معروف سخن ور علمدار حسین علمی ( علمی خان )
تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
خاندانی نام علمدار حسین علمی ادبی دُنیا میں علمی خان کے نام سے مشہور و معروف ہیں ۔ 16 مارچ 1983ء کو غلام رضا خان کے گھر گاؤں نوانی ( بھکر ) میں آنکھ کھولی۔ نوانی بھکر کا ایک معروف گاؤں ہے ۔
علمی خان پیشہ کے لحاظ سے کاشتکاری اور محکمہ ہائی ویز میں ملازمت بھی کرتے ہیں ۔
2023ء سے ڈیوٹی سرگودھا میں سر انجام دے رہے ہیں ۔
ابتدائی تعلیم : گورنمنٹ پرائمری اسکول نوانی ( بھکر ) سے حاصل کی اُس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول شہانی ( بھکر ) اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج ، بھکر سے بی ۔ اے پاس کیا ۔
آپ نے زیادہ تر اشعار اپنی ماں بولی یعنی سرائیکی زبان میں کہتے ہیں یہ سلسلہ آگے بڑھا تو پنجابی اور اُردو میں بھی طبع آزمائی کرنے لگے ۔ پنجابی میں بہت کم اشعار کہے ہیں ۔ پہلا شعر اس وقت کہا جب پانچویں کلاس میں پڑھتے تھے ۔ لیکن کہا اُردو زبان میں وہ شعر ملاحظہ فرمائیں :
گھنٹی بجی سائیکل چلی پینڈل پیر آ گیا
دو تین بار گرا لیکن گھر تو خیر آ گیا
باقاعدہ آغازِ سخن 2001ء میں کیا ۔ اصنافِ سخن : غزل ، نظم ، نعت منقبت ، قصیدہ ، سلام ، مرثیہ ، نوحہ ، دوہڑہ ، ماہیا ، بولی وغیرہ شامل ہیں ۔
اصلاحِ سخن کے حوالے سے بات کروں تو استاد الشعراء سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی اور اقبال حسین سے اصلاح لیتے ہیں ۔
علمی خان کی غزلیں ہفت روزہ ٫٫ اخبارِ جہاں ،، لاہور اور روزنامہ ٫٫ تھل ٹائمز ،، بھکر میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ تا حال آپ کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوسکا ۔ امید کرتے ہیں کہ اسی سال 2026ء میں آپ کے شعری مجموعہ منصہءِ شہود پر آنے والا ہے ۔
ایک سرائیکی شاعری مجموعہ ٫٫ پینگھ ،، کے نام سے زیرِ طبع ہے اور دوسرا ٫٫ باک ،، تیسرا ٫٫ خدا کے چہرے ،، ان کے علاوہ بھی مواد موجود ہے ۔
آپ نے اپنے کلام کو صرف بھکر شہر کے مشاعروں میں ہی نہیں پڑھا بل کہ بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے مشاعروں میں اپنا کلام پیش کر چکے ہیں ۔ جس میں بھر پور داد بھی سمیٹی۔ اُن شہروں میں لاہور ، ملتان ، سرگودھا ، کوہاٹ ، خوشاب ، جھنگ ، میانوالی ، چنیوٹ ، ڈیرہ غازی خان ، میلسی ، ڈیرہ اسماعیل خان ، اور منکیرہ شامل ہے ۔
آپ کے پسندیدہ ترین شعراء میں میر انیس ، مرزا دبیر ، مرزا اسد اللّہ خان غالب ، میر تقی میر ، جوش ملیح آبادی ، فیض احمد فیض ، ناصر کاظمی ، عدم اور قمر جلالوی شامل ہیں ۔ یہ اُردو ادب کے وہ عظیم نام ہیں ۔ جن کا کلام سدا بہار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اُنہی کے کلام سے ادب میں جان ہے ۔ ان عظیم شعراء سے علمی خان کا متاثر ہونا کوئی نئی بات نہیں اِنہی شعراء کو پڑھ کر اشعار کہنے کا لطف ہی کچھ اور ہے ۔ آج کے نئے شعرا کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان عظیم شعراء کا مطالعہ ضرور کریں ۔
علمی خان کا کلام حقیقت پسندی کا مظہر ہے جس کا رنگ نمایاں طور پر جھلک رہا ہے ۔ آپ کے اشعار فکری ، فنی اور روحانی طور پر بھی منفرد ہیں ۔ جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
شعر ملاحظہ فرمائیں :
مسجد میں پہلی صف کا نمازی نہیں ہوں میں
اے نفس ! جا کے اور کسی کو خرید کر
ایک اور شعر بھی ملاحظہ فرمائیں :
اوّل تو زمانے میں نہیں آپ سا کوئی
گر ، ہو بھی تو ہم ، کون سا تسلیم کریں گے
آخر میں ایک غزل کا بھی لطف اٹھائیں :
پیار اب ہم سے دوبارا نہیں ہونے والا
کہہ دیا نا نہیں یارا نہیں ہونے والا
جو ہمارا ہے وہ سب کچھ ہے تمھارا لیکن
جو تمھارا ہے ہمارا نہیں ہونے والا
آپ اِس کُوچے میں بےکار کھڑے ہیں صاحب
اب جھروکے سے اشارہ نہیں ہونے والا
ہم ہیں دریا سے تعلق کو نبھانے والے
اب کنارے سے کنارا نہیں ہونے والا
ہم نے اُس ایک خُدا پر تو قناعت کر لی
ایک شیطاں پہ گزارا نہیں ہونے والا
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |