قرض کی واپسی اور احسان فراموشی کی جنگی نفسیات
جنگ کے دوران کسی دوسرے موضوع پر لکھنا پہاڑ دکھائی دیتا ہے لیکن جنگ جاری ہو تو کچھ موضوعات ایسے بھی سامنے آ جاتے ہیں، جو جنگ ہی کی طرح دل میں نشتر ہو جاتے ہیں۔ جنگ کی وجوہات میں طاقت کا حصول، عدم برداشت اور لالچ سرِفہرست ہیں۔ اگر اخلاقی اقدار انسانی نفسیات پر غالب رہے تو انسان تہذیب کے دائرے میں رہتا ہے ورنہ وہ خونخوار جنگلی جانوروں کی طرح ردعمل دیتا ہے۔ یہ بات انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر صادق آتی ہے کیونکہ انسان تشدد پر اسی وقت اترتا ہے جب وہ اپنے شعوری اور تہذیبی مقام و مرتبہ سے نیچے گرتا ہے۔ کسی فلاسفر نے اسی مد میں کہا تھا کہ، "جنگ اسی روز شروع ہو گئی تھی جب کسی پہلے انسان نے ادب و احترام اور اخلاق کے دائرے سے نکل کر گالی دی اور پھر پتھر بھی اٹھا لیا تھا”۔
دراصل حالیہ خلیجی جنگ جہاں میزائیلوں اور ڈرونز کی خونریز جنگ ہے وہاں یہ "طوفان بدتمیزی” بھی برپا کیئے ہوئے ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری 2026ء کو یہ جنگ شروع کرنے سے پہلے اس جنگ کا آغاز اسی روز کر دیا تھا، جب انہوں نے جنوبی افریقہ اور یوکرائن کے صدر کو وائٹ ہاوس سے "بے عزت” کر کے نکالا تھا۔ سعودی شہزادے سلمان بن محمد کے بارے ٹرمپ کے گالی گلوچ پر مبنی گھٹیا ریمارکس تو "بدتہذیبی” کی انتہا ہے، جس کے بارے امریکی قومی نیٹ ورک (ٹیلی ویژن ایم ایس این بی سی) کی مشہور میزبان کیٹ اولبرمین بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ، "ٹرمپ میں ذہنی کنٹرول نہیں رہا ہے، اور ہمیں ایک نئے صدر کی ضرورت ہے۔”
دراصل جنگ اور امن کے درمیان تہذیب کی یہی ایک نازک سی لکیر حائل ہوتی ہے جو ہر خاص و عام انسان کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ سے باز رکھنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ حالیہ جنگ کے موضوع پر گزشتہ ایک اظہاریہ پر فیصل آباد سے محمد عابد مختار صاحب نے بھی اس سے ملتا جلتا تبصرہ کیا تھا کہ، "جنگ انسانی تہذیب اور شعور کی ناکامی کا ثبوت ہے۔” واقعی جنگ انسانی تہذیب کے منہ پر بہت بڑا تمانچہ ہے۔ اتنی شعوری ترقی کے باوجود انسان جنگوں میں اپنے ہی جیسے انسانوں کا خون بہاتا ہے۔ یہاں تک کہ جنگ میں انسان ناانصافی، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور "احسان فراموشی” تک کی مثال بن جاتا ہے۔
اس جنگ کے عین دوران ایک غیر مصدقہ خبر سامنے آئی۔ خدا کرے یہ خبر سچی ہو۔ اس خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے پاکستان کو دیا ہوا قرضہ واپس مانگ لیا ہے اور کہا ہے کہ قرضہ واپس نہ کیا گیا تو وہ امارات میں موجود پاکستانی سیاست دانوں کی جائیدادیں ضبط کر لے گا۔ یہ ایک اچھی خبر اس لیئے اچھی ہے کہ یہ واحد موقع ہے جب متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے متوسط اور مزدور طبقہ سے قربانی مانگنے کی بجائے پاکستان کے کاروباری اور سرمایہ دار طبقہ سے قربانی مانگنے کی دھمکی دی ہے۔ جب مارچ کے آغاز میں جنگ شروع ہوئی تھی تو اس کے اگلے چند دنوں میں دو سے تین لاکھ ڈالر کے چارٹر طیاروں پر امارات سے کچھ پاکستانی امیر فیملیاں فورا نکل گئی تھیں۔ امارات کے قرض واپس مانگنے کے لیئے انہی فیملیوں کی جائیدادوں کی قربانی دی جانی بنتی ہے۔ دبئی میں 17 لاکھ تک پاکستانی مزدور ہیں جبکہ یہ امیر پاکستانی فیملیاں محض ایک آدھ درجن ہیں۔ ان چند امیر پاکستانیوں کی جائیدادیں دو ارب ڈالرز سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ ہر دفعہ پاکستان کا غریب طبقہ قربانی دیتا آیا ہے، اب یہ طبقہ قربانی دے، جبکہ یہ خبر سچی ہے تو امارات نے قربانی بھی اسی طبقے ہی سے مانگی ہے۔
جنگی نفسیات رکھنے والے ہمارے کچھ دانشور اس موضوع پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں اور حکومت کو مشورے دے رہے ہیں کہ خدانخواستہ امارات کو قرض واپس نہ کیا جائے۔کوئی امارات کو "اسرائیلی بستی” کہہ رہا ہے۔ کوئی اس کے حکمرانوں کو "عیاش” کہہ رہا یے اور کچھ لوگوں کے منہ سے تو غصے میں رالیں تک ٹپک رہی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ، "دو ارب ڈالر ان کے منہ پر مارو”، کچھ نے تو یہ تک کہا ہے کہ وہ پیسے واپس مانگیں تو انہیں کہو، "آیا جے غوری میزائل”، ان کی نظر میں پاکستان سے قرضہ واپس مانگنا ان کا حق نہیں ہے۔ان کا خیال ہے کہ پاکستان اماراتی مہمانوں کو آنکھوں پر بٹھاتا ہے۔ وہ جب پاکستان آتے ہیں تو انہیں غیرمعمولی پروٹوکول دیا جاتا ہے، لھذا اس موقع پر انہیں پیسے واپس نہیں مانگنے چایئے تھے۔ بھائی، جنگ میں انہیں پیسوں کی ضرورت ہے تو وہ اپنے پیسے واپس کیوں نہ مانگیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہونا چایئے کہ وہ دیا ہوا اپنا قرض واپس مانگیں تو ان پر بدزبانی کی جائے۔ یہ نام نہاد دانشوران جہاں اپنی احسان فراموشی کی غلیظ نفسیات ظاہر کر رہے ہیں وہاں وہ ان 17 لاکھ پاکستانیوں کی روزی پر بھی لات مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ احسان فراموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اس طرح تو دنیا میں کوئی ملک آپ پر اعتبار نہیں کرے گا۔ پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی وجہ سے شیخ زید ہسپتال لاہور اور رحیم یار خان ایئر پورٹ سمیت اربوں ڈالرز کے کئی خیراتی پراجیکٹس کام کر رہے ہیں۔ جب امارات سے یہ فلاحی (یعنی خیراتی) پراجیکٹس لیئے جا رہے تھے تو اس وقت حکومت اور ان سیانے سگھڑوں کی "غیرت” کہاں تھی جنہیں اب ان کے "منہ پر مارنے” اور "غوری میزائل” چلانا یاد آ گیا ہے؟ قرض اور ادھار لینا ہمارا اجتماعی مزاج بن گیا ہے۔ ہمیں ادھار دیتے وقت اپنا سگا بھائی بھی برا لگتا ہے۔ ہم مانگتے ہیں تو ان کے گیت گاتے ہیں اور دینے کی باری آتی ہے تو غصہ کر جاتے ہیں۔
Title Image by Raten-Kauf from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |