مواصلاتی انقلاب کا بانی
حیرانی کی بات ہے کہ وہ 97 سال کی عمر میں بھی ٹیک کانفرنسز میں لیکچر دیتے ہیں اور موبائل فون کے مستقبل کی وضاحت کرتے ہیں۔ انہوں نے مواصلات کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے لیئے جو پودا لگایا، وہ اسے گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے پانی دے رہے ہیں۔ مارٹن کوپر 26 دسمبر 1928ء کو شکاگو میں پیدا ہوئے۔ 2026 میں دنیا کی کل آبادی 8 اشاریہ 3 ارب ہے لیکن استعمال ہونے والے موبائل فونز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مارٹن اپنی ایجاد کی کامیابی کا یہ عروج اپنی زندگی ہی میں دیکھ رہے ہیں۔ مارٹن دسمبر 2026 میں 98 برس کے ہو جائیں گے۔ اس بزرگی کے باوجود وہ آج بھی نئی چیزیں سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔
موبائل فون ایجاد کرنے کے بعد انہوں نے اپنا پہلا انٹرویو اسی جگہ پر کھڑے ہو کر دیا تھا، جہاں سے انہوں نے 3 اپریل 1973ء کو اس سے لینڈ لائن فون پر دنیا کی پہلی موبائل کال کی تھی۔ وہ امریکی کمپنی موٹورولا (Motorola) کے سینئر انجینئر تھے۔ انہوں نے موٹورولا ڈائناٹیک نامی پروٹوٹائپ فون سے یہ پہلی تاریخی کال کی تھی۔ اس وقت موبائل فون کا وزن لگ بھگ 2 کلو گرام تھا اور اس کی لمبائی ایک فٹ سے زیادہ تھی۔ اسے مکمل چارج ہونے میں 10 گھنٹے لگتے تھے اور اس پر بمشکل 35 منٹ تک بات ہوتی تھی۔ مارٹن کی اس ایجاد نے جدید دور کے ٹیلی کمیونیکیشن اور اسمارٹ فونز کی بنیاد رکھی، جس کے بعد دنیا بھر میں پورٹیبل فون کا ایک انقلاب برپا ہو گیا۔
وائرلیس کو اطالوی سائنسدان گگلیلمو مارکونی (Guglielmo Marconi) نے 1895 میں ایجاد کیا۔ اس سے پہلی بار کامیابی سے ریڈیو لہروں کے ذریعے وائرلیس سگنل بھیج کر ریڈیو ایجاد ہوا، جس کے بعد 1901 میں انہوں نے پہلا ٹرانس اٹلانٹک وائرلیس رابطہ قائم کیا جبکہ 1893 میں نیکولا ٹیسلا نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر وائرلیس بجلی کی منتقلی کا نظریہ پیش کیا۔ 1895 میں گگلیلمو مارکونی نے ریڈیو لہروں کا استعمال کرتے ہوئے کامیاب وائرلیس ٹیلیگراف بنایا اور 1901 میں مارکونی نے ہی بحرِ اوقیانوس کے پار پہلا وائرلیس سگنل بھیجنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس وقت کسی کو اندازہ ہی نہ تھا کہ ستر کی دہائی کے آخر میں مارٹن کوپر نامی سائنس دان پہلا پورٹیبل موبائل فون ایجاد کریں گے۔
نیویارک کی ایک مصروف سڑک پر ایک دن وہ بھی آیا جب مارٹن کوپر اپنے ہاتھ میں ایک عجیب و غریب آلہ لے کر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک عجیب سا پہلا موبائل فون تھا، یہ بھاری تھا، بڑا تھا اور دیکھنے میں اتنا خوبصورت نہیں لگ رہا تھا۔ اس آلے کو راہگیر رک رک کر دیکھ رہے تھے، کچھ ہنس رہے تھے اور کچھ حیران تھے۔ لیکن مارٹن نے کسی کی پرواہ نہیں کی، اس نے وہ آلہ کان سے لگایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی اور تاریخ بدل گئی۔
مارٹن کوپر نے ایک یوکرینی تارکین وطن والدین کے ہاں جنم لیا جسے بچپن سے ہی ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے 1950 میں امریکہ شکاگو الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری لی اور پھر امریکی بحریہ میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1954 میں موٹورولا کمپنی جوائن کی جہاں ان کی زندگی کا اصل سفر شروع ہوا۔ موٹورولا میں انہوں نے پولیس کے لیے پورٹیبل ریڈیو سسٹم بنائے اور یہیں ان کے ذہن میں وہ خیال آیا جس نے کمیونیکیشن کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ لیکن یہ فون عام لوگوں تک پہنچنے میں مزید 10 سال لگے۔ 1983 میں موٹورولا نے پہلا کمرشل موبائل فون مارکیٹ میں لایا جس کی قیمت 3995 ڈالر تھی جو آج کے حساب سے تقریباً 12000 ڈالر بنتی ہے۔ یعنی صرف امیر لوگ ہی یہ فون خرید سکتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی بہتر ہوئی، قیمتیں کم ہوئیں اور 1990 کی دہائی میں موبائل فون عام لوگوں تک پہنچنا شروع ہوا۔
1993 میں دنیا کا پہلا سمارٹ فون آیا جس میں ٹچ اسکرین تھی، ای میل تھی اور کیلنڈر تھا، 2007 میں ایپل کے سٹیو جابز نے آئی فون متعارف کروایا اور اس نے فون کو ایک بار پھر بالکل نئی دنیا میں لا کھڑا کیا۔ مارٹن کوپر نے موبائل فون ایجاد کرنے کا جو خواب دیکھا تھا اب وہ اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور مسلسل پھیل رہا ہے۔ آج آپ جو کچھ بھی موبائل پر دیکھ رہے ہیں اور اس میں جتنے بھی فنکشنز ہیں ان کو ممکن بنانے کی ابتداء مارٹن کوپر نے کی تھی۔
ایک موبائل فون کتنی پیچیدہ ایجاد ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں الیکٹرانوں کی تعداد کھربوں (Trillions) میں ہوتی ہے، جو برقی رو اور ڈیٹا کی ترسیل کا کام کرتے ہیں۔ ایک عام موبائل فون بنیادی طور پر 75 مختلف کیمیائی عناصر پر مشتمل ہوتا ہے جن کے ایٹموں میں موجود الیکٹرانز موبائل فون کو قابل استعمال بنانے ہیں۔ موبائل فون کے الیکٹرانکس، سکرین، کیمرہ، چپس، وائرنگ، مائیکرو پروسیسرز اور بیٹریز وغیرہ میں سونا، سلیکون، کاپر، لیتھیم، کوبالٹ اور انڈیم وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید سمارٹ فونز میں لاتعداد فنکشنز اور سینسرز ہوتے ہیں جس سے کمیونیکیشن اور ڈیٹا پر مبنی کالنگ، وائی فائی، بلوٹوتھ اور سیلولر نیٹ ورک اور دیگر سارے ایپس کام کرتے ہیں۔ سینٹرل پروسیسنگ یونٹ (CPU) فون کے تمام سافٹ ویئر اور ایپس چلاتا ہے اور ایک عام موبائل فون کی میموری 17 ہندسوں پر مشتمل ہوتی ہے جو ون ٹیٹرا بلئین (1TB) یاداشت بنتی ہے، یہ میموری کا ایک خاص پیٹرن ہے۔
ایسی نئی تاریخ لکھنے کی ابتداء ایک شخص ہی کرتا ہے جس کے ذہن میں پہلا "اچھوتا” خیال آتا ہے۔ مارٹن کوپر سمیت دنیا کے تمام عظیم لوگ بھی ہم جیسے عام انسان ہوتے ہیں۔ ان میں اور ہمارے درمیان صرف سوچنے کے انداز کا فرق ہوتا ہے۔ جب موبائل فون سے اگلی ایجاد ہو گی تو تب بھی پہلے مارٹن کوپر کا نام لیا جائے گا۔ مارٹن کوپر کی موبائل فون ایجاد کا سارا کریڈت اس کی تخلیقی فکر اور سوچ کو جاتا ہے جو انسانی ترقی کی کنجی ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |