خوشبو لہجے والا!

(شاہد اعوان، بلاتامل)

اس دوراہے پر افکار کا ساغر ٹوٹ کر کچھ اس طرح سے بکھرا ہے کہ اس کی کرچیاں چُنتے چُنتے شاید زمانے لگیں۔۔۔تفکرات کے مندر میں ’الفراق۔۔ الفراق‘ کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، کہنے کو الفاظ کی بھرمار ہے مگر شاید کچھ کہہ نہ سکوں اس لئے مے خوار اپنے ساقی کے حضور جرأت کا اظہار نہیں کرتاآج خاموش گفتگو اور بے زبانی میری زبان ہے اگر ایسا کوئی ترازو ہوتا جس سے لہجۂ گفتگو میں پنہاں سوزوگداز کو تولا یا ماپا جا سکتا تو یہ شدتِ کرب پتھروں کے سینے میں فصلِ گریہ اُگا دیتا۔
کھلی جو آنکھ تو رخصت ہوئی چمن سے بہار
پھر اس کے بعد بہاروں کا انتظار رہا !
ابتدائیہ اٹک میں چند ماہ گزارنے والے ڈپٹی کمشنر عمران حامد جیسی پرخلوص اور ہردلعزیز شخصیت کو خراج پیش کرنے کے لئے ہیں ان کے اچانک تبادلے نے یقین جانیے اٹک کے مکینوں میں شدید مایوسی اور اداسی کاسماں پیدا کرد یا ہے ہر ایک صورت پریشاں، ہر طرف پھولوں جیسے چہرے مرجھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیوں نہ ہو خوشبو اُڑ جانے سے گلوں پر افسردگی تو چھا ہی جاتی ہے، مکین کی جدائی میں مکان کا غمزدہ ہو جانا ایک فطری عمل ہے ۔ عمران حامد کی ذات ایک قندیل کی مانند تھی جس سے کئی اور چراغ جلنے لگے تھے قصبات اور مضافات میں ان کی محبتوں کی شمعیں جل رہی تھیں ان کی شخصیت الفت و ارادت کا ایک چاند تھی جس کے گرد ہمہ وقت کئی کہکشائیں طواف کرتی تھیں ۔۔۔ ان عادات و اطوار کی وجہ سے بعض رفیق بن بیٹھے، کسی کو دیوانہ بنا ڈالا تو کوئی منور ہو گیا۔
یہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ اس محبت کرنے والے شخص کے بارے میں جو اپنی تعیناتی سے تبادلے تک جہاں بھی گیا لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتا گیا۔ فقیر سے چند ماہ کے مختصر دورانیے میں صرف دو ملاقاتیں ہوئیں پہلی ملاقات ان کے دفتر میں ہوئی جب انہوں نے چارج سنبھالا تھا تو انہیں اپنی کتاب ’’کہکشاں‘‘ پیش کی تھی اسی دن اندازہ ہو گیا تھا کہ فقیر منش ڈپٹی کمشنر اپنے پیش رو ڈی سی صاحبان رانا اکبر حیات اور علی عنان قمر کی طرح اچھی یادیں چھوڑ کر جائے گا۔ انہوں نے آتے ہی معذور بچوں کے سکولوں کی بحالی اور ان کے لئے ضروری آلات کی فراہمی کے علاوہ گورنمنٹ سکولوں کی تعمیروترقی اور عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے تمام اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کو واضح ہدایات جاری کیں کہ کسی سائل کو دوردراز کا سفر کر کے ضلعی ہیڈکوارٹر نہ آنا پڑے اور وہ خود بھی کھلی کچہریوں کے ذریعے عوام الناس کو انصاف فراہم کرنے میں حتی المقدور اقدامات اٹھاتے رہے۔ وہ عام آدمی اور مزدوروں کے ساتھ ایسے گھل مل جاتے کہ سائل اپنائیت محسوس کرنے لگتا اور وہ کھل کر ان کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کردیتا۔ مجھے مخدوم سجاد احمد بھٹہ یاد آگئے جب وہ ڈی سی اٹک تھے تو وہ بھی سائلین سے اپنے دفتر کے صدر دروازے پر ڈائس سجا کر مسائل سنا کرتے تھے ۔ یہ ضلع اٹک کے لوگوں کی خوش بختی سمجھیں یا اس علاقہ کی اعلیٰ روایات اور پاک ہستیوں کی خاص نظرِ کرم کہ جو سول یا پولیس سربراہ اس علاقہ میں آیا اکثریت اپنی سنہری یادیں چھو ڑ کر گئے۔ ڈی سی عمران حامد کے ساتھ میری دوسری ملاقات چند روز قبل 6فروری2022ء کو حسن ابدال میں حضرت بابا ولی قندھاریؒ کی چلہ گاہ شریف میں اس وقت ہوئی جب وہ اپنی فیملی کے ہمراہ چھٹی کے روز یہاں تشریف لائے تھے اس روز انہیں ’’بابا حسن ابدالؒ‘‘ کی مرقد کے احاطے میں لالہ رخ کے مقام پر ظہرانہ بھی دیا گیا جس کا اہتمام میونسپل کمیٹی کے ہونہار آفیسر انجینئر ذولفقار بٹ نے کیا تھا اورممتاز سماجی شخصیت و خادم بابا ولی قندھاریؒ اسد اقبال ترک کی میزبانی میں انہیں خصوصی قہوہ پیش کیا گیا۔ اس روز انہوں نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ اگلے اتوار کو وہ ہمارے ساتھ پہاڑی پر بیٹھک بابا ولی قندھاریؒ پر جائیں گے، مگر اگلے ہی روز ان کے بھکر تبادلے کی خبر آگئی ۔ ڈی سی اٹک کے تبادلے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ضلع میں پھیل گئی اور ضلع کے ہر شخص نے اس تبادلے پر دلی افسوس کا اظہار کیا، اہلیانِ اٹک نے اپنے ہر دلعزیز ڈپٹی کمشنر کو اس قدر الوداعی پارٹیاں دیں کہ اس سے قبل ایسا نہیں ہوا ان پر سینکڑوں من پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں جیسے پھولوں کے ساتھ تول کر رخصت کیا گیا کہ ان کے ذہن کے نہاں خانوں میں اٹک والوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں۔ ہمارے بھکر والے دوست خوش قسمت ہیں کہ انہیں عمران حامد جیسے فقیر منش ڈپٹی کمشنر کی رفاقت ملی ہے، اللہ ان کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور انہیں مخلوقِ خدا کی خدمت کے جذبے سے مزید سرشار فرمائے ۔ اسلم انصاریؔ کے اس شعر پر اختتام کرتا ہوں:
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں!

Shaid

شاہد اعوان

شاہد اعوان

Next Post

16فروری ...تاریخ کے آئینے میں

بدھ فروری 16 , 2022
16فروری ...تاریخ کے آئینے میں
16فروری …تاریخ کے آئینے میں

مزید دلچسپ تحریریں