اجنبی کا بیٹا
دسمبر کی اس رات پیر چناسی کے پہاڑوں پر برف خاموشی سے اتری تھی۔
یوں جیسے کسی نے آسمان کے سفید بالوں کو آہستہ آہستہ زمین پر بکھیر دیا ہو۔
نہ کوئی شور، نہ کوئی ہنگامہ بس سفیدی،ٹھنڈک اور ایک ایسا سکوت جو آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔
مظفرآباد کی وادی اس برفانی چادر کے نیچے یوں دبکی ہوئی تھی جیسے کوئی تھکا ہوا بچہ ماں کی گود میں سر چھپا لے۔ دھند فضا میں اس طرح معلق تھی جیسے وقت نے سانس روک رکھی ہو۔ دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھڑے دیودار ایسے لگتے تھے جیسے صدیوں کے گواہ ہوں۔جو خاموش رہ کر بھی کئی نسلوں کی داستان سنا رہے تھے۔
اسی خاموشی کے سینے میں شہر کے بیچوں بیچ ایک تنور دہک رہا تھا۔
تنور کے کنارے ایک ننھا وجود بیٹھا تھا۔
عبدالمنان اپنی عمر سے کہیں زیادہ تھکا ہوا لگتا تھا۔ گھٹنوں کو سینے سے لگائے بازوؤں میں خود کو جکڑے جیسے اگر ڈھیلا پڑ گیا تو بکھر جائے گا۔ تنور کی آنچ اس کے چہرے پر مدھم سی سرخی پیدا کر رہی تھی مگر اس کے ہاتھ اب بھی سرد تھے۔یہ صرف موسم کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب وہ خوف بھی تھا جو اس کی ہڈیوں میں اتر چکا تھا۔
سردی صرف جسم میں نہیں ہوتی بعض اوقات یادیں بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔
عبدالمنان کی یادیں بھی ایسی ہی تھیں دھندلی اور چبھتی ہوئی۔
گاؤں…
ایک کچا صحن…
ماں کا خاموش چہرہ…
بہن کی نظریں جو سوال پوچھتی تھیں مگر زبان خاموش رہتی تھی…
اور رشتے دار۔جن کے لہجوں میں مٹھاس کم اور لالچ زیادہ تھا۔
وہ لفظ “جائیداد” کا مطلب نہیں جانتا تھا مگر یہ ضرور جانتا تھا کہ اس لفظ کے بعد آوازیں اونچی ہو جاتی ہیں، دروازے زور سے بند ہوتے ہیں اور ماں رات کو دیر تک جاگتی رہتی ہے۔
اس کے قریبی رشتے دار جو عبدالمنان کے والد کی وفات کے بعد اس کی زمین ہتھیانے کے درپے تھے۔ وہ موقعے کی تلاش میں تھے کہ کب عبدالمنان جو جائیداد کا وارث تھا اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیں۔عبدالمنان کی والدہ اور چھوٹی بہن رشتے داروں کی وجہ سے پریشان اور خوف زدہ تھی۔ اس روز جب عبدالمنان کو جان بچا کر گھر سے بھاگنے کا موقع ملا تو وہ چپکے سے نکل آیا تھا۔
نہ کوئی تھیلا نہ کوئی منصوبہ۔
بس ایک انجانا سا یقین کہ شاید کہیں کوئی ایسی جگہ ہو جہاں چیخنے کی ضرورت نہ پڑے۔
وہ چلتا رہا۔
کبھی سڑک کے کنارے،
کبھی درختوں کے سائے میں،
کبھی کسی مسجد کے صحن میں۔
بچوں کا دکھ عجیب ہوتا ہے۔وہ روتے کم ہیں ٹھٹک زیادہ جاتے ہیں۔
جیسے تیسے کسی گاڑی میں چھپتے چھپاتے وہ مظفرآباد کی سرزمن میں آن پہنچا۔
ایک مشکل اور کٹھن مسافت طے کرنے کے بعد وہ سلطان مظفر خان کے آباد کردہ شہر میں پہنچا تو رات کا پچھلا پہر تھا۔ درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے خاصا نیچے تھا۔ یہاں پہنچ کر اس نے ایک تنور کو دیکھا تو رک گیا۔ گو کہ تنور بند تھا لیکن رات کو اس میں چوں کہ آگ جلتی رہی اس وجہ سے تپش باقی تھی۔ آگ جو قدیم زمانے سے انسان کی پہلی پناہ رہی ہے۔
اس نے لرزتے ہاتھ اٹھائے۔
ہونٹ ہلے مگر آواز شاید صرف آسمان نے سنی۔
“اے اللہ…
میں بہت چھوٹا ہوں…
مجھے کوئی بڑا دے دے…”
یہ دعا نہیں تھی التجا تھی۔
فجر کی اذان کے ساتھ ہی نانبائی آیا۔
تنور کے پاس سائے کی جنبش دیکھی تو ٹھٹھک گیا۔
“یا اللہ… یہ کون ہے؟”
عبدالمنان نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں خوف تھا مگر بھاگنے کی سکت نہیں۔
نانبائی نے بغیر کچھ پوچھے اپنی شال اتار کر اس کے گرد لپیٹ دی۔
یہ پہلا لمس تھا جس میں سوال نہیں تھا۔
نانبائی جانتا تھا اس محلے میں ایک شخص ایسا ہے جس کا دروازا بند نہیں رہتا چاہے رات کتنی ہی تاریک اور سرد کیوں نہ ہو۔
وہ تھے گل زمان قریشی جو قریشی صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے۔
فوجی قامت، سفید مونچھیں، چہرے پر بشاشت اور آنکھوں میں ضبط کی تہیں۔
برطانوی فوج میں برسوں گزارنے کے بعد پولیس میں آئے تھے۔
قانون ان کے ہاتھ میں تھامگر رحم ان کے دل میں۔
جب انھوں نے بچے کو دیکھا تو وردی پیچھے رہ گئی۔
وہ جھکے،
عبدالمنان کی آنکھوں کے سامنے آئے
اور نرم آواز میں ہوں گویا ہوئے:
“بیٹا… ڈرو نہیں۔
تم اکیلے نہیں ہو۔”
اور اسی لمحے
ایک اجنبی
بیٹا بننے لگا۔
قریشی صاحب کا گھر شہر کے قریب اس گاؤں میں واقع تھا جہاں صبحیں اذان سے اور شامیں چراغوں سے پہچانی جاتی تھیں۔ یہ کوئی بہت بڑا گھر نہیں تھا مگر اس کی دیواروں میں ایک ٹھہراؤ تھاجیسے برسوں سے اس گھر نے شور نہیں صرف زندگی سنی ہو۔ صحن میں ایک پرانا شہتوت کا درخت تھا جس کی شاخیں دیوار سے باہر جھانکتی تھیں۔ بوڑھے شہتوت کی ان شاخوں پر موسم کے ساتھ ساتھ بچوں کی ہنسی بھی اگتی رہتی تھی۔
جب عبدالمنان اس گھر کی دہلیز پر کھڑا ہوا تو اس کے قدم ٹھٹھک گئے۔ دہلیز صرف اینٹوں یا پتھروں کا ٹکڑا نہیں ہوتی یہ دو دنیاؤں کے بیچ ایک لمحہ ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ دنیا جسے آدمی جانتا ہے دوسری وہ جس سے ڈرتا ہے۔
قریشی صاحب نے اس کی ہچکچاہٹ محسوس کی۔
آگے بڑھے آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“آؤ بیٹا… گھر میں قدم رکھتے ہوئے ڈرا نہیں کرتے۔”
یہ جملہ نہیں تھا اجازت نامہ تھا۔
بیگم قریشی اندر ہی تھیں۔ چولھے پر ہانڈی چڑھی تھی ہاتھ آٹے سے اٹے ہوئے تھے۔ دروازے پر قدموں کی آہٹ سنی تو پلٹیں۔ نظر پہلے شوہر پر پڑی پھر اس ننھے وجود پر۔
ایک لمحے کو وہ رک گئیں۔
ماں ہونا بعض اوقات ایک نظر میں جاگ جاتا ہے۔
عبدالمنان نے ان کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں وہی پرانا سوال ۔کیا مجھے یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا؟
بیگم قریشی نے بغیر کچھ پوچھے اپنے ہاتھ دھوئے آگے بڑھیں اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
“یا اللہ… یہ تو بچہ ہے…”
عبدالمنان کے لیے یہ لمس تنور کی آگ سے بھی زیادہ گرم تھا۔ اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے مگر وہ رویا نہیں۔ شاید اسے خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھ سکتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی شرط کے۔
گھر میں قریشی صاحب کے تین لڑکے پہلے ہی موجود تھے۔ عمر میں اس سے بڑے، شوخ، بے فکر۔ انھوں نے پہلے اسے اجنبی نظروں سے دیکھا۔ان بچکانہ نظروں سے جن میں سوال بھی ہوتا ہے اور تجسس بھی۔ مگر چند ہی دنوں میں وہ اجنبیت گھلنے لگی۔
بچے اصول نہیں جانتے وہ دل سے قبول کرتے ہیں۔
عبدالمنان شروع میں بہت کم بولتا۔ دسترخوان پر بھی نظریں جھکائے رکھتا جیسے پلیٹ بھی کسی کی امانت ہو۔ بیگم قریشی اسے بار بار کہتیں:
“بیٹا! پیٹ بھر کے کھایا کرو۔ یہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔”
وہ سر ہلا دیتا مگر دل ابھی یقین سیکھ رہا تھا۔
رات کو جب سب سو جاتے وہ جاگتا رہتا۔ چھت کو تکتا اور سانسوں کو سنتا۔ اس گھر میں آوازیں مختلف تھیں۔دروازے زور سے بند نہیں ہوتے تھے کوئی چیختا نہیں تھا۔ خاموشی بھی یہاں نرم تھی۔
قریشی صاحب اکثر رات کو اٹھ کر صحن میں ٹہلتے۔ ایک رات انھوں نے دیکھا کہ عبدالمنان جاگ رہا ہے۔ وہ پاس آ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔
جی“نیند نہیں آ رہی؟”
عبدالمنان نے ہلکی سی آواز میں کہا:
“ڈر لگتا ہے کہ صبح ہو گی تو سب بدل جائے گا…”
قریشی صاحب نے گہری سانس لی۔
“بیٹا! جو چیز دل سے مل جائے وہ اک رات میں بدلتی نہیں۔
تم یہاں اس گھر میں اب ہمارا حصہ ہو۔”
یہ سن کر عبدالمنان کی آنکھوں سے آنسو بِہ نکلے۔ وہ پہلی بار کھل کر رویا بے آواز مگر مکمل۔
دن گزرتے گئے۔
عبدالمنان آہستہ آہستہ اس گھر کی رفتار سیکھنے لگا۔ صبح سب سے پہلے اٹھتا صحن میں پانی چھڑکتا، پھر بیگم قریشی کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹاتا۔ وہ اسے ٹوکتے ہوئے کہتیں:
“بیٹا، تم مہمان ہو۔”
وہ مسکرا کر جواب دیتا:
“امی مہمان کام نہیں کرتے بیٹے کرتے ہیں۔”
یہ لفظ “امی” بیگم قریشی کے دل میں اتر گیا۔ انھوں نے کبھی اسے بیٹوں سے جدا نہ جانا۔
بھائیوں کے ساتھ اس کا رشتہ بھی آہستہ آہستہ بدلتا گیا۔ شروع میں وہ ان کی شرارتوں سے ڈرتاپھر ان میں شامل ہونے لگا۔ کبھی لکڑیاں کاٹ کر لانا، کبھی شہتوت کے درخت پر چڑھنا، کبھی استاذ سے بچنے کے بہانے۔ مگر عبدالمنان کی شرارتوں میں بھی ایک نرمی تھی۔وہ کسی کو دکھ نہیں دیتا تھا۔
اسکول میں داخلہ ہوا تو استاذ اس کی خاموشی سے متأثر ہوئے۔ وہ سوال کم پوچھتا مگر جو پڑھتاسمجھ کر پڑھتا۔ کتابیں اس کے لیے صرف سبق نہیں تھیں راستا تھیں ان دنیاؤں کا جن میں وہ کبھی جا نہیں سکا تھا۔
ایک دن استاذ نے قریشی صاحب سے کہا:
“یہ بچہ غیر معمولی ہے۔ اس کی آنکھوں میں سوال نہیں جستجو ہے۔”
قریشی صاحب نے فخر سے سر ہلایا مگر کچھ نہیں کہا۔ وہ جانتے تھے بعض نعمتوں پر بولنا نہیں چاہیے۔
ایک شام عبدالمنان قریبی جنگل سے لکڑیاں لاتے ہوئے رک گیا۔ جھاڑیوں میں ہلچل تھی۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک زخمی پرندہ پڑا تھا پروں میں خون اور آنکھوں میں خوف۔ اس نے احتیاط سے اسے اٹھایا جیسے کوئی آئینہ ہو جو ٹوٹ سکتا ہے۔
گھر لا کر بیگم قریشی کے سامنے رکھا۔
“امی… یہ بھی اکیلا ہے…”
بیگم قریشی کی آنکھیں بھر آئیں۔
“منان… تم نے اپنے دکھ کو دعا بنا لیا ہے۔”
وہ جملہ پوری طرح عبدالمنان کی سمجھ میں نہ آیا مگر دل میں بیٹھ گیا۔
قریشی صاحب اسے اکثر ساتھ بٹھاتے۔ قانون، دیانت، فرض یہ الفاظ وہ کہانیوں میں پرو دیتے۔
“بیٹا! طاقت ہاتھ میں ہو تو امتحان بڑھ جاتا ہے۔اصل آدمی وہ ہے جو طاقت کے باوجود نرم رہے۔”
عبدالمنان خاموشی سے سنتا۔ وہ جانتا تھا اس گھر میں لفظ صرف کہے نہیں جاتے جیے جاتے ہیں۔
یوں وہ بچہ جو کبھی تنور کے کنارے لرزتا تھااب ایک گھر کے اندر کنبے کے بیچ بیٹھا تھا۔جہاں دروازے بند نہیں ہوتے تھےاور رشتے خون سے پہلے دل سے بنتے تھے۔
یہی وہ بنیاد تھی
جس پر اس کی پوری زندگی تعمیر ہونے والی تھی۔
وقت جب بچپن سے آگے بڑھتا ہے تو آہستہ نہیں چلتا وہ جیسے دوڑنے لگتا ہے۔
عبدالمنان کو خود خبر نہ ہوئی کہ کب اس کے ہاتھوں کی نرمی میں سختی آ گئی،کب آواز میں ٹھہراؤ اور کب آنکھوں میں وہ سنجیدگی اتر آئی جو صرف ذمہ داری کے لمس سے پیدا ہوتی ہے۔
اب وہ لڑکا نہ رہا تھا جس کے قدم دہلیز پر لرزتے تھے۔
اب وہ اس گھر کے صحن میں سیدھا کھڑا ہوتا تھا۔شہتوت کے درخت کے نیچےجہاں اس کی ہنسی بھی دفن تھی اور اس کی خاموشی بھی۔
قریشی صاحب اکثر اسے غور سے دیکھتے۔
کبھی اخبار سے نظریں اٹھا کر کبھی بغیر دیکھے ہی جیسے آدمی دل سے کسی کو پرکھ رہا ہو۔
“منان…!”
ایک دن انھوں نے پکارا،
“اب تمھیں اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔”
یہ جملہ اجازت بھی تھا اور امتحان بھی۔
عبدالمنان نے تعلیم تو مکمل نہ کی تاہم زندگی جینے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔سبھی اس کی ذہانت کے قائل تھے مگر وہ کسی نوکری کے خواب نہیں دیکھتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ عزت رویّے سے جنم لیتی ہے۔ اس نے کاروبار کا ارادہ کیا چھوٹا، سادہ مگر اپنا۔
قریشی صاحب نے پوچھا:
“ڈر تو نہیں لگ رہا؟”
عبدالمنان مسکرایا۔
“ڈر تو لگتا ہے ابا جی…
مگر آپ نے سکھایا ہے کہ ڈر کے ساتھ بھی سچ کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔”
کاروبار کی ابتدا مشکل تھی۔
پہلا نقصان خاموشی سے سہنا پڑا، دوسرا کسی اپنائیت کے دعوے میں آیااور تیسرا اس وقت جب اسے پہلی بار اندازہ ہوا کہ دنیا اس گھر جیسی نہیں ہوتی جس میں وہ پلا بڑھا تھا۔
کسی نے ناپ تول میں کمی کا مشورہ دیا،کسی نے جھوٹ کو “کاروباری چالاکی” کہا،
کسی نے کہا:
“ایمان داری سے صرف دعائیں ملتی ہیں نفع نہیں۔”
عبدالمنان نے سب سنا مگر دل کے قرطاس پر ایک ہی جملہ لکھا رہا:
“میں قریشی صاحب کا بیٹا ہوں۔”
یہ نسبت اس کے لیے نسب نامے سے زیادہ قیمتی تھی۔
رفتہ رفتہ محلے میں اس کی پہچان بننے لگی۔
لوگ کہتے:
“منان کے ہاں دام کم سہی مگر نیت پوری ہوتی ہے۔”
یہ جملہ اس کے لیے سرمائے سے بڑھ کر تھا۔
قریشی صاحب کی صحت اب ناساز رہنے لگی تھی۔ اکثر کھانسی، کبھی سینے میں درد۔ عبدالمنان ان کے پاس بیٹھ کر خاموشی سے پانی پکڑا دیتا دوا دے دیتا۔ دونوں کے درمیان اب لفظ کم اور احساس زیادہ بولتے تھے۔
ایک شام قریشی صاحب نے اسے پاس بٹھایا۔
“منان…! بیٹا لوگ تمھیں میرا سایہ کہتے ہیں۔
یاد رکھنا سایہ تب تک رہتا ہے جب تک درخت کھڑا ہو۔
مجھے اطمینان ہے کہ تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہو۔”
عبدالمنان کا گلا بھر آیا۔
“ابا جی… میں جو کچھ ہوں آپ کی وجہ سے ہوں۔”
قریشی صاحب نے سر ہلایا۔
“نہیں بیٹا…
تم وہ ہو جو تم نے اپنے دل سے چُنا ہے۔
ہم نے بس راستا دکھایا تھا۔”
یہ ان کی آخری طویل گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔
چند ہی مہینوں بعد قریشی صاحب کی بیماری نے شدت اختیار کر لی۔ گھر کا ماحول بدل گیا۔ بیگم قریشی کی آنکھوں میں خاموش فکر اتر آئی اور عبدالمنان کے کندھوں پر اچانک کئی ان دیکھے بوجھ آ گئے۔
اس نے کاروبار بھی سنبھالا، گھر بھی اور سب سے بڑھ کرحوصلہ بھی۔
قریشی صاحب کی وفات کے دن آسمان پر عجیب سی اداسی تھی۔ نہ بارش، نہ دھوپ بس ایک بھاری سا سکوت۔ جنازے میں وردی والے بھی تھے، عام لوگ بھی اور وہ سب بھی جن کی زندگی میں قریشی صاحب نے خاموشی سے راستا بنایا تھا۔
عبدالمنان قبر کے کنارے کھڑا تھا۔
آنکھوں میں آنسو تھے مگر پشت سیدھی تھی۔
وہ جانتا تھا اب سایہ نہیں رہا،
اب اسے خود درخت بننا تھا۔
قریشی صاحب کے بعد کچھ لوگوں نے سرگوشیاں شروع کیں۔
کسی نے کہا:
“اصل وارث تو خون کے ہیں…”
کسی نے کہا:
“یہ تو بس پالا ہوا تھا…”
عبدالمنان نے کچھ نہیں کہا۔
وہ جانتا تھا
جو رشتہ دل سے ہواسے صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اسی دوران میں اس کے اصل گاؤں کا ذکر پہلی بار باقاعدہ آیا۔
فارورڈ کہوٹہ۔
سرحد کے قریب ایک علاقہ،
جہاں اب بھی اس کے نام پر سرگوشیاں تھیں،
جہاں اس کی ماں اور بہن کا سایہ شاید اب بھی کسی دیوار کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔
یہ خبر اس کے دل میں ٹھہری نہیں وہاں کہیں
ایک بند دروازاہلکا سا چرچرا دیا۔
مگر اس نے اسے پوری طرح کھولنے سے پہلے رکنا سیکھ لیا تھا۔
کیوں کہ اب وہ بچہ نہیں تھا۔
اب وہ عبدالمنان تھا۔
ایک ایسا شخص
جس نے اجنبیت سے نسبت تک کا سفر طے کیا تھا۔
اور ابھی
زندگی کے کئی امتحان
اس کے انتظار میں تھے۔
کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو سنائی نہیں دیتیں مگر انسان کے اندر کہیں گونجتی رہتی ہیں۔
عبدالمنان کے لیے وہ آواز اس کے ماضی کی تھی دبی ہوئی مگر زندہ۔
قریشی صاحب کی وفات کے بعد جیسے وقت نے ایک پرانا دریچہ کھول دیا ہو جس کے پیچھے وہ سب کچھ رکھا تھا جسے اس نے برسوں دل کے کسی اندھیرے گوشے میں سلیقے سے بند کر رکھا تھا۔
فارورڈ کہوٹہ۔
یہ نام اس کے لیے محض ایک جغرافیہ نہیں تھا یہ ایک بکھرا ہوا منظر تھا۔مٹی کی مہک، کچے صحن، ماں کے خالی خالی ہاتھ، بہن کی جھکی ہوئی نظریں اور وہ رشتے دار جن کے لہجوں میں زہر اور لفظوں میں شکر گھلا ہوتا تھا۔
خبر کسی غیر سے نہیں آئی تھی۔
ایک پرانی جان پہچان گاؤں کا ہی ایک شخص شہر آیا تھا۔
اسی نے ایک دن دکان پر آ کر آہستگی سے کہا:
“منان… تمھاری ماں اب بھی زندہ ہے۔
اور بہن… اس کی شادی کا سوال پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔”
یہ جملہ نہیں تھا صدیوں پرانی رگ میں لگا ہوا کانٹا تھا۔
عبدالمنان نے کچھ نہیں کہا۔
وہ دیر تک تول میں لگے باٹوں کو دیکھتا رہا جیسے وہ اس خبر کا وزن کر رہا ہو۔
پھر آہستہ سے بولا:
“وہ لوگ… اب بھی ویسے ہی ہیں؟”
آنے والے نے نظریں چرا لیں۔
“جائیداد اب بھی ان کی آنکھوں میں ہے۔
اور تمھارا نام… اب بھی کاغذوں میں لکھا ہے۔”
اس رات عبدالمنان دیر تک سو نہ سکا۔
بیگم قریشی جاگ رہی تھیں۔
انھوں نے بیٹے کے چہرے پر وہی پرانی بے چینی دیکھ لی جو برسوں پہلے دہلیز پر کھڑی ہوئی آنکھوں میں تھی۔
“منان…!”
انھوں نے نرمی سے کہا۔
“دل کہیں اٹکا ہوا لگتا ہے۔”
عبدالمنان نے سر جھکا لیا۔
“امی… شاید وقت آ گیا ہے کہ میں وہاں جا کر دیکھ آؤں۔”
بیگم قریشی خاموش ہو گئیں۔
ماں کا دل جانتا ہے کہ بعض سفر روکنے سے نہیں رکتے۔
“جاؤ بیٹا…”
انھوں نے کچھ توقف کے بعد کہا۔
“مگر یاد رکھنا۔۔۔
تمھاری واپسی کا راستا یہ گھر ہے۔”
فارورڈ کہوٹہ کا سفر لمبا نہ تھا مگر عبدالمنان کے لیے یہ عمر بھر کا فاصلہ تھا۔
جوں جوں گاڑی پہاڑی راستوں پر آگے بڑھتی ماضی قریب آتا جاتا۔
درخت، موڑ، ندی سب جیسے پہچان رہے ہوں۔
گاؤں میں قدم رکھتے ہی اسے احساس ہوا کہ کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلتی۔
وہی کھیت ، وہی کچی پگڈنڈیاں ،وہی مٹی کی بو، وہی نظریں کچھ حیران، کچھ لالچی، کچھ خالی۔
اس کی ماں اب بوڑھی ہو چکی تھی۔
کمر جھک گئی تھی مگر آنکھوں میں وہی انتظار تھا جو برسوں پہلے چھوڑتے وقت تھا۔
عبدالمنان کو دیکھتے ہی وہ ٹھٹک گئیں۔
“منان…؟”
یہ ایک نام نہیں تھا ایک عمر تھی جو لرزتی ہوئی زبان سے ادا ہوئی۔
عبدالمنان نے آگے بڑھ کر ان کے پاؤں پکڑ لیے۔
وہ دیر تک روتی رہیں۔
کوئی شکوہ نہیں کوئی سوال نہیں بس آنسو جو برسوں سے امانت میں رکھے گئے تھے۔
بہن ایک کونے میں کھڑی تھی۔
چہرے پر وقت کی سختی مگر آنکھوں میں وہی بچپن کی پہچان۔
وہ کچھ نہ بولی جونہی عبدالمنان نے اس کی طرف دیکھا تو نظریں جھک گئیں۔
گاؤں کے لوگ آنا شروع ہو گئے۔
کوئی ہم دردی کے بہانے، کوئی تجسس میں اور کوئی ناپ تول کے لیے۔
چند ہی دنوں میں اصل بات سامنے آ گئی۔
“جائیداد تمھارے نام ہے، منان۔
مگر تم تو شہر میں رہتے ہو۔
ہم سنبھال لیں گے… بس کاغذ درست ہو جائے۔”
یہ جملے نئے نہیں تھے۔
بس بولنے والے بدل گئے تھے۔
عبدالمنان نے سب کو سنا۔
خاموشی سے تحمل سے۔
ایک رات ماں نے آہستہ سے کہا:
“بیٹا… میں نہیں چاہتی کہ تم پھر کسی مصیبت میں پڑو۔
جو دل کرے وہی کرنا۔”
عبدالمنان دیر تک باہر صحن میں بیٹھا رہا۔
اوپر آسمان ویسا ہی تھا جیسا مظفرآباد میں تھا مگر یہاں ستارے زیادہ بے رحم لگتے تھے۔
اسے قریشی صاحب یاد آئے۔
ان کا لہجہ، ان کی نصیحتیں، ان کا ضبط۔
“طاقت ہاتھ میں ہو تو اصل امتحان شروع ہوتا ہے…”
اگلے دن عبدالمنان نے سب کو جمع کیا۔
وہی رشتے دار، وہی نظریں۔
اس نے سکون سے کہا:
“یہ زمین میرے نام ہے ہاں۔
مگر میں اسے اپنے لیے نہیں رکھوں گا۔
یہ ماں کے نام ہو گی
اور بہن کے مستقبل کے لیے وقف۔”
ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
کسی نے کہا:
“تم پاگل ہو گئے ہو؟”
عبدالمنان نے پہلی بار سختی سے جواب دیا:
“میں قریشی صاحب کا بیٹا ہوں۔
اور انھوں نے مجھے یہ نہیں سکھایا کہ حق کو ہتھیار بنایا جائے۔”
کاغذات تیار ہوئے۔
دست خط ہوئے۔
لالچ کے چہرے مرجھا گئے۔
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“بیٹا… تم نے مجھے آزاد کر دیا۔”
عبدالمنان نے مسکرا کر کہا:
“امی… میں تو خود بہت پہلے آزاد ہو چکا تھا۔”
جب وہ واپس مظفرآباد پہنچا تو دل ہلکا تھا۔
جیسے کسی نے اندر سے ایک بوجھ اتار دیا ہو۔
بیگم قریشی نے دروازا کھولا۔
ایک نظر میں سب سمجھ گئیں۔
“آ گئے میرے بیٹے؟”
عبدالمنان نے دہلیز پار کی۔
“جی امی…
گھر واپس آ گیا ہوں۔”
اور یہی واپسی
اس کے وجود کی اصل فتح تھی۔
زندگی جب جوانی کی دہلیز پار کر لیتی ہے تو اس کی رفتار بدل جاتی ہے۔
وہ تیز نہیں گہری ہو جاتی ہے۔
عبدالمنان کی زندگی بھی اب اسی گہرائی میں اتر چکی تھی جہاں دنوں کی گنتی کم اور معانی زیادہ ہوا کرتے ہیں۔
مظفرآباد کے لوگ اب اسے صرف عبدالمنان نہیں کہتے تھے۔
وہ “چاچا منان” بن چکا تھا۔
یہ لقب کسی سرکاری کاغذ پر درج نہ تھا مگر دلوں میں لکھا جا چکا تھا۔
محلے میں کوئی جھگڑا ہو، کوئی فیصلہ درکار ہو یا کسی خاموش ضرورت کو زبان ملنی ہو لوگ بے اختیار اسی کے دروازے پر آ جاتے۔
وہ نہ عالم تھا، نہ خطیب، نہ کسی منصب پر فائز۔
مگر اس کی بات میں وہ وزن تھا جو صرف سچائی سے پیدا ہوتا ہے۔
قریشی صاحب کے بعد گھر کی فضا بدل گئی تھی تاہم بکھری نہیں تھی۔
بیگم قریشی اب زیادہ خاموش رہنے لگیں ان کی خاموشی میں سکون تھا جیسے انھیں یقین ہو کہ جو چراغ انھوں نے جلایا تھاوہ بجھے گا نہیں۔
عبدالمنان ان کا خاص خیال رکھتا۔
دواؤں سے لے کر موسم تک،
خاموشی سے، بغیر جتائے۔ تین معاشی طور پر مستحکم بیٹوں کی موجودگی میں بھی منان بیگم قریشی کا مکمل خیال رکھتا۔
وہ اکثر صحن میں بیٹھ کر شہتوت کے بوڑھے درخت کو دیکھتا۔
یہ درخت اب بھی وہیں تھا وقت کا گواہ اور
نسلوں کا ہم راز۔
ایک دن بیگم قریشی نے آہستہ سے کہا:
“منان…!
تم نے اپنی زندگی خود کے لیے کیوں نہیں بنائی؟”
عبدالمنان مسکرایا۔
یہ سوال نیا نہیں تھا البتہ جواب ہر بار تازہ ہوتا تھا۔
“امی…
کچھ لوگوں کی زندگی خود بن جاتی ہے
کچھ لوگوں کی زندگی دوسروں کے کام آتی ہے۔
اللہ نے مجھے دوسرا راستا دیا۔”
بیگم قریشی کی آنکھیں بھر آئیں۔
انھوں نے کچھ نہ کہا بس دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
وقت گزرتا رہا۔
بھائیوں کے بچے بڑے ہونے لگے۔
کوئی اسکول جاتا تو کوئی کالج۔
عبدالمنان سب کے لیے یکساں تھا۔
نہ لاڈ، نہ سختی،
بس انصاف۔
وہ رات کو دیر تک جاگتا
کبھی حساب کتاب میں
کبھی سوچوں میں۔
اب اس کے دل میں کوئی خلا نہیں تھا۔
تنہائی تھی مگر خالی پن نہیں۔
ایک دن اس کی طبیعت کچھ بوجھل ہونے لگی۔
شروع میں اس نے نظرانداز کیا۔
عادت تھی اپنی تکلیف کو ثانوی سمجھنے کی۔
مگر جسم نے آخر کار زبان پا لی۔
ڈاکٹر نے خاموشی سے رپورٹ بند کی اور آہستہ سے کہا:
“اب زیادہ وقت نہیں لینا چاہیے منان صاحب۔”
عبدالمنان نے سر ہلایا۔
نہ سوال نہ خوف۔
“کتنا؟”
“شاید چند مہینے…”
عبدالمنان نے باہر آسمان کی طرف دیکھا۔
وہی آسمان۔
وہی وسعت۔
“کافی ہیں،”
اس نے بس اتنا کہا۔
اس کے بعد اس کی زندگی میں کوئی گھبراہٹ نہیں آئی۔
بس ایک ترتیب آ گئی۔
اس نے آہستہ آہستہ اپنے معاملات سمیٹنے شروع کیے۔
کسی کو خبر نہ ہونے دی۔
خدمت میں کمی نہ آنے دی۔
ایک دن اس نے قریشی صاحب کے پوتے کو پاس بلایا۔
جو اب جوان ہو چکا تھا اور انجینئرنگ کے پیشے سے وابستہ تھا۔
اس کی آنکھوں میں وہی سچائی تھی جو اس گھر کی پہچان تھی۔
عبدالمنان نے زمین کے کاغذات اس کے سامنے رکھے۔
“یہ زمین۔۔۔اباجان یعنی
تمھارے دادا نے مجھے دی تھی۔
میں نے اسے ہمیشہ امانت سمجھا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ امانت لوٹا دی جائے۔”
پوتے کی آنکھیں بھر آئیں۔
اس نے کاغذات ایک طرف رکھ دیے
اور عبدالمنان کا ہاتھ تھام لیا۔
“چاچا…
یہ زمین ہمارے دادا نے غیر کو نہیں بیٹے کو دی تھی۔
اور بیٹے کا حق بیٹے کے پاس ہی رہتا ہے۔”
یہ سن کر عبدالمنان کی آنکھوں سے آنسو بِہ نکلے۔
یہ آنسو دکھ کے نہیں تھے
قبولیت کے تھے۔
اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔
ماضی اس کے سامنے تھا
تنور کی آگ،
برف کی رات،
ایک شال،
ایک ہاتھ جو سر پر رکھا گیا تھا۔
صبح فجر کے وقت اس نے بیگم قریشی کو دیکھا۔
وہ جائے نماز پر بیٹھی تھیں۔
انھوں نے پلٹ کر دیکھا۔
“منان…!”
وہ آہستہ سے بولا:
“امی…
اگر آج میں نہ اٹھ سکوں
تو رویے گا نہیں۔
میں بہت بھرپور زندگی جی چکا ہوں۔”
بیگم قریشی نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“تم نے ہمیں سرخرو کر دیا ہے بیٹا…”
اسی دن دوپہر کے قریب عبدالمنان کی سانسیں آہستہ آہستہ مدھم ہو گئیں۔
کمرے میں کوئی شور نہ تھا،
کوئی چیخ نہ تھی۔
بس سکون تھا۔
ایسا سکون جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے
جو زندگی سے لڑ کر نہیں
زندگی کو تھام کر رخصت ہوتے ہیں۔
اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا
جو برسوں پہلے پہلی بار اس گھر میں قدم رکھتے وقت ملا تھا۔
نمازِ جنازہ میں لوگ دور دور سے آئے۔
کوئی رشتے سے،
کوئی تجربے سے،
کوئی محض اس لیے کہ
اس شخص نے کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا تھا۔
کسی نے کہا:
“وہ اجنبی تھا…”
دوسرا بولا:
“نہیں وہ ہم سب کا تھا…”
اور شاید یہی سچ تھا۔
کیوں کہ بعض لوگ خون سے نہیں
کردار سے
بیٹے بن جاتے ہیں۔
اور وقت کے ان صفحات پر
جہاں جائیداد کے لیے بھائی بھائی کا دشمن ہو جاتا ہے
وہاں عبدالمنان جیسے لوگ
خاموشی سے یہ لکھ جاتے ہیں:
کہ رشتے نسب سے نہیں
نیت سے بنتے ہیں۔
Title Image by BehindTheScence from Pixabay

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |