امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان
تحریر: جوسف علی
بدقسمتی سے جنگ بندی کا خواب بکھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ اظہاریہ لکھتے ہوئے دلی دکھ ہو رہا ہے۔گزشتہ تحریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن سے صرف چند گھنٹے پہلے سیزفائر کی خبر دی تھی جو سچی ثابت ہوئی۔ اس پر دنیا بھر سے توصیفی ردعمل آیا تھا مگر اسلام آباد میں اظہاریہ کے شائع ہونے تک مذاکرات کی کامیابی کے بارے درپردہ حقائق انتہائی مایوس کن ہیں۔ اسرائیل نے حسب روایت سیزفائر کے فورا بعد لبنان اور ایران میں وہی جارحیت دوبارہ شروع کر دی ہے جسے کرنے میں وہ عادتا مجبور رہتا ہے۔ اسرائیل کا یہی معاندانہ رویہ 2025ء میں غزہ سیزفائر کے دوران سامنے آیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ سیزفائر کے دوران اس نے غزہ پر حملے جاری رکھے تھے۔ اب ایک بار پھر اسرائیل مستقل جنگ بندی میں انگریزی محاورے "چھرا گھونپنا” (At Daggers Drawn) کے مصداق 10اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد پہلی بار ہونے والے براہ راست مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ خلیجی جنگ بندی کے پہلے ہی روز اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے 100 مختلف ٹھکانوں پر شدید حملے کر کے 89 بے گناہ اور معصوم مسلمان شہریوں کو قتل اور 700 سے زیادہ افراد کو زخمی کر دیا۔ ایک ہی دن میں اسرائیل کی اس وحشیانہ بمباری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیئے ایران اور امریکہ کے فیصلے سے بالکل متفق نہیں ہے۔ اس عارضی جنگ بندی میں اسرائیل کو پاکستان کی سفارت کاری بھی پسند نہیں آئی ہے، جس کی پوری دنیا میں تعریف و توصیف کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ سابق اطالوی وزیراعظم پاؤلو جینٹیلونی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی پر پاکستان (یا وزیراعظم شہباز شریف) کو "نوبل انعام” ملنا چایئے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لبنان میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بالترتیب 250 اور 1100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ اسرائیل کا ایسا جنگی جنون ہے جو ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ، "ہم اپنے اہداف کو معاہدے یا جنگ دوبارہ شروع کر کے حاصل کریں گے۔” اس جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ (Yair Lapid) نے کیا جب اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ، "نیتن یاہو سیاسی اور حکمت عملی دونوں لحاظ سے ناکام رہے، وہ اپنے ہی طے کردہ اہداف میں سے ایک بھی ہدف حاصل نہ کر سکے۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی اپوزیشن وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی زیادہ جارحانہ مزاج رکھتی ہے اور اس نیتن یاہو سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیئم اور اس کی دفاعی صلاحیت مثلا میزائل اور ڈرون ٹکنالوجی سے محروم کیا جائے جس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ جب تک اسرائیل یہ اہداف حاصل نہیں کر لیتا ہے جہاں وہ ایران کی بقا اور سلامتی کے لیئے خطرہ بنا رہے گا، وہاں وہ حالیہ جنگ بندی میں روڑے اٹکانے سے بھی باز نہیں آئے گا۔
پاسداران انقلاب نے بھی جنگ بندی کے پہلے ہی روز یہ دعوی کیا کہ انہوں نے جنوبی ایران میں غیر ملکی حملہ آور (اسرائیلی) ہرمیس 900 ڈرون مار گرایا۔ ایرانی پاسداران نے دھمکی دی کہ اب کسی بھی غیر ملکی طیارے کی ایران کی فضائی حدود میں داخلے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا جس کے بعد فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔ ایران کے مطابق سیزفائر کا اطلاق لبنان پر بھی ہوتا ہے جبکہ اسرائیل نے ایران کے اس موقف کو رد کر کے لبنان پر بھی بھرپور حملے کیئے، اور پھر ایران پر بھی علامتی ڈرون پھینکا، جس کے بعد یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایران نے اسرائیل کی اس جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے حالانکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے تھے اور یونان اور لائبیریا کے 2 جہاز گزرے بھی تھے۔ تاہم بعد میں ایران نے اعلان کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں وہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک رہا ہے۔
اسرائیل ایک قطعی متشدد ریاست ہے جو اپنے قیام کے بعد مسلسل یہ جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان 1948ء میں قیامِ اسرائیل کے بعد سے متعدد بڑی جنگیں ہوئیں ہیں، جن میں 1948، 1956، 1967 (چھ روزہ جنگ)، اور 1973 (یوم کپور جنگ) شامل ہیں۔ ان جنگوں میں اسرائیل نے عرب ممالک (مصر، شام، اردن) کو شکست دے کر فلسطین، غزہ، مغربی کنارہ، اور گولان کی پہاڑیاں چھین لیں، جس سے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل گیا، جبکہ موجودہ خلیجی جنگ ان تمام جنگوں میں سے سب سے زیادہ خطرناک تھی جس سے پوری دنیا ایٹمی جنگ کے کنارے پر پہنچ گئی تھی. اس پر سیزفائر کے ایک روز پہلے چین نے دنیا کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ، "اگر دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانا ہے تو اسرائیل کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔” اسرائیل اپنی جارحیت میں اس قدر آگے جا چکا ہے کہ وہ دنیا اور خطے میں قیام امن کے لیئے ایک "متواتر خطرہ” بن چکا ہے۔
خدانخواستہ، سیزفائر کے عین دوران اسرائیل کی اس جارحیت سے اسلام آباد میں 10اپریل کو ہونے والے مذاکرات منعقد ہونے سے پہلے ہی مشکوک ہو گئے ہیں۔ بناء برین افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ حالانکہ کہ یہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پہلے براہ راست مذاکرات ہیں۔ امریکہ میں پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ یو ایس اے (PPI-USA) کے چیئرمین اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ دور میں مشرق وسطی کے لیئے ان کے سیاسی مشیر پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی نے یہ اظہاریہ لکھنے کے دوران ایک لنک بھیجا جس میں "برکس نیوز” (BRICS NEWS) کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیل کے اس متواتر اور تاریخی جارحانہ رویئے کو خطے میں مسلم اتحاد روک سکتا ہے، جس کی افسوس ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی ہے، اور یا پھر امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روک سکتے ہیں۔ یہ ایک طرف سمندر اور دوسری طرف کھائی والا معاملہ ہے۔ دکھی دل کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی کی حالیہ جنگ بندی بالخصوص اور دنیا بھر کا امن بالعموم دو انتہاؤں کے درمیان کھڑا ہے جسے انگریزی میں "Between The Devil and The Deep Sea” کہتے ہیں۔ خدا خیر کرے!

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |