"اَلَستُ بِربِّکم” اور "کُن فیکون”
تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
وہ ادب گہِ محبت،وہ نگہ کا تازیانہ
حضرت اقبال نے شاید اس زمانے کی طرف اشارہ کیا ہے جب الست بربکم کے نغمے ارواح کے سامنے گونجے تھے۔خیر آواز کے ہم تو شاید ازل سے عاشق ہیں۔کہ سرمدی آواز ہماری روحانی سماعتوں سے ٹکرائی تھیں۔یہ علاحدہ بات ہے کہ ہم اس کھلی فضا میں آگئے،جہاں گوشۂ فراغت میسر نہیں ہوا۔نہ اس آواز تک ہماری روحوں نے رسائی حاصل کی،الا ماشاءاللہ۔
خالق کا تکلم بھی ابدی ہے۔یہ کوئی میکانکی شبد نہیں تھے جو اپنی توانائی کھو بیٹھتے۔یہ تو ہماری آواز ہے جو اپنی توانائی کھوتے کھوتے کائنات کی وسعتوں میں تحلیل ہو کر کوئی اور روپ اختیار کر لیتی ہے۔پھر بھی آواز میں کوئی تو جادو ہے کہ اس میں مٹھاس ہو تو انگ انگ رقص کرنے کے لیے مچلتا ہے۔
کسی سے میں نے پوچھا تھا کہ التباسِ شناخت (دے جاوُو) کیوں ہوتا ہے؟بتایا گیا تھا کہ ہمارے جدِ امجد کے ڈی این سے اگلوں نسلوں میں جو ریکارڈز منتقل ہوئے،وہ تسلسل سے ہمارے ڈی این اے میں منتقل ہوتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ کوئی واقعہ،جس سے ہم گزر رہے ہوتے ہیں۔۔۔لگتا ہے من و عن پہلے بھی ہو چکا ہے۔مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اسی ماضی کے ریکارڈ سے موجودہ واقعہ کی ہم آہنگی ہو جاتی ہے اور ہمیں التباس ہوتا ہے۔ تو۔۔۔ہمارے جدِ امجد نے یقیناً سرمدی آوازیں،عدن کی دلکش وادیوں میں سنی ہوں گی۔اور شاید وہ بھی ہمارے ڈی این کا حصہ بن گئی ہوں۔اس لیے کچھ سُر،کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں کہ ہمیں لگتا ہے ہمارے کان ان سے آشنا ہیں اور وہ آوازیں ہمارے کانوں کا آویزہ بن جاتی ہیں۔
کبھی کبھار ہم ایک تخلیق کار کے طور پر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے کوئی نئی طرز بنا لی ہے۔مگر کیا پتہ مشامِ جاں کے نہاں نگار خانوں میں وہ سُر،وہ لے پہلے سے موجود ہو۔یا پھر ہم نے کہیں سنی ہو اور ہم اسے بھول بھال چکے ہوں۔وہ ہمارے لا شعور کا حصہ بن چکی ہو۔لیکن کبھی کوئی واقعہ،کوئی خواب،کوئی آواز ہمارے لاشعور کے ان مدفنوں تک جا پہنچتی ہے اور ہمیں بے خود بھی کرتی ہے اور ہمیں مجبور کرتی ہے کہ آپ گائیں۔گانا پھر ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔
کوئی طرز جو کسی نے پہلے لگا رکھی ہو،عروضی طور پر کسی بھی شعر پر جچ سکتی ہے۔ایک بحر میں مختلف غزلیں لکھی ہوں اور ان میں سے ایک غزل پہ کسی گایگ نے طرز لگائی ہو تو اسی بحر میں لکھی گئی کسی اور غزل پہ آپ وہ طرز لگا سکتے ہیں۔یقین جانیے کہ اپنی نوعیت کا بہت دل کش تجربہ ہوتا ہے۔
جب اردو خطاطی نے ڈیجیٹل روپ اختیار کیا تو ایک حرف ڈیجیٹل طور پر کسی تحریر میں دسیوں بار بھی آیا ہو تو اس کی شکل وہی رہتی ہے۔مگر جب ہاتھ سے لکھائی کی جاتی ہے تو ایک ہی حرف دسیوں بار آئے ،اس کی اشکال میں مشابہت تو ہوتی ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ اس میں یک رنگی ہو۔ہر بار لکھے جانے کے بعد ،ہر شکل کا حسن مختلف ہوتا ہے۔یہ ہے انسانی تخلیق میں تنوع کا کمال۔کیونکہ سانچہ آسانیاں تو لا سکتا ہے مگر تنوع نہیں۔اے آئی نے جب آوازوں کو اپنے سانچے میں ڈھالا ،تو کیا وہ بھی مشینی رنگ ہے یا پھر اس میں تنوع پایا جا سکتا ہے؟اس کا جواب کوئی موسیقی اور اے آئی کی یکساں مہارت والا دے سکتا ہے۔
فطرت نے پہلے پہل ہیلیم کی تخلیق کی ہوگی۔الیکٹرانوں کے اضافے سے کتنے عناصر وجود میں آئے،سب جانتے ہیں۔مگر ان کے ملنے سے کتنے مرکبات بنے اور ان مرکبات کے پھر آپس میں ملنے سے اور کتنے مرکبات وجود پذیر ہوئے؟یہ سوال ابھی تشنہ ہے۔مگر یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ پھر کئی کائناتیں وجود میں آئیں۔رنگ سے رنگ ملا تو نیا رنگ بنا۔پھر رنگ ملتے گئے اور رنگ ،نیرنگ ہوتے چلے گئے۔پھر کتنے نورنگ بنے،سمجھ سے پرے کا سوال ہے۔ایک مصور کی طرح کوئی گایک بھی دو ،سُروں کو ملا کر نیا آہنگ سامنے لا سکتا ہے۔کیا کئی رنگوں سے نیا رنگ بنانے کی طرح کئی راگ ملا کر نیا راگ بھی بنایا جا سکتا ہے؟یہ بھی دل کش سوال ہے۔
سنتے ہیں کہ کن فیکون کی آواز بھی ہر کہیں جاری ہے۔کیا ہم اس فریکوئنسی زون میں اپنی آواز لے کر جا سکتے ہیں؟اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو یقیناَ کائناتوں کے رازوں کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔
Title Image by MenielDM from Pixabay
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |