غلطی اور حماقت کا فرق جان کر جیئیں
گزشتہ سال یکم جنوری کو شائع ہونے والے اظہاریہ کا عنوان "سال نو کا فورٹ بلنڈر” تھا۔ ہم سال بھر غلطیاں کرتے ہیں اور نیا سال چڑھنے پر یہ عہد کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ امسال کوئی غلطی نہیں دہرائیں گے۔ اس کے باوجود ہم سال بھر غلطیاں کرتے گزار دیتے ہیں۔ مان لیا کہ انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی تو ہر انسان سے ہو ہی جاتی ہے لیکن کسی غلطی کو دہرانے والے کو لوگ عموما "بے وقوف” سمجھتے ہیں۔ میرا نقطہ نظر اس معاملے میں قدرے مختلف ہے۔ غلطی کرنے کا عمل ہمیں کچھ نیا سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میرے خیال میں غلطی اپنی کایا پلٹنے کا آغاز ہے۔ میں غلطی کر کے پچھتانے کی بجائے اس کی حکمت پر غور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ میں غلطیوں کو اکثر دہراتا ہوں اور موقع ملے تو غلطی کرنے پر بے وقوف بننے پر جو تھوڑا بہت پچھتاتا ہوں اور اس کم مقدار کے پچھتاوے پر مجھے چند لمحوں کی جو روشنی نصیب ہوتی ہے میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ میں غلطی کی ایسی وقتی مگر عارفانہ کیفیت اور اس کے ماحصل نور کو ٹرانفارمیشن سے تعبیر کرتا ہوں اور اکثر سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہوں کہ انسانی نفسیات اور کیفیات سمیت قدرت نے دنیا میں کوئی ایک بھی چیز بے کار کے لیئے پیدا نہیں فرمائی ہے۔
2025ء کے کالم کو بلنڈر فورٹ کا تاریخی نام بھی اسی نسبت سے دیا تھا کہ دہرائی گئی غلطی کو انگریزی زبان میں "بلنڈر” کہتے ہیں جو حماقت کے مترادف ہوتی ہے۔ انگریزی کے لفظ "مسٹیک” کو اردو زبان میں غلطی کہتے ہیں یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ غلطی کو انگریزی میں مسٹیک کہا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بات تو ایک ہی ہے لیکن میں نے گوگل کر کے دیکھا ہے مجھے بلنڈر کا اردو ترجمہ کہیں نظر نہیں آیا، اور میں نے اپنی طرف سے بلنڈر کے انگریزی لفظ کا ترجمہ اردو کے لفظ "حماقت” سے کر لیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس مقصد کے لیئے جب میں نے سرچ کالم میں "بلنڈر” کا لفظ لکھا تو اردو کے یہ الفاظ نمودار ہوئے، "فاش غلطی”، "سگین غلطی” اور ایسی "بڑی غلطی” جس سے ابتری پیدا ہوتی ہو۔ اس سے آگے گوگل نے بلنڈر کا ایک اردو ترجمہ "فحاش غلطی” ظاہر کیا جس سے میری ہنسی چھوٹ گئی۔ اس قسم کی کوئی بڑی غلطی یعنی حماقت (بلنڈر) ایک فرد سے لے کر کسی معاشرے، گروہ یا کسی ایک ملک سے بھی ہو جاتی ہے جس طرح سنہ 1812ء کی انقلابی جنگ کے دوران امریکہ نے 1816ء میں کینیڈا کیوبک اور نیویارک کی سرحدی پٹی کے درمیان 2 سال کی محنت سے ایک 34 فٹ اونچا "جنرل منٹگمری” کے نام سے مضبوط اور بہت بڑا فوجی قلعہ تعمیر کیا تھا اور جس پر 125 توپیں بھی نصب کر دی تھیں لیکن بعد میں امریکہ اور برطانیہ کی مشترکہ سروے ٹیموں نے یہ دریافت کیا تھا کہ امریکہ نے وہ قلعہ غلطی سے ایک میل کے اندر تک کینیڈا کی سرزمین پر تعمیر کر دیا تھا۔ اب سمجھ آیا کہ یہ غلطی نہیں تھی بلکہ ایک بلنڈر تھی۔ 1783ء کے "پیرس معاہدہ” کے تحت یہ قلعہ دیگر زمین کے بدلے میں کنیڈا نے امریکہ کی تحویل ہی میں دے دیا تھا جس کی دوبارہ تعمیر اور توسیع ہوئی اور اس قلعہ کو جنرل رچرڈ منٹگمری کے نام سے بدل کر "بلنڈر فورٹ” رکھ دیا گیا تھا۔
زندگی میں ہر انسان غلطیاں کرتا ہے ان میں کچھ حسین غلطیاں بھی شامل ہوتی ہیں جو انسان کی زندگی تک کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ انسان کسی بھی اپنے ذاتی عمل پر جب پچھتاتا ہے اور ظاہری طور پر سمجھتا ہے کہ بڑی غلطی ہو گئی کیونکہ ایسی غلطی کرنے سے اکثر و بیشتر نقصان ہوتا ہے لیکن قسمت اچھی ہو تو بسا اوقات اسی غلطی سے آپ کو بہت بڑا فائدہ بھی ہو جاتا ہے جس کی الگ سے تفصیل لکھی جا سکتی ہے۔ بلنڈر جیسی بڑی غلطی کی ایک بنیادی وجہ انسانی نفسیات کی ناقابل معافی غلطیاں ہیں جنہیں تاریخ بھی معاف نہیں کرتی ہے۔ آپ بھلے بہادر اور جری ہوں، چاہے آپ کسی عظیم مقصد کے لیئے جان کی بھی قربانی دے دیں مگر لوگ آپ کی اس قربانی کو بھلا دیں گے اور آپ جو بڑی اور تاریخی غلطیاں کریں گے وہ انہیں ہرگز معاف نہیں کریں گے۔
سال نو کے موقع پر اس تاریخی واقعہ کی کچھ جزیات دوبارہ لکھنے کی ضرورت اس لیئے پیش آئی کہ ہم میں سے ہر انسان زندگی میں بہت سی غلطیاں کرتا ہے، کچھ سگین غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی قیمت ہم انسانوں کو زندگی بھر چکانی پڑتی ہے۔ ہم سب عام انسان ہیں ہم میں سے کوئی بھی کسی غلطی کی سزا عمر بھر نہیں بھگت سکتا ہے۔ ہمیں چایئے کہ ہم جو بھی کام کریں سوچ سمجھ کر کریں تاکہ ہمیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔ مرزا غالب نے کہا تھا کہ، "دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض، اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے۔” زندگی عظیم ترین نعمت ہے۔ ویسے تو زندگی کا ہر لمحہ، دن، ماہ اور سال اچھے ہوتے ہیں کہ دکھوں بھری زندگی چاہے قیامت کی ہو موت سے بہرکیف بہتر ہی ہوتی ہے۔ اگر ہم خود ہی زندگی میں اتنی غلطیاں کریں کہ ہمیں اپنے اندر ایک "بلنڈر فورٹ” تعمیر کرنا پڑے تو پھر دنیا کیا خود زندگی بھی ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
سال نو 2026ء پر کوئی بلنڈر مارنے سے پرہیز کرنا زندگی کو خوبصورت بنانے کا عہد ہے آپ نے 2025ء میں جو کیا سو کیا، 2026ء کو از سرنو سنوارنے کی کوشش کریں۔ عموما ہر نیا سال عہد نو کا سال ہوتا ہے۔ آپ بھی اس سال زندگی کے کچھ نئے عہد کر سکتے ہیں تاکہ آپ کی آئیندہ زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں۔
یوں اس سال کا عہد نامہ یہی بنتا ہے کہ سال نو کو ہمیں "بلنڈر فورٹ” نہیں بنانا ہے۔ دہرائی گئی غلطیاں فیصلہ ہوتی ہیں۔ غلطیاں دہرا کر خود اپنے خلاف فیصلے کرنے اور جج بننے کی بجائے اپنے وکیل بنیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ غلطی اور بلنڈر میں اصل فرق کیا ہے؟ غلطی عموما معاف ہو جاتی ہے اور کبھی کبھار نعمت بھی ثابت ہوتی ہے لیکن کوئی بھی بلنڈر آپ کو سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑتا ہے۔ زندگی بدلتے دیر نہیں لگتی بس آپ نے اس سال بلنڈر مارنے سے پرہیز کرنی ہے۔ جو افراد اپنے ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر غور کر کے مستقبل کیلئے بہتر لائحہ عمل اختیار نہیں کرتے، کامیابی ان کا مقدر نہیں بنتی ہے۔ اسی طرح جو قومیں اور ریاستیں اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کے اسباب پر غورو خوض کر کے ان کے تدارک کا اعادہ نہیں کرتیں ہیں، ترقی و خوشحالی کی منزل پر نہیں پہنچ پاتی ہیں۔ نئے سال کی آمد پر جہاں ہمیں اپنی زندگی میں خوش گوار تبدیلیوں کیلئے انفرادی سطح پر عہد کرنے چاہئیں وہیں کچھ عہد ملک و قوم کی بہتری کیلئے حکومتی و ریاستی سطح پر بھی ہونے چاہئیں۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ کچھ غلطیوں کی معافی نہیں ہوتی بلکہ ایسی غلطیاں یا بلنڈر ہمیشہ کے لئے پچھتاوے کا باعث بن جاتی ہیں لھذا ہمیں امسال غلطی اور بلنڈر کا فرق جان کر جینا چاہیئے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |