آدھی دنیا ساتھ لے کر ڈوبنے والی بات
جنرل صدر ضیاء الحق ایک فوجی آمر تھا لیکن اس نے دفاع وطن کی بابت ایک جمہوری خواہش کا اظہار کیا تھا، جس کے نتائج فروری 2026ء کی خلیجی جنگ میں روز روشن کی طرح سامنے آ رہے ہیں۔ اس جنگ میں یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وطنیت (یا قومیت) بھی مذہب کی طرح ایک مقدس جذبہ ہے۔ کسی بھی ملک کی افواج اور عام لوگ دفاع وطن کے لیئے اپنی جانوں کی بے دریغ قربانیاں دیتے ہیں۔ کوئی قوم جتنی قربانیاں اپنی آزادی کے لیئے دیتی ہے وہ اس سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں اپنی آزادی کی حفاظت کے لیئے دیتی ہے۔ پھر وہ قوم دنیا میں اتنی ہی زیادہ عظیم الشان کہلاتی ہے جو اپنے وطن کے دفاع میں جتنی زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
انسانی جنگ و جدل کی تاریخ میں سکندر اعظم کو دنیا کا عظیم ترین فاتح مانا جاتا ہے۔ وہ دنیا کا بڑا جنگجو یونانی فلسفے اور اپنے علم و فضل کے زور پر نہیں بنا تھا بلکہ سکندر کو "سکندر اعظم” اس کی فوجی اور جنگی طاقت کے پیچھے کارفرما اس آگاہی نے بنایا تھا، جو اس نے فلسفے، دانش اور علم و فضل کے گہوارے قدیم یونان کے ماحول اور اپنے استاد ارسطو سے سیکھی تھی۔ امریکہ کی کرسی صدارت پر بیٹھ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر اپنی طاقت کے غرور میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے پر آ کر ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو، اس کے سر پر صرف اس کا جنگی جنون کا بھوت سوار نہیں، بلکہ اس کی اصل طاقت وہ امریکہ ہے، اس کے جدید علوم اور وہ سائنس و ٹیکنالوجی ہے کہ جس کے بل بوتے پر امریکہ نے دنیا کے کسی بھی ملک سے کئی گنا زیادہ طاقت حاصل کر رکھی ہے۔
اگر امریکہ کا شہر نیویارک پوری دنیا کی سٹاک ایکسچینج کا مرکز ہے اور اس کے مسلمان میئر ممدانی کو دنیا کا طاقتور ترین شخص یعنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمب شکست سے دوچار نہیں کر سکا تھا تو یہ امریکی صدر کی شکست اور کمزوری کی علامت تو ہو سکتی ہے لیکن بحیثیت ملک اور قوم یہ امریکہ کی عظیم الشان فتح ہے کیونکہ یہ امریکی اصولوں کی فتح ہے، یہ نیویارک کی عوام اور ان کے ووٹ کی فتح ہے، اور یہ امریکہ میں ہونے والی زندگی کے ہر اس شعبے کی فتح ہے جہاں تعلیم، تحقیق اور صحت پر کام ہو رہا ہے، نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں، جہاں ناسا (NASA) جیسے خلائی تحقیق کے بڑے ادارے ہیں اور جہاں مریخ پر انسانی آبادیاں بسانے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ امریکہ کی اصل طاقت اس کی یہی علمی طاقت ہے جس کے سامنے امریکہ جیسا دنیا کا طاقتور ترین صدر بھی کمزور اور بے بس نظر آتا ہے۔ پھر اگر آپ اپنی آزادی کا دفاع نہیں کر سکتے تو تب آپ کی علمی اور سائنسی ترقی بھی بیکار ہے کیونکہ جب کوئی معاشرہ یا ملک اپنی آزادی کا دفاع کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے تو وہ غلامی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔
ضیاء الحق نے بھی یہی کہا تھا کہ، "آپ جتنی مرضی ترقی کر لیں اگر آپ وطن کا دفاع نہیں کر سکتے ہیں تو پھر ایسی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں ہے”۔ اسرائیل امریکہ اور ایران جنگ میں ضیاء الحق کا یہ قول عین سچ ثابت ہوا ہے۔ خلیجی ممالک کی دولت، انفراسٹرکچر اور سیاحت وغیرہ کی بے مثال ترقی پوری دنیا کو پیچھے چھوڑنے جا رہی تھی۔ متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی ہی کی مثال لے لیں کہ وہ بہت کم وقت میں دنیا کا اہم ترین تجارتی اور سیاحتی مرکز بن گیا۔ اسی طرح قطر دنیا کا امیر ترین ملک تھا لیکن جب 2025ء میں اس پر اسرائیل نے حملہ کیا اور اب 2026ء میں اس پر ایران مسلسل ڈرونز اور میزائل برسا رہا ہے تو قطر اپنا دفاع کرنے سے قاصر نظر آتا ہے، حالانکہ قطر کا "العدید ایئر بیس” خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا تھا۔ 2025ء میں قطر پر اسرائیل نے حملہ کر دیا اور 2026ء میں وہاں ایران کے میزائلوں اور ڈرونز نے تباہی مچا رکھی ہے اور خود قطر ان حملوں کو روکنے سے قاصر نظر آتا ہے۔
سعودی عرب کا دفاعی بجٹ 80 ارب ڈالرز ہے اور اس کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ محض 9 ارب ڈالرز ہے۔ سعودیہ امریکہ میں ایک ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا اور وہ بھی صرف اپنے ملک کی آزادی کا دفاع کرنے کی امید پر، جبکہ پاکستان ایک دو ارب ڈالرز کیلئے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے لیئے سعودی عرب اور امارات کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ لیکن دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات کر سکے، کیونکہ دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان پر حملہ کرنے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ سعودی عرب جیسے ملک کو ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کوئی ملک اس پر حملہ نہ کر دے۔ اس لئے وہ امریکہ کو سرمایہ کاری کے نام پر بھتہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان ترقی پذیر اور معاشی طور پر کمزور ملک ضرور ہے لیکن اس کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے جس نے اسے غیرت مند بنا دیا ہے اور شیر کی طرح زندہ رہنے کا حوصلہ دیا ہے۔ بوسنیا پر سربیا کا قبضہ ہوا تو پاکستان کھڑا ہو گیا، اس کی عسکری مدد کی اور وہاں اپنی فوج بھیجی۔ آذربائیجان پر آرمینیا نے حملہ کیا تو پاکستان آزربائیجان کے ساتھ تھا، شام، یمن، لبنان، عراق اور افغانستان کیلئے بھی ہمیشہ پاکستان ہی سینہ سپر ہو کر کھڑا ہوتا رہا ہے۔
یہ پاکستان کی عسکری اور ایٹمی طاقت تھی جس نے چیف مارشل کو امریکہ میں کھڑے ہو کر یہ کہنے کا حوصلہ دیا کہ، "ہم ڈوبے تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے۔” اس جنگ میں بھی پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیان جاری کیا اور وارننگ دی کہ ہم ضرورت پڑنے پر جارحیت کا جواب ایٹمی قوت سے بھی دے سکتے ہیں۔ اب پاک افواج کے ترجمان اور آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں ہمارے سفارت کاروں یا پاکستانی شہریوں کو اسرائیل نے نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ہم اسے منہ توڑ جواب دیں گے۔ مضبوط پاکستان زندہ باد، افواج پاکستان پائیندہ باد۔!

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |