ماحولیاتی آگاہی میں میڈیا کا کردار
از
حمیرا جمیل ،سیالکوٹ(اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ،لاہور)
ہمارے آس پاس اور قرب و جوار میں جو بھی جاندار اور بے جان نباتات و حیوانات اور ان سے متعلق چیزیں ہیں ،ان سب کا مجموعی نام ماحول ہے۔اس میں انسان ،جانور ،پیڑ پودے ،ہوا ،پانی ،زمین وغیرہ سب شامل ہیں ۔یہی وہ فطری ماحول ہے جس میں انسان اپنے گردوپیش کی تمام اشیا کے ساتھ ہم آہنگی اور یگانگت کے رجحان کے ساتھ رہ کر کائنات کی نشوونما اور فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرتا ہے۔اُسے ہی ماحولیاتی نظام کہتے ہیں، اور اس باہمی تعلق اور انحصار کے مطالعے کو ماحولیات کہا جاتا ہے۔اخبار ،رسائل ،ریڈیو ،ٹیلی ویژن وغیرہ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ماحولیات کے متعلق مسائل ،قومی اور بین الاقوامی سرگرمیوں اور دیگر رضاکارانہ تنظیموں کی کاروائیوں کی معلومات ،عوام کے سامنے آتی رہتی ہیں،لیکن ماحولیاتی مسائل کی اہمیت اور ان کی سنجیدگی سے عوام اب تک پوری طرح واقف نہیں ہیں۔انفرادی ترقی ہو یا اجتماعی پیش رفت ،صنعتی سرگرمیاں ہوں یا شہری پھیلاؤاور تعمیرات اقدامات ،انسان کے تمام منصوبے موحولیات سے تعلق رکھتے ہیں۔بقول ڈاکٹر شازلی حسن خاں:
’’ماحولیات میں ہم ان تمام عناصر اور حالات کو شامل کرتے ہیں جن کے انسان پربراہ راست یا بالواسطہ ،مفید یا مضر ،خوش گوار یا ناخوش گوار ،حیات بخش یاخطرناک اثرات ہوسکتے ہیں۔‘‘۱
ماحولیات کے تعلق سے دنیا کے سامنے ایک بڑا خطرہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنم لے چکا ہے۔کسی بھی علاقے کی آب و ہوا اس کے ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے۔اگر آب و ہوا صاف ہے اور اس میں کسی قسم کی آلودگی و آلائش شامل نہیں ہے تو انسانوں اور اس کے ارگرد کے ماحول پر اس کے اچھے اثرات نمایاں ہوں گئے اور اگر آب و ہوا میں نظافت کے بجائے کثافت اور آلودگی کا عنصر زیادہ ہے تو اس کے بُرے اثرات مرتب ہوں گئے۔ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی سے مراد وہ دیرپا اور مسلسل تبدیلیاں ہیں جو فطری اور انسانی عوامل کی بنیاد پر موسمیاتی نظام اور قدرتی ماحول میں رونما ہوتی ہیں ۔ان تبدیلیوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ،سمندر کی سطح کا بڑھنا ،موسموں کی شدت میں اضافہ اورقدرتی و ناگہانی آفات کا بڑھنا شامل ہیں۔موسمیاتی تبدیلی آب و ہوا کے قدرتی نظام کے بگاڑ کا نام ہے۔ماحولیاتی آلودگی دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقو ں میں زیادہ ہے۔ہر طرح کی آلودگی پیدا کرنے والے ذرائع دیہات سے زیادہ شہر میں ہیں ۔عمر میں اضافہ کے ساتھ ہی انسان کا کم سننا ایک فطری عمل ہے لیکن مختلف سروے سے پتہ چلا ہے کہ چھوٹے اور بڑے شہروں کے شور شرابہ کے درمیان رہائش پذیر لوگوں میں بہرہ پن ۴۵سال کی عمر میں شروع ہوجاتا ہے۔وہیں گاؤں کے پرسکون ماحول میں رہنے والوں میں یہ شکایت عموماً ۶۰سال کی عمر کے بعد ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ شہر کے لوگوں کو آلودگی کے سبب مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عموماً لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ماہر علم حیاتیات پروفیسر ایلی گولڈ اسمتھ کہتے ہیں :
’’گاؤں اور چھوٹے شہروں کے مقابلے بڑے شہروں کے باشندوں کے خون میں سیسہ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔‘‘۲
موجودہ وقت میں انسانیت کے لیے جو مسائل زیادہ مشکل ہوگئے ہیں ان میں سب سے اہم بدعنوانی اور کرپشن کا مسئلہ ،لوٹ مار،جھگڑے اور فساد ،سب کا محرک معاشی و معاشرتی کش مکش ہی ہے۔ہماری یہ بڑھتی ہوئی صنعتیں ،مشینیں،کارخانے ،ایٹمی توانائی ،یورنیم اور بجلی فراہمی کے مراکز ،ہر شہر میں لاتعداد موٹر گاڑیوں،جنریٹروں، ویلڈنگ کرنے اور دیگر دھاتوں کی مصنوعات پر نِکل اور دوسرے پالش کرنے والے کارخانوں ،گیس ریفائزیز،مچھر اور دوسرے کیڑوں کو بھگانے اور مارنے والی گیسز ،شادیوں اور مختلف تقریبات کے موقع پر چھوڑے جانے والے زبردست قسم کے گولوں ،پٹاخوں اور آتش بازی سے نکلنے والی ہزاروں کوئنٹل زہریلی و مہلک گیسوں کا اخراج ہمارے ماحول کی قدرتی خوبیوں کو تباہ کرکے صاف ستھری فضا میں سانس لینے کے ہمارے حق کو چیلنج کررہا ہےجس سے سانس کی ،کھانے کی نالیاں ،ناک کی نسیں،گلے ،پھیپھڑے ،معدے ،آنتیں ،آنکھیں اور دماغ غرض کہ سبھی جسم کے حصے خراب ہوررہے ہیں۔اوناش ایمہ لکھتے ہیں:
’’انسانی سرگرمی کے براہ راست یا بالواسطہ نتیجے میں کے طور پرفطری یا انسانی ساختہ مادوں کی فضا میں منتقلی کو ہوائی آلودگی کہتے ہیں۔‘‘۳
موٹر گاڑیوں ،کارخانوں اور صنعتی یونٹوں کی دھلائی صفائی کے نتیجے میں ان سے نکل کر بہنے والا غیر ضروری اور بیکار تیل ،گریس ،صنعتوں میں بننے والے سامان کے نتیجے میں خارج ہونے والے دھاتوں کے باریک ذرات اور بلند و بالا عمارتوں و فلیٹس کی روزانہ دھلائی ،صفائی اور ٹائلٹ کے ذریعے باہر جانے اور رِسنے والا گندا پانی اور فضلہ ایک جانب زمین کی اندرونی تہوں اور ان مقامات و ذخائر تک پہنچ کر انہیں آلودہ کررہا ہےجہاں سے ہینڈ پمپوں ،جیٹ پمپوں ،سب مرسبلی پمپوں ،دوسرے موٹروں اور ٹیوب ویل وغیرہ کے ذریعہ عوامی سپلائی(رننگ واٹر)کےطور پر پانی گھروں،رہائشی علاقوں میں کھانے پینے کے لیے پہنچایاجاتا ہےاس طرح سے عوام الناس کوپینے کا صاف پانی بھی فراہم نہیں ہوپاتا۔ذکر شدہ آلودہ پانی کا بڑا حصہ نالیوں ،نالوں ،نہروں ،تالابوں، ندیوں ،دریاؤں اور سمندروں میں پہنچ کر انسانوں ،جانوروں ،پانی کے اندر اور ساحل پر رہنے والے جانداروں اور نباتات کی زندگیوں کووسیع پیمانے پر نقصان پہنچا رہا ہے۔کیمیات سے بنے سامانوں کا استعمال روز بروزبڑھتا جارہاہے جس سے کیمیائی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔جراثیم کش دوائیں اسی میں سے ہیں ۔جس کا استعمال گھروں کو مچھر کھٹمل وغیرہ سے آزاد کرنے اور کھیتوں کے نقصان دہ کیڑوں و جراثیموں کو مارنے کے لیے ہوتا ہے۔یہ کیمیائی مرکبات ہوا اور پانی میں پھیل تو جاتے ہیں لیکن قدرتی ماحول میں تلف نہیں ہوتے بلکہ موجود رہتے ہیں جس سے آہستہ آہستہ اس کے غیر استعمال شدہ حصے فضا میں جمع ہوجاتے ہیں ۔ان مرکبات کی تھوڑی مقدار اگر کیڑے مکوڑے کے لیے زہریلی ہوتی ہے تو اس کی زیادہ مقدار سے انسان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔کھیتوں میں زیادہ سے زیادہ فصل پیدا کرنے کے لیے مصنوعی کھاد کا استعمال ،کھڑی فصل کی حفاظت کے لیے جراثیم کش دواؤں کا چھڑکاؤ،اناج کو اسٹاک کرنے کے لیے مختلف ادویات کا اس میں ملانا،باغ کے پودوں پر مختلف کیمیائی چیزیں ڈالنا،کچے پھلوں کو کیمیائی مرکبات کے ذریعہ پکانا۔۔۔۔۔۔ان سارے اعمال سے غذائی چیزوں میں مہلک کیمیائی مرکبات سرایت کرجاتے ہیں اور ان میں ایسی تبدیلیاں لاتے ہیں جن کے منفی اثرات ہم پر پڑتے ہیں ۔غذائی مادوں میں اس طرح کی نقصان دہ تبدیلی آلودگی کی ہی ایک شکل ہے۔اس طرح کی آلودگی کو غذائی آلودگی کہتے ہیں ۔کسی بھی چیز کو دیکھنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہےمگر اس کے لیے سبھی طرح کی روشنی بہتر نہیں ہوتی ۔کبھی کبھی مختلف ذرائع سے ایسی روشنی پیدا ہوتی ہے جس سے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے،آنکھوں میں تکلیف ہونے لگتی ہے،جس سے سر بھی کسی حد تک متاثر ہوتا ہے۔اس طرح کی کچھ شعاعوں سے بھی آلودگی ہوتی ہے اور ایسی آلودگی کو روشنی کی آلودگی کہتے ہیں۔
صوتی آلودگی نے بھی انسان کے ماحول اور اس کے معاشرہ کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ہماری روزافزوں سائنسی ترقیات کے ساتھ گاڑیوں کے موٹروں ،صنعتوں کے انجنوں ،جنریٹروں ،گاڑیوں کے مسلسل بجنے والے ہارن کا شور،ٹرینوں کی لگاتار آوازیں اور ان کے زبردست ہارن ،جہازوں کے اڑتے وقت کی آوازیں ،شادیوں ،کامیابیوں اور مختلف تیوہاروں،قومی اور عالمی سطح کے کھیلوں کی کمنٹری اور کامیابی کے بعدکا زبردست شور کانوں اور دماغ کی مختلف بیماریوں کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر صوتی آلودگی کا بہت اہم سبب بنا ہے۔ریاض احمد وارث لکھتے ہیں :
’’عام بول چال میں جو آواز پیدا ہوتی ہے وہ سبھی لوگوں کو بھلی لگتی ہے مگر جب اونچی ہوجاتی ہے تو وہی شور کی شکل اختیار کرلیتی ہےاور اُسے ہی صوتی آلودگی کہتے ہیں۔‘‘۴
ٹی بی ،کینسر ،شوگر ،بے خوابی ،بلڈ کینسر،بلڈ پریشر ،ہارٹ اٹیک،تھائی رائڈ ،ڈینگو ،ڈپریشن ،بے چینی و بے سکونی اور دوسری ذہنی و جسمانی بیماریوں میں روزبروز اسی بے قابو ماحولیاتی آلودگی کی وجہ بن رہا ہے ۔ماحولیاتی آلودگی ان بیماریوں کے ساتھ انسان کی اعلیٰ خوبیوں کے زوال و انحطاط میں اضافہ کرکے بہت زیادہ خرابیوں اور برائیوں کو بھی پیدا کردیا ہے۔مختلف نوعیت کے جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،ناجائز طریقہ کار اپناتے ہوئے دولت حاصل کرنے کے لیے چوری ،ڈکیتی ،دولت مند کے گھر کے کسی فرد کا اغوااور یہاں تک کہ اس کا قتل وغیرہ بھی شامل ہے۔اس طرح کھانے والی چیزوں چائے ،کولڈ ڈرنکس ،بسکٹ ،مٹھائی وغیرہ میں بھی نشہ آور چیز بھر کر ٹرینوں اور بسوں میں بے ہوش کرکے لوٹ کے واقعات بھی اب سننے کو ملتے رہتے ہیں۔اس طرح مختلف قسم کی آلودگیوں نے اس حسین کرّے کو کچھ اس طرح اپنے شکنجے میں کس لیا ہےکہ پورا نظام لڑکھڑا گیا ہے۔اس میں بسنے والے چاہے وہ جانور ہوں پودے یا انسان سب کے سب اس کے قبضے میں ہیں۔مجلس،معاشرت ،لباس ،خوراک آرٹ ،فلم ،کلچر ادب غرض ہر چیز مغرب سے مکمل طور پر متاثر دکھائی دیتی ہے۔اس طرزِفکرنے ذہنوں کےخیالات کو بھی آلودہ کردیا ہے ۔یہ بھی تو ایک قسم کی آلودگی ہے۔بقول ڈاکٹر شازلی حسن خاں :
’’ہماری ہوا، پانی اور مٹی کوکوئی غیر ضروری شے اس طرح متاثر کرے کہ اس سے انسان کو نقصان ہونے لگے تو اسے آلودگی ہی کہاجائے گا۔‘‘۵
ماحولیاتی آگاہی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے اور اس مشینی دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلہ پر غور و خوض کرنے کے لیے اکثر کانفرنس ہوا کرتی ہے۔ پوسٹروں اور اشتہاروں کے ذریعہ آلودگی کے نقصانات سے روشناس کرانے کی کوشش ہورہی ہے۔آج یہ دنیا کے بنیادی اور اہم ترین مسائل میں سے ہے۔مختلف پرچوں اور جریدوں میں آلودگی پر خصوصی مضامین شائع کرکے ٹیلی ویژن پر خصوصی پروگرام دکھا کر اور ریڈیو سے اس موضوع پر مقالہ نشر کرکے ماحولیات کی تعلیم کو عام کیا جارہا ہے ۔ماحو لیات سے منسلک خطرات کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کا کردار نہایت ضروری ہے۔میڈیا ایکٹی وسٹس کا فرض ہے کہ ماحولیاتی موضوعات سے جڑے معاشی ،انسانی اور صحت کے مسائل کو عام آدمی تک سادہ الفاظ میں پہنچا نے کی کوشش کریں ۔اس ضمن میں دستاویزی فلمیں نشر کرنا ،اور ایسے پسماندہ علاقوں میں جہاں ٹی وی کی سہولت بھی موجود نہ ہوں وہاں سرکاری محکموں کے توسط آگاہی مہمات چلانا ضروری ہے۔موجودہ وقت کی زندگی کا شور شرابا اور تیز رفتاری جس میں نہ سکون حاصل ہےنہ آرام سے بات سننے اور سمجھنے کی فرصت ہے،ایسی صورت حال میں اگر کوئی ہماری تیز رفتاری میں کچھ دیر رک کر ہمیں بگڑے ہوئے ،ماحول کے اسباب کو سمجھنے اور اس کو بہتر و شفاف بنانے کے طریقوں کی طرف متو جہ کرتا ہے تو اس کی وہ کوشش قدر کے لائق ہوگئی۔درست الفاظ میں ترقی اسی کو کہا جاسکتا ہے جس میں عام لوگوں کی زندگی کے معیار میں سدھار،شہری اور دیہی علاقوں میں لوگوں کو صاف ہوا اور پینے کے لیے صاف پانی میسر ہو۔صنعتی کارخانے اور دوسری ترقیاتی سرگرمیوں میں ہمیں زمین،مٹی ،جنگلات،دریا ،سمندر اور کھانوں کے استعمال کرنے میں ذمہ داری نبھاناہوگئی ۔کیوں کہ ان وسائل کے ناجائز اور غلط استحصال سے ماحول کو خطرہ پیدا ہوگا جس کا براہ راست اثر انسانی صحت اور زندگی پر پڑتا ہے۔گذشتہ ساٹھ ستر برس میں ہمارے ماحولیاتی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے بعد جلد ہی اس کے حل کی کوششیں بھی شروع ہوگئیں ،چنانچہ اس کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری طور پر این جی او کے ذریعہ بھی تقاریر ،سمپوزیم ،دیگر پروگرام ،سمینار منعقد کرنے اور مختلف زبانوں میں مضامین و مقالات اور کتابیں لکھنے کا سلسلہ جاری ہےاور تعلیم یافتہ عالی دماغ طبقے میں اس کا اثر بھی ہوا ہے۔انسان کی بقا اس میں مضمر ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے ذریعے اردگرد کے ماحول سے مطابقت رکھتے ہوئے اس کی بہتری کے لیے حکمت ِ عملی اختیار کرے ۔اس میں انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنا ہوگئی ۔اس میں شبہ نہیں کہ انسانوں نے ارتقا کے ذریعے کچھ ایسی خصوصیات حاصل کی کہ وہ زمین میں ایک غالب حیثیت کا مالک بن گیا اور اُس نے ماحولیاتی وسائل کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا مگر یہ کام بے حد لازمی ہے کہ وسائل کا استعمال پائیدار بنیادوں پر کیا جائے اسی میں اس کی آنے والی نسلوں کی بقا ممکن ہے۔
حوالہ جات
۱) -ماحولیاتی سائنس ازڈاکٹر شازلی حسن خاں ،۲۰۱۴،ص۲۳
۲) -ماحول اور اس کی آلودگی از ریاض احمد وارث ،۱۹۹۰،ص۱۷۲۱
۳) -تعلیمی اور ماحولیاتی آگاہی از اوناش ایمہ،۲۰۱۲،ص۱۲۴
۴) -ماحول اور اس کی آلودگی از ریاض احمد وارث ،۱۹۹۰،ص۱۶۶۱
۵) -ماحولیاتی سائنس از ڈاکٹر شازلی حسن خاں،۲۰۱۴،ص ۶۵
اقبال ریسرچ انسٹیٹیوٹ،لاہور
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |