آنگن کی ملکہ (افسانہ)
غانیہ ریاض ، جام پور
پنجاب کے پسماندہ گاؤں کی کچی گلیوں میں جہاں شام ڈھلے مٹی کی خوش بو ہوا میں گھل جاتی اور دور کہیں بیلوں کی گھنٹیاں بجتی سنائی دیتیں وہیں ایک آنگن ایسا بھی تھا جو قہقہوں سے آباد رہتا تھا۔ اس آنگن کی جان تھی بیس سالہ کہف۔معصوم سی، روشن آنکھوں والی، خوابوں سے بھری ہوئی۔
کہف باقی لڑکیوں جیسی نہ تھی۔ نہ اس کے قدموں میں گھریلو زنجیریں تھیں، نہ سوچ پر دقیانوسی پہرے۔ وہ ماں کے آنچل سے لپٹی رہتی کبھی سہیلیوں کے پاس جا بیٹھتی، کبھی کھلے آسمان تلے دیر تک ہنستی رہتی۔ اس کا بے فکری سے جینا گاؤں کی عورتوں کو کھٹکتا تھا۔
“آخر تم باقی لڑکیوں کی طرح گھر داری کیوں نہیں دیکھتی؟”
کہف کی خالہ کی تیز آواز اکثر آنگن کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجتی۔
کہف مسکرا کر ماں کے ہاتھ چومتی اور کہتی، “امی جان، آپ کے بغیر یہ دنیا مجھے جینے نہ دے گی۔”
مہرین جسے سب پیار سے مہرو کہتے تھے اپنی بیٹی کے لیے چٹان کی طرح کھڑی رہتی۔ اس کی سوچ گاؤں کی عورتوں سے مختلف تھی۔ وہ کہتی، “بیٹی بوجھ نہیں روشنی ہوتی ہے۔” یہی روشنی لوگوں کی آنکھوں میں چبھتی تھی۔
گاؤں میں دس برس کی لڑکیوں کو چولھے سے باندھ دیا جاتا اور کم عمری میں بیاہ دیا جاتا۔ مگر مہرو نے کہف کو کالج بھیجا، کتابوں سے دوستی کرائی، خواب دیکھنے کی اجازت دی۔ اس آزادی کی قیمت ماں بیٹی کو اکثر طنز کی صورت میں چکانا پڑتی۔
گھر میں مگر محبت کا بسیرا تھا۔ حالم، سنجیدہ مزاج، کم گو۔ ماہر، شوخ و شریر، ہنسی کا پٹارا۔ ننھی بیرو کی کلکاریاں اور بیچوں بیچ مہرو، جس کے ہنسی آنگن کو جنت بناتے۔
ایک دن حالم نے قدرے سخت لہجے میں کہا:
“امی جان! آپ نے اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔ دیگر لڑکیوں کی طرح اسے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔”
مہرو نے مسکرا کر جواب دیا: “وقت سب سکھا دیتا ہے بیٹا! ابھی اس کے حصے میں ہنسی رہنے دو۔”
زندگی یوں ہی چلتی رہی جیسے نرم دھارمگر تقدیر کے پہیے بے آواز گھوم رہے تھے۔
ایک شام اچانک مہرو کو شدید سر درد نے آن گھیرا۔ پہلے پہل سب نے اسے معمولی سمجھا۔ کسی نے پیناڈول تھمائی تو کسی نے سر دبایا۔ مگر درد تھا کہ تھمنے کا نام نہ لیتا۔
کہف کی آنکھوں میں ان جانا خوف اتر آیا۔
“بابا جان! یہ معمولی درد نہیں لگتا…”
بابا نے طے کیا کہ لاہور لے جانا ہوگا۔
وہ شہر جہاں علاج تو تھا مگر مہنگائی آسمان کو چھوتی تھی۔
گھر کے قیمتی سامان فروخت ہوئے۔ آنگن کی ملکہ کو بچانے کے لیے آنگن خالی کیا گیا۔ سفر خاموش تھا دعاؤں سے بوجھل۔
لاہور کے نہایت معروف معالج ڈاکٹر عمر اعوان نے رپورٹ دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔
“اب دوا نہیں… دعا ہی راستا ہے۔”
یہ جملہ کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ بابا کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
گھر واپسی پر مہرو چلنے سے قاصر تھی۔ ایک ہفتے میں جیسے زندگی کے چراغ کی لو مدھم پڑ گئی تھی۔ مگر چہرے پر اب بھی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ماں کی ضد کہ بچوں کے سامنے کم زور نہ پڑے۔
کہف نے پہلی بار کچن کا دروازا پار کیا۔ بہن بھائیوں کو سنبھالا، اسکول بھیجااور کھانا بنایا۔ رات کو کسی کونے میں بیٹھ کر خاموش آنسو بہاتی۔
وہ آنگن جو کل تک قہقہوں سے گونجتا تھا اب سناٹے کی چادر اوڑھے تھا۔
اس رات مہرو کی حالت مزید بگڑ گئی۔ لوگ جمع ہونے لگے۔ ماہر سرھانے بیٹھ کر تلاوت کرنے لگا۔ کہف سجدے میں گر کر رب سے فریاد کرنے لگی۔
“یا اللہ! معجزہ کر دے…”
مہرو کی سانسیں ٹوٹنے لگیں۔ آنکھیں کہف پر جمی تھیں۔ شاید وہ آخری بار بیٹی کو دیکھ لینا چاہتی تھی۔ لب ہلے۔
“لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…”
اور ہاتھ ڈھلک گیا۔
آنگن میں قیامت برپا ہو گئی۔ بابا کی صدا گونجی،
“مہرو! میرے گھر کی رونق!”
مگر رونق جا چکی تھی۔
مہرو کے جانے کے بعد وہی آنگن اجڑا ہوا باغ بن گیا۔ مگر اس ویرانی میں ایک تبدیلی جنم لے رہی تھی۔ کہف کی آنکھوں میں اب بچپن کی شوخی نہ تھی مگر ایک نئی مضبوطی ضرور تھی۔
وہ جان گئی تھی۔وقت نے وہی سکھایا جس کا وعدہ مہرو نے کیا تھا۔
اب وہی کہف جو کبھی چولھے کے قریب نہ گئی تھی گھر کی ڈھال بن گئی۔ ماہر کی شرارتیں کم ہو گئیں، حالم کی سنجیدگی اور گہری ہو گئی۔ مگر سب کے دلوں میں مہرو کی ہنسی اب بھی گونجتی تھی۔
کہف جب کبھی تھک جاتی آنگن کے بیچ کھڑے ہو کر آسمان کو دیکھتی اور سرگوشی کرتی:
“امی جان!میں ہاروں گی نہیں۔ آپ کی روشنی بجھنے نہیں دوں گی۔”
اور یوں ایک ماں کی محبت نے بیٹی کو بچپن سے بلوغت کے سفر تک لا کھڑا کیا ایک ہی جھٹکے میں۔
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا
مگر شاید سونا دفن نہیں ہوتاوہ نسلوں کی رگوں میں چمکتا رہتا ہے۔

جام پور
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |