عاصم بخاری:ادبی خاکہ
خاکہ نگار
( ڈاکٹرظہور احمد میانوالی)
وقت وقت کی بات ہے وہ وقت بڑا کمال اور دل کش ہوتا ہے جب کوئی شخص ملتا ہے۔ اور ہمارے سان گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ کل کلاں وہ ہمارا دوست بن جائے گا۔یہ اسی عدیم المثال لمحے کی عطا ہےکہ مجھے عاصم بخاری سے ملاقات میسر ہوئی۔میرے جلیس اور میرے ہم دم ِ دیرینہ میاں ارشد حسان نے ملاقات کرائی تھی۔یہ ان دنوں کی بات ہےجب مجھے افسانہ لکھنے کا نیا نیا شوق ہوا تھا۔عاصم بخاری کے اگر حلیے کی بات کی جاۓ تو کشادہ چہرہ گندمی رنگت، موٹی آنکھیں ، خشخاشی داڑھی ، کترواں مونچھیں ، سر کے بال روٹھنے لگے تو ماتھا مزید کشادہ ہوگیاابھی سر کی چوٹی پر بال موجود ہیں۔جو کہ عہد ِ رفتہ کی دل پذیر یاد ہیں۔ قد نہ زیادہ لمبا ہے نہ زیادہ چھوٹا۔چال میں نہ تیزی ہے نہ سستی۔شلوار قمیض پہنتے ہیں۔اکثر انھیں مسکراتے ہی دیکھا ہے۔یہ مسکراہٹ ان کے ظاہر وباطن کی غماز ہوتی ہے۔ان کا حافظہ بہت تیز ہے۔کئی شعرا کے بیسیوں اشعار ازبر ہیں اور برمحل پیش کرنے کا فن بھی انہیں خوب آتا ہے۔اردو کی محبت ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔اس لیے اردو سے متعلق سوال پوچھیں تو اکثر جواب مل ہی جاتا ہے۔اس لیے پیاس ساحل ِ مراد سے ہم کنار ہو ہی جاتی ہے۔گفتگو کا انداز بڑا عاجزانہ ہے۔بڑی آہستگی سے اور ٹھہر ٹھہر کے بات کرتے ہیں۔اسے سستی کہیں یاانداز ِ تکلم کی خوب صورتی۔یہ مرحلہ قاری کی مرضی پہ منحصر ہے۔جب فون پہ ان سے بات ہوتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کیا حال ہے تو الحمد للہ بڑے سریلے اور تحت اللفظ انداز سے کہتے ہیں۔
نقطہ ء نظر سے اختلاف ہو تو اسے اس مدلل انداز سے نظر انداز کرتے ہیں کہ متکلم کو کانوں کان تک خبر نہیں ہوتی۔فقط پرانے آشنا ہی اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔البتہ اظہار کرنا ہوتو وہ بہت دھیمے اور میٹھے انداز میں بات کرتے ہیں۔اردوکے پروفیسر کی حیثیت سے کالج میں بہت مقبول ہیں۔ان کی اپنے پیشے سے لگن اور خلوص کا اندازہ کرنا ہو تو ان کے طلبہ سے پوچھیۓ۔آج کل گورنمنٹ کالج کالاباغ میانوالی میں اپنے تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔انھوں نے زندگی میں موقع ایک ہی بار ملنے کے نظریہ کو عملا” رد کرکے دکھایا ہے کہ قدرت موقعے بار بار دیتی ہے مگر انسان پست ہمت ہے۔ناکامیوں سے گھبرانا اور ان پہ اشکبار ہونا انہیں نہیں ۔ان کی اس خوبی پہ رشک ہی کیا جاسکتا ہے۔شاعر ہیں نثر نگار ہی نقاد ہیں محقق ہیں۔اردو سرائیکی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔خود پسندی جو بہت سے شعرا کا خاصہ ہوا کرتی ہے ۔ان کے ہاں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ان کے کلام پر جب تنقید ہوتی ہے تو کھلے دل سے سنتے ہیں۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ طبیعت موزوں ہوتو لکھنا لازم ہے۔۔می نویس و می نویس و می نویس کے کلیے پر چلنے والے یہ مسافر کئی نثری و منظوم کتب کے خالق و مصنف ہیں۔اس ابتری کے دور میں بھی ان کارشتہ کتاب وقلم سے قا ئم ہے ۔حال ہی میں ان کا نثر پر مشتمل کتاب ” فسانہ ء محفل” منظر ِ عام پر آئی ہے جو کہ معیار و مقدار اور مواد کے لحاظ سے پڑھنے کے قابل ہے۔۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |