آہستہ سے کہا۔
گھبراؤ مت۔ تمھارے ابّا کچھ نہیں کہیں گے۔
“ہاں اگر تم اسکول میں ہوتے تو یہ زخم نہ ہوتا۔”
یہ جملہ احمد کے دل میں بیٹھ گیا۔
اس شام اشوک خود احمد کو اس کے گھر چھوڑنے آیا۔
“بس بہت ہو گیا” الطاف نے تلخی سے کہا۔
“آپ ہمارے بچوں کو ہمارے خلاف کر رہے ہیں۔”
اشوک نے پہلی بار آواز اونچی کی
“نہیں الطاف بھائی میں انھیں ان کے حق کے قریب لا رہا ہوں۔”
لمبی خاموشی چھا گئی۔
آخرکار الطاف بولا۔
“اگر… اگر میں مان بھی جاؤں تو خرچ؟ کتابیں؟ وردی؟”
اشوک نے ایک لمحہ بھی نہیں سوچا۔
“میں اٹھاؤں گا۔”
“کیوں؟” الطاف کی آواز کانپ گئی۔
اشوک نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“کیوں کہ کوئی نہ کوئی تو چراغ جلائے گا۔”
اس رات الطاف نے فیصلہ نہیں کیا ہاں مگر اس کی ضد ٹوٹ چکی تھی۔
بس ایک دھکا باقی تھا۔
اور وہ دھکا قسمت دینے والی تھی۔بارش کے بعد مِٹھی کی زمین سے مٹی کی سوندھی خوشبو اٹھتی تھی۔ اس خوش بو میں بھی الطاف کے دل میں عجیب سی گھٹن بسی ہوئی تھی۔ احمد کا زخم بھر چکا تھا۔ اب بھی اس کی آنکھوں میں وہ سوال تازہ تھا۔ایسا سوال جو صرف درد سے نہیں امکان سے جنم لیتا ہے۔
الطاف نے کئی راتیں جاگ کر گزاریں۔
اسے اپنا بچپن یاد آیا۔ اسے یاد آیا کہ وہ بھی کبھی اسکول جانا چاہتا تھا۔ اس کے باپ نے کہا تھا:
“کتابیں پیٹ نہیں بھرتیں۔”
یہی جملہ اب اس کے منھ سے نکلتا تھااور اب وہی جملہ اسے کاٹ رہا تھا۔
ایک صبح جب احمد اور محمد ریوڑ لے جانے کے لیے نکلنے لگے تو الطاف نے انھیں روک لیا۔
“آج مت جاؤ۔”
دونوں چونک گئے۔
“ابا؟” محمد نے احتیاط سے کہا۔
“آج میرے ساتھ شہر چلو۔”
وہ تینوں خاموشی سے چل پڑے۔ گاؤں کی گلیاں، بازار کی رونق اور پھر وہی سرکاری اسکول جس کے سامنے سے بچے گزرتے تھے لیکن اندر کبھی نہیں گئے تھے۔
اشوک صحن میں کرسی لگائے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ اس نے الطاف کو دیکھا اٹھ کھڑا ہوا۔
الطاف نے نظریں چرائیں پھر دھیرے سے کہا۔ماسٹر جی!
“اگر دیر نہ ہوئی ہو… توداخلہ ہو سکتا ہے؟”
اشوک کی آنکھیں نم ہو گئیں باوجود اس کے اس نے خود کو سنبھالا۔
“کبھی دیر نہیں ہوتی” اس نے کہا۔
اسی دن احمد اور محمد کا نام رجسٹر میں لکھا گیا۔
دو نام مگر اشوک کے لیے دو عہد۔
اسکول کے بچوں نے انھیں حیرت سے دیکھا۔ کوئی ہنسا نہیں اجنبیت ہوا میں معلق تھی۔ احمد نے بستا مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا محمد نے نظریں زمین پر گاڑ رکھی تھیں۔
پہلا سبق خاموشی کا تھا۔
اشوک نے تختہ سیاہ پر لکھا: علم
پھر پوچھا۔
“اس کا مطلب کیا ہے؟”
کسی نے کہا “پڑھائی۔”
کسی نے کہا “نوکری۔”
اشوک نے احمد کی طرف دیکھا۔
“تم بتاؤ۔”
احمد یک دم سوال پر گھبرا کر بولا۔
“علم وہ چیز ہے جو ہمیں سوال کرنا سکھاتی ہے۔”
جماعت میں خاموشی چھا گئی۔
اشوک مسکرایا اور احمد کے جواب کو سراہا۔
اسکول کے باہر حالات بدل رہے تھے۔
گاؤں میں سرگوشیاں اب کھلی باتوں میں بدلنے لگی تھیں۔ مسجد کے صحن میں بھی اور مندر کے باہر بھی یہ سوال اٹھنے لگا کہ ایک ہندو استاذ مسلمان بچوں کو کیوں پڑھا رہا ہے۔
ایک دن اسکول کی دیوار پر کوئلے سے لکھ دیا گیا:
“حد میں رہو”
اشوک نے وہ الفاظ مٹائے نہیں۔
اس نے حسبِ معمول طلبہ کو پڑھایا۔ اس کے لیے جیسے وہ دیوار موجود ہی نہ ہو۔
الطاف پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔ کچھ رشتہ دار آ کر سمجھانے لگے۔
“ہمیں اپنی پہچان بچانی ہے۔”
الطاف نے پہلی بار جواب دیا،
“پہچان جہالت سے نہیں بچتی۔”
یہ جملہ کِہ کر وہ خود چونک گیا۔
احمد اور محمد کو اسکول میں وقت لگا گھلنے ملنے میں۔ کچھ بچے بات کرتے، کچھ فاصلے پر رہتے۔ مگر اشوک انھیں برابر بٹھاتا، برابر سوال پوچھتا، برابر سزا دیتا۔برابری اس کا خاموش اعلان تھا۔
ایک دن محمد نے اشوک سے پوچھا۔
“ماسٹر جی! اگر ہم سب برابر ہیں تو لوگ الگ کیوں کرتے ہیں؟”
اشوک نے گہری سانس لی۔
“کیوں کہ سب کو روشنی اچھی نہیں لگتی۔ کچھ لوگ اندھیرے کے عادی ہو جاتے ہیں۔”
اسی دوران میں اشوک نے واقعی قربانی دینا شروع کی۔
اس کی تنخواہ کم تھی۔ وہ اپنے خرچ کاٹ کر بچوں کی کتابیں لیتا، کبھی اپنے کپڑوں کی جگہ احمد کے جوتے خریدتا۔ اس نے کسی کو بتایا نہیں مگر اسکول کی دیواریں سب جانتی تھیں۔
ایک دن اسکول کمیٹی نے اسے بلا بھیجا۔
“آپ اپنی حد پار کر رہے ہیں،” صدر نے کہا۔
“یہ ادارہ مسائل میں پڑ سکتا ہے۔”
اشوک نے سیدھا جواب دیا۔
“اگر دو بچوں کو پڑھانا مسئلہ ہے تو مجھے ہر مشکل کا سامنا کرنا منظور ہے۔”
فیصلہ موخر کر دیا گیا لیکن خطرہ منڈلانے لگا۔
اسی رات اشوک نے دیا جلایا اور اپنی کاپی میں کچھ لکھا:
“اگر مجھے یہاں سے جانا پڑا تو چراغ بجھنا نہیں چاہیے۔”
اس نے فیصلہ کر لیا تھا کچھ بھی ہو بچوں کی پڑھائی نہیں رکے گی۔
احمد اور محمد اب بھیڑ بکریاں نہیں چراتے تھے۔ وہ الفاظ چراتے تھے، معنی ڈھونڈتے تھے اور پہلی بار مستقبل کو نام دے رہے تھے۔
وہ نہیں جانتے تھے چراغ کے گرد ہوا تیز ہوتی ہے۔
یہ صبا نہیں بلکہ صرصر تھی۔مٹھی میں اس سال گرمی کچھ زیادہ تھی۔
ہوا میں گرد تھی، لوگوں کی باتوں میں تلخی اور دلوں میں بے چینی۔
اسکول کی دیوار پر لکھی تحریر مٹ چکی تھی لیکن اس کے اثرات باقی تھے۔ اب باتیں چھپ کر نہیں ہوتیں۔ پنچایت، اسکول کمیٹی، مسجد اور مندر۔ہر جگہ ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا:
“اشوک کہاں تک جائے گا؟”
ایک صبح اشوک اسکول پہنچا تو دروازے پر تالا لٹک رہا تھا۔
وہ لمحہ اس کے لیے نیا نہیں تھا پھر بھی اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ کچھ دیر وہ وہیں کھڑا رہا جیسے دروازے سے نہیں اپنے یقین سے بات کر رہا ہو۔
اسی وقت احمد اور محمد بھی پہنچ گئے۔
“ماسٹر جی؟” احمد کی آواز لرز رہی تھی، “آج اسکول نہیں؟”
اشوک نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا۔
“اسکول بند نہیں ہوا بیٹا بس جگہ بدل گئی ہے۔”
اسی دن کمیٹی کا فیصلہ سنایا گیا۔
اشوک کو کہا گیا کہ وہ “امن و ہم آہنگی” کے مفاد میں اسکول چھوڑ دے۔
کوئی تحریری الزام نہیں کوئی واضح جرم نہیں۔بس یہ کہ وہ “حد سے آگے” چلا گیا تھا۔
اشوک نے احتجاج نہیں کیا۔
اس نے صرف اتنا کہا
“اگر دو بچوں کو پڑھانا حد ہے تو میں واقعی قصوروار ہوں۔”
گاؤں میں اس فیصلے پر خاموشی چھا گئی۔ کچھ لوگوں کو سکون ملا، کچھ کو شرمندگی۔ الطاف کو یہ خبر ملی تو وہ سیدھا اشوک کے گھر پہنچا۔
“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے،” اس کی آواز بھرا گئی۔
اشوک مسکرایا۔
“نہیں الطاف بھائی یہ تمھاری وجہ سے نہیں تمھاری ہمت کی وجہ سے ہوا ہے۔”
“اب بچوں کا کیا ہوگا؟” الطاف نے پوچھا۔
اشوک اندر گیا ایک پرانا سا ٹرنک کھولا اور دو بستے نکالے۔وہی جن میں احمد اور محمد کی کتابیں تھیں۔
“یہیں سے پڑھیں گے” اس نے کہا، “جب تک کوئی اور راستا نہ نکل آئے۔”
اور واقعی راستا نکل آیا۔
کچھ دن بعد ایک نوجوان سرکاری افسر مٹھی آیا۔ وہ علاقے کے تعلیمی حالات کا جائزہ لینے آیا تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ ایک استاذ کو بچوں کو پڑھانے کی سزا دی گئی ہے۔
وہ اشوک سے ملا احمد اور محمد سے بات کی اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔
چند ہفتوں بعد حکم آیا:
اسکول دوبارہ کھلے گا۔
اشوک کو بحال کیا جائے گا اور بچوں کے داخلے برقرار رہیں گے۔
سب سے اہم بات،تعلیم سب کے لیے ہوگی۔
اشوک نے یہ خبر سنی تو اس کے چہرے پر نہ خوشی تھی نہ غم بس اطمینان تھا۔
اس نے اسی شام الطاف کو بلایا۔
“میرا کام یہاں ختم ہوا ” اس نے کہا،
“اب چراغ تمھارے ہاتھ میں ہے۔”
الطاف نے کچھ کہنا چاہا تو لفظ نہ ملے۔ وہ بس اشوک کے پاؤں چھونے لگا جس پر اشوک نے فوراً روک دیا۔
“یہ علم ہے” اس نے کہا، “یہ جھکنے کے لیے نہیں اٹھنے کے لیے ہوتا ہے۔”
سال گزرتے گئے۔
احمد اور محمد اب بھیڑ بکریوں کے راستے نہیں چلتے تھے۔ وہ کتابوں کے راستے پر تھے۔کبھی کچے، کبھی پکے، مگر روشن۔
محمد استاذ بنا۔
احمد نے قانون پڑھا۔
ایک دن دونوں بھائی اسی اسکول کے سامنے کھڑے تھے۔ نیم کا بوڑھا درخت اب بھی وہیں تھا۔ بچے ہنستے ہوئے اندر جا رہے تھے۔ہندو، مسلمان سب ایک ساتھ۔
احمد نے آہستہ سے کہا۔
“بھیا! اگر اس دن ماسٹر جی نے ہمیں نہ روکا ہوتا…؟”
محمد نے مسکرا کر جواب دیا،
“تو شاید ہم آج بھی جنگل میں ہوتے۔”
وہ دونوں خاموشی سے اسکول کے صحن میں گئے۔
دروازے کے پاس ایک چھوٹا سا تختہ لگا تھا:
“یہ اسکول اس یقین پر قائم ہے
کہ علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔”
احمد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
کہیں دور، کسی اور بستی میں، شاید کوئی اور اشوک کسی اور دروازے پر کھڑا ہوگا۔
اور کسی اور بچے کے ہاتھ میں چراغ تھما رہا ہوگا۔
کیوں کہ چراغ جلانے والے کم ہوتے ہیں مگر روشنی پھیلانے والے ہمیشہ زیادہ ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |