سندھ یونیورسٹی کا رنگیلا وائس چانسلر
ان کی جرات رندانہ پر میں انہیں داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا ہوں۔ اسے قومی یکجہتی کا شاندار نمونہ قرار دیا جانا چایئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سندھ اسمبلی میں اقلیتی برادری کے ارکان نے جو مطالبہ کیا اور اس سے پہلے قومی اسمبلی میں بھی یہی مطالبہ ہوا تھا جہاں ایک ہندو رکن قومی اسمبلی نے شراب پر ایسی ہی پابندی کی بات کی تھی لیکن مسلمان اراکین اسمبلی کی اکثریت نے اس پابندی کی مخالفت کر دی تھی۔ یہ معاملہ یکے از دیگرے سپریم کورٹ میں بھی گیا تھا اور وہاں بھی معزز ججز صاحبان نے اسے قرار واقعی دعوی مسلمانی کے خلاف سمجھتے ہوئے شراب پر پابندی کی مخالفت کر دی تھی لیکن اب جو کام سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کیا ہے اس کا اتنا تو چرچا ہوا ہے کہ اس میں ہم فاقہ کش بھی خراج تحسین پیش کرنے کا کچھ حصہ ڈال لیتے ہیں تاکہ وائس چانسلر صاحب کی جرات رندانہ کو کچھ مزید رنگ چڑھ جائے۔
واقعہ یوں ہوا کہ جونہی غیر مسلم اقلیتی ارکان شراب پر پابندی کے لیئے کھڑے ہوئے مسلمان اراکین اسمبلی شراب پر پابندی نہ لگانے کے لیئے متحرک ہو گئے۔ شائد مسلمان اراکین کے خیال میں شراب پر پابندی اس اقلیتی طبقہ پر زیادتی ہے جن کے پاس شراب خریدنے اور شراب پینے کے "پرمٹس” ہیں حالانکہ مسلم معزز ممبران کو پتہ ہونا چایئے کہ ان پرمٹوں پر زیادہ شراب تو مسلمان ہی خریدتے ہیں بلکہ کچھ سچے مسلمانوں نے تو یہ پرمٹس اپنے نام پر بھی بنوا رکھے ہوں گے۔ ان پرمٹوں پر وہ شراب خرید کر پیتے ہوں گے یا پھر خرید کر اسے آگے بیچتے ہوں گے۔ لیکن شراب پر پابندی نہ لگائے کا صحیح چرچا اور حق صرف یونیورسٹی آف سندھ کے پرو وائس چانسلر نے ادا کیا جب وہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر اگلے روز یونیورسٹی میں تشریف لے آئے۔ پہلے تو موصوف لڑکھڑاتی انگریزی میں اپنے سٹاف کو دھمکاتے رہے، اور جب انہیں معلوم ہوا کہ سٹاف اب قابو آ گیا ہے تو پھر انہوں نے یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ ڈانس کرنا شروع کر دیا لیکن اچھا ہوا کہ جونہی اس وائس چانسلر کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔
یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد پاکستانیوں کی اکثریت کو معلوم ہوا کہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر (وی سی) بھی اسی کو لگایا جاتا ہے جو داد و عیش کا عادی ہو۔ شائد شرابی ہونا وی سی لگنے کی بنیادی شرط بھی نہ بن جائے کہ اگر ہمارے بچوں کا مستقبل ان شرابیوں کے ہاتھوں میں ہو گا تبھی جا کر اس نوع کے ممبران تیار ہوں گے جو ایسے قوانین کی مخالفت میں پہل کریں گے، جو اسلام کے منافی ہوں اور ان میں اتنی دیدہ دلیری ہو کہ غیر مسلم تو ان کی مخالفت کریں مگر مسلمان ممبران کو ان کی مخالفت کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہ ہو۔
شائد سندھ میں حکومت بھی انہی ممبران کی ہے جو ایم پی اے ہوں یا ایم این اے ہوں وہ شراب پینے کے رسیا نہیں بھی ہیں تو وہ اس پر پابندی نہیں لگانا چاہتے ہیں۔ کیا سندھ اسمبلی میں پڑھے لکھے لوگوں کے لیئے کوئی جگہ نہیں ہے یا وہ سارے اسی یونیورسٹی سے پڑھ کر آئے ہیں جس کا وائس چانسلر شراب پیتا ہے اور پھر نشے ہی کی حالت میں یونیورسٹی بھی پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہے آکسفورڈ کی تعلیم جو ہمارے ملک پر قابض ہے۔ جب ملک چلانے والے ہی شراب پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں تو ایک یونیورسٹی کا چانسلر پی کر یونیورسٹی آ گیا تو کیا ہوا۔ وطن عزیز ایسا تالاب بنتا جا رہا ہے جس میں سارے ننگے ہیں۔ دیکھنا اس وائس چانسلر کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہو گی اور نہ ہی اسے کوئی بڑی سزا ہی دی جائے گی کہ بس وہ تھوڑی سی پی کر ہی تو یونیورسٹی آیا تھا، اس نے کوئی ڈاکہ ڈالا تھا اور نہ ہی اس نے کوئی چوری کی تھی۔
آج پاکستان کی جو حالت ہے اب سمجھ آتی ہے کہ اس کی جڑیں ہمارا نظام تعلیم ہی کھوکھلی کر رہا ہے۔ ایک دن سندھ اسمبلی میں اقلیتی ارکان نے شراب پر پابندی کی پٹیشن جمع کروائی اور جونہی اسے مسلمان اسمبلی ممبران اور سید آل رسول کہلوانے والے وزیراعلی نے ریجیکٹ کر دیا تاکہ ایسے لوگوں کو سہولت ملے، اس کے اگلے روز ہی موصوف وائس چانسلر یونیورسٹی میں شراب پر کر آ گیا۔ یہ ہوتا ہے علم اور اسے کہتے ہیں تعلیم، جو ہماری یونیورسٹی میں طلباء کو دی جاتی ہے اور اس کا عملی مظاہرہ خود یونیورسٹی کا وائس چانسلر شراب پی کر کرتا ہے۔ اسی لیئے صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب نے اپنی اولاد میں سے کسی کو اس یونیورسٹی میں تعلیم نہیں دلوائی۔ جس ملک میں شراب کی بوتل شہد بن جائے اس ملک کی کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر شراب پی کر یونیورسٹی میں آ جائے تو یہ کوئی بڑے اچھنبے کی بات نہیں ہے کہ، "بن کے ایک حادثہ بازار میں آ جائے گا،جو نہیں ہو گا وہ اخبار میں آ جائے گا۔ چور اچکوں کی کرو قدر کہ معلوم نہیں کون کب کون سی سرکار میں آ جائے گا۔” یہی وجہ ہے کہ سندھ کی حکومت شراب پر پابندی والے بل مسترد کر دیتی ہے۔
اس پر ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن انیل کمار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیت کے نام پر سندھ میں شراب کے اسٹور کھلے ہیں، شراب ایک معاشرتی برائی ہے، تمام مذاہب میں اسکی ممانعت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں شراب کی خریدو فروخت کا تمام کاروبار غیر قانونی ہے، شراب کی فروخت کے نام پر اقلیتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے، عوام کیلئے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کراچی میں چھوٹے بڑے 57 مندر ہیں لیکن کراچی میں شراب کے 80 اسٹور ہیں، یہ وائن اسٹور صرف مذہبی تہوار پر شراب فروخت کر سکتے ہیں لیکن ان پر خریدو فروخت 365 روز جاری رہتی ہے۔ شائد وائس چانسلر صاحب انہی سٹورز سے شراب خریدتے ہوں۔ آپ کے معیار تعلیم اور کردار کی عظمت کو سلام محترم وائس چانسلر صاحب! آپ کو رنگیلا وائس چانسلر نہ کہوں تو کیا کہوں، آپ اسم بامسمی ہیں جناب!!
صد افسوس کی بات ہے کہ جو پابندی ہمیں لگانی چایئے تھی اُس کا مطالبہ ہمارے اقلیتی اقلیتی بھائیوں نے کیا اور اس پر اپنا منہ کالا اس وائس چانسلر نے کیا۔ اس نے کس ڈھٹائی سے یہ کارنامہ انجام دیا کہ استادوں کا استاد ہونے کے باوجود وہ یونیورسٹی میں نشے کی حالت میں نمودار ہوا اور پھر ناچ ناچ کر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی۔ حکومت سندھ نے سوشل میڈیا پر مبینہ متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد سندھ یونیورسٹی کے دادو کیمپس میں تعینات جس پرو وائس چانسلر کو معطل کیا ان کا نام نامی "اظہر شاہ” ہے، جبکہ ان کا موقف ہے کہ یہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی تھی۔ ان کو نشے کی حالت میں بنفس نفیس دیکھنے والے طلباء حیران ہیں، خاموش ہیں اور لب بستہ ہیں!

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |