اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی پاور بننے کا امکان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن پلان اور ایران پر حملے کے دو اکٹھے محاذ کھولے۔ انہیں وینزویلا کی فتح کا نشہ ابھی نہیں اترا تھا کہ انہوں نے کنیڈا کو ناراض کیا جس کے ردعمل میں کنیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے نہ صرف چین کا دورہ کیا اور اس کے ساتھ تجارتی اور اسٹریٹجک معاہدے بھی کیئے بلکہ کنیڈا کے وزیراعظم نے چند روز پہلے امریکی ٹیرف کی بھی کھل کر مخالفت کر دی۔ مزید دیکھیئے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کا اشو کھڑا کیا تو اس کے فورا بعد ایران پر حملے کے لیئے خلیج فارس میں ابراہیم لنکن بحری بیڑا بھی بھیج دیا۔ امریکی صدر کی یہ وہ بیک وقت غلط عالمی جارحانہ پالیسیاں تھیں جس نے نہ صرف پوری دنیا میں ہلچل پیدا کر دی اور بشمول روس اور چین دیگر عالمی طاقتوں کے بھی کان کھڑے کر دیئے، بلکہ ایران کو بھی یہ نادر موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی خفیہ طاقت کا کھل کر مظاہرہ کرے۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارم بھی 3 روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ چینی قیادت سے اہم سیاسی اور معاشی معاملات پر بات چیت کریں گے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سال 2018ء کے بعد کسی برطانوی وزیرِاعظم کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایران امریکہ اس کشمکش کے موقع پر یہ دورہ اور بھی اہمیت کا حامل ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق کیئر اسٹارمر کی چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعرات کو ملاقات متوقع تھی، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا جانا تھا۔ برطانوی وزیرِاعظم کے ہمراہ 60 سے زائد کاروباری اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ شخصیات بھی چین پہنچی تھیں، جو اس دورے کو تجارتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو فروغ دینے پر خصوصی گفتگو ہونا تھی، جبکہ انسانی حقوق اور سائبر سکیورٹی جیسے حساس معاملات بھی مذاکرات کا حصہ تھے۔
تا دم تحریر خبر آئی ہے کہ امریکہ نے کینیڈا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے 88 لڑاکا طیارے خریدنے کے معاہدے پر عمل نہ کیا تو امریکی لڑاکا طیارے کینیڈا کی فضائی حدود میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے جلد بازی میں کئی محاذوں پر ایک ہی وقت میں اٹھائے گئے یہ اشتعال انگیز اقدامات سے جہاں عالمی سیاسی مبصرین کو حیرت ہوئی ہے وہاں ایران نے اپنی قوت کو بھرپور انداز میں مجتمع کیا ہے۔ جونہی امریکی جنگی بحری بیڑا خلیج فارس میں پہنچا ایران کی تقریباً 300 تیز رفتار میزائل بردار کشتیاں قریبی فاصلے پر طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے کے سامنے آ گئیں اور ٹرمپ کو جنگ کے لئے آمادگی کا پیغام دیا۔ ایران نے سپاہ کی تاریخ میں پہلی بار، بحریہ کے تمام جہازوں کو میزائلوں سے لیس کیا اور جنگی ترتیب اختیار کرتے ہوئے خلیج فارس میں داخل کیا۔ بحریہ کے تمام میزائل نظام محفوظ گوداموں سے نکال کر مختلف مقامات پر تعینات کر دیئے اور فائرنگ کے لئے انہیں اگلے حکم کا انتظار کرنے کے لیئے کہا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی بھی غلطی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا.
امریکی صدر کے ان جارحانہ عزائم اور ایران پر حملے کی صورت میں ایران نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اسرائیل اور خطے میں موجود جن مسلم ممالک سے ایران پر حملہ ہوا جواب میں وہ امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا۔ ایران کی اس دلیرانہ حکمت عملی کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ چین اور روس نے ایران کو فوری جنگی کمک پہنچانی شروع کر دی۔ گزشتہ 78 گھنٹوں میں چین اور روس کے 20 سے زیادہ اسلحہ بردار جہاز ایران میں اترے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت تمام خلیجی ممالک نے امریکہ پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے بھی واضح کیا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل ایران پر حملہ کریں گے تو ہم اس صورتحال میں ایران کا مکمل ساتھ دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا پر اس کا کنٹرول ہو لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
پاکستان اور ترکی نے بھی امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں وہ ایران کا ساتھ دیں گے۔ سید علی حسینی خامنہ ای کو ایران میں روحانی طاقت حاصل ہے۔ وہ اہل تشیع کے 12 امامی مُجتہد اور سیاست دان ہیں جو سنہ 1989ء سے ایران کے دوسرے رہبرِ معظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں. اس سے پہلے وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے تیسرے صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ خامنہ ای کی 35 سالہ طویل حکمرانی انھیں مشرق وسطیٰ میں سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے طاقتور سربراہ مملکت بناتی ہے۔ یوں پچھلی صدی میں شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد وہ دوسرے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ایرانی رہنما ہیں. انہوں نے دنیا پر اپنے ایک بیان میں واضح کر دیا ہے کہ گزشتہ اسرائیل امریکی حملوں کے دوران ان کی ایٹمی تنصیبات اور افزودہ یورینیم مکمل طور محفوط رہی تھی اور اب وہ اپنے دفاع کی خاطر ایٹمی پروگرام جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ ایران کے پاس کتنی دفاعی قوت ہے؟ اس سوال کا جواب ایران کے 46 سالہ انقلاب کے اندر ہے اور اب ایرانی حکومت کے لیئے تخت اور تختے کا مسئلہ ہے جس سے ایران کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایران کو انگریزی محاورے "ڈو آر ڈائی” کا سامنا ہے یعنی کچھ کرو یا شہید ہو جاو’۔ اسرائیل اور امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے اپنے میزائلوں پر ایٹمی وار ہیڈز نصب کر لیئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر اب امریکی صدر بھی ایران پر حملے کی بجائے مذاکرات پر پلٹ رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان نے مئی 1998ء میں ایٹمی دھماکے کیئے تھے۔ بھارت نے 11 اور 13 مئی 1998ء کو پوکھران میں 5 دھماکے کئے، جس کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے چاغی کے مقام پر 5 زیر زمین ایٹمی دھماکے کر کے عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک (ممکنہ ایٹمی وار ہیڈز سے بھرا) ابراہیم لنکن بحری بیڑا ایران پر حملے کے لیئے خلیج فارس میں لانا ایران کو یہ موقع دے چکا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی پاور بننے کے لیئے ایٹمی دھماکے کرے جو بہت سے عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کی نظر میں عین ممکن نظر آ رہے ہیں۔
ایران اپنی جنگی حکمت عملی ترتیب دے چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی ممکنہ حملے کے نتیجے میں ایران سب سے پہلے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دے گا۔ اس کے بعد وہ ایک ساتھ 30ہزار سے 50ہزار سب سے خطرناک میزائل اور سات سے دس ہزار ڈرون اسرائیل کی طرف ایک ہی لمحے میں فائر کرے گا۔ اس کے بعد جہاں جہاں سے ایران پر حملہ ہو گا ان پر بلیسٹک میزائل ہزاروں کی تعداد میں فائر کرے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے 22 ہزار ہائپر سونک میزائلوں پر "ایٹامک وار ہیڈ” بھی نصب کیا ہوا ہے کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ بھی فائر کرے گا۔ اگر اب بھی امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو جہاں اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا وہاں امریکہ کا سپر پاور رہنا بھی محال نظر آ رہا ہے۔ شاید ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی سپریمیسی میں ایران پر حملے کی تیاری کر کے امریکی گوربا چوف بننا چاہتے ہیں۔ اگر امریکہ حملے سے باز بھی رہتا ہے تو نیتن یاہو اور ٹرمپ نے ایران کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ بھی ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دے کہ وہ اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔
Title Image by Markus Distelrath from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |