وجود اور معانی: سرفراز بزمی کی نظم
سرفراز بزمی عہدِ حاضر کے ایسے شاعر ہیں جو اقبال کے رنگ میں لکھتے ہیں۔ ان کے ہاں فکری شعور بہت بلند ہے۔ تراکیب سازی میں ان کی مہارت واضح دکھائی دیتی ہے۔ عربی اور فارسی کی ترکیبیں ان کی شاعری میں کثرت سے ملتی ہیں۔ بزمی صاحب نے 22 دسمبر 2025ء کو اس پیغام کے ساتھ اپنی یہ تازہ نظم ارسال کی۔
"حالات کی مناسبت سے میری اک نظم کا کچھ حصہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ آپ کی رائے اور کمنٹس کا انتظار رہے گا۔”
(نظم)
دیکھتا رہتا ہوں ہر دم جاگتی آنکھوں سے خواب
ٹوٹتے ہیں ساغر صہبا میں اٹھ اٹھ کر حباب
بازگشت قلقل مینا سے گھبراتا ہے دل
بے نوا ہو کر نوا پیرا ہوا جاتا ہے دل
شعلۂ خورشید سے تھوڑی چمک پاتی ہے خاک
پھر چمک کر اس چمک پر خوب اتراتی ہے خاک
سرد ہو جاتا ہے لیکن جب شرارِ آرزو
مار دیتا ہے دل آدم کو مارِ آرزو
اے خدائے لم یزل کیا حرص ہے میری سرشت
ورنہ جنت اور ہجوم خواہش برگ بہشت
یا مجھے رکھا گیا محروم اسرار حیات
ورنہ مسجود ملائک اور جہان بے ثبات
یا یہ وہ جوہر ہے خاکی جس کو پا سکتا نہیں
کوزہء کم ظرف میں دریا سما سکتا نہیں
یا فقط کارِ جہاں کے واسطے میری نمود
عقل انساں اور ہزاروں عقدہ ہائے ہست و بود
درد دل کی انجمن میں میر محفل کون ہے
یہ بتا اس کائنات درد کا دل کون ہے
محرم راز دروں کر عشق کی توفیق دے
پیکر مہر و وفا کو حسن نستعلیق دے
:2
کھول چشم دل کو اے جویائے اسرارِ حیات
مضطرب ہے دیکھ ہر ذرے میں روحِ کائنات
شور سناٹوں کا سن خاموشیوں سے بات کر
رات کی تنہائیوں میں احتساب ذات کر
ہے مسبب ہر سبب کا بے سبب کچھ بھی نہیں
گرچہ دنیامیں بجز منشائےرب کچھ بھی نہیں
پا بگل ہے عالم محسوس میں آدم ابھی
برق راز کن سے ہے محروم نامحرم ابھی
قیس کیا گر آرزوئے ناقۂ لیلی نہ ہو
کیا جنون عشق جب تک نجد کا صحرا نہ ہو
زندگی مینا سے وابستہ نہ یہ مرہون جام
ہے دوائے قلب مضطر جستجوئے ناتمام
تجھ میں پوشیدہ ہے روح لایزال و لم یزل
تیری پیشانی پہ لکھی ہے محبت کی غزل
محفل کون و مکاں میں شمعِ محفل تیری ذات
ہے وجود آدمیت سے وجود کائنات
کیا طلوع روز و شب کیا انتہائے ماہ وسال
دائمی شےکو ہے بے معنی شب ہجر و وصال
کل جو تھا رنگ شفق رنگ شفق ہے آج بھی
کل جو تھا بھولا سبق بھولا سبق ہے آج بھی
یہ ہلال سالِ نو کچھ بھی نہیں اس کے سوا
گم ہوا ایک اور دانہ رشتۂ تسبیح کا
ہے طلوع صبح نو بزمی یہ شامِ زندگی
موت کے پردے میں پنہاں ہے دوامِ زندگی
نظم پڑھ کر حامی بھر لی کہ ان شاءاللہ جلد تبصرہ لکھوں گا۔ ایک ماہ بعد کوشش بارآور ثابت ہوئی اور کچھ لکھنے میں کامیاب ہوا۔
اردو نظم کی فکری روایت میں وجودی سوالات کوئی نئی واردات نہیں، تاہم جدید عہد میں یہ سوالات محض فلسفیانہ تجسس تک محدود نہیں رہے بلکہ انسان کی داخلی شکست، روحانی بے سمتی اور معنوی اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔ جدید اردو شاعر اب کائنات کو سمجھنے سے زیادہ خود کو سمجھنے کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ سرفراز بزمی کی زیرِ نظر نظم اسی فکری روایت کا تسلسل ہے، جہاں انسان اپنی آرزوؤں، محدود عقل اور لافانی معنی کے درمیان معلق نظر آتا ہے۔ یہ نظم انسانی وجود کو کسی قطعی نتیجے تک نہیں پہنچاتی بلکہ اسے سوال کی صورت میں قائم رکھتی ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی فکری قوت ہے۔
سرفراز بزمی کی اس نظم کا بنیادی مسئلہ “وجود” ہے۔ یہ وجود کسی فلسفیانہ اصطلاح کی طرح جامد نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور مضطرب انسانی کیفیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ شاعر انسان کو نہ مکمل باخبر مانتا ہے اور نہ مکمل بے خبربلکہ اسے ایک ایسی ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے جو شعور رکھتے ہوئے معنی سے محروم ہے۔
نظم کے آغاز میں ہی شاعر بےداری اور خواب کے تضاد کے ذریعے سے انسانی ذہنی کیفیت کو واضح کرتا ہے۔ خواب یہاں محض رومانوی یا تخیلاتی شے نہیں بلکہ انسان کی نامکمل خواہش اور مسلسل جستجو کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے:
دیکھتا رہتا ہوں ہر دم جاگتی آنکھوں سے خواب
ٹوٹتے ہیں ساغرِ صہبا میں اٹھ اٹھ کر حباب
یہ شعر اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ انسان کی آرزوئیں شعوری حالت میں بھی خواب بنی رہتی ہیں اور ان کا انجام اکثر ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی داخلی شکست نظم کے فکری سفر کو آگے بڑھاتی ہے۔
دل کی کیفیت نظم میں محض جذباتی سطح پر نہیں رہتی بلکہ ایک تخلیقی اور فکری عمل میں بدل جاتی ہے۔ شاعر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کا دکھ خاموش نہیں رہتا وہ یا تو سوال بن جاتا ہے یا تخلیق۔ یہی وجہ ہے کہ نظم میں داخلی اضطراب مسلسل اظہار کی صورت اختیار کرتا ہے۔
نظم کا ایک نمایاں پہلو انسان کی خود فریبی پر تنقید ہے۔ انسان کائنات سے مستعار لی گئی معمولی سی روشنی کو اپنی ذات کا کمال سمجھ بیٹھتا ہے۔ شاعر اس عارضی چمک کو بے نِقاب کرتا ہے ۔ وہ واضح کرتا ہے کہ آرزو کی حرارت ختم ہوتے ہی وجود کی کم زوری آشکار ہو جاتی ہے۔
آرزو نظم میں نجات نہیں بلکہ آزمائش بن کر سامنے آتی ہے۔ شاعر اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ خواہش کی شدت خود انسان کے لیے زہر بن جاتی ہے:
سرد ہو جاتا ہے لیکن جب شرارِ آرزو
مار دیتا ہے دلِ آدم کو مارِ آرزو
یہاں آرزو انسان کو زندگی کی طرف نہیں بلکہ فنا کی طرف لے جاتی ہےاور یہی جدید وجودی شعور کی بنیادی پہچان ہے۔
نظم کے وسط میں شاعر انسان کی عظمت اور محرومی کو بہ یک وقت پیش کرتا ہے۔ انسان وہی ہے جو کبھی مسجودِ ملائک تھامگر آج اسرارِ حیات سے ناآشنا ہے۔ اس تضاد کی اصل وجہ شاعر انسانی جوہر میں نہیں بلکہ انسانی ظرف میں دیکھتا ہے۔ یہی خیال اس شعر میں نمایاں ہوتا ہے:
یا یہ وہ جوہر ہے خاکی جس کو پا سکتا نہیں
کوزۂ کم ظرف میں دریا سما سکتا نہیں
یہ شعر نظم کے فکری ڈھانچے کی کلید ہے جہاں معنی کا دریا موجود ہے مگر انسانی شعور اسے سمیٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
نظم کا دوسرا حصہ قاری کو خارجی دنیا کے شور سے کاٹ کر داخلی خاموشی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں خود احتسابی کسی اخلاقی نصیحت کے طور پر نہیں بلکہ وجودی بےداری کی شرط کے طور پر سامنے آتی ہے۔ شاعر کے نزدیک حقیقت تک رسائی کا راستا باہر کی نہیں بلکہ اندر کی طرف جاتا ہے۔
وقت کا تصور نظم میں ایک اور اہم معنوی پہلو ہے۔ سالِ نو، دن رات اور مہ و سال محض فریبِ تسلسل ہیں۔ شاعر کے نزدیک وقت آگے نہیں بڑھتا بلکہ انسان تحلیل ہوتا جاتا ہے۔ یہی احساس اس شعر میں مرتکز ہو جاتا ہے:
یہ ہلالِ سالِ نو کچھ بھی نہیں اس کے سوا
گم ہوا ایک اور دانہ رشتۂ تسبیح کا
اختتام پر شاعر زندگی اور موت کو متضاد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ قرار دیتا ہے۔ موت یہاں اختتام نہیں، پردہ ہے اور اس پردے کے پیچھے دوامِ زندگی کا تصور پوشیدہ ہے۔ یہ خیال نظم کو وجودی فکر کے ساتھ ساتھ صوفیانہ معنویت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔
ہم کہ سکتے ہیں کہ سرفراز بزمی کی یہ نظم اردو نظم کی وجودی روایت میں ایک سنجیدہ اور بامعنی اضافہ ہے۔ اس کی اصل طاقت لفظی صناعی یا علامتی چمک میں نہیں بلکہ انسانی وجود پر اٹھائے گئے ان سوالات میں ہے جو قاری کو بے چین کر دیتے ہیں۔ شاعر جواب فراہم نہیں کرتا فقط سوچنے کی جرات عطا کرتا ہے اور یہی جدید نظم کا اصل جوہر ہے۔ یہ نظم انسانی وجود، آرزو، وقت اور معنی کے مابین ایک ایسا فکری مکالمہ قائم کرتی ہے جو دیر تک قاری کے ذہن میں گونجتا رہتا ہے۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |