باباۓ مردان گوہر رحمٰن گہر مردانوی
انٹرویو کنندہ:۔ سید حبدار قائم
حرف و صوت کی ترنگ سے آشنا بزرگ استاد شاعر، افسانہ نگار، انشاء پرداز اور نثر نگار گوہر رحمان گہر مردانوی خیبرپختونخوا کے دوسرے بڑے شہر ضلع مردان کی تحصیل تخت بھائی کے علاقے بائیزئی ( لوندخوڑ گاؤں محلہ دیوان ) کوچاس میں حلیم گل عرف اخوند بابا کے ہاں 10 اپریل 1976 کو پیدا ہوئے
آپ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ادب کے لیے کوشاں ہیں مردان کی ادبی تاریخ ان کی شمولیت کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکتی مختلف اصنافِ سخن پر مکمل دسترس رکھنے پر بہت سارے نو آموز ادیبوں کی اصلاح بہت خوشی سے کرتے ہیں اگرچہ بیمار ہیں لیکن ادب کے لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے ہمارے اٹک سے خصوصی محبت کرتے ہیں اس کے بہت سارے ادیبوں اور صحافیوں سے دوستی کو دل سے لگاۓ ہوۓ ہیں
میں نے اخبارات میں ان کے افسانے انشائیے تبصرے اور شاعری پڑھی ہے ان کا انداز باقی ادیبوں سے مختلف ہے شاعری میں سادگی اور روزمرہ کے مسائل کو حکومتی سطح تک پہنچاتے رہتے ہیں
ادب کی خدمت ان کا مقصد ہے اسی مقصد کے لیے دن رات کوشاں رہتے ہیں میرے خیال میں صوبائی سطح پر ایسے ادیبوں کی پذیرائی حکومت اور ادبی تنظیموں کا حق بنتا ہے لیکن ابھی تک یہ پہلو تشنہ لب ہے اور
ان کی حکومتی لیول پر کوئی مدد نہیں ہوئی مردان کے سکول میں آرٹ پڑھاتے ہیں اور زندگی کی گاڑی مشکل سے کھینچ رہے ہیں بیماری ساتھ ساتھ ہے لیکن جذبے جوان ہیں محنت جاری ہے جہاں تک میں جانتا ہوں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور بغیر لالچ کے نئے شعرا کی اصلاح کرتے ہیں
آئیے ان سے ایک علمی مصاحبہ کر کے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
س۔ سر باباۓ مردان تک پہنچنے کے احوال سنائیں؟ یعنی کہاں پیدا ہوۓ کہاں اور کتنی تعلیم حاصل کی اور پیشہ کیا ہے ؟
جواب۔ یہ خاکسار اردو کا پیادہ خیبرپختونخوا کے دوسرے بڑے شہر و ضلع مردان کے تحصیل تخت بھائی جو کہ پرانی تہذیب گندھارا کا مرکز رہا ہے کے علاقے بائیزئی ( لوندخوڑ گاؤں محلہ دیوان ) کوچاس جہانِ ناپائیدار میں حلیم گل عرف اخوند بابا کے ہاں آ وارد ہوا اور بچپن ہی سے مختلف متعدی بیماریوں کا شکار رہا لیکن رب العالمین کو ہر حال میں زندہ رکھنا تھا سو اب تک زندگی کی گاڑی کھینچ رہا ہے ۔جہاں تک بابائے مردان تک کے سفر کا تعلق ہے تو یہ کہانی بڑی لمبی ہے لیکن اختصار یہ ہے کہ جماعت ہشتم سے اردو ادب کا خمار چڑھا بالخصوص میرے غائبانہ استاد گرامی مرشد علامہ اقبال کی نظموں سے سال 1989/90 کے درمیان پہلا کلام بزور آورد ہوا جو کچھ اس طرح کا تھا کہ
دیدہ و دل نے جیسے کھینچ لیا
وہی نقشہ سراب کا نکلا
میں نے شربت سمجھ کے پی ڈالا
وہی پیالہ شراب کا نکلا
میرے مدرسے کے استاد مکرم جناب بہادر شاہ صاحب نے میری ڈائری دیکھ کر کہا تھا کہ گوہر رحمٰن یہ شاعری تمہیں خراب کر دے گی لیکن وقت کے ساتھ یہ ذوق پروان چڑھتا گیا اور نصابی کتابوں میں شعراء کے کلام سے سیکھ سیکھ کر کچا پکا مجموعہ تیار کر لیا لیکن میرے ارد گرد سوائے پشتون شعراء کے کوئی اردو کا شاعر تو چھوڑ اردو سے منسلک اعلی سند یافتہ استاد تک میسر نہ تھا سوائے میرے ہم جماعت پروفیسر جمیل احمد کے والد پروفیسر علی رحمان صاحب کے لیکن ان کو اصلاح کے لیے کہا تو انہوں نے بھی معذرت کرلی کہ میں شاعر تو نہیں صرف کالج کی سطح تک اردو پڑھاتا ہوں لیکن مایوس نہ ہوا ۔ جبکہ میرے ایک اور ہم جماعت حالیہ ڈاکٹر صابراللہ لندن نے اس وقت مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کی شاعری کا ایک مجموعہ ضرور شائع کردوں گا ۔
تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ جماعت دہم تک رہا باقی سفر محنت مزدوری کے ساتھ بے قاعدہ یعنی بطور پرائیویٹ امیدوار بی اے تک تعلیم حاصل کی اور ساتھ فنون لطیفہ کی تربیت لیکر بطور معلم فنونِ لطیفہ یعنی ڈرائنگ ماسٹر سرکاری ملازمت سے 2007 میں منسلک ہو گیا
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرعام پر لانا چاہے؟
آپ کے پہلے سوال میں کچھ وضاحت موجود ہے مزید یہ بتادوں کہ شوق بچپن سے پروان چڑھا اور اس وقت خاکسار پر صرف اردو سیکھنے کا خبط سوار رہا لیکن ایک پٹھان معاشرے میں اردو بول چال تذکیر و تانیث کی اغلاط سے تا حال خالی نہیں اس لیے آج جب اپنے پرانے یاداشتی نوشتے کھول لیتا ہوں تو اپنے آپ پر ہنسی آتی ہے لیکن اس چھپے شاعر کو ایک دن ضرور باہر آنا تھا تو خوش قسمتی سمجھ لیں کہ سماجی ابلاغیات نے فاصلے اور اکتساب علم کو پہلے پردہ سیمیں یعنی ٹی وی و کمپیوٹر جن کی نجی ادارے سے تعلیم بھی حاصل کی اور بعد میں لاسلکی ہاتف یعنی موبائل نے جیب تک لا کر آسانی پیدا کردی۔
س۔ ادبی دنیا میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں اور کس سے اصلاح لیتے ہیں؟
جس طرح کہ اوپر مذکور ہے میری کج بختی کہ نزدیک کوئی اردو شاعر میسر نہ تھا اور پشاور کے زعماء ادب تک پہنچنا ہم جیسوں کے لیے کارِ دارد تھا جبکہ پشاور جامعہ نے بھی اس خوگر اردو کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا اور بی اے میں جیسے تیسے کامیابی تو ملی لیکن ایم اے اردو جس کے لیے اپنی سخت مشقت سے کمایا پیسہ صرف خلاصوں تک محدود نہ رکھا بلکہ وہ سارا درکار نصاب بھی خریدا جس سے نہ صرف اردو ادب خود احتسابی عمل سے سیکھا بلکہ خیال تھا کہ جامعہ پشاور اردو شعبہ پاس بھی کردے گی لیکن پانچ چھ بار (وایوا ) یعنی زبانی امتحان میں فیل کرکے اس دلِ بے قرار کو مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا اور ایم اے اردو انہی معاندانہ رویوں سے اب تک ایگری گیٹ یعنی نہ پاس نہ فیل ہے اس لیےاس وقت قسم کھائی کہ ان جیسوں کو دکھاؤں گا کہ کامیابی صرف اسناد سے نہیں ملتی محنت اور خود اکتسابی عمل سے بھی ممکن ہوسکتی ہے اس لیے ہر بار مردان آکر لنڈے سے ڈائجسٹ اور رسائل خرید کر پڑھتا جاتا جس سے اس قدر ہوا کہ اردو کی سمجھ آگئی اس لیے میرے اساتذہ وہ ادیب و شاعر ٹھہرے جن کی کتابیں پڑھتا گیا جبکہ باقاعدہ کوئی استاد نہ میسر تھا نہ شاعر اور نہ کوئی اصلاح کار بلکہ وقت اور اپنی ذاتی محنت نے میرے ذوق شاعری و تصانیف نگاری کو پروان چڑھایا۔۔
س۔ مجھے علم ہے میرے علاوہ بہت سارے شعرا نے آپ سے اصلاح لی ہے کبھی تنگ نہیں پڑتے؟
نہیں جناب بالخصوص آپ جیسے خوگرانِ اردو اور سر زمینِ اٹک کی محبتوں کا تو یہ خاکسار ہمیشہ مقروض رہے گا کیونکہ اسی خطے کے تین سپوتوں جناب اقبال زرقاش بھائی جناب شہزاد حسین بھٹی بھائی اور جناب سردار ایاز خالد صاحب نے خاکسار کے غریب خانے پراتنی دور سے آکر وہ عزت افزائی فرمائی جس کا بدلہ مشکل سے چکا پا رہا ہوں بلکہ اسی پر بس نہیں جب سماجی دنیا یاہو اور ایم ایس این کے بعد11 /2010′ میں خصوصاً کتاب چہرہ یعنی فیس بک اور وٹس ایپ رابطے بحال ہوئے تو اسی سر زمین اٹک کے دلدادگانِ ادب نے اس گوہر گمنام کو نہ صرف کاروانِ قلم اٹک بلکہ حضرو بہارنو کے جناب درویش ڈار صاحب اور مرزا ارشد صاحب نے وہ عزت دی جس کی مٹھاس اب تک منہ سے جاتی نہیں تو اس ادبی زرخیز زمینِ محبت کا تقاضا تنگ نہیں ہونے دیتا۔جبکہ دیگر میں چاہے سندھ کے ہوں ہندوستان کے ہوں آزاد و مقبوضہ کشمیر یا بلوچستان کے فاصلاتی شاگرد ہوں یا لکھنو و دہلی کے شاگرد سوائے چند مطلب پرستوں کے جو اپنی کتابیں تک اصلاح کروا کر منہ موڑ گئے کسی دوسرے شاگرد نے بلا وجہ تنگ نہیں کیا اگرچہ بعضوں کے کلام کی اصلاح دماغ کا دہی بنا دینے کے مترادف ہوتی ہے مگر انکار نہ کیا لیکن اب اس تاحیات مرض المرگی سے یاداشت کمزور اور بصارت تقریباً جاتی رہی ہے تو سوائے چند کے جن میں آپ بھی شامل ہیں کو انکار ممکن نہیں رہا
س۔ میں نے ادیبوں کے نخرے دیکھے ہیں جو نزدیک ہی نہیں آنے دیتے لیکن بغیر لالچ آپ بہت بڑا دل رکھتے ہیں اور ہر کسی کی مدد کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہوا؟
جواب۔۔ زمانے اور حالات کا ستایا ہوا اپنا ظرف بلند رکھتا ہے بے شک بعضوں کے نخرے اور زعمِ علم کا نشہ زیادہ ہوتا ہے لیکن جیسا کہ اوپر بتایا میرا کوئی اصلاح کار نہ تھا بلکہ وقت اور خود اکتسابی عمل نے اس مقام پر لاکھڑا کیا بلکہ شوق اور لگن نے اس احساس کو مزید راسخ کیا کہ ہو نہ ہو ادب میں اپنا الگ تشخص برقرار رکھنا ہے تو اللہ تعالیٰ نے راہیں کھول دیں اور خود احتسابی عمل سے کتابوں اور سماجی دنیا سے سیکھتا رہا اور وقت کی آگ سے تپ کر کندن بنتا رہا تو اپنے جیسے حالات دوسروں کے لیے بنانا بالکل بھی مناسب نہیں لگتا
س۔ پہلی تخلیق کب اور کہاں شائع ہوئی؟
جواب ۔اوپر مذکورہ ہم جماعت جناب ڈاکٹر صابراللہ مقیم لندن نے اپنا دسویں میں کیا ہوا وعدہ 2014 میں وفا کیا اور اس اردو کے پیادے کے لیے پچاس ہزار روپے کتاب کی اشاعت کے لیے بھیجے جس سے دو کتابیں ۔۔۔ (لآلی) یعنی ہیروں کی لڑی اور سکون قلب حمد و نعت مجموعے شائع کیے لیکن جس نزدیکی کمپوزر دوست کو اشاعت کے لیے دیں اس نے املائی اغلاط سمیت پیراگراف ترتیب تک درست نہیں کی اگرچہ مسودے کی کاپی پہلے دی تھی اور میں نے نشان دہی بھی کر دی تھی لیکن اسے شائد پیسوں کا لالچ تھا تو اسی طرح اغلاط سمیت شائع کر دیں اور گھر بھیج دیں جس کو دیکھ کر دل بیٹھ گیا چند کتب فروشوں کے پاس رکھ دیں لیکن ایک بھی نسخہ نہ بکا کیونکہ سماجی دنیا سے جہاں روابط میں آسانی ہوئی وہاں طالب علم اور قاری کو کاغذی کتاب سے دور کیا ۔تو اب تک یہی دو مجموعے شائع شدہ باقی بارہ مجموعے کمپوزڈ ہیں مگر استطاعت نہیں شائع کرنے کی
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب۔ ہمارے پشتون معاشرے میں شاعروں کو دماغ سے خارج تصور کیا جاتا ہے اس لیے جیسا کہ پہلے کہا کہ اولین نظم اور شاعری پر پذیرائی کی بجائے الٹا حوصلہ شکنی کی گئی لیکن سماجی ابلاغیات بڑھے تو مختلف آن لائن طرحی مشاعروں میں شرکت سے حوصلہ بڑھا اور کلام میں نکھار آتا گیا جبکہ بحر و قافیہ اور علم عروض کی سمجھ آتی گئی اس لیے اس طرف توجہ دی اور اس بارے میں معلومات اور مضامین پڑھ پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کی تب ہی عروض پر مکمل دسترس حاصل ہوئی اور حلقہء ادب کے نام سے وٹس ایپ گروپ بنا کر سکھانا شروع کیا لیکن ہر کوئی مفت سیکھنا چاہتا تھا بس یہ فائدہ ہوا کہ عروض کی اپنی کتاب مرتب ہوئی ۔ آج کل بھی معدودے ادب سے جڑے لوگ دور جدید سے خاکسار کی طرح قارئین کی عدم توجہی سے نالاں و شاکی نظر آتے ہیں
س۔ کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں؟
جواب۔ اب تک صرف دو کتابیں شائع ہوئیں لآلی اور سکون قلب جبکہ دُربار قافیتین و فاصل الشفتین مجموعہ گہر ریز منقوط و غیر منقوط مجموعہ شائع کرنے کا ارادہ ہے لیکن معیشت اجازت نہیں دیتی
س۔ کتابوں پر کتنے ایوارڈز مل چکے ہیں جو آن لائن نہ ہوں صرف تعداد بتا دیں؟
کتابوں پر اب تک کوئی انعام نہیں ملا اور نہ منتخب ہوئیں کیونکہ سوائے مخصوص لوگوں کے کسی نے نہ خریدیں اور نہ کسی ناشر نے مارکیٹ میں متعارف کیں بلکہ وہ بھی خاکسار کی طرح گذشتہ دس سال سے طاقِ نسیاں میں پڑی ہیں
س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
جواب۔ بطور ادیب و شاعر مطالعہ مشاہدے اور تجربات کو ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہوں کیونکہ ان مراحل سے گزر کر ہی اردو کے اس پیادے کو بابائے مردان کے نام متعارف کیا گیا آپ کو اوپر دیے گئے جوابات سے بھی کچھ نہ کچھ روشنی ملی ہوگی کہ مطالعہ اور عمیق مشاہدہ سے ایک ادیب تجربات کے مراحل سے گزر کر استاد شاعر و ادیب بن سکتا ہے
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے؟
جواب ۔حوصلہ افزائی و پذیرائی نہ ملے تو اندر کا ادیب و شاعر گمنامی اور عدم توجہی کی پاتال میں گر کر گم ہوجاتا ہے ۔ہاں البتہ کہیں نہ کہیں ذرا پذیرائی ملتی ہے تو اس کے جذبوں میں پھر جوش پیدا ہوتا ہے تبھی ہر شاعر و ادیب کے لیے حوصلہ افزائی کسی اکسیر کا کام کرتی ہے بصورت دیگر دل ہار بیٹھتا ہے
س۔ آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں؟
جواب ۔ہماری علاقائی پشتو شاعری کی سطح پر صرف چند ادبی تنظیمیں ہیں جو اپنے علاقے تک محدود رہتے ہیں کیونکہ وسائل کی عدم دستیابی اور عوامی پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے ایک خاص دائرہ کار میں محصور ہوکر رہ گئی ہیں جبکہ اردو کا تو اللہ ہی حافظ ہے سوائے انفرادی کاوشوں کے اجتماعی طور پر کوئی فعال تنظیم نہیں 2016 تا 2018 میں خاکسار کی کاوشوں سے تنظیم محفل رفقائے اردو مردان چلی تھی لیکن وہ بھی متعصب ٹولے کی نذر ہوگئی
س۔آپ جب رثائی ادب لکھ رہے ہوتے ہیں تو روحانی طور پر خود کو کیسا محسوس کر رہے ہوتے ہیں؟
جواب ۔جب بھی حزنیہ اور غم انگیز کلام لکھنے بیٹھ جاتا ہوں تو ہر شعر کی آمد سے پہلے آنسو کی لڑی بر آمد ہوتی ہے اور جب کلام کی مقصدیت پر غور کرتا ہوں تو ایک روحانی طمانیت محسوس ہوتی ہے اور سکون مل جاتا ہے کہ اپنے حصے کا حق تو ادا کر رہا ہوں اس لیے رثائی کلام سے جہاں وقتِ آمد رقت طاری ہوتی ہے وہاں روحانی تسکین بھی ملتی ہے کہ اس گنہگار سے اللہ تعالیٰ یہ کام تو لے رہا ہے
س۔آپ بیک وقت اردو پشتو اور پنجابی زبان میں لکھ رہے ہیں، ذہنی طور پر کس زبان میں لکھنا پسند ہے؟
جواب ۔اظہار کے لیے زبانوں کا استعمال پسندیدہ ماحول کا تقاضا کرتی ہے اور زبانوں سے محبت کا عالم یہ ہے کہ دل چاہتا ہے کہ دنیا کی ہر زبان سیکھ لوں اور اپنا مدعا مختلف اقوام تک انہی کی زبان میں زبان پہنچا دوں چاہے قومی زبان ہو یا علاقائی زبان ۔اردو اور پشتو میں اظہار بہ نسبت فارسی پنجابی اور انگریزی کے زیادہ آسان ہے کیونکہ اول الذکر قومی اور مؤخر الذکر مادری زبان ہے لیکن چونکہ فارسی پنجابی اور انگریزی کے لیے ذخیرہ الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کے لیے بار بار لغات سے رجوع کرنا پڑتا ہے جس سے نہ صرف ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ زبان پر دسترس بھی آہستہ آہستہ مضبوط ہو جاتی ہے
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟۔
جواب ۔ بطور معلم یہی کہنا چاہوں گا کہ ادیبوں کی مشکل پسندی اور نصاب کی بلاوجہ ضخامت سب سے بڑی وجہ ہے جب کہ قواعد و انشاء اور لغت بینی کی کمی بھی عدم توجہی کی سب سے بڑی وجہ ہے لیکن فی زمانہ سماجی ابلاغی لغویات کی بھر مار اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ ذیادہ مسائل پیدا کر رہے ہیں جس سے تساہل پسندی نے جگہ بنا لی ہے اور لوگ خود اکتسابی عمل سے زیادہ مصنوعی غیر معتبر معلومات پر زیادہ انحصار کرنے لگ گئے ہیں
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
جواب کتاب میلے گاؤں قصبے شہر کی سطح پر ضروری ہیں جس سے کتب بینی کا رجحان بڑھتا ہے اور لوگ ایسے صحت مندانہ اقدامات سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ کتاب سے قربت بڑھ جاتی ہے لیکن صد افسوس سوائے چند انفرادی کاوشوں کے نہ عوامی اور نہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں
س۔آپ کے شعری مجموعے پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے،آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
جواب ۔ ملاکنڈ اور پشاور جامعات کے کچھ طلباء نے رابطے کیے تھے لیکن شائد اسے خاکسار کی مشکل پسندی اور ادیبانہ تخلیقات کی سمجھ نہ آئی یا جامعات کی طرف سے اجازت نہ ملی کیونکہ ہمیں ابھی تک نہ سرکاری سطح پر اور نہ عوامی سطح پر کوئی پذیرائی ملی اور دارالخلافہ پشاور کے ادبا و شعراء تو صرف خود کو خدائے سخن سمجھتے ہیں دوسروں کو خاطر میں نہیں لاتے سوائے چند سماجی دنیا کے مخصوص عقیدت مندوں کے اس لیے کوئی کتاب منتخب نہیں ہوئی جبکہ میری نظر میں یہ اتنی ضروری بھی نہیں کیونکہ بقید حیات کسی کی قدر و قیمت نہیں لیکن اس عالم ناپائیدار سے اٹھ جانے کے بعد ہر کوئی ساغر صدیقی پر تحقیق کر رہا ہوتا ہے سو یہی انجام ہے اس اردو کے پیادے گوہرگمنام کا ۔ مرشد علامہ اقبال کا ایک شعر کہ
زندگانی صدف قطرۂ نیساں ہے خودی
دیکھیں کیا ہوتا ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
پس ہماری خودی اور زمانے کی خود زعمی و معاندانہ رویہ مقابل پے
س۔معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جا سکتا ہے؟
جواب ۔ادیبوں کو اگر حکومتی پذیرائی ملتی ہے اور مقتدرہ ادب کی ترویج و ترقی کے لیے چاروں صوبوں کو لیکر چلتی ہے اور ہر ماہ کوئی نہ کوئی سیمینار یا مشاعرہ منعقد کرتی ہے جبکہ نادار شعراء کےلیے مشاعرہ رکھ دیتی ہے تو ممکن ہے جبکہ عوامی رد و قبول بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے اس لیے اگر ادب کے لیے ماحول سازگار بنایا جاتا ہے تو ممکن ہے ورنہ وہی کاٹ کے دو پات رہیں گے
س۔ افسانہ، انشائیہ اور تقاریظ تقریباً کتنے لکھ چکے ہیں؟
اور یہ کتابی صورت میں کب لائیں گے؟
جواب ۔منثور تین پی ڈی ایف مجموعہ جات ژرف نگاہی ،نطق پیچاک، شذرات گوہر میں افسانے مضامین تقاریظ ،تبصرہ جات انشائیہ جات اور خاکہ نگاری و مائیکرو فکشن شامل ہیں
س۔ کس شاگرد کی سب سے زیادہ اصلاح کی ہے اور اسے اپنا فخر سمجھتے ہیں؟
جواب ۔بلا مبالغہ آپ نے جتنی جلدی اپنے عیوب سخن پر قابو پالیا باقی کسی نے ابھی تک نہیں پایا جبکہ منثور تحاریر میں ڈاکٹر وقار ربانی نے اپنی تحریر میں سقم جلد ختم کیے اور اب الحمدللہ بڑی خوبصورت تحاریر لکھتا ہے جبکہ دیگر میں اب بھی کہیں نہ کہیں کمی بیشی نظر آجاتی ہے لیکن بہرحال خاکسار کی محنت رائیگاں نہیں جارہی
س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
جواب ۔زندگی وفا کرتی ہے تو اپنی تمام کتب بتدریج شائع کرنے کا ارادہ ہے بس ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اور اگر حالات پہلے بہتر ہوئے تو ممکن ہے جلد منظر عام پر آجائیں جبکہ مردان کی سطح پر فروغِ ادب اردو کا باقاعدہ ادارہ اپنی ذاتی خرچ پر شروع کرنے کا عزم رکھتا ہوں چاہے کوئی مدد کو تیار ہو یا نہ ہو
س۔قارئین کے نام کوئی پیغام دینا چاہئیں گے؟
قارئین کے لیے بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ خدارا سماجی ابلاغیات اور بالخصوص مصنوعی ذہانت پر انحصار مت کریں اور کتاب جو اکتساب علم کا سب سے معتبر ذریعہ ہے اس کی طرف آئیں کیونکہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی وہی بتاتی ہے جس کو انہی ادیبوں اور مصنفین یا بعضوں نے غلط معلومات دی ہوتی ہیں بلکہ بعض دفعہ غلط معلومات بھی فراہم کرتی ہیں لہذا کتاب کی طرف واپس آئیں اور کاغذ کی خوشبو کو محسوس کریں تبھی آپ کے علم میں اضافہ ممکن ہے جس سے بصیرت کے دروازے کھلتے ہیں
س۔ اپنے قارئین کے لیے اشعار عنایت کیجیے:۔
حمدیہ کلام
ہرکوئی رحم کی امید سے وابستہ ہے
جو تری ذات کی توحید سے وابستہ ہے
اس قدر مہلت ابلیس وسیع ہے خالق
ایک ساجد تری تردید سے وابستہ ہے
بساطِ رنگ وبو پردستِ قدرت ہےپڑا بندے
نظامِ زیست کو کُن سے وہی آغاز دیتا ہے
اٹھو دوڑو عبادت کو گھڑی دیدار کی آئی
وہی معبود برحق جب تمہیں آواز دیتا ہے
نعتیہ کلام
مداح کے تابندہ افکار بتاتے ہیں
یہ عشقِ محمدؐ ہے آثار بتاتے ہیں
ایمان جہاں روشن اب تک دلِ مومن میں
شک اس میں نہیں کوئی ادوار بتاتے ہیں
دشمن کا برا تک جو چاہا بھی نہیں جس نے
باظرف نبیؐ میرے اطوار بتاتے ہیں
اسلام کی خاطر جو گزرےہیں محمدؐ پر
حالات وہ سیرت کے دُشوار بتاتے ہیں
ہے مدح سرا گوہر محتاط ہمیشہ سے
نعتوں کے رواں لہجے ہموار بتاتے ہیں
متفرق
وصال ضِد پہ اَڑا ہے بڑا فراق کےساتھ
گزر گیا ہے جو محبوب طمطراق کے ساتھ
محبتوں میں ملاوٹ ہوئی ہے اتنی کہ
ہمیشہ صلح کرائی گئی، نفاق کے ساتھ
آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ اللہ پاک گوہر صاحب کو حیاتِ خضر علیہ السلام اور صحتِ کاملہ و عاجلہ سے نوازے۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |