تقریبِ پذیرائی:تین دن محبت کے
13 فروری کی دوپہر قریب پونے بارہ بجے میرے موبائل کی گھنٹی نے خاموشی کا پردہ چاک کیا۔ دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم کی باوقار آواز تھی۔ انھوں نے مژدہ سنایا کہ 18 فروری 2025ء کو آزاد کشمیر کی جواں سال افسانہ نگار رابعہ حسن کے افسانوی مجموعے “تین دن محبت کے” کی تقریبِ پذیرائی گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج گڑھی دوپٹہ کے ہال میں منعقد ہوگی۔ انھوں نے مجھے کتاب پر مضمون پیش کرنے کا حکم دیا
یہ حکم میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ میں نے تقریب میں شریک ہونے اور مضمون پڑھنے کی حامی بھر لی۔ ڈاکٹر عبدالکریم اس ادارے(گورنمنٹ کالج گڑھی دوپٹہ)کے سربراہ ہیں اور رابعہ حسن ان کے زیرِ سایہ گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد میں تدریسی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
کال ختم ہوتے ہی میں نے رابعہ حسن سے رابطہ کیا اور کتاب کی دستیابی کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس روز رخصت پر ہیں اگلے دن کالج آئیں گی تو ڈاکٹر عبدالقیوم قریشی( جو میرے پڑوسی ہیں) کے ہاتھ بھجوا دیں گی۔ حسبِ وعدہ 14 فروری کو مجموعہ موصول ہوا۔ میں نے اسی روز اس کا بہ غور مطالعہ کیا اہم نِکات نوٹ کیے اور اگلے دن تقریب کے لیے ایک مختصر مگر جامع مضمون تیار کر لیا۔
18 فروری کو تقریب کا وقت صبح گیارہ بجے مقرر تھا۔ میں کچھ دیر پہلے ہی پہنچ گیا۔ مرکزی دروازے پر ڈاکٹر عبدالکریم نے پرتپاک استقبال کیا اور مسکراتے ہوئے کہا:
“آپ کو پہلی مرتبہ گاڑی چلاتے دیکھا ہے!”
وہ خود تو وقت کے بے حد پابند انسان ہیں مگر مہمانوں کی آمد میں تاخیر ہوگئی۔ اس دوران میں ریاضی کے لیکچرر ڈاکٹر محمد رفیع جگوال نے چائے کی دعوت دی اور قریبی ہوٹل لے گئے جہاں چائے اور باقر خوانی سے لطف اندوز ہوئے۔ ڈاکٹر محمد رفیع سے چند روز قبل 8 فروری کو میرپور میں تعارف ہوا تھا۔ نہایت مجلسی اور خوش مزاج انسان ہیں۔
واپسی پر بھی مہمانوں کی آمد جاری تھی۔ راجا محمد فیاض صاحب، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بلگراں، تشریف لا چکے تھے۔ ان سے ادب اور تعلیمی سرگرمیوں پر گفت گو ہوئی۔ دیرینہ دوست وقار میر سے ملاقات نے فضا کو مزید خوش گوار بنا دیا۔ کالج کے دیگر اساتذہ میں فائق نواز، ڈاکٹر ضمیر الحسن، محمد ارشاد اعوان اور چودھری الطاف حسین سے بھی ملاقات رہی۔
قریب بارہ بجے جب تمام مہمان تشریف لے آئے تو ہال کی طرف روانگی ہوئی۔ ہال طلبہ اور مہمانوں سے بھرا ہوا تھا نظامت کے فرائض اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر راجا اکرم خان نے نہایت سلیقے سے انجام دیے۔ صدارت ڈاکٹر عبدالکریم نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی رابعہ حسن تھیں۔
دیگر معزز شرکا میں پروفیسر زاہد بخاری، ڈاکٹر مہوش چغتائی، پروفیسر ڈاکٹر واجد اعوان، پروفیسر شگفتہ بخاری، پروفیسر شاہین گیلانی، پروفیسر راجا رحمت خان، پروفیسر راجا فیاض، پروفیسر شیخ جمیل (پرنسپل ڈگری کالج چکار)، پروفیسر راحیلہ عباسی، اور پروفیسر ثمینہ سیمیں (پرنسپل گرلز کالج کومی کوٹ) شامل تھے۔ ہال طلبہ سے بھرا ہوا تھا اور فضا میں ادبی وقار نمایاں تھا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا جسے جماعت دوازدہم کے طالب علم محسن علی اعوان نے پیش کیا۔ بعد ازاں جماعت یازدہم کے ایک طالب علم عدیل احمد نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔
مقررین میں جونئیر ہونے کی حیثیت سے سب سے پہلے مجھے اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ میں نے عرض کیا کہ رابعہ حسن نے سادہ اور دل نشیں انداز میں عام فہم واقعات کو افسانے کی صورت دی ہے۔ ان کے اسلوب کی ایک نمایاں خصوصیت انگریزی الفاظ کا استعمال ہے جو جدید حسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی کہانیاں جیتی جاگتی محسوس ہوتی ہیں۔ حاضرین کی داد میرے لیے تقویت کا باعث بنی۔
اس کے بعد پروفیسر راجا فیاض صاحب نے گفت گو کرتے ہوئے بتایا کہ رابعہ حسن کی پیدائش چکار ضلع ہٹیاں میں ہوئی جو ان کا اپنا آبائی علاقہ بھی ہے۔ وہ ان کی شاگردہ بھی رہ چکی ہیں اور دونوں ایک ساتھ تدریسی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے افسانہ “دوسری محبت” کو معاشرتی المیے کی مؤثر عکاسی قرار دیا۔
پروفیسر راجا رحمت صاحب نے کتاب کے انتساب کو دل چسپ قرار دیا اور تاریخی و رومانوی تناظر میں گفت گو کی۔ پروفیسر شاہین گیلانی نے خواہش ظاہر کی کہ یہ کتاب آزاد کشمیر کے تمام کالجز کی لائبریریوں میں دستیاب ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر واجد اعوان نے مدلل انداز میں کتاب کا جائزہ پیش کیا اور اعلان کیا کہ جلد ہی مظفرآباد میں اس کتاب کی ایک بڑی تقریب منعقد کی جائے گی۔
پروفیسر شگفتہ بخاری نے بتایا کہ وہ تہجد کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ کرتی رہیں۔ انھوں نے افسانہ “دھند” پر خصوصی بات کی اور بعض انگریزی الفاظ کے استعمال پر تنقیدی رائے بھی دی۔
اس کے بعد ناظم تقریب نے مصنفہ رابعہ حسن کو دعوت دی۔ مصنفہ نے اپنے ادبی سفر کا ذکر کیا کہ تیسری جماعت سے لکھنے کا آغاز کیا مختلف اعزازات حاصل کیے اور شاعرہ، صحافی، افسانہ نگار اور استاد کی حیثیت سے کام یابیاں سمیٹ رہی ہیں۔ اگست میں ایک حادثے میں ٹانگ زخمی ہونے کے باوجود بستر پر بے چینی محسوس کرتے ہوئے ایک ماہ کے قلیل عرصے میں یہ مجموعہ شائع کروایا۔ انھوں نے تقریب کے انعقاد پر ڈاکٹر عبدالکریم کا شکریہ ادا کیا۔
اختتامی خطاب میں صدر تقریب اور آج کے میزبان پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم نے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ ہمارے معاشرے میں مطالعے اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کی روایت کم زور پڑتی جا رہی ہے۔
تقریب کے بعد پُرتکلف چائے کا اہتمام تھا تاہم اس سے قبل ایک یادگار لمحہ یہ بھی تھا کہ پروفیسر شاہین گیلانی صاحب کے ہاتھ سے کالج میں یادگار پودا لگوایا گیا جس سے تقریب میں ایک معنوی اور یادگار عنصر شامل ہوگیا۔ چائے کے دوران میں ڈاکٹر واجد اعوان نے برجستہ کہا:
“جب بازو ٹوٹا تو افسانہ چھپا، جب ٹانگ ٹوٹی تو مجموعہ آیا گویا جب انگ ٹوٹتا ہے تو نثر ہوتی ہے اور جب دل ٹوٹتا ہے تو شعر۔ لکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ ٹوٹنا لازم ہے۔”
محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔ یادگاری تصاویر بنیں، مصافحے ہوئے اور یوں یہ ادبی نشست خوش گوار یادوں میں محفوظ ہوگئی۔ میں اور وقار میر واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے تو دل میں یہی احساس تھا کہ محبت اور لفظ کا یہ سنگم دیر تک ذہن و دل کو منور رکھے گا۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |