زندگی کا آخری موڑ
نیلم کی وادی قدرت کا ایک ایسا خاموش مرقع جہاں ہر منظر ایک نظم اور ہر راستہ ایک کہانی معلوم ہوتا ہے۔ نیلم کے دور افتادہ اور خوب صورت دیہات میں جبڑ باڑیاں اپنی خوب صورتی اور محنت کش لوگوں کی وجہ سے علاقے بھر میں جانا جاتا ہے۔مشکل زندگی گزارتے یہاں کے مکین بلند ہمت اور سخت جان ہیں۔ اس گاؤں میں صبح جب دھند اترتی تو لگتا جیسے آسمان زمین کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ رہا ہو اور شام جب ڈھلتی تو ہر درخت، ہر پتھر ایک طویل سائے میں ڈھل جاتا۔
اسی گاؤں کے آخر میں پہاڑ کے دامن میں کچا سا ایک پرانا گھر تھا۔ اس گھر کے نچلے حصے میں جانوروں کے رہنے کے لیے کمرا تھا جس میں جانوروں کے لیے چارہ گھاس وغیرہ رکھنے کے علاوہ ایندھن کی لکڑیاں بھی محفوظ کی جاتی تھیں۔محبت کے گارے اور چاہت کی چھت سے بنا یہ گھر اشفاق احمد کا خواب نگر تھا۔ اس گھر میں خوشیاں اور سکون بسیرا کیے ہوئے تھے۔ اشفاق اس گھر کا ایک ذمے دار اور بہت ہی حساس فرد تھا۔
وہ بچپن سے ہی دیگر بہن بھائیوں سے مختلف مزاج کا حامل تھا۔ اس کے ہم عمر دوسرے لڑکے جہاں کھیتوں اور جنگلوں میں کھیلتے، غلیل لے کر سارا سارا دن پرندوں کی ٹوہ میں رہتے یا جنگل سے مختلف پھلوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے وہ اکثر گاؤں کی اکلوتی کچی سڑک کے کنارے کھڑا گاڑیوں کو گزرتے دیکھتا رہتا۔گاڑیاں ہی کیا ہوتیں دن بھر میں تین چار جو گاؤں کے چند لوگوں کی روزی روٹی کا سامان مہیا کرتیں۔ گاؤں والے انھی جیپوں میں سفر کرتے اور گاؤں میں میر مبشر کی واحد دکان کا راشن انھی میں لایا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیماروں کو اسپتال لے جانا ہوتا تو یہی جیپیں ایمبولینس کا کام بھی کرتی تھیں۔ اسٹریچر کی کمی گاؤں میں چاچا رشید کے ہاتھ کی بنی چارپائیاں پوری کر دیتیں۔ چاچا رشید گاؤں کا بڑھئی تھا جس کے بوڑھے ہاتھ آج بھی اپنے فن میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ اشفاق سویرے سڑک پر نظریں جمائے ان گاڑیوں کو تکتا رہتا۔ گاڑیوں کو دیکھ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں عجب سی چمک ہوتی جیسے وہ صرف گاڑی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی دنیا کو دیکھ رہا ہو۔
اس کے والد کبھی کبھار گاؤں کی وہ پرانی جیپ چلاتے تھے جو ان کے دوست ریاض حسین کی ملکیت تھی۔ 1970ء ماڈل میں سرخ رنگ کی یہ گاڑی تو گویا اشفاق احمد کی محبوبہ تھی۔ اسے لال پری کے نام سے پکارنا اسے بہت پسند تھا۔ وہ اکثر اس جیپ میں اپنے والد کے ساتھ سفر بھی کرتا۔ بچپن میں اس کا یہ سفر صرف چند میٹر کو محیط ہوتا جو اس کے گھر سے سڑک تک ہوتا۔جب وہ گاڑی میں اپنے والد کی گود میں بیٹھا ہوتا تو بہت خوش دکھائی دیتا۔ سال گزرے گئے اب اشفاق تیرہ سال کی عمر کو پہنچ چکا تھا۔ ایک دن اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنے والد سے کہا: “ابا… ! میں بھی چلاؤں؟” باپ نے بیٹے کی اس بات کو سنجیدہ نہ لیا اور ہنس کر بات ٹال دی۔ اشفاق نے محسوس تو کیا تاہم وہ چپ رہا۔ کچھ دن بعد جب وہ دوبارہ باپ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تو پھر سے کہا۔ ابا! میں چلاؤں؟
باپ نے ہنسی میں ٹال دیا مگر اشفاق مُصر تھا۔اس کے اصرار اور شوق کے آگے باپ بے بس ہو گیا اور اسے اسٹیئرنگ کے پیچھے بٹھا دیا۔اشفاق نے اسٹیرنگ یوں تھاما جیسے کسی شاعر کو پہلی بار لفظ مل جائیں اور اس کی غزل کا مطلع ہو جائے۔
اشفاق کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر آئے تو عجیب اعتماد تھا۔ جیپ ہچکولے ضرور کھاتی رہی مگر اس کے ہاتھوں میں لرزش نہ تھی۔ اس کے والد نے یہ منظر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا اس کا بیٹا گاڑی کو بہت اعتماد کے ساتھ سنبھال رہا تھا۔ پھر وقت کے ساتھ یہی ہچکولے مہارت میں بدل گئے۔
پہاڑی راستے اس کے استاد بن گئے۔ موڑ اس کے امتحان اور خطرہ اس کا ساتھی۔
جلد ہی وہ گاؤں اور اردگرد کے علاقوں میں جانا پہچانا نام بن گیا۔
“اشفاق کے ساتھ بیٹھ جاؤ محفوظ پہنچو گے…”
یہ جملہ اس کی پہچان بن گیا۔
وقت گزرا… اشفاق بچپن سے جوانی کی دھلیز میں داخل ہو گیا۔اب وہ ماہر ڈرائیور تھا اس کے والد کے دوست ریاض احمد کی گاڑی اب اشفاق کے ہاتھ میں تھی۔ وہ اس گاڑی کو خوب سنبھال کر چلاتا، گاڑی کی دیکھ بھال کرتا اور اس سے معقول کمائی کرتا۔ اس کے ذمے دارانہ مزاج سے جہاں اس کے گھر والے خوش تھے وہیں چاچا ریاض احمد بھی مطمئن تھا۔ اشفاق کے والد نے جب دیکھا کہ وہ اب اچھا کما رہا ہے تو اس نے اپنی بہن کے گھر اس کے رشتے کی بات شروع کر دی۔ اشفاق کی پھوپھی زاد بھی اسے پسند کرتی تھی یوں جلد ہی اشفاق شادی کے بندھن میں بندھ گیا۔
شادی کے ایک سال بعد ہی اس کے گھر پھول سی بیٹی کا جنم ہوا جس کا نام طیبہ منتخب ہوا۔ پھر ایک ایک کر کے چار بچے اس کی زندگی میں شامل ہوتے گئے حمزہ، علی، مریم اور سب سے چھوٹی فاطمہ۔
یہ پانچوں بچے اس کے دل کے ٹکڑے تھے۔ اشفاق یوں تو باپ ہونے کے ناتے سبھی بچوں سے پیار کرتا تھا لیکن بیٹیوں سے اس کی الفت کچھ زیادہ ہی تھی۔ وہ اکثر کہتا یہ پرایا دھن ہیں جانے ان کے نصیب کیا ہوں۔ آج باپ کے گھر پہ ہیں تو ان کی خواہشات کا احترام کرنا میری ترجیح ہے۔
بچے اسکول جانے لگے تو اشفاق احمد کی ذمے داریاں مزید بڑھتی گئیں۔
گھر کے اخراجات، بچوں کی ضروریات، بیوی کی خاموش فکریں…یہ سب اب اس کے کندھوں پر تھے۔
وہ منھ اندھیرے گھر سے نکلتا اور دن بھر گاڑی چلاتارات کو تھکا ہارا گھر لوٹتا، مگر بچوں کی ہنسی دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی۔شب و روز ایسے ہی گزر رہے تھے کہ ایک دن قسمت نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
مظفرآباد کی ایک بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کا مالک کسی شادی میں شرکت کی غرض سے اشفاق کے گاؤں جبڑ باڑیاں آیا ہوا تھا۔ اس نے اشفاق کو گاڑی چلاتے دیکھا۔پہاڑی راستے کے ایک نہایت پر خطر موڑ پر، مکمل اعتماد کے ساتھ جب اس نے اشفاق کو دیکھا تو بہت متاثر ہوا۔
وہ رک گیا۔اس نے اپنے میزبان سے استفسار کیا۔
“یہ لڑکا کون ہے؟”
میزبان نے فخریہ انداز سے جواب دیا: “اشفاق احمد۔۔۔! ہمارے گاؤں کا بہترین ڈرائیور ہے۔”
مالک نے فوراً اسے بلایا۔
“کیا تم مظفرآباد سے راولپنڈی تک گاڑی چلا سکتے ہو؟”
اشفاق نے سیدھی آنکھوں میں دیکھ کر کہا: “صاحب، راستہ مشکل ہو تو ڈرائیور بہتر ہو جاتا ہے۔” مظفرآباد سے راول پنڈی اور نئی گاڑی۔۔ اشفاق احمد مستقبل کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ ۔
یہ جواب سیدھا دل میں اتر گیا۔دو دن بعد تم مظفرآباد آکر مجھے ملو۔
دودن کئی سال کی طرح بھاری تھے۔ خدا خدا کر کے دو دن گزرے تو اشفاق نے گھر والوں سے رخصت چاہی اور پہلی ہی گاڑی سے مظفرآباد پہنچ گیا۔
کمپنی کے مالک نے اشفاق کو خوش آمدید کہا اور اس کا مکمل امتحان لیا۔ خوب جانچ پرکھ کی۔ وہ ذمے دار اور ماہر ڈرائیور ہونے کے ساتھ ساتھ دیانت دار اور شریف النفس انسان ثابت ہوا۔مالک نے اسے نئی نکور گاڑی کی چابی دی اور اپنی کمپنی میں بھرتی کر لیا۔
تیز موڑ، بھاری ٹریفک، بارش میں پھسلتی سڑکیں…
ہر جگہ اشفاق نے خود کو ثابت کیا۔
وہ نہ صرف ایک ڈرائیور تھا، بلکہ ایک فن کار تھا۔گاڑی سے اس کا پیار دیدنی تھا۔ مکمل حفاظت سے گاڑی چلاتا تو سواریاں مطمئن دکھائی دیتیں۔
مالک نے جس لمحے نئی گاڑی کی چابی اشفاق کے ہاتھ میں تھمائی تو یہی کہا:
“آج سے یہ تمھاری ذمہ داری ہے۔”
"نیکو تسی بے فکر ہو جُلو” اس نے نہایت جوشیلے انداز میں جواب دیا۔
یہ لمحہ اشفاق کے لیے خواب جیسا تھا۔
اس نے گاڑی کو ہاتھ لگایا جیسے کوئی مقدس چیز ہو۔
کچھ دن اس نے خوب محنت سے گاڑی چلائی۔ چند دن بعدجب وہ کوسٹر لے کر گاؤں پہنچا تو جیسے عید پہلے ہی آ گئی۔یہ نئی گاڑی اس کے گھر تک تو نہیں جا سکتی تھی تاہم اس نے ہم وار سڑک پر ہی گاڑی کو کھڑا کر دیا۔
بچوں نے جب اپنے باپ کے پاس خوب صورت نئی گاڑی دیکھی تو خوشی سے جھوم اٹھے۔
طیبہ نے کہا: "ابو، اب تو ہم امیر ہو گئے نا؟”
اشفاق ہنس پڑا: “نہیں بیٹا… اب ہم محنتی ہو گئے ہیں۔” اشفاق نے بچوں کو بہت لاڈ سے سمجھایا کہ یہ گاڑی اپنی نہیں۔ اس نے تیقن کے لہجے میں کہا:”اللہ ایک دن ہمیں بھی دے گا دعا کرو بس۔”
وقت گزرتا گیا… رمضان میں خوب سواریاں تھیں۔ لوگ گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
اور پھر عید قریب آ گئی۔ دیگر ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ اشفاق بھی خوب مصروف ہو گیا۔گاڑی کے پہیے رکتے کم اور چلتے زیادہ۔اشفاق محنتی اور سخت جان تو تھا ہی۔ اس نے نہایت ذمے داری سے گاڑی کو سنبھال کر چلایا۔
گھر میں امیدیں جاگ اٹھیں۔
طیبہ نے دو جوڑوں کی فرمائش کی۔ حمزہ نے فٹ بال مانگی۔ علی نے کھلونا۔ مریم نے کچھ نہ کہا مگر اس کی آنکھوں میں خواہش تھی۔ فاطمہ کو صرف باپ کی گود چاہیے تھی۔
یہ چھبیس واں روزہ تھا۔عید میں اب صرف تین دن باقی تھے۔اشفاق نے سحری کھائی اور نماز ادا کرنے کے بعد اپنی گاڑی اڈے پر لگا لی۔ اس سے پہلے ایک گاڑی تھی جس کے بعد اشفاق کا نمبر تھا۔
کوسٹر مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ اڈے والے نے آواز لگائی۔ "استادو! گڈی کڈو ٹیم ہو گیا اے۔” پہلی گاڑی نکلی تو اشفاق نے اپنی گاڑی سیدھی کر کے لگا لی۔ سواریاں ایک ایک کر کے بیٹھتی رہیں۔ اشفاق اڈے میں اپنے دوست احباب سے ہنسی مذاق میں لگا رہا۔ ارشد جو دوسری گاڑی کا ڈرائیور تھا،اشفاق سے ہوئے کہنے لگا۔ یار عید پر گھر جاؤ تو واپسی پر کوئی دیسی سبزی لانا۔ موسم بدل رہا ہے آپ کی طرف کنجی کی سبزی خوب ہوتی ہے۔ اشفاق نے نہایت سخاوت سے جواب دیا۔کیوں نہیں۔ ہماری طرف کنجی کے ساتھ ساتھ اور کئی طرح کی سبزیاں ہوتی ہیں۔ عید کی چھٹی جاؤں گا تو لے آؤں گا۔ گپ شپ میں اچانک والے نے آواز لگائی۔
اشفاق استاد آ جاؤ! گاڑی کا ٹائم ہو گیا ہے۔ گاڑی سواریوں سے بھر چکی تھی۔ اڈے سے گاڑی نکلی تو ہر کوئی اس امید پر تھا کہ جلد ہی اپنی منزل کو پا لیا گا۔ اشفاق اپنے مخصوص انداز میں نہایت مہارت اور احتیاط سے گاڑی کو منزل کی جانب لے جا رہا تھا۔ گاڑی کوہالہ سے آگے نکلی تو اچانک اشفاق کے سینے میں درد اٹھا۔
اس کے سینے میں ایسا درد پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اس لیے وہ کچھ سمجھ نہ پایا۔ اس نے گاڑی کی رفتار ضرور کم کی لیکن روکی نہیں۔ کچھ ہی دیر میں درد کچھ کم ہو گیا۔ اب وہ گاڑی پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر چلا رہا تھا۔ اس نے اس خدشے کے پیشِ نظر کہ سواریاں گھبرا نہ جائیں کسی سے کچھ نہ کہا۔ حتیٰ کہ اپنے کنڈیکٹر کو بھی نہ بتایا۔
ابھی آدھا گھنٹا ہی گزرا تھا کہ ایک مرتبہ پھر اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ جب اشفاق نے بے بسی کا غلبہ دیکھا تو مری کے قریب ایک جگہ گاڑی کھڑی کر دی۔ اس کا کنڈیکٹر پاس آیا. کیا ہوا استاد جی؟
کچھ نہیں بس سینے میں کچھ درد محسوس ہو رہا ہے۔
استاد جی قریب کوئی اسپتال یا کلینک نہیں ہے۔ ایک سواری نے ازراہِ ہم دردی کہا۔ کچھ سواریاں اعتراض اٹھانے لگیں۔ استاد جی ہم لیٹ ہو رہے ہیں اور آپ یہاں کھڑے ہو گئے۔
اس لمحے اشفاق ہمت کی تصویر بنا اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔اجل اس کے سر پر تھی۔ پھر اچانک اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ اس کا سر اسٹیرنگ پر ٹک گیا۔ کنڈیکٹر نے دیکھا تو وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔اس کے خواب اور ارمان مٹی میں مل گئے۔ مری کا یہ موڑاس کی زندگی کا آخری موڑ ثابت ہوا۔ اس نے آخری وقت میں بھی یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے فن کا ماہر تھا۔ اس نے گاڑی روک کر مسافروں کی زندگیاں بچا لیں۔تمام مسافر محفوظ تھے…مگر اشفاق کا سفر ختم ہو چکا تھا۔ اشفاق احمد جو ایک عام انسان …… مگر غیر معمولی کردار تھا۔ …… وہ خود چلا گیامگر کئی زندگیاں بچا گیا۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |