جڑواں ذرات کے زریعے دور دراز پیغام رسانی
کوانٹم انٹینگلمنٹ کے مظہر کی دریافت نے بغیر کسی مادی وسیلے کے پیغامات کو ایک ذہن سے دوسرے ذہن میں منتقل کرنے کا قوی امکان پیدا کر دیا ہے۔ کائنات کا ایک اکائی سے پھیلاو’ ہر چیز کا ہر دوسری چیز سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ یہ تعلق کوانٹم انٹینگلمنٹ (ربط) جیسا ہوتا ہے جو ان جڑواں کوانٹم ذرات (اِنٹینگلڈ پارٹیکلز) پر مبنی ہوتا ہے جنہیں اردو زبان میِں جڑواں زرات کہا جا سکتا ہے۔ یہ کائنات کے بنیادی ذرات میں سے ہیں جو ایک دوسرے سے جتنی مرضی دوری پر ہوں چاہے وہ اربوں نوری سالوں کی مسافت ہی کیوں نہ ہو وہ ایک بار کوانٹم سطح پر ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو وہ کبھی جدا نہیں ہوتے ہیں اور آپس میں ایک مستقل رابطہ قائم رکھتے ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کو پیغامات کی ترسیل بھی کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر آپ ایک کوانٹم انٹینگلڈ فٹ بال کے دو ٹکڑے کر کے ایک کو کسی سائنسی لیبارٹری میں زمین پر اور دوسرے کو کائنات میں نوری سالوں کے فاصلے پر کسی کہکشاں وغیرہ کی سطح پر رکھ دیں اور اس میں کسی ایک ٹکڑے کو کلاک وائز حرکت دیں گے تو دوسرا ٹکڑا کوئی وقت ضائع کیئے بغیر اینٹی کلاک وائز حرکت کرے گا یعنی زمین والے آدھے فٹ بال کو حرکت دیں گے تو بغیر کسی مادی وسیلے کے کہکشاں پر پڑے دوسرے آدھے فٹ بال میں بھی فورا حرکت پیدا ہو گی۔
دراصل کوانٹم انٹینگلمنٹ فطرت کا ایسا مظہر ہے جس کے سامنے عقل عاجز ہے اور اس کی تشریح و توضیح کرنے سے قاصر ہے۔ کوانٹم انٹینگلمنٹ عہدِ حاضر کے انسانوں کے سامنے سائنس کا ایسا معجزہ ہے کہ مزہب کی پوری تاریخ میں شائد ہی اس سے ملتا جلتا کوئی معجزہ ہوا ہو۔ کوانٹم انٹینگلمنٹ مادے کی دہری فطرت کے ایسے مظاہرے کا نام ہے جس میں فاصلے اور رفتار حقیقی معنوں میں اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ اگر مادے کے دو پارٹیکلز آپس میں اِنٹینگلڈ ہو جائیں یعنی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھ جائیں، یعنی سادہ لفظوں میں یک جان ہو جائیں تو پھر بے شک درمیان میں اربوں نوری سالوں کا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو، ایک پارٹیکل کے ساتھ جو کچھ پیش آئے گا دوسرا ٹھیک اُسی وقت اس تبدیلی کو محسوس کر لے گا۔
کوانٹم سطح پر اس جڑواں حرکت کو تجربات سے ثابت کیا جا چکا ہے۔ ٹیلی پورٹیشن کا مظہر بھی اس سے ملتا جلتا ہے جس کی کامیابی پر سائنس دان یہ توقع کر رہے ہیں کہ اس کے ذریعے بغیر فاصلہ طے کیئے بنی نوع انسان ستاروں کی انتہائی دوری تک سفر طے کر سکے گا اور بھاری چیزوں کی ترسیل کو بھی ممکن بنا سکے گا۔ کوانٹم سائنس، جڑواں ذرات، زہنی علوم اور دیگر جدید سائنسز پر جونہی انسان زیادہ عبور حاصل کرے گا تو عام انسان بھی ذہنی ٹیکنالوجی کے ذریعے بغیر کسی تار، وائرلیس یا فون وغیرہ کے فقط اپنی سوچ (اور خیالات) کے ذریعے ہی ایک دوسرے کو پیغامات بھیج سکیں گے اور اس ٹیکنالوجی میں مزید ترقی کے بعد ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں اور حتی کہ اربوں کلومیٹرز کی دوری پر بھی اسی طرح ایک دوسرے سے بات چیت اور گپ شپ لگا سکیں گے جیسے وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوں۔
سائنس دانوں نے اِنٹینگلڈ پارٹیکلز کے بارے دعوی کیا ہے کہ ان کی رفتار لہروں کی شکل میں روشنی کی رفتار جو کہ 3لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے 10000 گنا زیادہ ہے جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے کو انفارمیشن بھی منتقل کر سکتے ہیں۔ زندگی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ عام گفتگو اپنے دماغ کے نیوروجیکل نظام کے ذریعے کرتے ہیں اور یہ "ٹیلی پیتھک کمیونیکیشن” بھی اسی نظام کے زیراثر ہوتی ہے۔ آنے والے ادوار میں "دماغی چپس” کا استعمال بھی عام ہو سکتا ہے جو عام انسانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ فاصلوں کو ختم کر دے گا۔
یہ جدید کمیونیکیشن سائنسی ولایت جیسا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹیلی پیتھی کو مستقبل کے ابلاغ کے آلہ کے طور پر امید کی جا سکتی ہے؟ میرا جواب ہاں میں ہے۔ اس تجربے سے اکثر لوگ گزرتے ہیں کہ جب آپ کسی کو یاد کرتے ہیں تو وہ اچانک سامنے آپ کے سامنے آ جاتا ہے یا اس کی فون کال وغیرہ آ جاتی ہے۔ اس سے ملتے جلتے ناجانے کتنے ہی واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہر انسان کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ایسے واقعات میں درحقیقت آپ کے خیالات دوسروں کے ذہن کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں، انٹینگلمنٹ کا سائنسی اور ٹیلیپیتھک عمل واقع ہو رہا ہوتا ہے، نیوروجیکل نظام متحرک ہو چکا ہوتا ہے اور جڑواں ذرات اپنا کام دکھا رہے ہوتے ہیں۔
انٹینگلمنٹ ایک کوانٹم مکینیکل فینومینا ہے جس میں دو ذرات ایک موج کی صورت دور دراز ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ ٹیلی پیتھی بھی ایسی صلاحیت ہے جو زبان پر مبنی خیالات کو منتقل کر سکے جنہیں دوسرا آدمی سننے کے قابل بھی ہو۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ایک آدمی کا نیوروجیکل کا نظام کسی باہر کے آدمی کے نیوروجیکل نظام کو کتنا متاثر کر سکتا ہے۔
ابھی سائنس دان نیورانز کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یاداشت نیورل ساختوں پر ریکارڈ ہوتی ہے جیسے یو ایس بی پر ہوتی ہے تو کیا یہی توانائی دماغ سے باہر کسی مادی وجود یا کسی کے نیورل ٹشوز پر بھی بغیر واسطے کے ریکارڈ ہو سکتی ہے؟ جی ہاں یہ ٹیلی پیتھی کی ریکارڈنگ بلکل ہو سکتی ہے۔ ٹیلی پیتھی دماغی لہر ہے یا الیکٹرومیگنیٹک لہر ہے۔
ہمارے دماغ کے نیورانز کے سرکٹ کی تربیت کی جا سکتی ہے کہ وہ الیکٹرومیگنیٹک لہروں کے لئے ٹرانسمیٹرز اور ریسیورز کے طور پر کام کریں، ایسے آلات ایجاد کئے جا سکتے ہیں جو ہمارے دماغ کے سگنلز کو موصول کریں۔ ہمارے تمام سائنسی شعبے بشمول سائیکالوجی مادی نظام سے متعلق ہیں حتی کہ ہمارا جسم اور ہمارا نیورو نظام بھی نامیاتی مادے سے بنا ہوا ہے جیسا کہ ہمارے دیگر الیکٹرونکس آلات ہیں۔ اسی طرح دماغ کے بغیر خیالات کا کوئ وجود محال ہے جیسا کہ آنتوں کے بغیر ہاضمہ کا نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ جانوروں کے دماغ الیکٹرومیگنیٹک لہروں کو شناخت کر سکتے ہیں جیسا کہ کتے ڈرگز سے خارج ہونے والی لہروں کو سونگھ لیتے ہیں یا سانپ کانوں کے بغیر سن سکتے ہیں کیونکہ ان کے جسم کی خال آواز کی لہروں کو شناخت کر سکتی ہے۔ کسی دماغ میں زیادہ اور کسی میں کم استعداد ہوتی ہے لیکن ماحول میں موجود آوازوں کے دیگر شور سے ایک خاص آواز کو ہمارا دماغ شناخت کر سکتا۔
سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ انسان کی سوچ اور خیالات انرجی پر مشتمل ہوتے ہیں اور جیسے انرجی سفر کرتی ہے خیالات بھی سفر کرتے ہیں جبکہ خیالات کا نظام بھی جڑواں ذرات (اِنٹینگلڈ پارٹیکلز) سے زیادہ تیز رفتار نہیں تو اس سے کم بھی نہیں ہے. اپنی سوچ اور خیالات انہی ذرات پر سوار کر کے مطلوبہ ذہن تک پہنچائے جا سکتے ہیں حتی کہ اب تو سائنسی ترقی اتنی برق رفتار ہو گئی ہے کہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ دماغ کے بغیر بھی خیالات پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ کیا ہماری سوچ اور حواس "غیب دانی” بھی جانتے ہیں اور کیا کسی دن ہماری "چھٹی حس” بھی مکمل طور پر متحرک ہو سکتی ہے؟ کبھی ایسا ہو گیا اور ٹیلی پیتھی کے ذریعے کمیونیکیشن بھی ہونے لگی تو آلہ مواصلت اور فائبر و تاروں کا یہ سارا نظام چوپٹ ہو جائے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |