ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام
سنہ 2025ء میں پاکستان، اسرائیل، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، آذربائیجان اور ریوانڈا جیسے ممالک کے سربراہان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیئے نامزد کیا تھا۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف بھی ٹرمپ کو امن کا انعام دلانے والے سفارشیوں کی اس فہرست میں شامل ہو گئے تھے، جن کا ماننا تھا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کی خدمات انجام دینے پر اس انعام کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر سجنا چاہیئے، حالانکہ امریکی صدر نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کے بل بوتے پر ایران کے خلاف دوسری بار جنگ چھیڑ کر دنیا کے امن کو نہ صرف خطرے میں ڈالا ہے بلکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے کنارے پر بھی لے آئے ہیں۔ اس کے باوجود ان ممالک کی رائے میں ٹرمپ نے دنیا میں جنگیں رکوانے اور امن قائم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبل انعام کی یہ سفارشات ان ممالک کے سربراہان، سفارت کاروں اور نمائندگان کو 2025ء میں خصوصی طور پر وائٹ ہاوس بلا کر حاصل کیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025ء میں مداخلت کر کے جنگ ضرور بند کروائی تھی لیکن یہ سیز فائر انڈیا کو شدید مار پڑنے پر ہوئی تھی۔انڈیا نے مجبور ہو کر امریکی صدر کو مداخلت کر کے جنگ بندی کروانے کی درخواست کی تھی۔ انڈیا نے محض فیس سیونگ حاصل کرنے کے لیئے امریکی صدر سے درخواست کر کے جنگ بندی کروائی تھی۔
جنگ دنیا کے کسی مسئلے کا حل پیش نہیں کرتی ہے۔ آخرکار متحارب گروپوں کو فتح یا شکست کی صورت میں جنگ بند کرنا ہی پڑتی ہے اور جنگ بندی مذاکرات کے ذریعے ہو جائے تو یہ جنگی مسئلے کا بہتر حل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے دونوں متحارب ممالک امن کی حالت میں جا کر ایک دوسرے سے ازسرنو اچھے اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ اگر کوئی عالمی طاقت مثلا امریکہ جنگ کا آغاز ہی اس مقصد کے لیئے کرے کہ بعد میں سیزفائر کر کے وہ اس کا کریڈٹ لے گی تو پھر یہ رویہ بدنیتی کے زمرے میں آتا ہے۔ امریکی صدر کے لیئے ایسی جنگ بندیوں کی ستائش صرف وہی ممالک کر سکتے تھے جن کے امریکہ سے سیاسی و معاشی مفادات وابستہ ہوں یا وہ اس کے قریبی اتحادی ہوں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی طور پر بہت چالاک امریکی صدر واقع ہوئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ جب چاہتے ہیں اسرائیل ٹرمپ کی شہہ پر فلسطین اور لبنان پر حملے تیز کر دیتا ہے اور جب امریکی صدر روکتے ہیں تو حملوں میں کمی کر دیتا ہے۔ امریکی صدر نے غزہ میں سیز فائر کا کریڈٹ لیا مگر اسرائیل نے سیزفائر کے دوران بھی غزہ پر بمباری جاری رکھی۔ 2025ء میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بلاوجہ حملہ کیا اور جونہی امریکہ اور اسرائیل کو فیس سیونگ ملی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے روس اور یوکرائن کی جنگ بند کروانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ مارچ 2026ء کے آغاز پر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے میں پہل کی۔ اب جنگ زوروں پر ہے تو ایران کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے تو امریکی صدر یہ بیانات دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ بلواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں جس کے بعد جلد دنیا کو سیزفائر کی خوشخبری ملے گی۔
موجودہ خلیجی جنگ میں پہلی دفعہ دنیا بھر میں توانائی کا اتنا بڑا بحران پیدا ہوا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں خود امریکی عوام لاکھوں کی تعداد میں ڈونلڈ ٹرمب کے خلاف اور جنگ بندی کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ امریکی صدر اگر اس "بیک فائر” کے دباؤ میں جنگ بندی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور ایران کی مرضی کے برخلاف جنگ بند ہو بھی جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ بندی کا کریڈٹ لینے کی بھی کوشش کریں گے۔
اس ممکنہ جنگ بندی کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی جنگ بند بھی نہیں ہوئی اور گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمب نے اپنے لیئے "نوبل پیس پرائز” حاصل کرنے کی تان دوبارہ پڑھنا شروع کر دی ہے۔ امریکی صدر کی خواہش پر ممکن ہے کہ جنگ بند ہو جائے، اور ہونی بھی چایئے کیونکہ دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس سے امریکہ بھی متاثر ہوا ہے اور عوام جنگ بندی کے لیئے بہت بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ توانائی کے بحران سے پوری دنیا شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ممکن ہے اس سے دنیا میں بہت جلد قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہو اور دنیا بھر میں معاشی بحران (ریسیشن) پیدا بھی پیدا ہو جائے، جیسا کہ فلپائن میں پیٹرول پمپ بند ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں پٹرول کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر پر نوبل امن انعام حاصل کرنے کا "جنون” سوار ہے، یہاں تک کہ اس جنگ کے آغاز سے چند دن پہلے انہوں نے ناروے کی نوبل پرائز کمیٹی کے ممبران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ، "میں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے نوبل پرائز کیسے نہیں دیتے ہیں۔” شائد موصوف اس وقت ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنے اور پھر اسے بہت زیادہ نقصان پہنچا کر جنگ بند کروانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ مرزا غالب نے کہا تھا کہ، "شرع و آئین پر مدار سہی، ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی۔
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔” اس جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا حال بھی مرزا غالب کے قاتل جیسا بنتا جا رہا ہے۔ گو ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیئے نامزد کرنے والے کچھ ممالک انسانی حقوق اور بدنظمیوں کے مرتکب ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو تو جنگی جرائم کے الزام میں عالمی عدالت کو بھی مطلوب ہیں لیکن اس کے باوجود ٹرمپ اگر موجودہ جنگ مستقل طور پر بند کروا دیتے ہیں تو انہیں نوبل امن پرائز دے دیا جانا چایئے۔ دنیا کو معاشی دلدل اور تیسری عالمی جنگ میں نہ دھکیلنے کے بدلے ٹرمپ کو یہ انعام دینا اتنا گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔
کمبوڈیا کے وزیراعظم ہون مانیٹ نے 7اگست 2025ء کو ناروے کی امن پرائز کمیٹی کو خط لکھا کہ ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے کیونکہ انہوں نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی پانچ روزہ سرحدی جنگ بندی کروائی جس میں دونوں طرف 40 ہلاکتیں ہوئی تھیں اور 300000 افراد ان ملکوں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے تھے۔ آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پیشنیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علی ییو نے مشترکہ طور پر 8 اگست 2025ء کو وائٹ ہاوس میں ہونے والی سمٹ کے بعد ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیئے نامزد کیا تھا۔ کانگو اور ریوانڈا کی 8سالہ جنگ کو بھی ٹرمپ نے ان کے درمیان امن معاہدہ کروا کر بند کروایا۔ ڈونلڈ ٹرمپ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں 8 جنگیں بند کروائیں۔ اگر وہ یہ 9ویں جنگ بھی بند کروا دیتے ہیں تو انسانیت کے مزید خون نہ بہنے کے بدلے انہیں یہ انعام دے دیا جانا چایئے۔ گزشتہ برس صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاوس کولیگ کلاوڈا ٹینی نے تو یہاں تک کہا تھا کہ میں نوبل کمیٹی کو تب تک سفارش کرتی رہوں گی کہ جب تک ٹرمپ کو یہ انعام دے نہیں دیا جاتا ہے۔
بہت ساری امریکی شخصیات اور تنظیموں کو بین الاقوامی امن، انسانی حقوق اور مذاکرات میں خدمات پر نوبل امن انعام سے نوازا جا چکا ہے۔ نمایاں امریکی فاتحین میں سابق صدور، ماہرین تعلیم، اور سماجی کارکنان شامل ہیں، جن میں تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر، باراک اوباما، اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر وغیرہ سرِفہرست ہیں۔ امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کو 1906ء میں روس جاپان جنگ ختم کرانے میں ثالثی پر یہ انعام ملا تھا اور وہ یہ انعام پانے والے پہلے امریکی صدر تھے۔ ووڈرو ولسن کو 1919ء میں لیگ آف نیشنز کی تشکیل اور پہلی جنگ عظیم کے بعد امن کی کوششوں پر، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو 1964ء میں شہری حقوق کی تحریک میں پرامن جدوجہد کے لیئے، جمی کارٹر کو 2002ء میں عالمی تنازعات کے پرامن حل، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیئے دہائیوں کی کوششوں پر اور باراک اوباما کو 2009ء میں بین الاقوامی سفارت کاری اور لوگوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا میں امن کی بحالی اور انسانی حقوق کی خدمات باراک اوباما سے زیادہ بہتر طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اوبامہ کو یہ انعام مل سکتا ہے تو انہیں کیوں نہیں مل سکتا ہے۔ اگر اتنی امریکی شخصیات کو پہلے بھی انعام برائے امن مل چکا ہے تو ٹرمپ کو مل گیا تھا کونسی قیامت آ جائے گی۔ امن انعام کمیٹی موصوف سے پہلے حالیہ جنگ بند کروائے اور حلف نامہ لے کہ ایران پر دوبارہ کبھی حملہ کیا جائے گا اور نہ مشرق وسطی میں ایسی کوئی سازش کی جائے گی کہ جس سے خطے کا امن تباہ ہو جائے۔ نوبل پرائز کے لیئے ٹرمپ اتنے جنونی ہو چکے ہیں کہ اگر مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی شرط رکھی جائے تو امید ہے امن انعام ملنے کے لالچ میں وہ مسئلہ فلسطین بھی حل کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔!!

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |