عاصم بخاری کی نسوانی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ
۔۔۔۔۔۔۔
تجزیہ کار
راحت امیر نیازی میانوالی
عاصم بخاری زود نویس اور بسیار نویس لیکن پُر گو شاعر و ادیب ہیں۔ان کےہاں موضوعاتی اور ہئیتی تنوع پایا جاتا ہے۔زندگی اور انسان ان کی شاعری کا محور و مرکز ہے۔ان کی شاعری کی خوبی یہ ہے کہ اُن موضوعات اور عنوانات کو اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہیں جن موضوعات سے عموما” بے اعتنائی برتی جاتی ہے۔مگر ان کا یہی اختصاص انہیں منفرد و ممتاز کر دیتا ہے۔ مثلا” بڑھاپے کو عموما” شعرا و ادبا کم کم اپنا موضوع بناتے ہیں مگر اِن کے ہاں یہ موضوع بھرپور ملتا ہے۔ماں کے موضوع پر بہ کثرت اشعار نظمیں ملتی ہیں مگر باپ کے موضوع پر بہت کم کم قلم کُشائی کی جاتی ہے لیکن عاصم بخاری کے ہاں معاملہ اس کے بر عکس ملتا ہے۔یہ اس موضوع کو خوب نبھاتے ہیں۔اسی طرح بچوں کے موضوع پر شعر کہنے کی طرف شعرا کم توجہ دیتے ہیں جب کہ عاصم بخاری کے ہاں پورا مجموعہ بچوں کے موضوع پر شاعری کا” تم جو چاہو کرسکتے ہو ” کے عنوان سے موجود ہے۔بعینہ عورت کے موضوع پر بھی ہر مرد شعرا کے ہاں شعر کم کم ملتے ہیں مگر عاصم بخاری ہی ایسا شاعر ہے جس کےہاں صرف چند نظمیں یا اشعار ہی نہیں مکمل مجموعہ” ظلم عورت پہ”موجود ہے۔ عاصم بخاری کے ہاں اس مجموعہ کے علاوہ بہت زیادہ نسائی ، نسوانی اورتانیثی شاعری اخبارات رسائل و جرائد کی زینت ملتی ہے۔عاصم بخاری نے صرف عورت کے حسن و جمال کو اپنا شعری موضوع نہیں بنایا بل کہ اسے زندگی کے ہر زاویے سے دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس کے لیے ان کے ہاں تنوع ملتا ہے پابند نظم بھی کہی معری نظم بھی ، ثلاتی بھی اور نثری نظم بھی۔۔۔۔
احترام و مقامِ عورت کے تناظر میں عاصم بخاری کی ایک نظم دیکھیں
وفا بھی ہے ، حیا بھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نظم)
تعارف ہے یہی اس کا
یہ دھرتی سادہ لوحوں کی
بہادر ہیں یہ باغیرت
میاں یہ ہے میاں والی
یہاں عورت سے موٹر وے
سابرتاؤ نہیں ہوتا
میاں والی کی مٹی میں
وفا بھی ہے حیا بھی ہے
بخاری صاحب نے عورت کے حسن و جمال کی صرف توصیف ہی نہیں کی بل کہ بغرض ِ اصلاح اسے بیدار اور خبردار بھی کیا ہے
ایک شعر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(عورت کے نام)
ناراض نہ گر ہو تو ، مَیں بس اتنا کہوں گا
عورت میں بھی عورت مجھے کچھ کم ہی ملی ہے۔
بخاری صاحب عورت کی اندھا دھند ترقی اور مغربیت کے بھی ہرگز قائل نہیں۔وہ جامعات کی طالبات کے ضمیر کو عصری شعور دیتے اور جھنجھوڑتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ایک نظم ملاحظہ ہو
ایسی ڈگری کی کوئی ضرورت نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈگری اتنی بھی عاصم ضروری نہیں
قوم کی بیٹیوں سے مخاطب ہوں میں
بات کڑوی ہے یہ جانتا ہوں مگر
کہنا بھی لازمی رہ بھی سکتا نہیں
تو جگر تھام کے پھر سنو یہ مری
جو سلا دے تمہاری شرافت کو بھی
جو گرا دے تمہاری نجابت کو بھی
خاندانی تمہاری روایت کو بھی
جس کی خاطر سبھی کچھ لٹانا پڑے
جس کی خاطر وہاں تک بھی جانا پڑے
جس کی خاطر بدن بھی لٹانا پڑے
جس کی خاطر شرابیں بھی پینی پڑیں
جس کی خاطر تمہیں ناچنا بھی پڑے
جس کی خاطر بدن بھی یہ عریان ہو
جس کی خاطر سبھی کچھ ہی قربان ہو
ہے ضرورت ہی کیا تم کو ایسی پڑی
ڈگری اتنی بھی عاصم ضروری نہیں
ہر کوئی یونی وسٹی میں تھوڑی گیا
بالیقیں بالیقیں بالیقیں بالیقیں
ایسی ڈگری کی ہرگز ضرورت نہیں
عہد یہ کیجیے عہد یہ کیجیے
ایسے حالات میں چھوڑ ہی دیجیے
ایسی ڈگری کی کوئی ضرورت نہیں
عاصم بخاری اسلامیت ، مشرقیت اور پاکستانیت کے عَلم اور قَلم بردار ہیں۔
مشرقیت
کے موضوع پر عاصم بخاری کی اشعار دیکھیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر بیٹی کس کی ہے یہ سچ تو یہ ہے مشرق کی
جب بھی دیکھی پورے کپڑوں میں ہی اکثر دیکھی ہے
مغرب سے دوری کی ہی یہ عاصم ساری برکت ہے
ہم نے ہر ان پڑھ عورت کے سر پر چادر دیکھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔
عاصم بخاری عورتوں کی مخلوط تعلیم سے مطمئن نہیں۔نئے نئے اور دل خراش واقعات انہیں پریشان کرتے ہیں۔تبھی تو وہ اس پریشانی کا مستقل حل قطعہ کی صورت یوں دیتے ہیں۔
عورتوں کو پڑھائیں ، فقط عورتیں
ہم تو قائل ہیں بس ، ایسی تنظیم کے
دینِ ِ اسلام کے ہیں ، یہ پیرو سبھی
کون ہے حق میں مخلوط ، تعلیم کے
اسی مزاج کی ترجمانی کرتا بخاری صاحب کا ایک اور چونکا دینے والا قطعہ
جب بھی دیکھا جس نے دیکھا
پورے کپڑوں ، میں ہی دیکھا
ہر ان پڑھ عورت کے سر پر
دنیا نے ” دو پٹہ ” دیکھا
بخاری صاحب عورت کی نفاست ، لطافت اور نزاکت کے بھی معترف ہیں ۔ذوق ِ جمالیات رکھتے ہیں۔دہلویت و خارجیت کا حامل
ایک شعر
ایک دنیا تھی جس کی دیوانی
دُودھیا وہ کُشادہ پیشانی
۔۔۔۔۔۔
ایک اور شعر
ہو شوخ کلر ، گورا بدن ، تیکھا لبادہ
اپنی تو طلب ایک ہے پیشانی کشادہ
۔۔۔۔
عورت کی عظمت کا ایک اور پہلو کس خوب صورتی سے یوں بیان کرتے ہیں۔
ان پڑھ
۔۔۔۔۔۔۔۔
قطعہ
یونی وسٹی کہاں گئی ہے یہ
واقعی باشعور یہ ہو گی
اس نے اوڑھا ہوا ہے دوپٹہ
عورت ان پڑھ ضرور یہ ہوگی
۔۔۔۔
عاصم بخاری حقیقت پسند ہیں ۔عورت کی خدمات کے معترف ہیں کہ زندگی کی گاڑی کے پہیوں کی طرح عورت اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔مرد اور معاشرے کو بھی کشادہ دلی سے اس کا صرف اعتراف ہی نہیں کرنا چاہیے بل کہ اسے عزت و احترام سے بھی نوازنا چاہیے۔
گندم
۔۔۔۔۔۔۔۔
(نظم)
اس کی جرات پہ اس کی ہمت پر
اس کے شرم و حیا پہ بنتا ہے
ناز اس کی وفا پہ بنتا ہے
پاؤں کی جوتی کہنے والے سن
کتنی مخلص یہ ساتھ ہے تیرے
کتنا مشکل یہ کام گرمی میں
اعتراف اس کا لازمی عاصم
باوجودیکہ صنف ِ نازک بھی
داد بنتی ہے اس کی محنت کی
کھیتوں میں کاٹتے ہوئے گندم
تو نے دیکھا نہیں ہے عورت کو
تیرے گھر کے اناج کی خاطر
ہاتھ زخمی ہیں پاؤں بھی جس کے
پاؤں زخمی ہیں ہاتھ بھی جس کے
بار بھاری اٹھاتے دیکھ اس کو
روپ قربان کر دیا جس نے
گوری اب کے وہ کب رہی گوری
ہاڑ کی دھوپ کھا گئی جس کو
سانولی جس کی ہو گئی رنگت
عاصم بخاری روایتی غیرت کے پیمانوں کاحوالہ دیتے ہوتے مرد کوللکارتے اور اس کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑتے ہیں
غیرت
۔۔۔۔۔۔
( نظم معرٰی)
لفظ غیرت میں ہے بڑی وسعت
اس کے معنی پہ غور لازم ہے
تیرا اپنا تھا کوئی پیمانہ
تو روایات کا تھا دیوانہ
تیرا رسمی یہ فیصلہ غیرت
ایک عالم کو جس پہ ہے حیرت
ٹھیک سے اس کو تو نہیں سمجھا
دین میں کس کا نام ہے غیرت
کاش قرآن کو سمجھ پاتا
کاش اقبال کو پڑھا ہوتا
غور خود پر ذرا کیا ہوتا
آ د میت بھی آ تی غیرت میں
پاس انسانیت کا بھی غیرت
غور خود پربھی آ تا غیرت میں
آ نکھ اپنی میں بھی حیا غیرت
غیرتی ہوتا پاک دامن بھی
غیرتی خود دغا نہیں کرتا
غیرتی خود زنا نہیں کرتا
پیار بھی اس میں دیس کا شامل
جان قربان دیس اپنے پر
ملک دشمن سے دشمنی غیرت
باوفائی بھی اس میں آ تا ہے
کر ہی لینا تو ہے نکح غیرت
جرم "شیتل” کا پوچھتی دنیا ؟
۔۔۔۔۔
عورت کی بےبسی لاچاری مکاری ، استحصال ایثار ، خلوص ، وفا ہر زاویے بڑےعمیق مشاہدے کا بڑی وسعت کے ساتھ خوب صورت شعری اظہار ملتا ہے۔نظم دیکھیے۔
عورت
۔۔۔۔
تربیت کرتی علم دیتی ہے
تیری نسلیں سنوارتی عورت
۔۔۔
تجھ کو معلوم ہی نہیں تیری
عاقبت ہے سنوارتی عورت
۔۔۔
وقت اچھا بھی آئے گا کہتی
روپ کیا کیا ہے دھارتی عورت
۔۔۔۔
تجھ کو اندازہ ہی نہیں شاید
تجھ کو احساس ہی نہیں شاید
جیسے جیون گزارتی عورت
۔۔۔
پال کے تیرے خاندانوں کو
قرض اپنا اتارتی عورت
۔۔۔۔
داد کیسے نہ دے اسے عاصم
ہار کے بھی نہ ہارتی عورت
۔۔۔۔۔
سماجی جبر اور صنفی امتیازات کی عکاس اس مزاج کی عاصم بخاری کی ایک اور نظم
عورت
۔۔۔۔۔۔۔
(نظم
تو کیا سمجھا ہے معنی مستور کے
کہ لاچار معذور مجبور کے
کہ اک بھی کوئی جس کی سنتا نہیں
میں عزت ہوں دولت ہوں غیرت تری
ترا پیار چاہت محبت ہوں میں
ترے اشتہاروں کی زینت ہوں میں
سٹیجوں پہ مجھ کو نچاتا ہے تو
بدن میرا جگ کو دکھاتا ہے تو
مجھے میرے گھر سے بھگاتا ہے تو
مجھے وٹٹہ سٹٹہ میں دیتا ہے تو
مرے نام پر پیسے لیتا ہے تو
سمجھتی ہوں چالیں سیاست تری
تری اندرونی خباثت سبھی
مجھے جوتی پاؤں کی کہتا ہے تو
ذرا بھی تجھے شرم آتی نہیں
تجھے تیری غیرت جگاتی نہیں
تو باتیں تو کرتا ہے کتنی بڑی
تجھے مرد کہلانے کا حق نہیں
میں سچ کہہ رہی ہوں کوئی شک نہیں

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |