خوشبوؤں میں بسی شخصیت طارق بنگش
کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
اٹک کے لاری اڈے پر واقع وہ چھوٹی سی کیسٹوں کی دوکان، جو کبھی ایک پورے زمانے کی آواز ہوا کرتی تھی۔ ٹیپ ریکارڈر کے سنہری دور میں جیسے ہی کسی معروف گلوکار کا نیا والیم آتا، طارق بھائی کی دوکان پر رونق لگ جاتی۔ کیسٹیں ہاتھوں ہاتھ بکتیں، اور خاص بات یہ کہ اٹک کے مقامی گلوکاروں کی آوازیں بھی یہیں سے لوگوں کے گھروں تک پہنچتیں۔ یہ دوکان صرف کاروبار کی جگہ نہیں تھی بلکہ موسیقی، ملاقات اور محبت کا مرکز تھی۔
وہ دور واقعی یادگار تھا جب کیسٹ کو الٹ پلٹ کر سنا جاتا تھا، جب آواز میں خراش بھی اپنائیت لگتی تھی، اور جب موسیقی دل سے دل تک سفر کرتی تھی۔
طارق بنگش صاحب کی شخصیت بھی اسی یادگار دور کی طرح نفیس اور باوقار ہے۔ ہمیشہ کلین شیو، خوشبو لگائے ہوئے، واسکٹ پہنے، گلے میں مفلر ڈالے، اور صاف ستھرا لباس زیب تن کیے نظر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک خاموش شائستگی ہے جو سامنے والے کو خود بخود متاثر کر لیتی ہے۔
وقت بدلا تو کیسٹوں کی جگہ ڈیجیٹل دنیا نے لے لی، مگر طارق بھائی نے خود کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ رکھا۔ آج ان کی دوکان ہربل ادویات کی صورت میں لوگوں کے لیے شفا اور اعتماد کا مرکز ہے۔ یہاں قدرتی علاج اور خلوص کے ساتھ دی جانے والی رہنمائی ملتی ہے۔
یہ دوکان اب محض ادویات کی جگہ نہیں رہی، بلکہ ایک باقاعدہ ادبی بیٹھک میں ڈھل چکی ہے۔ یہاں علم و ادب کے چراغ روشن رہتے ہیں۔ سید حبدار قائم، طاہر اسیر، حسین امجد، سجاد حسین سرمد، ڈاکٹر شجاع اختر اعوان، شبیر لالا، کاروانِ قلم کے ایڈمن نزاکت علی نازک، نعت گو شاعر داود تابش اور دیگر اہلِ قلم یہاں آتے رہتے ہیں۔ چائے کی خوشبو، کتابوں کی باتیں، شاعری اور فکری مکالمے اس بیٹھک کی پہچان بن چکے ہیں۔
ہم جب بھی وہاں جمع ہوتے ہیں، طارق بھائی ہمیشہ خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی میں بناوٹ نہیں، اپنائیت ہوتی ہے۔ چائے کا کپ، مسکراہٹ اور خلوص یہ سب مل کر اس جگہ کو ایک زندہ روایت بنا دیتے ہیں۔
ایسے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں جو کاروبار کے ساتھ ساتھ تہذیب، ادب اور انسانی رشتوں کو بھی زندہ رکھیں۔ طارق بنگش انہی خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جو ماضی کی یادوں، حال کی شائستگی اور علم و ادب کی روشنی کو ایک ہی جگہ سمیٹے ہوئے ہیں۔
یہ کالم دراصل ایک شخص نہیں، ایک روایت، ایک عہد اور اٹک کی تہذیبی خوشبو کو خراجِ تحسین یش کرتا ہے۔
طارق بنگش کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ پاک ان کی زندگی دراز فرماۓ اور صحتِ کامل و عاجلہ عطا فرماۓ۔ آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |