اثباتِ ذات اور امکانات کی شاعری

اظہرمحمود

استاد شعبہ اردو

                                                معروف محقق، نقاد، پنجابی اور اُردوزبان کے کہنہ مشق شاعر اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ اُردو کے استاد ڈاکٹرارشدمحمودناشاد کے شعری مجموعہ ”رنگ“ کا دوسرا ایڈیشن، رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی سے ستمبر 2020ء میں چھپ کر منظر عام پر آچکا ہے اور قارئینِ ادب سے دادوتحسین سمیٹ رہا ہے۔ ایک خوب صورت نعت اور پچاس غزلیات پر مشتمل شعری مجموعہ ”رنگ“ جس کا انتساب ”خاک کے نام“ ہے۔ نہایت دیدہ زیب اور دل کش سرِورق اور فلیپ اُردوشعروادب کے معتبر شعرا وناقدین کی وقیع تنقیدی آرا سے مزین ہے۔ ان موقّرتحسینی کلمات سے ”رنگ“ کی فنی وفکری بلوغت اور شعری روایت کی تازگی وتابندگی کاشدیداحساس ابھرتا ہے۔ ریاض احمد نے ”مقدمہ“ میں مدلّل اورمعقول ادبی حوالوں سے ”رنگ“ کے فکری واسلوبی مندرجات کے اثبات اورتحسین سے قارئین ادب کے لیے مجموعے کو مزید عالی شان اورمطلوب بناڈالا ہے۔

                                                مبین مرزا اور سیدناصرشہزاد نے ”رنگ میں ناشادصاحب کے شعری وفکری رنگوں کے تاثر اورتحیرآفریں اسلوبی شان کونہ صرف سراہا ہے بل کہ معاصرشعریات کے تناظر میں اسے نئے امکانات کاخوش آہنگ اشارہ قرار دیتے ہوئے فراغ دلی سے سواگت بھی کیا ہے کہ ”رنگ“ ہماری مرصع غزل کے درِکمال کو کھول رہا ہے تاکہ بہت جلدوہ اپنے مقامِ وصال تک پہنچ سکے۔ مزید برآں مشہور شاعر مشتاق عاجزؔ کے بنائے کچھ اشعار کے تصویری عکوس کی شمولیت نے ”رنگ“ کی زینت اور دل کشی کو دوبالا کر دیا ہے۔  ڈاکٹرناشادکی زندگی کابیشتروقت شعروادب کی تحقیق وتنقیداورتدریس میں گزرا ہے۔ بالخصوص شعری نزاکتوں اور لطافتوں پراُن کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ ان کے شعری نظریات اورتخلیقی تجربات اُن کے حیات وکائنات کے افکار سے صورت پذیرہوئے ہیں۔ ادب وشعراورسماجیات پراُن کی نگاہ بہت گہری ہے۔ ویسے توڈاکٹرناشادنے متفرق اصناف ادب میں کام کیا ہے اور ان میں اپنے تخلیقی کمالات اورجوہردکھائے ہیں مگربنیادی طورپر وہ غزل کے شاعر ہیں۔

اثباتِ ذات اور امکانات کی شاعریاثباتِ ذات اور امکانات کی شاعری

                                                ”رنگ“ میں موجود متفرق رنگ چوں کہ اُن کے گہرے تفکر، ریاضت اور طویل مطالعے کے خاص رُخ سے پھوٹے اور متشکل ہوئے ہیں۔ اس لیے جاذبِ توجہ اور دل نشین ہیں۔ اُن کا کسی قدر غیرروایتی اور جدید اندازِ شعر دراصل روایت کے تسلسل اور پاس داری سے ہی منعکس ہواہے۔ اُردوغزل کی فراغ دلی کایہ اعجازہی اس کے تابندہ اور امر ہونے کی دلیل ہے کہ وہ ہرطرح کی فکرکواپنے اندرسمونے کی صلاحیت اور ظرف رکھتی ہے۔

                                                ”رنگ“کی شاعری سے بہ خوبی اندازہ ہوتاہے کہ شاعر کسی بھی صورتِ حال کامحض عکاس ہی نہیں ہے بلکہ تجزیہ کاری کے عمل سے صورتِ حال کی تعمیروتہذیب اور پیش بندی کاخواہاں بھی ہے۔ درحقیقت وہ زندگی کی معنویت کاتمنائی اورامکانات کامتلاشی ہے۔ ڈاکٹرانورسدید نے فلیپ میں ناشاد صاحب کی شاعری کا کسی قدر درست تجزیہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں

”ناشادصاحب نے غزل کی روایت کوقائم رکھتے ہوئے اسے مضامین تازہ سے ثروت مند کیاہے اورزبان کوایک ایسے لہجے سے سرفراز کیا ہے۔ جس میں ایک رجلِ عظیم کائنات سے ہم کلام ہے اور پوری کائنات گوش برآواز نظرآتی ہے۔“

                                                ”رنگ“ کی شاعری، شاعر کی تخیلاتی یامحض ذہنی واردات کی ترجمانی نہیں ہے بلکہ یہ تجربات واحساسات اور تمناؤں میں گندھا وہ اظہاریہ ہے جوجسم وجاں کی محسوسات اورلمس سے مملو ہے۔ یہ شاعری محبت اور تمنائے محبت کی اُس جمالیاتی سطح کوچھورہی ہے جس میں ایک وارفتگی ہے۔ ایک عملی شرکت ہے اورایک مثبت حرکیاتی لَے صاف رقصاں نظرآرہی ہے:

نئے موسم کی بشارت ہیں ہم

بزمِ امکان کی زینت ہیں ہم

ہم سے کیا آنکھ ملائیں مہ و مہر

ذرہِ خاک کی عظمت ہیں ہم

میں خاک چھانتا ہوں، آفتاب دیکھتا ہوں

حریمِ دشت میں خوشبو کے خواب دیکھتا ہوں

                                                ”رنگ“ کے شعری تصورات قدرے نئے اور امکانات سے بھرپور ہیں،یہ اس لحاظ سے بھی منفرد اور دل رُبا ہیں کہ اِن میں بیشترشعراکی طرح کاروایتی گھساپٹااندازاوربھرتی کااحساس قطعی نہیں ہوتا۔ شکستہ امیدوں،ناکام تمناؤں اور پامال جذبات کابیان نہ ہونے کے برابر ہے البتہ اگر کہیں شکستگی کی لَے اونچی اور سطح ابھری بھی ہے تو شاعر نے تعمیرکے جذبے اور یقین کی توانائی سے اسے قدرے دبادیا ہے۔ متحرک اور بلندآہنگ قوافی اور ردیفوں کے استعمال، لہجے کی توانائی اور ارادے کاتیقن اس امر کے گواہ ہیں کہ شاعر کی کمٹ منٹ واضح ہے اور اسے اپنی ذات پر مکمل اعتماد ہے۔

                                                درحقیقت ڈاکٹرناشاد نے معاصرسماجی، تہذیبی بدہیئتی وناہمواری اور انسانی ناقدری اور بے وقاری سے نااُمید اور بے دست وپا ہونے کے بجائے متذکرہ کجیوں اور محرومیوں کواپنی قوت اور امیدبناکرانھیں ایک کاری ہتھیارکے طورپر ایسے استعمال کیا ہے جس سے ایک نئے اور پُرخواب جہان کی فتوحات کویقینی بنایا جاسکتا ہے۔

تری طلب میں ستاروں کا ہم سفر ہوا مَیں

خدا کا شکر کہ اس درجہ معتبر ہوا مَیں

جسے زوال نہیں ہے بیاضِ امکاں میں

وہ لفظ ہے مرے دستِ ہنر میں رکھا ہوا

شوقِ نمو کو ہم نے بکھرنے نہیں دیا

خوفِ زوال اڑان میں رکھا نہیں کبھی

                                                دشت میں خوشبو کے خوابوں کی تمنااورنئے موسموں کی بشارتوں میں مستور آرزوئیں دراصل وجود کی اہمیت اور اثباتِ ذات کاواضح اشاریہ ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس قبیل کے مضامین بیسویں صدی کی چھٹی ساتویں دہائی کے شعری منطقے پرمتعارف ہورہے ہیں مگرمعاصرسیاسی وسماجی اورمعاشی بے یقینی میں تخلیقِ شعر کی صورتِ حال نہایت گھمبیراورغیر واضح ہے۔ اسی فکری انتشار کے باعث بہت کم تخلیق کار کسی واضح نقطہ نظر کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھی متذکرہ دہائیوں میں مغرب سے آمدہ وجودی نظریات کے تحت بتدریج اُردو شعروادب میں بھی اثباتِ ذات اور موجودیت پسندی نے باقاعدہ ایک فلسفے یانظریے کی صورت اختیار کی ہے۔ مغرب میں اس نظریے کے پرچارک سارتراوراس کے مقلدین تھے مگراس کے ڈانڈے مینڈے دراصل انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب کے بھیانک نتائج سے بھی پہلے قبل مسیح کے دور میں سقراط کی تعلیمات سے جاملتے ہیں۔ جہاں وہ ”اپنے آپ کوپہچانو“ کی فکری ترغیب دیتا نظرآتاہے۔ اسی طرح مذہبیات اور صوفیانہ نظریات کے اندربھی فرد کے اثبات اور باعمل موجودگی کے مباحث ملتے ہیں۔

                                                اُردوشعری ادب خصوصاًغزل میں مرزاغالب کے ہاں غالباً پہلی بارفرد، اثباتِ ذات کے اظہارمیں فعال دکھائی دیتاہے جب کہ روایتی اُردوغزل کامرکزی کرداربالعموم بیمارومجہول (Passive) یافعالیت سے بے بہرہ ہی رہا ہے۔ اس کی ایک ٹھوس وجہ اس عہدکے شعراکی درباری محتاجی بھی ہوسکتی ہے۔

                                                قصہ مختصر مشین کی ایجاد اور صنعتی ترقی نے انسانی احساسات کو ہلاکررکھ دیا ہے جس سے ادبی موضوعات اوراسلوب واظہار کے اندازمیں بھی تبدیلی اوروسعت آئی ہے۔ جدیدسائنسی اورٹیکنالوجی عہد کایہ بڑاالمیہ ہے کہ اشرف المخلوقات اورذی حِس وذی شعور انسان مشین سابے حس اور بے جان ہوچکا ہے اور احساسِ مروت مشینوں کی گھرّرگھرّر میں کہیں کچلاگیاہے اور اسی سے عدم تحفظ اور احساسِ بے گانگی نے جنم لیا ہے۔ جب متذکرہ صورتِ حال نے شدت اختیارکی تو دو طرح کے شعری رویے ابھرتے نظر آئے۔ ایک رویہ انفعالی اور بے دست وپائی کاہے جب کہ دوسرا رویہ تحرک اور عملیت پسندی کانظرآتا ہے۔ یہی دوسرارویہ ڈاکٹرارشدمحمودناشاد کاتعارف بنتا ہے۔ موجودہ ادبی صورتِ حالات کے تناظر میں ”رنگ“ کے شعری مندرجات امکانات سے معمور ہیں۔ شاعرکارجائی لہجہ، اثباتِ ذات اور آدمیت شناس شاعری کسی تازہ اور خوش گوار جھونکے کی طرح توانا اور حیات آفریں ہے۔ امین راحت چغتائی فلیپ میں لکھتے ہیں:

”ڈاکٹرارشدمحمودناشاد کی غزل سوچ کرپڑھنے اور پڑھ کر سوچنے سے تعلق رکھتی ہے۔ شاعر کامشاہدہ وتجزیہ بصیرت افزا ہے۔ کلام کاجوہر،شعری ادراک حرکیاتی ہے اوراس میں جودت کے جواہر جڑے ہوئے ہیں۔“

ارشدمحمودناشادکی منفردغزل کے ضمن میں ڈاکٹرخورشیدرضوی کی انڈرسٹینڈنگ بھی قدرے وہی ہے جوامین راحت چغتائی کی ہے کہ:

”لب ورخسار سے ہٹ کر غزل میں کچھ نئے رنگ بھرنا، سوادِ بیاباں سے خوشبو کشید کرنااور بحرِ بے پرواکو دریا آمیز

کرنا، ان کی تمناؤں میں شامل ہے۔“

زمینِ وہم سے نخلِ یقین پھوٹتا ہے

نشانِ موجہِ آبِ رواں، سراب میں ہے

لبوں پر تشنگی ہے دشت صورت

اور آنکھوں میں سمندر ناچتا ہے

تمام عمر سفر میں رہے بہ رنگِ صبا

جنونِ خواب نے رکھا ہے بے قرار ہمیں

تمام عمر رہی ہے مجھے تلاش اُس کی

وہ ایک عکسِ گریزاں جو میرے خواب میں ہے

                                                ”رنگ“ کے اشعار کاغائرمطالعہ کیاجائے تو یہ تاثر نمایاں ہوکر سامنے آتاہے کہ شاعر بین السطور عہدِ جدید کی بے چہرگی کی دھند میں فرد کی کائنات میں موجودگی اور بے معنویت کے مسائل کے تناظر میں فرد کے وجود، اس کے اثبات اور اس کی فعالیت کوموضوع بنائے ہوئے ہے اور بہ حیثیت اشرف المخلوقات، فرد کی کائنات میں موجودگی کے مسائل کومعروضی ومعاشرتی رخ سے ماورا بھی کچھ زاویوں سے دیکھ رہا ہے:

ہم جنوں پیشہ کہ رہتے تھے تری ذات میں گم

ہو گئے سلسلہِ گردشِ حالات میں گم

تلاشِ لامکاں میں اُڑ رہا ہوں

مگر مجھ سے مکاں لپٹا ہوا ہے

                                                ڈاکٹرناشاد نے اپنے آپ کو محض عصری مسائل یاحیات کی چند صعوبتوں کے بیان تک ہی محدود نہیں رکھابل کہ کائنات کے دیگرموضوعات انسان اورکائنات کے باہمی ربط اورانسانی فطرت کی متفرق دلچسپیوں کوبھی موضوعِ شعر بنایا ہے۔ انھوں نے نئے خیالات اور نئے امکانات کے اظہار کے لیے نئے نئے مرکبات تراشے اور وضع کیے ہیں۔ زمینِ وہم، درِجہانِ فراق، قتیلِ فتنہ ہجراں، عرصہِ اوہام، غیرتِ صبح وصل وغیرہ جیسے نئے مرکبات کے استعمال سے جہاں ان کی فنی اورتخلیقی صلاحیتوں کااظہارہوتاہے، وہیں زندگی اورکائنات کے کئی نئے زاویوں سے بھی قاری کاخوش گوارتعارف ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اہم اور قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ شاعرانہ معنویت کی حامل یہ جدیدتراکیب جہاں شاعر کے نقطہ نظر کی وضاحت میں معاونت کررہی ہیں اورشاعر کی وسعت مطالعہ اور فنی پختگی کاثبوت ہیں، وہیں پریہ مرکبات ادبی دفتر میں بھی گراں قدر اضافہ ہیں:

سُنا کے طائرِ بے پر کو مژدہِ ہجرت

شجر شجر سے لپٹ کر مچل رہی ہے صبا

عجیب موسمِ اوہام ہے کہ سوچتے ہیں

حدودِ گل بدناں سے نکل رہی ہے صبا

                                                اُردوغزل کی تکنیک، ہیئت، اس کے عروضی سفرکاتحقیق ومطالعہ اور اس تناظروتسلسل میں غزل گوئی ڈاکٹرناشاد کامن بھاتا میدان ہے۔ ان کے ہاں جدتِ بیان اور ندرتِ احساس غائرمطالعے اورتجزیہ کاری کے ساتھ ساتھ طویل ریاضت ہی کی عطا ہے۔ بالخصوص ان کے استعاراتی وعلامتی تلازمات نے غزل کی فنی واسلوبی شان بڑھادی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں انھوں نے شعری روایت سے استفادہ کیا،وہیں انفرادی علائم اورتمثالوں کوبھی برتاہے۔ ان کے امیجز اورتصویری پیکر ان کے امکانی نقطہ نگاہ سے وجودپذیر ہوتے ہیں:

پھول پامالِ دہر ہوا

ہوگئی سرخ رُو خوشبو

جہاں شہزادگانِ عہدِ رفتہ گم ہوئے تھے

اُسی شہرِ فسوں سے ہم گزرنا چاہتے ہیں

مچل رہے ہیں بہت ارضِ بے نمو کے داغ

کبھی تو اے گلِ تازہ! نکھار دل کا باغ

ہماری آنکھ میں جچتا نہیں کوئی منظر

گلِ مراد! کرشمے ترے کمال کے ہیں

کبھی کشاکشِ دنیا کے در پئے آزار

کبھی سکوتِ زمانہ سے تنگ ہے خوشبو

اثباتِ ذات اور امکانات کی شاعری
اثباتِ ذات اور امکانات کی شاعری

                                                اسی طرح ناشاد کے ہاں صنائع کاہنرمندانہ استعمال محض شعری ضرورت کی تکمیل کے لیے نہیں ہوا بل کہ اس پیرائے میں انھوں نے متفرق رویے اورمختلف حوالے جواُن کے نظامِ فکر کاحصہ ہیں، کی وضاحت کی ہے اور وجود کااظہار واثباتِ ذات اورامکانات کے بحیرے کو کھنگالنے کی سعی کی ہے۔ ان کے صنائع، استعارے، تمثالیں اور تلازمے سب ان کے فکری نظام سے جڑےہوئے ہیں جواُن کے شعوری نظام کاحصہ ہیں۔ نیزان کی کوئی سی تعبیربھی ممکن ہے کیوں کہ غزلیہ اشعار میں مفاہیم کی مختلف سطحیں اور اشارے بہرحال موجود رہتے ہیں:

رہینِ جورِ تلاطم رہا سفینہِ زیست

تمام عمر سفر کے عذاب اٹھاتے رہے

مجھ کو مسمار نہ کر عرصہِ نادانی میں

میں زمانوں کی ریاضت سے ہوں، تعمیر ہوا

کہیں بساطِ غرورِ چمن اُلٹ ہی نہ دے

کہ شاطروں کی طرح چال چل رہی ہے صبا

                                                انفعالیت کی بجائے عملیت کارنگ ناشاد کے ہاں زیادہ نمایاں نظرآتا ہے۔ نیزان کے عشقیہ اورروایتی اشعار بھی ان کے مجموعی فکری رنگ سے رنگ دار نظرآتے ہیں۔

                                                ”رنگ“ میں علمِ بیان کافنکارانہ استعمال بھی قابلِ توجہ ہے۔ نئی اور خوب صورت تشبیہات سے اشعارکے لطف میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح تلمیحی اشارات اور استعارات سے غزلوں کی تاثیر میں زور اور نقطہئ نظر کی تفہیم میں سہولت پیدا ہوگئی ہے۔

ناتوانی میں بھی اک کوہِ گراں کی صورت

گردشِ دہر! ترے مدِ مقابل رہے ہم

میں ترے شہر سے گزرا ہوں بگولے کی طرح

اپنی دنیا میں مگن، اپنے خیالات میں گم

کتنے کنعان ہوئے خوابِ ذلیخا میں اسیر

کتنےیعقوب رہے ہجر کے صدمات میں گم

یہ قلب ونگاہ کے قصے ہیں،یہ رنگ وبو کا بھید میاں

آتش گلزار نہیں بنتی، ہر شخص خلیل نہیں ہوتا

                                                ”رنگ“ میں ڈاکٹرناشاد کے اختیارکردہ اوزان اور بحور کاتنوع بھی جاذبِ توجہ ہے۔ بعض قوافی اور ردیفوں کوفنی طورپرنئے قرینوں سے استعمال کیاہے۔ بالخصوص خوشبو، صبا، موسمِ گل، باغ، دل، رنگ اور گم ردیفوں کی حامل غزلیات معانی کاایک جہان سمیٹے ہوئے ہیں۔ مزید برآں اساتذہ کی شعری زمینوں، بحور اوررنگوں میں بھی طبع آزمائی ملتی ہے مگر اساتذہِ سُخن سے معذرت کے کلمات کے ساتھ۔ مجموعہ میں شامل غزلیں سادہ، رواں اور متوسط اوزان کی حامل ہیں۔ ادب کے ایک مدرس کی حیثیت سے ان کے اشعار میں اگرچہ فارسی کے سلیس الفاظ کااستعمال قدرے نمایاں ہے مگر اس سے کہیں بھی تصنع یاناہمواری کااحساس نہیں ہوتا۔

                                                ڈاکٹرناشاد کے عشقیہ رویے نے ان کو مغموم اورپژمردہ ویاشکستہ کرنے کے بجائے ان کے نقطہ نظر کوتحرک اورکشادگی عطا کی ہے۔ اسی لیے وہ فطرت کے جمالی رنگوں اورحیات بخش کیفیات واحساسات کے تمنائی اورمبلغ نظرآتے ہیں۔                                                 قصہ مختصر!ڈاکٹرارشدمحمودناشاد کاشعری مجموعہ ”رنگ“ فنِ شعر پراُن کی مہارت، دسترس اور شاعرانہ صلاحیتوں کامنہ بولتاثبوت ہے۔

پرفیسر اظہر محمود

شعبہ اردو

گورنمنٹ پوسٹ گریجوئیٹ کالج اٹک

اظہر محمود

Next Post

خاموش صدائیں

ہفتہ مارچ 13 , 2021
یہ سنتے ہی میں جو کنویں کیطرف بڑھ رہا تھا ایک دم رکا اور جو پیچھے دیکھا تو نہ تو خالہ تھیں نہ ہی کوئی آدم زاد
Silent voices