تحقیق کی دنیا کا روشن نام
از: ڈاکٹر صائمہ خان
موجودہ معاشرہ جہاں ادب و کتاب سے بہ تدریج دور ہوتا جا رہا ہے وہیں کچھ ایسے باصلاحیت اور علم دوست انسان بھی موجود ہیں جن کی وابستگی اس زوال پذیر روایت کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ یہ امید کی کرن ہیں کہ مستقبل میں یہی افراد علم و ادب کی شمع کو روشن رکھنے کا فریضہ خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتے رہیں گے۔ انہی روشن ناموں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا ہے جو اب تحقیق و ادب کی دنیا میں ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار آزاد کشمیر شعبۂ تعلیمِ کالجز میں بہ طور لیکچرر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی اعلا تعلیم نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے حاصل کی، جہاں سے ایم۔اے اور ایم۔فل کے بعد انھوں نے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کا تحقیقی موضوع “اردو میں املا اور تلفظ کے مباحث: لسانی محققین کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ” تھا۔یہ مقالہ اردو لسانیات کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو پر ایک وقیع اضافہ ہے۔
علمی و ادبی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر فگار نہایت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج میرپورہ ، نیلم کے ادبی مجلے “بساط” کے مدیرِ اعلا اور گرین ایرا ہائی اسکول مظفرآباد کے مجلے “کاوش” کے اعزازی مدیرِ اعلا کی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ٹھیریاں مظفرآباد کے رسالے فن تراش کی ادارت بھی انہی کی ذمے داری ہے۔ضلع نیلم کی تاریخ کا پہلا کالج میگزین”بساط” ان ہی کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ان کی ادبی بصیرت کا روشن ثبوت ہے۔
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق ادب کے اس قبیلے سے ہے جس کے لیے اردو زبان محض ایک ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ ایک طرزِ حیات ہے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہےاور یہی وجہ ہے کہ ملک کے نام ور ادیب اور شعرا بھی ان کی کاوشوں کے معترف ہیں۔ اگر انھیں اردو کا سچا عاشق کہا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ علم و ادب کا ایسا دریا ہیں جو تشنگانِ علم کو سیراب کر رہا ہے۔
اگرچہ ڈاکٹر فگار بہ یک وقت شاعر، ادیب، کالم نگار، نقاد اور محقق ہیں مگر ان کی اصل پہچان ایک محقق کی حیثیت سے قائم ہوئی ہے۔ وہ تحقیق میں غیر معمولی احتیاط اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی بھی لفظ یا شعر کی تصدیق کے لیے مختلف مآخذ تک رسائی حاصل کرنا، ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور مستند نتائج تک پہنچنا ان کا خاصہ ہے۔ اگر کوئی مشتبہ شعر یا متن ان کی نظر سے گزر جائے تو وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے جب تک اس کی حقیقت تک نہ پہنچ جائیں خواہ اس کے لیے انھیں طویل مسافت ہی کیوں نہ طے کرنی پڑے۔
ان کی یہی تحقیق پسندی اور ادب دوستی انھیں اہلِ علم کے حلقوں میں ممتاز بناتی ہے۔ان کی تحقیقی خدمات پر پشاور یونی ورسٹی سے تحقیقی مقالہ "فرہاد احمد فگار بہ طور محقق” کے عنوان سے لکھا جا چکا ہے۔ انھوں نے بڑے نام ور ادبا اور شعرا سے فیض حاصل کیا اور اپنی علمی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو زبان کی اصلاح اور دفاع کا جذبہ بھی ہےجو ان کے تحقیقی موضوع سے بہ خوبی ظاہر ہوتا ہے۔
تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر فگار ایک عمدہ شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی، سماجی شعور اور جذباتی سچائی نمایاں ہے۔ وہ ہر حال میں شعر کہنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام کے حوالے سے ان کا یہ شعر خاص طور پر مقبول ہے:
شمعِ اسلام جس سے فروزاں ہوئی
وہ لہو مصطفیٰ کے گھرانے کا ہے
اسی طرح معاشرتی ناہمواریوں پر ان کی تنقیدی نظر بھی قابلِ داد ہے:
مزدوروں کے نام پہ اب کے بھی
کچھ لوگوں نے صرف سیاست کی
اگرچہ ان کا شعری سفر ابھی جاری ہے، تاہم اس میں روشن امکانات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف علمی و ادبی حلقوں میں کیا جا رہا ہے۔
تحقیق ایک بحرِ بے کراں ہے، جس میں اتر کر اس کی گہرائی تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک سچا محقق وہی ہے جو اس سمندر کی تِہ تک جا کر نایاب موتیوں کو تلاش کرے اور انھیں اہلِ ادب کے سامنے پیش کرے۔ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار اس کٹھن سفر کو جس عزم، محنت اور خلوص سے طے کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔
ان کی شائع شدہ تصانیف “احمد عطا اللہ کی غزل گوئی” اور “بزمِ فگار” ان کی تحقیقی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جب کہ ڈاکٹر افتخار مغل کی کتاب “آزاد کشمیر میں اردو شاعری” کو مرتب اور شائع کروانا بھی ان کا اہم کارنامہ ہے۔ ان کی شاعری میں تحقیق کا رنگ ملاحظہ ہو:
تحقیق کس جگہ ہوئی اور کس جگہ نہیں
اس باب میں بھی تھوڑی تحقیق ہو نہ جائے
اسی طرح بیٹیوں سے محبت اور گھریلو فضا کی خوب صورت ترجمانی ان کے اس شعر میں جھلکتی ہے:
اداسیوں سے اٹے ہوں گے سب در و دیوار
جو آنگنوں میں ہمارے نہ بیٹیاں بولیں
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ایک ایسے تخلیق کار ہیں جو اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں عجز، انکساری اور سادگی نمایاں ہے، جو ان کے علمی وقار کو مزید جِلا بخشتی ہے۔
بلاشبہ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار تحقیق کی دنیا کا ایک روشن نام ہیں اور اردو زبان کی بقا و ترقی کی ایک مضبوط امید بھی۔

اسسٹنٹ پروفیسر اردو
گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج
گھنڈی پیراں مظفرآباد
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |