ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے غزہ عالمی امن بورڈ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس میں ایک ارب ڈالر کی انٹری فیس دینے کے وعدے پر کچھ ممالک نے شمولیت بھی اختیار کر لی ہے لیکن لگتا ایسا ہے کہ، "ایں خیال است، محال است و جنوں”، کے مصداق اس منصوبے کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ بظاہر غزہ اور مشرق وسطی میں امن کی بحالی کا یہ منصوبہ بہت خوشنما ہے لیکن ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ہے۔
امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ میں امن اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ فلسطینوں کی نسل کشی اور جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ نے 8 قرار دادیں پاس کیں، آٹھوں کو امریکہ نے ویٹو کیا۔ انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس نے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کئے لیکن صدر ٹرمپ نے عدالت کے احکامات کی تضحیک کی اور نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے بجائے اسکے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کی اور اسے مدد جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا۔ اس میں بوڑھے مرد و خواتین اور معصوم بچے بھی تھے، لاکھوں ٹن بارود گرا کر غزہ کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا، انفراسٹرکچر تباہ کیا، امدادی قافلوں پر حملے کیئے اور ہسپتالوں تک کو تباہ کر دیا۔
اس امریکی حمایت اور اسرائیلی جارحیت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ دھشتگرد حماس نہیں بلکہ اسرائیل ہے۔ ساری دنیا چاہتی ہے کہ غزہ میں امن قائم ہو لیکن اس امن کے لئے اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ امن کی تمام کوششوں میں فلسطین کی اتھارٹی کو کیوں نہیں بٹھایا جاتا؟ حماس کو غیر مسلح کرنے کے بجائے اسرائیل سے غزہ کا قبضہ چھڑایا جانا چایئے اور نیتن یاہو کو گرفتار کر کے عالمی عدالت میں جنگی جرائم اور فلسطین میں انسانی مسئلہ پیدا کرنے کے مقدمات چلائے جانے چایئے۔ جب اسرائیل فلسطینوں کی سر زمین سے نکل جائے گا تو حماس خود بخود غیر مسلح ہو جائے گی۔فلسطینی علاقوں پر تو امریکہ کے ایماء پر خود اسرائیل قابض ہے، تو پھر فلسطین کی جہادی تنظیم کو اپنے علاقے واپس لینے کی جدوجہد سے روکنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ ایکشن تو غاصب ریاست اسرائیل کے خلاف لیا جانا چایئے۔ لیکن امریکہ امن بورڈ کا ڈرامہ رچا کر فلسطینیوں کو بیدخل کر کے غزہ پر خود قبضہ جمانا چاہتا ہے جس کا امریکی صدر بارہا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ وہ غزہ کا انفراسٹرکچر بحال کر کے اسے خوبصورت عالمی سیرگاہ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن غزہ میں امن کی بحالی اسی صورت میں ممکن ہے جب فلسطینیوں کے حق رائے دہی اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔
21 جنوری 2026ء کو 8 اسلامی ملکوں نے غزہ عالمی امن بورڈ میں شمولیت کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان، انڈونیشیا، مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر شامل ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مطابق غزہ میں قیامِ امن، مستقل جنگ بندی، تعمیرنو، فلسطینیوں کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں حقِ رائے دہی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں اعلامیہ جاری کیا تھا۔ ان ممالک کی نیت اور اخلاص پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ امریکی صدر نے 60 ممالک کو شرکت کے دعوت نامے بھیجے جن میں سے صرف 19ممالک معاہدے میں شامل ہوئے۔ دیگر ممالک کے شامل نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس امن معاہدے میں فلسطین کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ یہ غزہ کا کیسا عالمی امن بورڈ ہے کہ جسے غزہ اور فلسطین میں امن کی بحالی کے لیئے بنایا گیا یے مگر اس میں فلسطین ہی کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بعض ممالک اسی وجہ سے شمولیت کرنے باز رہے یا پھر انہوں نے غیر حاضر رہنے کو ترجیح دی۔ اسرائیل کو پاکستان کے کسی عبوری فورس کا حصّہ بننے یا تعمیر نو میں شامل ہونے پر اعتراض ہے۔ دوسری طرف چین، جرمنی، اسپین اور فرانس نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا جبکہ روس نے صدر ٹرمپ کی یوکرائن جنگ ختم کرانے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امن بورڈ میں شمولیت اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ممالک سے مشاورت سے مشروط کر دی۔ البتہ روس نے غزہ امن بورڈ میں ایک ارب ڈالر فلسطینیوں کی امداد کے لئے دینے کا اعلان کیا۔ مغربی ممالک میں برطانیہ، کینیڈا اور اٹلی خاموش ہیں۔ صدر ٹرمپ کا خیال صرف چنیدہ ممالک کے تعاون سے غزہ میں امن کا قیام تھا لیکن بعد میں انہوں نے 60 ممالک کو نہ صرف شمولیت کے دعوت نامے جاری کئے بلکہ بورڈ کو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ صدر ٹرمپ اقوامِ متحدہ پر الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ جنگیں رکوانے میں مؤثر طریقے سے کردار ادا نہیں کر رہا ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ فلسطین میں امن کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ ہے جس نے اقوام متحدہ کی آٹھ کی آٹھ قرار دادوں کو ویٹو کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینکا۔
حال ہی میں امریکہ نے اقوامِ متحدہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسکی 66 کمیٹیوں سے نکلنے کا عندیہ دیا۔ اقوام متحدہ کے مدمقابل اس سے بڑا اور کیا ڈرامہ کیا ہو سکتا ہے کہ خود صدر ٹرمپ اس بورڈ کے تاحیات چیئرمین ہوں گے اور ویٹو کی واحد طاقت بھی ان کے پاس ہو گی۔ یہ تو صدر ٹرمپ نے پنجابی محاورے، "انھا ونڈے چوریاں مڑ مڑ گھر دیاں نوں”، کے مصداق خود ہی یہ امن معاہدہ بنایا ہے اور خود ہی اس کے ویٹو پاور کے حامل تاحیات چیئرمین بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے باقی مستقل اراکین چین، فرانس، روس اور برطانیہ نے اس میں شمولیت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
امریکی صدر کم و بیش 7 لاکھ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ کمر باندھ کر کھڑے ہیں۔ اب وہ عزہ میں امن معاہدے کا یہ ڈرامہ رچا کر حماس کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں۔ حماس کی ہمت، استقامت اور ایثار نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ جتنی مرضی چالیں چلیں، ان کی فلسطینی قربانیوں کے سامنے ایک نہیں چلے گی۔
پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر کبھی اپنی ریاستی پالیسی سے انحراف نہیں کیا۔ غزہ امن بورڈ میں پاکستانی شمولیت اس اعتبار سے خوش آئیند یے کہ پاکستان اس سے باہر رہ کر فلسطین کے حق میں وہ کردار ادا نہیں کر سکتا تھا جتنا اس میں شامل ہو کر اور فلسطینی امن فورس کا حصہ بن کر کر سکتا ہے۔ اسرائیل ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کی شمولیت سے خائف ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی اس امن بورڈ میں شمولیت پر سخت سیخ پا ہو رہا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |