اک باب محبت کا
ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی محبتیں واقعی ایسی ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ بعض لوگ اپنی علمی عظمت سے پہچانے جاتے ہیں، بعض اپنی تحریروں اور تصنیفات سےاور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے شاگردوں کے دلوں میں محبت، شفقت اور خلوص کے چراغ جلا کر ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب ادبی دنیا میں جتنے باوقار ہونے کے ساتھ ایسے استاذ ہیں جن کے لیے شاگردی محض ایک تعلیمی رشتہ نہیں بلکہ ایک روحانی نسبت ہے۔
چار ستمبر 2025ء کا دن میری زندگی کے ان یادگار دنوں میں شامل ہے جن کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ اس روز نمل کے شعبۂ اردو میں میرے پی ایچ ڈی مقالے”اردو املا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ” کا دفاع تھا۔ برسوں کی محنت ، کتابوں میں گم ہو جانے کے لمحے اور استاد کی باریک بین نظر یہ سب اس ایک ساعت میں سمٹ آئے تھے۔ جب کامیاب دفاع کی خبر سنائی گئی تو گویا دل کے اندر ایک بوجھ اتر گیا۔ میں نے اپنے استادِ گرامی کی آنکھوں میں مسرت کی وہ چمک دیکھی جو کسی باپ کی آنکھوں میں بیٹے کی کامیابی پر نظر آتی ہے۔
دفاع کے بعد ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے نہایت محبت سے فرمایا:
"آپ فوراً گھر جائیں اپنے والدین، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ خوشی منائیں یہ دن ان کا بھی ہے۔”
ان کے لہجے میں حکم کم اور دعا زیادہ تھی۔ میں اسی لمحے مظفرآباد روانہ ہو گیا۔ سڑکیں آج کچھ زیادہ ہی روشن محسوس ہو رہی تھیں۔ پہاڑوں کی خاموشی میں بھی جیسے مبارک باد کی سرگوشیاں شامل تھیں۔ موبائل فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہی ایک کے بعد ایک کال اور مبارک باد کا سلسلہ جاری۔گھر پہنچا تو اہلِ خانہ کی آنکھوں میں فخر اور خوشی کی نمی تھی۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ایک شاگرد کی کامیابی کے پیچھے استاد کی محنت اور دعا کے ساتھ ساتھ خاندان کی قربانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
وقت گزرتا رہا۔ انیس نومبر کو نوٹیفکیشن موصول ہوا۔ اب اگلا مرحلہ ڈگری کے حصول کے لیے باقاعدہ درخواست دینا تھا۔ چوبیس دسمبر کو میں دوبارہ نمل کا قصد کیے ہوئے تھا۔ سردیوں کی صبح تھی، فضا میں کہر کا ہلکا سا پردہ اور دل میں نئی منزل کی امید۔
شعبۂ اردو کے کوآرڈینیٹر، ڈاکٹر محمد اعظم صاحب نے حسبِ معمول شفقت اور خلوص سے میرا استقبال کیا۔ دفتر کی رسمی کارروائیاں، کاغذات کی جانچ، دست خط، تصدیقات یہ سب مراحل اگرچہ بہ ظاہر خشک اور رسمی ہوتے ہیں مگر جب ساتھ میں خیر خواہی اور تعاون ہو تو یہی مراحل آسان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اعظم صاحب نے نہ صرف رہنمائی کی بلکہ ہر قدم پر حوصلہ افزائی بھی کی۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی خصوصی توجہ بھی شامل رہی۔ یوں تمام معاملات یک سو ہوئے اور ڈگری کے لیے درخواست جمع ہو گئی۔
لیکن زندگی ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی۔ میرے اپنے محکمے کی بعض مہربانیاں بھی اسی دوران میں سامنے آئیں جب میری جگہ ایک ایڈہاک تعیناتی کر کے مجھے سرپلس کر دیا گیا۔ یکم دسمبر سے میری تنخواہ روک دی گئی۔ گویا خوشی کے اس سفر میں ایک معاشی آزمائش بھی شامل کر دی گئی۔ مزید برآں نمل میں تیس ہزار روپے اضافی ادا کرنے پڑے۔ میں نے وہ رقم ادا کی مگر ڈگری کے لیے سات ہزار کی فیس اس وقت میرے لیے بوجھ تھی۔ ایسے میں ڈاکٹر محمد اعظم صاحب نے وہ رقم اپنی گرہ سے ادا کی۔ یہ محض مالی تعاون نہ تھا بلکہ اعتماد اور محبت کا عملی اظہار تھا۔
استاد گرامی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے مسلسل پیروی کی۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں نو جنوری کو میری ٹرانسکرپٹ اور ڈگری تیار ہو گئیں۔ بعض لوگ فائلوں کو محض کاغذ سمجھتے ہیں( جیسا کہ ہمارے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ریاض مغل صاحب کا ماننا ہے لوگ پی ایچ ڈی الاونسز کے لیے کرتے ہیں) یہ تو اپنی اپنی سوچ اور ذہنی اپچ کی بات ہے مگر ان کاغذات کے پیچھے برسوں کی ریاضت اور خواب پوشیدہ ہوتے ہیں۔ میں کسی مجبوری کے باعث نمل نہ جا سکاتو سر نے خود میری اسناد وصول کر کے محفوظ کر لیں۔ اس عمل میں جو خلوص تھا وہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
سات فروری کو ایک کام کے سلسلے میں میرپور جانا ہوا۔ میں وہیں موجود تھا کہ اچانک موبائل پر برقی پیغام نمودار ہوا۔ یہ پیغام ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا تھا:
"سلام! میں واپس آ گیا تھا۔ آپ کی ڈگری اور ڈی ایم سی کیسے پہنچاؤں؟ ٹی سی ایس کر دوں؟”
میں نے پیغام پڑھا تو دل بھر آیا۔ ایک استاد اپنی مصروفیات کے باوجود شاگرد کی ڈگری کی فکر میں تھا۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ میں آپ کے شہر میرپور میں ہوں کل ان شاءاللہ نمل حاضر ہوں گا۔ اتفاق دیکھیے اگلے ہی لمحے ڈاکٹر محمد اعظم صاحب کا پیغام آیا:
"السلام علیکم ڈاکٹر صاحب، پی سی ڈی ہو گئی کیا؟”
یہ محض رسمی استفسار نہ تھا بلکہ ایک خیر خواہانہ یاد دہانی تھی۔ میں نے انھیں بھی اطلاع دی کہ میں اسلام آباد آ رہا ہوں اور حاضر ہو جاؤں گا۔
گیارہ فروری کی رات میرپور سے روانہ ہو کر اسلام آباد پہنچا۔ اگلے روز بارہ فروری، جمعرات کی صبح قریب دس بجے میں نمل پہنچ چکا تھا۔ سردیوں کی دھوپ ہلکی ہلکی پھیل رہی تھی۔ کیمپس کی فضا میں وہی مانوس سنجیدگی اور علمی وقار موجود تھا۔
ڈاکٹر اعظم صاحب اپنے دفتر میں موجود تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی رسمی اور غیر رسمی گفتگو ہوئی۔ وہاں سے میں نے ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کو پیغام بھیجا کہ میں نمل میں ہوں اور کچھ ہی دیر میں حاضر ہوتا ہوں۔ جواب آیا کہ دفتر اب جناح بلاک میں نہیں بلکہ سلام بلاک میں منتقل ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر اعظم صاحب میرے ساتھ چل پڑے اور سلام بلاک میں واقع دفتر دکھایا۔ وہاں استاد محترم ڈاکٹر نعیم مظہر صاحب موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ شفیق صاحب کلاس میں گئے ہوئے ہیں۔ اس وقفے کو میں نے غنیمت جانا اور اپنے دیگر اساتذہ سے ملاقات کے لیے نکل پڑا۔
ڈاکٹر رخشندہ مراد صاحبہ سے ملنا گویا علم و وقار کے ایک اور باب سے ملاقات تھی۔ ڈاکٹر فوزیہ اسلم کی شفقت آمیز مسکراہٹ، ڈاکٹر عنبرین تبسم کی سنجیدہ گفتگو اور ڈاکٹر صوبیہ سلیم کی خیر خواہانہ دعائیں یہ سب لمحے میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھے۔ ایم۔اے سے پی۔ایچ۔ڈی تک کے سفر کی یادیں ایک ایک کر کے ذہن میں تازہ ہوتی گئیں۔ ہر استاد نے میرے ذہن کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔
اس کے بعد میں نمل کی مسجد کے سامنے دھوپ میں بیٹھ گیا۔ فروری کی دھوپ میں ایک خاص طرح کی نرمی ہوتی ہے نہ تیز، نہ مدھم۔ میں اسی دھوپ میں بیٹھا اپنے سفر کو یاد کر رہا تھا کہ سر شفیق کی کال آ گئی:
"آپ نمل کیفے آئیں چائے پیتے ہیں۔”
میں نے ادب سے کہا، "جی سر۔”
نمل کیفے میرے لیے اجنبی نہ تھا۔ کئی بار وہاں سر نے اپنے مخصوص انداز میں چائے پلائی تھی۔ میں جانتا تھا وہ کس گوشے میں بیٹھتے ہیں۔ جب کیفے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سر شفیق انجم صاحب کے ساتھ ڈاکٹر ظفر احمد صاحب بھی موجود ہیں۔ دونوں نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ اس احترام نے دل کو چھو لیا۔
گھر کی خیریت پوچھی گئی، مظفرآباد کے حالات دریافت کیے گئے۔ پھر گفتگو کا رخ ادب کی طرف مڑ گیا۔ نئی کتابوں، تحقیقی رجحانات اور معاصر ادبی منظرنامے پر بات ہوئی۔ چائے آ چکی تھی۔ میں چائے کا زیادہ شوقین نہیں مگر اس روز وہ چائے میرے لیے محض مشروب نہ تھی بلکہ محبت کا ذائقہ رکھتی تھی۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر ظفر احمد صاحب اپنی کلاس کے لیے رخصت ہو گئے۔ میں اور ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کیفے سے نکل کر پارکنگ کی طرف چل پڑے۔ ان کی گاڑی وہیں کھڑی تھی جس میں میری ڈی۔ایم۔سی اور ڈگری موجود تھی۔
سر نے گاڑی سے فائل نکالی اور میری طرف بڑھائی۔ اس لمحے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ میں نے عرض کیا:
"سرجی ایک تصویر ہو جائے۔”
ایک بندے سے درخواست کی گئی اور اس نے اس یادگار لمحے کو محفوظ کر لیا۔ سر نے ڈگری میرے ہاتھ میں دی۔ وہ کاغذ نہیں تھا برسوں کی محنت کا ثمر تھا، استاد کی رہنمائی کا نتیجہ تھا اور والدین کی دعاؤں کا عکس تھا۔
سر نے ساتھ ہی حکم دیا کہ جلد از جلد اپنے مقالے کو کتابی صورت دیں۔ انھوں نے چند اہم علمی مشورے بھی دیے۔تحقیقی معیار، حوالہ جات کی ترتیب اور اشاعت کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ شاردہ پبلی کیشنز کا ذکر آیا۔ سر نے فرمایا کہ علمی کام کو محض ڈگری تک محدود نہیں رہنا چاہیے اسے معاشرے تک پہنچانا چاہیے۔
باتوں ہی باتوں میں انھوں نے وعدہ کیا کہ عید کے بعد بچوں کو لے کر مظفرآباد آئیں گے۔ یہ وعدہ سن کر دل میں خوشی کی ایک اور لہر دوڑ گئی۔ استاد کا شاگرد کے شہر آنا محض ملاقات نہیں بلکہ نسبت کی توثیق ہوتا ہے۔
میں مزید دیر تک اس محبت کو سمیٹتا رہتا مگر برادرِ نسبتی اویس قریشی کال نے یاد دلایا کہ مجھے واپس مظفرآباد جانا ہے۔ سر نے فرمایا:
"آپ نے کہاں جانا ہے؟ میں چھوڑ آتا ہوں۔”
میں نے شکریہ ادا کیا اور عرض کیا کہ بھائی گاڑی لے کر آ رہا ہے۔ سر نے دعاؤں کے حصار میں رخصت کیا۔
اس دن جب میں نمل سے واپس لوٹا تو میرے ہاتھ میں ڈگری تھی مگر دل میں جو سرمایہ تھا وہ کہیں زیادہ قیمتی تھا۔استاد کی محبت، شفقت، رہنمائی اور خلوص۔
زندگی کے سفر میں ڈگریاں اور اسناد اہم ہوتی ہیں مگر اصل دولت وہ تعلقات ہوتے ہیں جو علم کے رشتے سے بندھتے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب جیسے اساتذہ کی موجودگی میں شاگرد خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پیچھے دعا دینے والی ہستیاں موجود ہیں۔
آج جب میں اپنی ڈگری کو دیکھتا ہوں تو اس پر صرف اپنا نام نہیں پڑھتا بلکہ اس میں استاد کی محنت، ادارے کا وقار اور خاندان کی دعائیں جھلکتی نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی محبتیں واقعی کم نہیں ہوتیں وہ وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں اور شاگرد کے دل میں ہمیشہ کے لیے گھر کر لیتی ہیں۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |