روزِ فتحِ مُبین یعنی روزِبدر
جب حق عددی قلّٙت کا شکار تھا. باطل کثیر تھا. ہاں مگر! حق پر قائم لوگوں کی اُمّیدیں قلیل مگر مقاصد جلیل تھے. وہ جانتے تھے کہ
فَنا فِی اللہ کی تہہ میں بقاء کا راز مُضمِر ہے
جسے مرنا نہیں آتا اُسے جینا نہیں آتا.
قُرآن اور تاریخ گواہ ہے کہ جب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو سب سے زیادہ مخالفت یہود و نصاریٰ نے کی اور مکہ کے بت پرست کفار کو آپ کی مخالفت پر اُکسایا. جب مسلمانوں کی مختصر جماعت کے لیے مکہ میں زندگی مشکل تر بنا دی گئی تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ فرمایا.
مدینہ میں اسلامی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی. اور ابھی دو سال بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ کفار مکہ نے اس نوآموز تحریک کو کچلنے کا ارادہ کیا. نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ کی آیات کے ذریعے مسلمانوں کی ایک مختصر سی جماعت کو ایسی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا کہ اُنہیں زندگی اور موت کا حقیقی فلسفہ سمجھ میں آ چکا تھا.
اُن پر یہ بات عیاں ہو چکی تھی کہ موت و زیست کا مالک ومختار فقط اللہ رَبُّ العِزّٙت ہی کی ذات ہے. وہ راہِ خُدا میں موت کو اللہ کی توحید کی گواہی یعنی شہادت تسلیم کر چکے تھے. ایسے مومنین موت سے نہیں ڈرتے بلکہ موت اُن سے ڈرتی ہے.
17 رمضانُ الکریم 2 ھجری کو بھی کچھ ایسا ہی معرکہءِ عشق وقوع پذیر ہوا. جہاں حق پرستوں کی قلیل جماعت اپنے سے تین گنہ بڑے لشکر سے ٹکرا گئی ۔ 950 صنادیدِ قریش ابو جہل ( عمروبن ہشام ) کی قیادت میں مدینہ منورہ سے 120 کلومیٹر دور مقامِ بدر پر جمع ہُوئے۔ ان کے ساتھ 100 گھوڑے 700 اونٹ اور اپنے دور کا جدید اسلحہ سب کچھ تھا ۔ دوسری طرف 313 مسلمان اپنے نبیِ رحمت ختمیِ مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں مدینہ سے نکلے ان کے پاس فقط 2 گھوڑے اور 70 اونٹ اور ناکافی اسلحہ. مگر پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ نبیِ رحمت نے دربارِ الٰہی میں کچھ یوں دعا فرمائی کہ ربّ دوجہاں نے فوراً شرفِ استجابت عطا فرمایا سُورَةُ الاَنفال میں پوری تفصیل موجود ہے ضرور مطالعہ کیجئے گا۔ اللہ کریم نے فرشتوں کے ذریعے امداد فرمائی
اُس دور کے اصولِ حرب کے تحت تین صنادیدِ قریش؛ عُتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید بن شیبہ میدان میں اترے ۔۔۔۔۔
سرکارِ رسالتمآب ﷺ نے ان کے مقابلے میں عبیدہ بن الحارث ، حمزہ بن عبدالمطلب ، اور علی بن ابی طالب کو میدان میں اتارا. تینوں کفار واصلِ جہنم ہُوئے ۔ شدید خونریز جنگ ہوئی اور اللہ تعالٰی کی نصرت و تائید سے اس معرکہءِ حق وباطل میں مسلمان فتح یاب ہوئے. اسی معرکے میں ابو جہل واصلِ جہنم ہُوا اور کفار کی طاقت پارہ پارہ ہوئی. 70 مشرک قتل ہُوئے ، 70 قیدی ہُوئے جبکہ 14 مسلمان شہید ہوئے. اس دن کو اللہ تعالی نے یَومُ الفرقان. یعنی حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والا دن قرار دیا اور اس فتح کو فتحِ مبین کے نام سے ذکر فرمایا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کےلیئے ایسی نُصرت مِن جانبِ اللہ کیوں نہیں آتی۔ تو اس کا جواب علامہ اقبال نے کچھ یُوں دیا ہےکہ
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نُصرت کو
اُتر سکتے ہیں گردُوں سے قطار اندر قطار اب بھی
فضائے بدر کیا تھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر غیر متزلزل ایمان اور قُرآن میں نازل شدہ احکاماتِ الٰہی پر مکمل عمل! بعثت نبوی اور ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک یہود و ہنود و نصاریٰ کا گٹھ جوڑ جاری ہے. وہ مسلمانوں میں گروہ بندی کے ذریعے ایک دوسرے سے نفرت پیدا کرنے میں مصروف ہیں اور افسوس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہیں. آج رمضان المبارک کے بابرکت اور رحمتوں بھرے مہینے میں ایک بار پھر اپنی بھرپور قوت کے ساتھ صرف ایران نہیں پوری مسلم اُمّہ پر حملہ آور ہیں. مسلمانوں کا اللہ ایک، نبی ایک، قرآن ایک، موت و زیست پر یومِ قیامت پر اللہ کی عدالت پر ایک ایمان ہونے کے باوجود ہم ایک ملت نہ بن سکے. اے کاش کہ تمام مسلمان ایک ہو جائیں. واضح اور صریح آیات قُرآنی کی روشنی میں یہود و نصاریٰ کو اپنا دشمن سمجھتے ہوئے متحد ہو کر بدر کی مثال کو ایک بار پھر سے زندہ کر کے شہدائے بدر کی صف میں شامل ہو جائیں.
پس ضرورت فضائے بدر پیدا کرنے کی ہے مگر یہاں قبل از اسلام کے زمانہءِ جاہلیت کی فضا سے بھی بد تر حالات ہو چکےہیں ، انسان فرعونوں کا روپ دھار چکے ہیں. اللہ کے فرمان کی نفی کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کو دوست سمجھتے ہیں. اور آپس میں دست و گریباں ہیں.
اے خاصہءِ خاصانِ رُسُلؐ وقتِ دعاہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر
گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول
اٹک شہر
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |