مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے!
ایرانی قوم اس خلیجی جنگ میں قابل فخر تاریخ رقم کر رہی ہے۔ ایران کی بہادری اور شجاعت نے اس کے مسلمان ہونے کا صحیح حق ادا کر دیا ہے۔ ایرانی حکومت انتہائی بلند حوصلے سے جنگ لڑ رہی ہے۔ جنگ کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ ایران میں رجیم چینج کرنے کا امریکی خواب مکمل طور پر چکنا چور ہو چکا ہے۔ کل تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کھری کھری سنا دیں، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکی صدر کو اسرائیلی صدر نے جنگ کرنے کے لیئے مس گائیڈ کیا کیونکہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش گوئی کی تھی کہ، "جونہی ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کیا جائے گا لوگ رجیم چینج کے لیئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔” لیکن اب ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران میں اسرائیل اور امریکہ کی مرضی کے مطابق ایسی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
گزشتہ تین سالوں میں یکے بعد دیگرے ایران کی قیادت، پاسداران انقلاب، اعلی فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنس دانوں سمیت 90 سے زیادہ چوٹی کے ایرانی رہنماوں کو راستے سے ہٹایا گیا لیکن ایران کی اسلامی حکومت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس جنگ میں تو ایرانی عوام ایک انتہائی مضبوط اور منظم قوم بن کر ابھری ہے۔ ایران پر ایک ماہ سے مسلسل بارود اور آگ کی بارش برسائی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی سکول کی 170 معصوم بچیوں تک کو قتل کیا، اس کے انفراسٹرکچر کو نیست و نابود کر دیا اور اس دوران 1500 سے زیادہ عام ایرانی شہریوں کو بھی شہید کیا لیکن ایران کے پائے استقلال میں ایک لمحہ کے لیئے بھی لغزش نہیں آئی ہے۔ ایرانی قوم کی عظمت، عزم و ہمت اور ثابت قدمی میں کوئی کمی نہیں آئی، ایرانی عوام اور سپاہ جنگی مشکلات کے سامنے لڑکھڑائے ہیں اور نہ ہی ان کے قدم ڈگمگائے ہیں۔ ایران نے اس دوران شروع سے جو حوصلہ باندھا تھا اور اپنے دفاع اور اصولوں سے پیچھے نہ ہٹنے کا جو عہد کیا تھا، وہ اس پر آج بھی قائم ہے۔
حالیہ خلیجی جنگ کے کل کلاں جو بھی تاریخی نتائج سامنے آئیں گے وہ ایک طرف ہیں لیکن یہ جنگ جب بھی ختم ہو گی تو مورخ ایرانی قوم کی جنگی مہارت اور جواں مردی کو نظر انداز نہیں کر پائے گا۔ اسرائیل اور امریکہ دنیا کی دو انتہائی طاقتور ترین طاقتیں ہیں لیکن ایران اکیلا جنگ میں اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ حتی کہ ایران کے اپنی بقا اور سلامتی کے اصولی موقف کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت نے یورپی اور نیٹو اتحاد کو بھی ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ اس جنگ میں نیٹو بری طرح تقسیم ہوا ہے۔ امریکہ کے لیئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ یورپی نیٹو ممالک کے 32 میں سے 26 ملک ٹرمپ مخالف اور صرف 6 چھوٹے ملک امریکہ کے حمایتی رہ گئے ہیں۔
مشرق وسطی کی سیاسی تاریخ کو مستقبل کا مورخ دو حصوں میں تقسیم کر کے لکھے گا ایک مشرق وسطی فروری 2026ء کی جنگ سے پہلے کا اور ایک جنگ کے بعد کا ہو گا۔ ایران کو خفیہ طور پر روس اور چین کی اخلاقی اور فوجی مدد ضرور حاصل ہے لیکن دراصل یہ ایرانی حمیت ہی ہے جس نے امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے سامنے بند باندھ رکھا ہے۔ ایران نے جونہی امریکہ کا پہلا سٹیلیتھ ایف 35 طیارہ روسی اور چینی جدید طرز کی ٹیکنالوجی سے لاک کر کے گرایا، اس کے بعد سے ایرانی فضاؤں میں ایف 35 طیارے نظر آنا بند ہو گئے ہیں۔ حالیہ خلیجی جنگ کے کچھ ایسے نمایاں پہلو بھی ہیں کہ جہاں امریکہ اور اسرائیل اپنی پوری جنگی مہارت اور قوت کے باوجود بے بس نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اب اپنے جنگی مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہ آبنائے حرمز اور تیل و گیس سے مالا مال ایرانی جزیرے خرج میں "بوٹ آن گراونڈ” کی تیاری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ جنگ کا ایک انتہائی خطرناک ترین مرحلہ ہے لیکن اس کا ایک اہم اور مسلم دنیا کے لیئے مثبت نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلم ممالک میں اتحاد کی ایک نئی قوت انگڑائی لے رہی ہے۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے بیان جاری کیا ہے کہ ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔ یمن کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بحیرۂ احمر کو اسلامی جمہوریہ ایران یا کسی بھی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف وہ جارحانہ کارروائیوں کے لیئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ فلسطین میں غزہ کے مقام پر حماس اور لبنان میں حزب اللہ اسرائیل کی جارحیت کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے آغاز میں ایران پر عراق سے حملے ہوئے تھے اب وہی عراق ایران کے ساتھ مل کر امریکی اور اسرائیلی اڈوں پر حملہ آور ہے۔ قطر نے ایران کو اس پر حملے نہ کرنے کے بدلے میں چھ ارب ڈالر دینے کی پیش کش کی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر شدید ایرانی حملوں کے باوجود ان دونوں اسلامی ملکوں نے واپس ایران پر ابھی تک کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔
حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے فرمایا تھا، "مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے۔” آج مغربی دنیا کی سپر طاقت امریکہ اسرائیل سے مل کر ایران پر پچھلے ایک ماہ سے آگ اور خون کا جو طوفان برسا رہا ہے، یہ نہ صرف اسلامی بلکہ تاریخ عالم میں بھی ایک بلکل منفرد انداز میں لکھا جائے گا۔
اس وقت پوری اسلامی دنیا میں امریکہ سے دفاعی چھتری لینے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایران اپنا دفاع کرنے اور اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے میں ایک لمحے کے لیئے بھی غفلت کا شکار نہیں ہوا ہے۔ ایرانی حوصلے اور ہمت میں کمی آئی ہے اور نہ ہی وہ اپنے خلاف جارحیت کرنے کا جواب دینے سے گھبرایا ہے۔ حالیہ خلیجی جنگ اسرائیل اور امریکہ کا وہ "طوفان مغرب” ہے جو مسلم دنیا کو ایک مسلماں بننے اور یکجا ہونے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ ایسا موقع اس سے پہلے بھی پیدا ہوا تھا جب 21 اگست 1969ء کو قبلہ اول بیت المقدس میں یہودیوں نے مسجد اقصی کو آگ لگائی تھی تو اس واقعہ کے صرف ایک ماہ بعد 25 ستمبر 1969ء کو مراکش کے شہر رباط میں تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ اگرچہ اب آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (او آئی سی) اتنی فعال نہیں رہی لیکن جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمب نے اس جنگ کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی اور مسجد اقصی کے بارے بھی کچھ غیر مناسب الفاظ استعمال کیئے تھے۔
اب امریکہ اور اسرائیل طاقت کے نشے میں چور ہو کر جنگ کے عین دوران ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ مسلمانوں میں لاشعوری طور پر اتحاد اور یکجہتی کا شدید احساس پیدا ہو رہا ہے۔ یہ احساس جہاں امریکہ کے لیئے اس کی انا اور سپریمیسی کا سوال ہے وہاں یہ ایران ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیئے اپنی بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے جیتنے کے بعد امریکہ "گریٹر اسرائیل” اور "نیو ورلڈ آرڈر” کا اپنا پرانا جغرافیائی اور اقتصادی خواب پورا کرنا چاہتا ہے۔ اس جنگ کا جیت یا ہار کی صورت میں جو بھی نتیجہ نکلے گا وہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اس جنگ میں اسلامی دنیا کے اندر مغربی یلغار کے طوفانی اثرات نے زندگی اور اتحاد کی ایک نئی امید پیدا کر دی ہے جس کا تعلق "مسلمان ہونے” سے ہے۔ کیا خبر کہ اس دفعہ علامہ اقبال کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہو جائے کہ، "مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے۔” علامہ محمد اقبال کی نظم "طلوعِ اِسلام” کے ان پہلے تین اشعار پر غور کریں: "دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی،
اُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی
عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی”۔ یوں اگر مسلمان اس جنگ کے بعد متحد ہو گئے، تو اسرائیل اور امریکہ یہ جنگ جیت کر بھی ہار جائیں گے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |