درخشاں ستارا داؤد تابش
انٹرویو کنندہ:۔ سید حبدار قائم
حرف و صوت کی الہامی کیفیت انسان کے احساسات کو مہکاتی ہے اور اگر یہ الہام نعتیہ رنگ میں گُندھا ہوا ہو تو اس کی خوشبو پورے زمانے کو معطر کرتی ہے جس کی سب سے زیادہ پذیرائی خالقِ کائنات خود کرتا ہے نعت لکھنے والا شاعر حسانیؓ صف میں کھڑا ہو کر کرنوں کی صورت نظر آتا ہے فرشتے اس پر رشک کرتے ہیں فطرت اس کی قدم بوسی کرتی ہے اور یہی اعجازِ نعت ہے۔
محمد داؤد فتح جنگ کی سر زمین کا دمکتا ہوا ستارا ہیں جن کی کرنوں سے کئی نو آموز نعت خوان مدحِ شاہِ زمن صلى الله عليه واله وسلم سے جُڑ کر منور ہوئے
آپ فتح جنگ میں عبدالرؤف کے گھر میں پیدا ہوۓ بچپن اپنے شہر کی گلیوں میں گزرا ادبی دنیا میں داؤد تابش کے نام سے مشہور ہیں
آپ کی کتب اور اعزازت کا مختصر جائزہ قارئین کی نذر کرتے ہیں :۔
مطبوعات
متاع درد (غزل مجموعہ)
ہر بات روشنی (نعتیہ مجموعہ)
در بتول ( نعتیہ مجموعہ)
عطا کا رخ ( نعتیہ مجموعہ)
خامہ رواں ہے ( نعت و مناقب)
میرے لفظ ( ششماہی مجلہ) فتح جنگ
گوہر نایاب ( تالیف)
غیر مطبوعہ
نواح درد ( غزل مجموعہ)
اعزازات
صدر بزم فروغ نعت فتح جنگ
صدر کاروان حسان فتح جنگ
صدر ایوان مدحت فتح جنگ
سرپرست تابش نعت اکیڈمی فتح جنگ
آئیے قارئین آج نعت گو شاعر داود تابش سے سے ایک علمی مصاحبہ کرتے ہیں جن کی زندگی نعت کے ساتھ گزر رہی ہے:۔
س۔ سر بچپن کے احوال سنائیں؟ یعنی کہاں پیدا ہوۓ کہاں کب اور کتنی تعلیم حاصل کی اور پیشہ کیا ہے؟
ج۔ میری پیدائیش فتح جنگ شہر میں ہوئی ہے بچپن سے ہی نعت سے منسلک ہوں اور الحمد لله ابھی تک نعت لکھ اور پڑھ رہا ہوں ساتھ ہی نعت کی کمپوزیشن پر بھی کام کرتا ہوں اپنے شہر میں کئیی مرتبہ کل پاکستان محافل نعت کا انعقاد کرا چکا ہوں زندگی کا ایک طویل سفر سپورٹس میں بھی گزرا ہے جیسے کرکٹ فٹبال گولہ پھینکنا باڈی بلڈنگ ویٹ لفٹنگ جیسے مشاغل میرے زندگی کا حصہ ہیں پرائیمری تک بلڈنگ سکول فتح جنگ میں تعلیم حاصل کی میٹرک ہائی سکول نمبر 1 فتح جنگ سے پاس کیا بعد میں ڈگری کالج اٹک سے بی اے کی ڈگری حاصل کی ایم اے اسلامیات پارٹ ون کا امتحان دیا لیکن مکمل نہیں کر سکا
س۔ کون کون سے اصناف سخن پر کام کیا ہے ؟
ج۔ حمد نعت منقبت سلام اور غزل
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرِعام پر لانا چاہے؟
ج۔ فتح جنگ میں جب میرے استاد محترم سید سہیل بخاری صاحب نے ادبی تنظیم ارتقا کی بنیاد رکھی تو میں بطور سامع ان کی محافل میں شرکت کرتا تھا اور کبھی کبھار اشعار کہتا تھا شاہ صاحب نے کہا کہ آپ میں شعر کہنے کا ردھم موجود ہے آپ شعر کہا کریں اس طرح یہ سلسلہ شروع ہوا ساتھ ساتھ انہوں نے عروض کی تعلیم دینا شروع کر دی پھر میرے اندر یہ احساس بیدار ہوا کہ مجھے اپنا کام منظر عام پر لانا چاہیے
س۔ ادبی دنیا میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں اور کس سے اصلاح لیتے رہے ہیں؟
ج۔ ادبی دنیا میں میرے صرف ایک ہی استاد ہیں جناب سید سہیل بخاری صاحب
س۔ آپ شاعر کے ساتھ اچھے نعت خوان بھی ہیں اب زیادہ نعت پر ہی کیوں کام کرتے ہیں ؟
ج۔ چونکہ میرا ماننا ہے کہ تقریر سے زیادہ تحریر کی اہمیت ہے اس لیے نعت کہنے پر توجہ زیادہ ہے
س۔ آپ نے فتح جنگ کی کس کس ادبی تنظیم میں خدمات سر انجام دی ہیں؟
ج۔ ادبی تنظیم ارتقا، ادبی تنظیم کاروان حسان فتح جنگ
س۔ اے آئی کے اس دور میں شاعری کا مستقبل کیا ہو گا؟
ج۔ شاہ جی میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ شاعر بنتے نہیں پیدا ہوتے ہیں لیکن اے آئی کے اس دور میں سب سے زیادہ خدشہ اس بات کا ہے کہ متشاعروں کی ایک بہت بڑی کھیپ تیار ہو جاۓ گی جو اوریجنل ادب کو نقصان پہنچا سکتی ہے
س۔ موجودہ دور کی محافل سے کتنا سیکھا ہے؟
ج۔ محافل سے زیادہ خود مطالعہ کر کے سیکھنے کا موقع زیادہ میسر رہا ہے
س ۔ کمزور شعرا کی اصلاح کے لیے اکادمی کھولنے کا کبھی خیال آیا ہے یا نہیں؟
ج۔ شاہ جی ابھی تک تو خود سیکھ رہا ہوں لیکن اگر قدرت نے موقع دیا تو ضرور اس حوالے سے کوشش ہو گی
س۔ فتح جنگ میں ادب اور ادیب کی کیا پوزیشن ہے؟
ج۔ سابقہ ادوار سے کہیں بہتر ہے نوجوان اچھا شعر کہہ رہے ہیں
س۔ آپ موجودہ شاعری میں مزاحمتی شاعری کو کیسا سمجھتے ہیں ؟
ج۔ یہ اپنے اپنے مزاج کی بات ہے شاہ جی میرے نزدیک درست ہے
س۔ کیا قومی ورثہ، اکادمی ادبیات کے کام سے مطمئن ہیں؟
ج۔ اس پر کچھ کہا نہیں جا سکتا کام جب سامنے آۓ گا تو بہتر راۓ دی جا سکتی ہے
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج۔ شاہ جی لکھاری کو اپنی کتاب کی ورتھ کا زیادہ بہتر علم ہوتا ہے مضامین میں مکمل صداقت نہیں ہوتی
س۔ کیا قومی و صوبائی لیول پر کبھی پزیرائی ہوئی ہے ؟
ج۔ الحمد لله اکادمی ادبیات اسلام آباد اور بہاولپور سے میری کتاب ہر بات روشنی کو ایوارڈ مل چکا ہے
س۔ آپ اپنی زندگی پر کتاب کب لکھیں گے جس میں بچپن سے لے کر اب تک کے احوال ہوں؟
ج۔ اس کا کوئی ارادہ نہیں
س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
ج۔ ایک اچھے لکھاری کو ان تینوں مراحل سے گزرنا اشد ضروری ہے
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہر شہر میں ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی کا بھی کوئی پلیٹ فارم ہو؟
ج۔ وقت کی اہم ضرورت ہے ہر شہر میں نئیے لکھنے والوں کے لیے پلیٹ فارم ہونا چاہیے
س۔ آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں؟
ج۔ اس حوالے سے میں خاص مطمئن نہیں ہوں
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟
ج۔ عہد حاضر میں سوشل میڈیا جہاں علم و آگہی کا ایک بہترین زینہ ہے وہاں اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ اس نے نئیی نسل کو کتاب سے دور کر دیا ہے
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
ج۔ اچھی سرگرمی ہے اگر مقصد کتاب سے جوڑنا ہو
س۔ کیا کتاب میلہ فوٹو سیشن تک ہی کارآمد ہوتا ہے یا اس کے نتائج مختلف ہوتے ہیں؟
ج۔ آج کل تو جسٹ فوٹو سیشن ہی رہ گیا ہے
س ۔آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
ج۔ اس میں کوئی دوسری راۓ نہیں
س۔ کسی بھی شاعر ادیب پر ہونے والے تحقیقی کام کو کتابی صورت میں لانے کا اہتمام کالج کو یا حکومت کو کرنا چاہیے یا نہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟
ج۔ حکومت یہ ذمہ داری لے تو بہت سے ادیب جو غربت کی وجہ سے اپنا کام سامنے نہیں لا سکے ان کے لیے آسانی ہو جاۓ گی
س۔ اس دور کا ادیب اشرافیہ کے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آتا ہے بے یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے اب یہ ٹرینڈ کیسے ختم کیا جاۓ اور معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جاۓ ؟
ج۔ ادیب تو فطرتا خوددار ہوتا ہے وہ کسی کا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا کسی بھی ادیب کا یہ رویہ لائیق تحسین نہیں ہو سکتا مختلف ادبی تنظیمات پروگرام کا انعقاد کریں جس میں لکھاریوں کو ایوارڈ اور اسناد سے نوازیں نادار ادیبوں کی مالی معاونت کریں اس طرح ان کا مورال بلند ہو سکتا ہے
س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
ج۔ کوشش و خواہش ہے کہ کلیات تابش ترتیب دوں
س۔قارئین کے لیے اپنی حمد نعت منقبت اور غزل کے اشعار پیش کیجیے:۔
حمد
وہ ذات سدا مونس و غمخوار تو ہے نا
اس بندہ احقر کی طرف دار تو ہے نا
مجرم ہے مگر آدم و حوا کا پسر یہ
رحمت کا تری تھوڑا سا حقدار تو ہے نا
نصرت سے تری میرا عدو ہار چکا ہے
یہ بات الگ مانے نہیں ہار تو ہے نا
دینا کی طرف لپکا نہیں اس کے کرم سے
اتنا تو مرا دیکھیے معیار تو ہے نا
نہ قیمتی املاک نہ پوشاک مرے پاس
صد شکر کہ سر پر مرے دستار تو ہے نا
نعت
بزم امکاں میں کئیی آنکھ نے منظر دیکھے
شہر بطحا کے مگر خاک برابر دیکھے
کربلا میں جو شریعت کے محافظ آۓ
پھر فلک نے وہ زمیں پر نہ بہتر دیکھے
دھر میں اہل مودت کے دروبام یہاں
گلشن زھرا کے پھولوں سے معطر دیکھے
مثل بوصیری و سعدی نہ رضا سا دیکھا
ورنہ اس عہد میں کتنے ہی سخنور دیکھے
میں شہ کون و مکاں کا ہوں ثناگر تابش
کس کی جرات کہ مجھے احقر و کم تر دیکھے
منقبت
مری کہی تو بات پر اے واعظا خفا نہ ہو
وہ سنگ ہے وہ دل نہیں کہ جس میں کربلا نہ ہو
بہشت کے روا نہیں وہ خواب دیکھتا پھرے
وہ جس خمیر میں حسن حسین کی ولا نہ ہو
وہ جس مکاں کی چھت پہ ہے علم مرے عباسؑ کا
میں کیسے مان لوں کہ اس مکیں میں کچھ وفا نہ ہو
غزل
فضا میں خوف گھٹن خامشی زیادہ ہے
قضا و قدر کا دیکھیں کہ کیا ارادہ ہے
پڑے ہیں آبلے پاؤں میں بخت بے پروا
سفر بھی حد نظر دیکھ پا پیادہ ہے
تمہارے گھر کی طرف چھوٹی چھوٹی گلیاں ہیں
ہمارے گھر کی طرف راستہ کشادہ ہے
ملے گا جتنا بھی رنج و الم مرے ہمدم
بتاؤ کس نے کہا تھا وہ آدھا آدھا ہے
اسی لیے ہوئی دشوار معرفت صاحب
کسی پہ کوئی کسی پہ کوئی لبادہ ہے
چراغ شب کو میں تابش قمر نہیں کہتا
یہی جواب ہے میرا اگرچہ سادہ ہے
آخر میں داود تابش کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی ان کے علم، رزق، اولاد اور صحت میں برکت عطا فرمائے۔ آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |