کرکٹ کے ریکارڈز جیسی زندگی
ان دنوں کرکٹ ٹی20 کا ورلڈ کپ جاری ہے۔ ہر کھیل کی اپنی ہی الگ افادیت ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ اور ون ڈے اگرچہ طویل دورانیئے کا کھیل ہے اور ٹی20 بھی تقریبا آدھا دن کھا جاتا ہے لیکن اس کھیل کی انتہائی دلچسپی اور سنسنی خیزی یہ ہے کہ باولر کی ہر گیند اور بیٹس مین کی ہر شارٹ جو کھیلنے تک محض ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت کی ہوتی ہے، ہمیشہ نتیجہ خیز رہتی ہے اور یہ کم و بیش پورے کھیل کا مزہ دیتی ہے۔ بعض دفعہ تو کرکٹ کے میچ میں ایسی عجیب اور غیرمتوقع صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ کرکٹ کی دونوں ٹیموں کے 22 کھلاڑی اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں گراونڈ اور سکرینوں کے سامنے بیٹھے تماشائی بھی دم سادھ لیتے ہیں، ان کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اور وہ میچ دیکھتے ہوئے سکتہ میں آ جاتے ہیں کہ ناجانے اگلی گیند کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ ایک گیند یا شارٹ تاریخ ساز ریکارڈز بناتی بھی ہے اور بگاڑتی یا توڑتی بھی ہے جس وجہ سے یہ فٹ بال کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے۔
کرکٹ کی اس دلچسپی کی وجہ سے کرکٹ کے مجموعی شائقین کی تعداد شائد فٹ بال سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ کرکٹ کے کھیل میں ریکارڈز بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ کرکٹ ہے ہی ریکارڈز بنانے اور توڑنے کا کھیل تو بے جا نہ ہو گا۔ شائڈ کرکٹ میں دنیا کی دلچسپی اسی وجہ سے ہے کہ یہ اپنے منفرد ریکارڈز کی وجہ سے ایک انتہائی امتیازی کھیل سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیئے کرکٹ کے کھیل میں کچھ ایسے ورلڈ ریکارڈ بھی قائم ہو گئے ہیں کہ جو شائد کبھی برابر تو ہو جائیں مگر وہ ریکارڈز کبھی ٹوٹ نہیں پائیں گے۔ ان چند دلچسپ ریکارڈز میں ایسے حیران کن ریکارڈز بھی ہیں جو سننے والے کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں کہ یہ کیوں کر اور کیسے بن گئے تھے؟ کرکٹ کی 400 سالہ تاریخ میں ان ریکارڈز میں سے چند بہت نمایاں ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے سر گارفیلڈ سوبرز، جسے عام لوگ گیری سوبر کہتے ہیں، پہلا کھلاڑی تھا جس نے 6 گیندوں پر 6 چھکے لگائے تھے۔ اس نے 31 اگست 1968 میں یہ پہلا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس کے بعد یہ ریکارڈ مزید 8 کرکٹرز نے قائم کیا جن میں بھارت کے کھلاڑی روی شاستری، جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز، بھارت کے یووراج سنگھ، انگلینڈ کے روز وائیلے، افغانستان کے حضرت اللہ زازی، نیوزی لینڈ کے لیوکارٹر، ویسٹ انڈیز کے کیرن پولارڈ اور سری لنکا کے تھیسرا پریرا شامل ہیں۔
کرکٹ نے ان چار سو سالوں میں صرف یہ 9 بیٹس مین پیدا کیئے جنہوں نے ایک اوور میں 6 چھکے لگا کر تاریخ رقم کی جبکہ 6 گیندوں پر 6 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز آسٹریلین کھلاڑی ایلڈ کیری کو حاصل ہوا۔ اس نے 21 جنوری 2017 کو گولڈن پوائنٹ کرکٹ کلب کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک اوور میں 6 وکٹیں حاصل کیں ان کی اس کامیابی پر کرکٹ کی تاریخ میں "پرفیکٹ اوور” کی اصطلاح ایجاد ہوئی۔
ہم اگر 6 گیندوں پر 6 چھکے اور ایک اوور کی 6 گیندوں پر 6 وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑیوں، 18اپریل 1986 کو شارجہ میں بھارت کے خلاف آسٹریلیا کپ کے فائنل میچ میں آخری بال اور آخری وکٹ پر لگایا گئے جاوید میاں داد کے چھکے ایسے دیگر تمام ورلڈ ریکارڈز ہولڈر کھلاڑیوں کے پروفائلز کا مطالعہ کریں تو ہمیں ان سب میں ایک خوبی کامن نظر آئے گی اور وہ بڑی خوبی ہے وکٹ پر موجود ہونا، یہ تمام کھلاڑی اگر کرکٹر نہ ہوتے، گراونڈ میں نہ ہوتے اور وہ وکٹ پر موجود نہ ہوتے تو وہ کبھی یہ اعزاز حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ دنیا بھر کے ریکارڈ ہولڈرز اور کامیاب لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ صحیح وقت پر صحیح جگہ ہوتے ہیں اور یہ ان کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔ آپ زندگی میں کبھی بھی مایوس ہو کر اپنی فیلڈ نہ چھوڑیں آپ بس ڈٹ کر کھڑے رہیں کامیابی آپ کی طرف چل کر آئے گی۔
دراصل کرکٹ کا کھیل فقط ایک ہی گیند یا شارٹ کا کھیل ہے جو کھیل کا یکسر پانسا ہی پلٹ دیتا ہے۔ جاوید میاں داد کے اس تاریخ ساز چھکے ہی کو دیکھ لیں کہ آخری دو گیندوں پر جیتنے کے لیئے پاکستان کو 5 رنز چایئے تھے، آخری وکٹ تھی اور گیند کا سامنا کرنے کے لیئے ایک باولر اور بیٹنگ کا کمزور ترین ریکارڈ رکھنے والا باولر توصیف احمد سامنے تھا۔ حسن اتفاق دیکھیں کہ توصف نے ایک رن بنا لیا اور سامنے وکٹ پر جمے رہنے والے عظیم بیٹسمین جاوید میاں داد آ گئے اور جس گیند پر دو ممکنہ نتائج برآمد ہو سکتے تھے کہ اگر میاں داد اس گیند پر آوٹ ہو جاتے یا چار رنز نہ بنا سکتے تو پاکستان انڈیا کے خلاف وہ فائنل میچ ہار جاتا اور اگر وہ اس گیند پر چوکا لگا دیتے تو پاکستان نے میچ جیت جانا تھا۔ اس فیصلہ کن گیند زیادہ امکان انڈیا کے جیتنے کا تھا اور لیکن اس لمحے کی سنسنی خیزی ملاحظہ کریں کہ اس گیند پر چوکے کی بجائے میاں داد نے آؤٹ ہونے یا چار رنز بنانے کی بجائے چھکا مار دیا تھا جس وجہ سے وہ میچ پاکستان جیت گیا تھا۔
یہ آخری گیند انڈیا کی طرف سے چیتن شرما نے کروائی تھی جس سے ان کا پورا کرکٹ کیریئر تباہ ہو گیا تھا اور انہیں بلآخر کرکٹ چھوڑنا پڑی تھی۔ اسی ایک آخری شارٹ کی وجہ سے اور پاکستان کو تاریخی فتح دلوانے کی بناء پر دنیا بھر کے کرکٹ لوورز میاں داد کو 40 سال گزرنے کے باوجود آج بھی یاد کرتے ہیں۔ انسان کی زندگی بھی کرکٹ کی ایک گیند یا شارٹ کی مانند فقط ایک سانس، ایک فیصلے یا صرف ایک کام کا کھیل ہے جس سے ہماری زندگی بن بھی سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی ہے۔ ہم میں سے کسی انسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمیں اگلی سانس لینے کا موقع ملنا بھی ہے یا نہیں، اور کیا خبر ہمیں اسی ایک سانس پر زندگی کا کوئی ایسا نادر موقع مل جائے کہ جس سے ہماری زندگی کی کایا پلٹ ہی جائے یا ہم بلکل ہی برباد ہو کر رہ جائیں۔ زندگی میں بہت سے ایسے لمحات آتے ہیں جب ہم یا تو بہت آگے نکل جاتے ہیں اور یا پھر اسی ایک موقع پر ہم زوال کا شکار ہو کر پاتال میں جا پہنچتے ہیں۔
ایک دفعہ ہمارے ایک دوست کا ایک نوجوان بیٹا چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا کہ اس نے "بو کاٹا” کہتے ہوئے خوشی میں صرف ایک قدم پیچھے کی طرف اٹھایا اور وہ چھت سے نیچے گر موت کے منہ میں چلا گیا۔ ایسے کسی واقعہ کو شادی مرگ کہتے ہیں، جب خوشی ہی انسان کے لیئے غم یا موت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ ہمیں کسی کامیابی پر اتنا مغرور نہیں ہونا چایئے کہ کیا خبر وہ ہمارے لیئے ناکامی یا کسی صدمے کا باعث بن جائے اور کسی ناکامی یا دکھی کی گھڑی میں اتنا مایوس بھی نہیں ہونا چایئے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگر ہم اپنی منشا کے مطابق کامیاب ہو جاتے تو اس کے بعد ہمارا کوئی بڑا نقصان ہو جاتا یا ہم جان ہی سے جاتے، اس لیئے ہم انسان بہت حد تک بے خبر مخلوق ہیں اور نتائج کی حکمت کو مکمل طور پر جاننے سے قاصر ہیں۔ میں دوستوں کو اکثر اس خوفناک واقعہ کی مثال دیتا ہوں کہ ہمارا صرف ایک غلط قدم ہمارے لیئے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم زندگی میں کامیابی اور خوشی حاصل کرنے کے لیئے احتیاط کے ساتھ صرف کوشش کر سکتے ہیں مگر اس کے مثبت یا منفی نتائج ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ اگلا لمحہ ہمارے لیئے کیا لے کر آتا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ بس ہمارے اختیار میں یہ بات ضرور ہے کہ ہم جتنی زندگی جیئیں اچھی نیت اور بھلے کام کرنے کی کوشش کریں۔ اسی میں اطمینان قلب ہے وگرنہ زندگی ہماری ہے نہ ہی ہمیں اس پر کوئی کلی اختیار ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |