ہر چھٹی ایک ہی پتے پر
مصنفہ:عندلیب بھٹی
”سچی محبت”۔۔۔کیا مطلب ؟تو کیا کوئی جھوٹی محبت بھی ہوتی ہے؟۔۔۔
”سچا دوست”۔۔۔کوئی جھوٹا بھی دوست ہے؟
کچھ روز پہلے سوشل میڈیا پر ایک صاحب فرما رہے تھے،زندگی میں ایسے لوگ ضرور تلاش کریں جو آپ کے دکھ کے لمحات میں آپ کے ساتھ ہوں۔
اہم یہ ہے کہ جس کو دیکھو ”ایسے لوگ”ہی تلاش کر رہا ہے،نتیجہ; سب کی تلاش جاری ہے،اور کبھی ختم نہیں ہو نے والی۔۔سب غلط کرنے کے بعد کسی صحیح شخص کی امید میں ہیں۔۔مزید برآں سب کو پتا ہے کہ وہ مکمل صحیح اور دوسرا پورا غلط ہے،کیوں؟
ایک بات ضرور ایسی ہے ،جس پر سب متفق ہیں۔۔اور وہ کیا ہے؟وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی اپنے مخاطب کو کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہے،تو وہ ذوق و شوق سے ”ہاں”کہتا ہے۔
سوال ۔۔یہاں سوال نہیں،سوالات ہیں۔
سب کو پتا ہے زمانہ خراب ہے،مگر کہنے اور سننے والا دونوں اُس وقت میں ہی جی رہے ہیں۔کیا وہ زمانے میں شامل نہیں۔۔اور کیوں سب کو پتا ہے کہ دوسرا غلط اور وہ صحیح ہے،جب کہ دوسرے کے اندر بھی ”میں”کے طور پر یہی بات ایک ہی وقت میں چل رہی ہو گی۔
سب سے اہم طلب اور تمنا کیا ہونی چاہیے؟
ایک شخص اپنے کمرے میں سبھی کھڑکیوں اور دیواروں پر دلکش منظر رنگوا کر وہیں صبح شام کرتا ہے۔ایک وقت بعد اُسے لگنے لگتا ہے،یہی سچ ہے،اور وہ ایک باغیچے میں زندگی گزرا رہا ہے۔یا اُس کے گردونواح میں پھولوں کی بہتات ہے۔۔
ایک شخص نے گرمی کے موسم میں بہترین ائیر کنڈشنر لگا رکھا ہے۔اُس کے دن رات وہیں بسر ہوتے ہیں۔اُسے لگنے لگےکہ موسمِ سرما ہے۔
دونوں اشخاص کو کھڑکی کھولنے کی ضرورت ہے،تا کہ حقیقت سے آگاہی ہو۔ورنہ اچانک بجلی جانے یا کھڑکی کھلنے پر باہر سے آتی گردو غبار صدمے سے دوچار کرے گی۔
۔۔یعنی۔۔حقیقت وہ نہیں جو ہر انسان کو دکھائی دیتی ہے۔۔سچائی وہ جو تلاش کی جاتی ہے۔۔۔مگر کیسے۔۔؟
کھوج سے۔۔اور کھوج کا پہلا زینہ شعور کی بلندی ہے۔ورنہ اپنے تئیں سب عاقل۔۔اِس لیے آج کسی کو کسی علم والے کی تلاش نہیں،جستجو بھی نہیں،اور ضرورت تو ہرگز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ وہ عمل جو ”تو”سے ”میں”کی طرف جاتا ہے ،وہ ”میں”سے تو کی طرف جانا چاہیے۔
”جی ہاں”تناظر،پس منظر،وابستگیاں واضح ہونی ضروری ہیں۔اگراچھا پرفیوم لگانا ہے تو اِس لیے لگائیں،کہ آپ کو پسند ہے،اِس لیے نہیں کہ محفل میں سب رُک جائیں،اور مڑ کے دیکھیں،نیز اُس خوشبو کو اپنی پسند کہیں،نا کہ پوری دنیا کے لیے اُسے بہترین مان لیں۔
جو رنگ آپ کو پسند ہے،وہ اِس لیے پہنیں کہ آپ کو اچھا لگتا ہے۔نا کہ سراہے جانے کے لیے۔۔اور اس کو سب سے اچھا رنگ نا کہیں،بلکہ اپنی پسند مانیں۔
حقیقت وہ نہیں جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ہمیں اتنا نظر آ رہا ہے،جتنی ہماری نگاہ کی رسائی ہے۔ایک انسان مکمل اندھیرے میں دو قدم ہی دیکھ سکتا ہے،جب کہ چیل اور الّو بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں،گویا آپ کااور اُن کا اندھیرا ایک ہو کر بھی ایک سا نہیں۔آپ کہیں گے،آگے دکھائی نہیں دے رہا،جب کہ حقیت یہ ہے کہ آپ نہیں دیکھ پا رہے۔جب کہ کوئی اور آگے کسی کو کھڑے دیکھ سکتا ہے۔جب کہ آپ کے لیے کچھ دور کوئی نہیں۔
ایسے میں اجالے کی ضرورت ہوتی ہے،بہ ظاہر دیکھنے کے لیے اور سمجھنے کے لیے ذہنی روشنی کی۔۔۔
اہم فاعل ہے،مفعول نہیں۔۔۔مگر کسی کو کچھ غلط لگے تو وہ اپنی سمجھ کو نہیں بڑھاتا،بلکہ دوسرے کوصحیح نا مان کر اپنے لیے نقصان کا سامان کرتا ہے۔۔کیسے؟
اگر کسی کا کوئی عمل آپ کو مناسب نہیں لگا،یا سمجھ نہیں آیا۔(یہاں آفاقی اخلاقیات کی نہیں ذاتی تعلق کی بات ہے)۔۔تو اُسے غلط مان کر اُس کے اُس نفع سے محروم ہو جاتے ہیں،جو آگے چل کر آپ کے حصّے آنے والا تھا،یوں کسی کو اِس بنا پر اچھا مان کر اندھا دُھند تقلید کرنی شروع کر دی کہ آپ کو ٹھیک لگا،جب کہ وہاں ایسا کچھ نہیں تھا،سو آگے چل کے یہی۔۔”نہیں”آپ کے نقصان کا باعث بنتا ہے۔۔جس پر کہا جاتا ہے ۔۔۔بھئی وہ تو بدل گیا،پہلے کتنا اچھاتھا۔”جب کہ وہ نہیں بدلتا۔بس اُس کی حقیقتیں آپ کے سامنے ظاہر ہوتی چلی گئیں۔
سو۔۔پہلی بات تو یہ کہ پسند نا پسند معیار کیسے ہوسکتی ہے۔جو پسند ہے وہ سارا صحیح،اور جو ناپسند ہے،وہ پوراغلط۔۔کیسے۔۔۔؟
کھوج۔۔سب سے اہم بات ہے۔اِس کے لیے کچھ اصول اور قوانین ہیں،جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔۔(یہاں انھیں تحریر کرنا طوالت کا باعث بنے گا۔)
تناظر۔۔ہاں وہی اہم ہے۔تعلقات کے مابین واسطے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔۔اگر کوئی کولیگ ہے تو اُسے اُسی نظریے سے دیکھ کر پرکھ رکھنی ہوگی۔۔اور وہ بھی اُس پرکھ سے دائیں بائیں نکلے گا یا گی۔۔توغلطی پکڑ میں آ جائے گی۔
دوست ہے،تو دوستی کے اپنے معیار اور اصول ہیں۔۔اُن کا دائرہ کار رسمی،غیر رسمی،خاندان۔۔میں دیکھ کر سمجھ کر اُس بیچ ہی راہ لینی چاہیے۔
محبت۔۔محبت کے ایسے ضوابط ہیں،دائرے ہیں۔اُسے اُن سے باہر نہیں رکھ سکتے۔۔۔
ہر ایک تعلق اپنی الگ پہچان اور تعارف رکھتا ہے۔ماں،باپ،بہن،بھائی،پھر خاندان،گھر سے باہر،راہ گیر سے لے کر دفتراور ذاتی تعلق،اور اُن کے درمیان بھی سب کی الگ نوعیّت ہے۔
ہرجگہ کے اپنے قاعدے اور اصول ہیں۔سب سے پہلے جگہ کا تعارف۔۔اِس کے بعد وہاں کے لوگوں کی حیثیت۔
یہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ کیا کولیگ سے محبت نہیں ہو سکتی؟
ہاں!ہو سکتی ہے،مگر ہر گولیگ سے نہیں۔۔اور محبت ہو جانے میں جو وقت درکار ہو گا،تب تک وہ ایک ساتھی ہے۔۔
اِسی طرح محبت اور دوستی ایک نہیں ،عشق کچھ اور ہے۔جہاں بھی ہو۔ٹھیک ہے،مگر ہر جگہ ہر کسی سے نہیں ہو تا۔۔اور اُس سے پہلے۔۔یہ سبھی جذبات سچے ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔جھوٹ تو تب شروع ہوا جب ہر تعلق میں یہ نام استعمال ہونے لگے۔۔کیونکہ سب سے اہم ایک انسان کی زندگی میں یہی ہیں۔۔۔اِس لیے ہر لفافے پر یہ نام تحریر ہونے لگے،اندر مواد کچھ اور بکنے لگا۔۔تو پھر کہنا پڑا،”سچی محبت”سچی دوستی”۔۔۔
چہ جائیکہ ۔۔۔یہ ضروری ہے کہ آپ کو کسی سے لگن ہو گئی تو اب اُس پر لازم ٹھہرا کہ وہ وہی سوچے جو آپ چاہتے ہیں۔محبت کے اصولوں میں تو یوں بھی دوسرے کی خوشی اہم ہوتی ہے۔
یوں سبھی اندھا دھند اپنی اپنی حقیقتیں لیے بھاگے چلے جا رہے ہیں،کہاں؟یہ کسی کو بھی نہیں پتا۔سب کو سچی محبت چاہیے،سب کوسچا دوست چاہیے۔
کوئی دو لمحے رُک کے نہیں سوچتا ،یا پوچھتا ۔۔خود سے۔۔ کہ کہیں مجھے کچھ جاننے اور سمجھنے یا درست ہونے کی ضرورت تو نہیں۔۔۔
پتا۔۔۔۔ہر شخص۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ یوں،صدقے جاؤں ہر چھٹی بس ایک ہی پتے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریسرچر علم بشریات۔۔مصنفہ۔۔کاونسلر۔۔رویہ ساز۔۔پرسنیلیٹی میکر۔۔روحانی طبیبہ
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |