لکُوتاں

حریم زیست میں تمام تر رنگینی و رعنائی الفاظ کی صوتی ترنگ سے ہے۔ انسانی جذبات کے اظہار میں الفاظ کے عمل دخل سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ انسانی نفسیات،  تہذیب اور تخیل کی اڑان سب الفاظ کی صوتی ترنگ سے ہی وابستہ ہے۔خوشی، غم اور ان کا اظہار انہی الفاظ کا ہی مرہون منت ہے۔میرے گاوں غریبوال میں بزرگ لوگ “لکوت” اس مریل کتے کو کہتے تھے جو گلی کی کسی نکر میں بیٹھا ہوتا ہے اور اگر کوئی اس کو پتھر بھی مار دے تو وہ اپنی دم اپنی ٹانگوں میں دبا کر پتھر مارنے والے کو کاٹتا نہیں ہے بلکہ صرف دانت نکالتا ہے۔اس بار جب گاوں میں گیس لوڈ شیڈنگ ہوئی تو میں نے بابے جمالے کو کہا کہ جلانے کے لیے کوئی لکڑیاں ہی لا دیں ۔بابے جمالے نے حامی بھری اور اگلے روز کھپی ،ڈڈے  اور ٹانڈے لا کر دے دیے۔ہماری مادری زبان میں “کھپی ایک تیز جلنے والی بوٹی ہے اور ڈڈے کاٹے ہوئے درخت کی ادھ کٹی شاخیں اور زمین پر جڑ کے اوپر جو حصے رہ جائیں انکو کہتے ہیں ۔ ان کا کاٹنا اور زمین سے نکالنا بہت مشکل کام ہے۔ ٹانڈے سرکنڈے کی شاخوں کو کہتے ہیں۔  “بابا جمالا تھکا ہوا تھا۔ ایندھن گدھے سے اتار کر بیٹھ گیا ۔ میں نے پانی پلایا تو اس کی جان میں جان آئی۔ اور کہنے لگا۔شاہ جی اج کل ٹیلی فون اتے کیہ خبراں ون؟یعنی آج کل سوشل میڈیا پر کیا خبریں ہیں ؟میں یہ سن کر مسکرا دیا اور کہا۔بابا جی سوشل میڈیا پر سچ بہت کم ہے اور جھوٹ کا ایک بازار گرم ہے۔ بابے جمالے نے کہا ” او کنج؟ یعنی وہ کیسے؟میں نے بابے سے کہا کہ پہلے آپ کو اچھائی کی خبریں بتاتا ہوں اور وہ یہ ہیں کہ سوشل میڈیا پر نیک لوگوں نے قرآن مجید، احادیث اور ان کے تراجم ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ،ان کے اہلبیت عظام، صحابہ کرام اور بزرگان دین کی سیرت و کردار اوراقوال لگائے ہوئے ہیں ۔ اور بہت زیادہ کام نعت پر بھی ہو رہا ہے۔ یہ سنتے ہی بابے جمالے کی آنکھوں میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چمک آئی اور اس کی آنکھوں سے دو شگفتہ موتی اس کی بے ترتیب داڑھی پر گر پڑے۔ اور اس کے منہ سے فورا دعا نکلی شالا ہیجے لوگ بہوں جیون جیہڑے سرکار نیاں جوہدیاں بندیاں  پئے دسینن۔یعنی ایسے لوگوں کی عمر دراز ہو جو آنحضورؐ کی انسانوں کے لئے کی گئی کوششیں لوگوں کو بتا رہے ہیں۔میں نے بابے جمالے کو جب تصویر کا دوسرا رخ بتایا کہ برائی اور بے حیائی میں خصوصا ہم اہل وطن بہت بڑھ چکے ہیں اور اس میں بری طرح گر چکے ہیں مثلا سیاسی لحاظ سے جو عمران خان کے حمایتی ہیں وہ نواز شریف کو گالی گلوچ اور اس کی توہین آمیز تصویریں کمپیوٹر سے بنا کر لگارہے ہیں اور جو نواز شریف کے حمایتی ہیں وہ عمران خان کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ججوں کے فیصلے بھی پارٹی کی بنیاد پر مانے جاتے ہیں اگر پارٹی کے خلاف فیصلہ ہو تو ججوں کو غلیظ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مزے کے بات یہ ہے جو “اندھی دولت” میں کھیل رہے ہیں وہ سوشل میڈیا پر یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ٹماٹر اگر پانچ سو روپے کلو بھی ہو جائے تو ہم پھر بھی ووٹ عمران خان کو ہی دیں گے۔ یہ سنتے ہی غریب بابا جمالا سیخ پا ہو گیا اور فوری کہنے لگا۔انہاں “لکوتاں “کولوں ڈڈے کپواو ۔ جے انہاں پتہ لگے۔یعنی ان سے لکڑی کے ڈڈے کٹوائیں تو ان کو پتہ چلے کہ غریب کا جینا کتنا مشکل ہوتا ہے۔پھر میں نے بابے جمالے کو بتایا کہ فرقہ پرست  ایک دوسرے پر لعنت کرتے رہتے ہیں اور جو ایسا ان کے ساتھ مل کر نہیں کرتا یہ اس پر بھی لعنت کرتے ہیں ۔ اور حیرت و غیرت کی بات یہ ہے کہ وہ کام جو آپ بزرگ لوگ سات پردوں میں چھپ کر  کرتے تھے وہ سرعام نوجواں نسل کر رہی ہے بلکہ ان کے ساتھ اس برائی میں کئی بابے بھی مل گئے ہیں ۔ بابے جمالے نے یہ سن کر فورا آسمان کی طرف دیکھا اور کہا۔ “شالا ملک نی خیر ہووے تے ربا تو ہی ہدیت دینے ” یعنییا رب میرے ملک کی خیر ہو اور تو ہی ان کو ہدایت دے۔پھر میں نے بابے جمالے کو فوج کے کارنامے اور پاک فوج کے خلاف سیاست دانوں کے بیان ، اور بزدل دہشت گردوں کے پاک فوج پر حملوں کی ویڈیوز کے متعلق بتایا تو بابے جمالے کو غصہ آگیا  اور کہہ اٹھا۔ انھ ساریاں “لکوتاں “کیوں مینڈے پتراں پچھے لگ پیئاں ون۔یعنی یہ سارے مریل کتے میرے فوجی بیٹوں کے پیچھے کیوں لگ گئے ہیں۔میں نے کہا کہ اس لیے کہ دشمن ممالک ان کو بہت پیسہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ملک کی سلامتی کو تہس نہس کر رہے ہیں اور یہ مسجوں، امام بارگوں اور مذہبی جلوسوں کو نشانہ بنا کر دشمن  سے پیسہ لیتے ہیں   اور اس کام کے لیے وہ نوجوان نسل کو خریدتے ہیں اور ان کی برین واشنگ کر کے خودکش بمبار بناتے ہیں جو ان کے مذموم مقاصد پر عمل کر کے  وطن عزیز کی جڑیں کمزور کر رہے ہیں۔ یہ باتیں سن کر بابا جمالا اٹھا اور کھپی، ڈڈے اور خشک ٹانڈوں کی رسی کھولی اور ساتھ ہی بڑبڑایا کہ “انہاں لکوتاں آپڑیں گھراں ،محلیاں تے گرانواں اچ وڑن کیوں دینے او یعنی ان کو اپنے گھروں ،محلوں اور گاوں میں گھسنے کیوں دیتے ہو۔تو میں نے جواب دیا کہ بابا جی مجھے اس کے بارے میں کوئی پتہ نہیں۔ یہ باتیں کرتے کرتے بابا چلا گیا اور میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ گیا۔ مجھے بابے جمالے کا برے لوگوں کے متعلق یہ جملہ بہت پسند آیا کہ ” انھ ساریاں لکوتاں ون ” کیونکہ یہ بابے جمالے کا برائی سے نفرت کا بہترین اظہار ہے۔

حبدار قائم
حبدار قائم

سید حبدار قائم آف اٹک
(بابا جمالا ایک فرضی کردار ہے جس سے نام کی  مشابہت کا مصنف و ادارہ زمہ دار نہیں ہے)

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١٩٨٩ میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

پنڈی گھیب کے آثار قدیمہ

جمعرات دسمبر 24 , 2020
ضلع اٹک میں تحصیل پنڈی گھیپ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ آج کے مضمون میں اس تحصیل کی تاریخی اہمیت پر کچھ نکات بیان کئے جایئں گے۔