گداگری اور ملکی بدنامی
خلیجی ممالک میں پاکستان بھکاریوں کی وجہ سے بدنام ہو رہا ہے۔ پہلے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب قطر اور اومان وغیرہ سے پاکستانی بھیک مانگنے والوں کی اطلاعات تھیں۔ اب سعودی عرب نے پاکستانی بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر سخت اقدامات اٹھائے ہیں جس میں سزائیں، ملک بدری اور انٹری ویزوں پر پابندی وغیرہ شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے دو سال ہوئے پاکستان سے پہلی بار امارات آنے والوں کے لیئے ورک ویزوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ یہ حکومت کے لیئے تشویشناک بات ہے کہ بھارت، فلپائن، نیپال اور سیاح فام افریقکن ممالک کے ورک ویزے کھلے ہیں حتی کہ سری لنکا جو حال ہی میں "دیوالیہ” ڈیکلیئر ہوا ہے اس کے بھی ویزے کھلے ہیں مگر پاکستان پر ابھی تک پابندی ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اس میں اس کا قصور بلکل نہیں ہے۔ امارات میں موجود تمام سمندر پار پاکستانیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان سے امارات میں بھیک مانگنے والے مرد و خواتین آتے ہیں بلکہ یہ ایک پورا مافیہ ہے جو اس دھندے میں ملوث ہے۔
امسال 2025ء میں اب تک 24,000 سے زائد پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ یعنی ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی بھکاریوں کی کل ملا کر تعداد 56,000 تک پہنچ گئی ہے۔ فروری 2025ء سے سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان سمیت 14 ممالک کے لئے ملٹی پل انٹری وزٹ ویزے معطل کر دیئے ہیں اور اب صرف 30 دن کا سنگل انٹری ویزہ جاری کیا جا رہا ہے تاکہ ویزوں کے غلط استعمال اور غیر قانونی قیام کو روکا جا سکے۔
حکومتِ پاکستان نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں لاہور، کراچی اور ملتان وغیرہ کے ایئرپورٹس پر بھکاریوں کی وجہ سے ملک کی بدنامی کو روکنے کے لئے اٹھائی تین سو خلیجی ممالک جانے والوں کو مشکوک بھکاری سمجھ کر یا نامکمل سفری دستاویزات کی بناء پر آف لوڈ کیا تھا۔ سنہ 2025ء میں اب تک ایف آئی اے نے 51,000 افراد کو مشکوک سفری دستاویزات یا بھیک مانگنے کے شبے میں ایئرپورٹس سے آف لوڈ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھکاریوں کے گروہ چلانے والوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔
مزید برآں حکومت پاکستان نے اس مافیا کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق بہت سے پیشہ ور بھکاری عمرہ ویزہ حاصل کر کے سعودی عرب جاتے ہیں اور مقررہ مدت کے بعد واپس نہیں آتے، جس پر سعودی حکومت نے پاکستان کو بارہا خبردار کیا مگر پاکستان اس پر خاطر کوئی اقدام نہ اٹھا سکا۔ افسوس ہے کہ عراق میں گرفتار کئے جانے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق بھی پاکستان سے ہوتا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حرم کے اندر زیادہ تر جیب کترے بھی پاکستانی ہوتے ہیں جو عمرے یا وزٹ ویزا پر جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں خلیجی ممالک کے سفراء ہمیں گلہ کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ملکوں میں "عادی مجرم” بھیجتے ہیں جس سے ہماری جیلیں بھر گئی ہیں۔ یہ انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ ہے اور بہت حد تک یہ الزام درست بھی ہے کہ بھکاری زیادہ تر عمرے یا وزٹ ویزے پر جاتے ہیں اور زیارات کے مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔ ہمارے کئی افراد اس لئے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں کہ وہ وہاں جا کر بھکاری بن جاتے ہیں۔ پاکستانی زائرین پر اب عراق میں بھی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہ افراد وہاں بھی گداگری کا پیشہ اپنا لیتے ہیں۔
عراق میں معاوضہ ڈالر کی شکل میں ملتا ہے اس لئے کچھ لوگ زائرین کے روپ میں وہاں کمائی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اربعین کے دنوں میں بھیک مانگتے ہیں اور بعد میں وہیں چھپ کر مزدوری کرنے لگتے ہیں اور وہ جیسے ہی پکڑے جائیں تو ڈی پورٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ اب عراق نے بھی پاکستانی زائرین پر کافی سختی کر دی ہے، جس کا سبب ان پاکستانیوں کی یہی غیر قانونی سرگرمیاں ہیں۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ بعض پاکستانی شہری ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جو باقی کمیونٹی کے لئے بھی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ عراق نے تو اب اتنی سختی کر دی ہے کہ جب تک زائرین کے قافلے میں شامل تمام افراد واپسی پر ساتھ نہ ہوں عراقی حکام پلٹنے نہیں دیتے ہیں، چاہے کئی کئی دن سرحد پر انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
عراق سے شائع ہونے والے آن لائن نیوز پیپر عراقی نیوز نے 2018ء میں دو سو پاکستانی بھکاریوں کی گرفتاری کی خبر دی تھی۔ متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار دی نیشنل میں2017ء کے دوران ایک رپورٹ "عمان اور یمن میں رمضان کے دوران پاکستانی بھکاریوں کے جھرمٹ” کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ اس کے مطابق، ”رمضان کے مہینے میں کچھ پاکستانی گوادر کے راستے عمان اور یمن پہنچ کر بھیک مانگتے ہیں۔ یہ گداگر مساجد کے باہر ہی نہیں گھروں اور فلیٹوں میں جا کر بھی یہ کام کرتے ہیں جس سے بدنامی پورے پاکستان کی ہوتی ہے حالانکہ اس دھندے میں محض چند سو یا ہزار بھکاری ملوث ہوتے ہیں۔
اس مد میں نہ صرف حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ "اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن” کو اس مکروہ دھندے کے خلاف متحرک کرے۔ اس سے ملک کی ساکھ مجروح ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں جو واقعی پڑھنے کے لئے، زیارات کے لئے یا مزدوری کے لیے ورک ویزوں پر جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری ملکی معیشت کی بدتر صورتحال کی وجہ سے ہے جہاں ہماری بہت سی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، کاروبار چل نہیں رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی بیرونی انویسٹمنٹ بھی ملک میں نہیں آ رہی ہے جسکی وجہ سے بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور ہر سال ان بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں مزیر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو مثبت طریقے سے ملکی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے جو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ملکی وسائل کے ذریعے اپنے اندر خودانحصاری پیدا کی جائے گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |