ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جی7 ممالک نے مشترکہ طور پر بتایا ہے کہ ایران ہتھیار ڈالنے والا ہے۔ دنیا کی سات بڑی اور ترقی یافتہ معیشتیں "جی7” کہلاتی ہیں، جن میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریک شامل ہیں۔ امریکہ بجٹ اور دفاعی اعتبار سے بڑا ملک ضرور ہے لیکن یہ امریکہ ہی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بھی ہے۔ امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ مئی 2025 تک 36.2 ٹریلین ڈالر (36 ہزار 200 ارب ڈالر) سے تجاوز کر گیا تھا، جو ملک کی تاریخی بلندی تھی۔ یہ قرض ملک کی کل جی ڈی پی سے بھی زیادہ بنتا ہے اور مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے یعنی اس وقت بھی امریکہ کا کل قرضہ 36.2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے جس کے 36,200,000,000,000 اعداد ہیں۔ یہ امریکہ کا قومی قرضہ ہے۔ ایران پر 12,840,000,000 ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔ ایران پر امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے مختلف نوعیت کی پابندیاں تقریباً 45 سال (1979 کے انقلاب ایران) سے عائد ہیں، جن میں شدت اور نرمی آتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی 8 سالہ میزائل پابندیاں 18 اکتوبر 2023 کو ختم ہوئیں۔ تاہم امریکی یکطرفہ اقتصادی اور عسکری پابندیاں ایران پر اب بھی جاری ہیں، اور اسے امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا بھی سامنا ہے۔ اس وجہ سے ایران کی کرنسی کی قدر نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ ایک امریکی ڈالر 1,321,725.00 ایرانی ریال کا ہے، جو الفاظ میں تیرہ لاکھ ایرانی ریال سے زیادہ بنتے ہیں۔ ایران میں بکنے والے باغیوں کی کمی نہیں ہے جو ایرانی ٹاپ لیڈرشپ کی مخبری کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت بھی سرفہرست ہے۔ اگر پیسے سے ملکوں کی غیرت خریدی جا سکتی تو جتنی ایرانی کرنسی ڈؤن ہے اس سے چند سو ایرانی غدار تو کیا پورا ملک ہی خریدا جا سکتا ہے، پھر جنگوں کی ہار جیت یا ہتھیار پھینکنے کا تعلق ملکی معیشت یا ترقی یافتہ ہونے پر ہو تو افغانستان میں روس اور امریکہ کو افغانیوں سے ہتھیار ڈلوانے کے لیئے دہائیوں تک ناک رگڑنے کی کیا ضرورت تھی۔
بلاشبہ "گروپ آف سیون” دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک کی ایک غیر رسمی تنظیم ہے۔ یہ ایک بااثر بین الاقوامی فورم ہے۔ یہ ممالک عالمی دولت کا 58 فیصد اور خام ملکی پیداوار کا بڑا حصہ رکھتے ہیں، جو عالمی معاشی پالیسیوں، سلامتی اور اہم بین الاقوامی مسائل پر سالانہ اجلاس کے ذریعے مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ ان ممالک کو دنیا کی سب سے بڑی آئی ایم ایف یعنی ترقی یافتہ معیشتوں کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، جو عالمی سیاست اور اقتصادیات میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ جی7 فورم 1975ء میں قائم ہوا تھا۔ جس طرح آج ایران کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے، 1975 میں بھی دنیا کو معاشی بحرانوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا تھا۔ ہرمز کی تنگ آبی گزرگاہ پر ایران کو مکمل کنٹرول حاصل ہے جو دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ عالمی کھپت کا تقریباً 20 فیصد سے 25 فیصد تک تیل گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ میں ایران نے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں جن میں وہ مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی خطرناک بندش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 103 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 98 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے، جو 2020ء کے بعد سے سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
ابتدائی طور پر یہ گروپ 6 ممالک پر مشتمل تھا، لیکن جلد ہی کینیڈا کی شمولیت سے یہ جی7 بن گیا۔ اس فورم کا مقصد دنیا کے اہم معاشی اور سیاسی مسائل پر بات چیت اور مشترکہ حل تلاش کرنا بھی تھا۔ ایران کی جنگی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بحر ہرمز کی بندش کو ایک عالمی معاشی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ میر تقی میر کے اس شعر کہ، "ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا”، ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس کو دہائی دی ہے کہ وہ ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیئے اس کی مدد کریں۔ایران چند ہفتے یا مہینوں آبنائے ہرمز کو بند رکھے رہنے میں کامیاب رہا اور امریکہ اسرائیل نے بھی ایران حملے کرنے جاری رکھے اور "سیز فائر” نہ ہوئی تو دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی اور دنیا بھر کو تاریخ کا سب سے بڑا معاشی بحران دیکھنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کچھ ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیج رہا ہے، اور پھر بشمول فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنے بحری جہاز بھیجیں۔ حد تو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس سے بھی مدد مانگ لی، جو جنگ میں ایران کے حلیف ہیں، جبکہ چین روس سے بذریعہ زمین تیل بھی لے رہا ہے، اور امریکہ کی ٹکر کی ان دونوں عالمی طاقتوں کو تیل کی اتنی کوئی مجبوری بھی نہیں ہے۔
امریکی صدر نے اسی دوران یہ بیان بھی جاری کیا کہ "ہم نے ایران کی فوجی صلاحیت کا 100 فیصد تباہ کر دیا ہے۔” آبنائے ہرمز میں عالمی مدد لینے کے لیئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران ہرمز کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں میزائل بھی مار سکتا ہے اور بارودی سرنگیں بھی بڑھا سکتا ہے۔ اگر ایران کی طاقت کو سو فیصد ختم کر دیا گیا ہے تو پھر دنیا کو کسی قسم کے معاشی بحران کا خطرہ نہیں ہونا چایئے۔ امریکی صدر یہ حربے ایران پر صرف نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔
اگرچہ دنیا کے اقتصادی استحکام، بین الاقوامی سلامتی، توانائی کی پالیسیوں، جمہوریت، انسانی حقوق اور ترقیاتی معاونت جیسے امور میں جی7 کے ممالک اہم کردار ادا کرتے ہیں، دنیا بھر میں ان کا معاشی اثر و رسوخ ہے اور یہ ممالک عالمی دولت کا اٹھاون فیصد اور عالمی جی ڈی پی کا بہت بڑا حصہ بھی رکھتے ہیں لیکن جنگ تو جنگ ہے جس کا تعلق فتح اور شکست سے ہوتا ہے۔ پھر ویت نام جیسی امریکی جنگ کی طرح بعض جنگیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا تعلق ہار جیت کی بجائے ان سے نکلنے والے نتائج اور اثرات سے ہوتا ہے۔ اس جنگ میں جہاں امریکہ کو اپنے ہی ملک میں "بیک فائر” ہو رہا ہے وہاں پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی بحران کا الزام امریکہ اور اسرائیل کو دے رہی ہے کیونکہ بے بنیاد الزامات لگا کر اس جنگ کی ابتداء امریکہ اور اسرائیل ہی نے کی تھی۔
جی7 کے اجلاسوں میں یورپی یونین بھی ایک مہمان کی حیثیت سے شرکت کرتی ہے، جس سے اس کی عالمی اہمیت کا وزن بڑھتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں، جی7 نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات، ایران کے ایٹمی پروگرام، یوکرین روس جنگ، اور چین کے ساتھ تعلقات جیسے اہم معاملات پر مشترکہ بیانات جاری کیے ہیں۔ یہ گروپ عالمی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل جیسے اتحادیوں کی حمایت اور ایران کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے۔
جی7 دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ طاقتوں کا ایک اہم اتحاد ضرور ہے لیکن اس کا حالیہ کلیدی سیاسی کردار جنگ میں ایران کی مخالفت اور امریکہ اسرائیل کے حلیف جیسا ہے۔ کینیڈا میں ہونے والی حالیہ سمٹ میں ایران کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے جی7 نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اب اسی پس منظر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جی7 کے طاقتور وجود کو ایران کے خلاف ایک اور نفسیاتی دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران عنقریب ہتھیار پھینک دے گا یعنی وہ اپنی شکست تسلیم کر لے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |