ٹرانسپلانٹ کا قابل فخر واقعہ
دنیا بھر میں انسانی جسم کے اعضاء کی تبدیلی اور پیوند کاری کا عمل زوروں پر ہے۔ ٹرانسپلانٹ آپریشن یا انسانی جسم کے اعضاء کی پیوند کاری ایک سرجری ہے جس میں خراب یا ناکارہ عضو جیسے گردہ، جگر، دل، سر کے بال اور آنکھ کا قرنیہ یا جلد وغیرہ کو صحت مند عطیہ کردہ (ڈونر) عضو یا اس کے حصے سے بدلا جاتا ہے، تاکہ مریض کی زندگی بچائی جا سکے یا اس کی بینائی اور زندگی کو بہتر بنایا جائے، جس میں روبوٹک ٹیکنالوجی اور جدید طریقہ ہائے کار استعمال کیئے جاتے ہیں. جب انسان کا کوئی عضو خراب ہو جاتا ہے اور اپنے افعال انجام دینے کے قابل نہیں رہتا، تو ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آتی ہے.
ٹرانسپلانٹ ایک اہم طبی طریقہ کار ہے جو خراب اعضاء کو بدل کر مریض کی زندگی میں نئی امید لاتا ہے۔ اب اس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال آئے روز بڑھتا جا رہا ہے. میڈیکل سائنس اور سرجری اتنی ترقی کر گئے ہیں کہ مریضوں کے کچھ اعضاء وغیرہ کا ٹرانسپلانٹ کروایا جا سکتا ہے اور وہ دوسرے عام انسانوں کی طرح کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہمارے خاندان میں ایک بہن نے بھائی کو اور ایک بھائی نے اپنے دوسرے بھائی کو گردے دیئے اور یہ چاروں 20 سے 25 سال ہوئے صحتمند اور مثالی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ٹرانسپلانٹیشن انسانی جسم کے اعضاء کی محض ابتداء ہے یہاں تک کہ بہت سارے دل کے مریض دل کی دھڑکن چلانے کے لیئے سینے میں لگی مصنوعی بیٹریوں پر زندہ ہیں۔
جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کرنے والے ملک چین میں مصنوعی آنکھ تیاری کے آخری مرحلے میں ہے جس کے ذریعے پیدائشی طور پر بینائی سے محروم لوگ بھی دنیا کو دیکھنے سے بھرپور لطف اٹھا سکیں گے۔ مصنوعی دل اور جسم کے دیگر تمام اعضاء تیار کرنے پر بھی تیزی سے کام ہو رہا یے۔ حد تو یہ ہے کہ انڈیا جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی پورے جسم کی تبدیلی (فل باڈی ٹرانس پلانٹ) پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
پاکستان بھی ایک ترقی پذیر ملک ہے لیکن پاکستان کے ڈاکٹر پوری دنیا میں اپنی ذہانت اور پیشے کے اعتبار سے مشہور ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے راولپنڈی کی میڈم خانم (فرضی نام ہے) صبح ساڑھے آٹھ بجے وفات پا گئیں۔ وہ ایک رضاکارانہ اعضاء عطیہ دہندہ تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں یہ وصیت کی تھی۔ ان کے بھائی بریگیڈیئر زاہد بیگ مرزا، جو نیفرولوجسٹ اور کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ ہیں، نے اپنی فیملی کے ساتھ مل کر ان کی خواہش کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا اور سی ایم ایچ- ایم ایچ راولپنڈی اور اے ایف آئی یو کی ٹیموں سے اعضاء نکالنے کی رضامندی کے لئے رابطہ کیا۔ میڈم خانم کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تاکہ ان کا دل موت کے بعد بھی کچھ وقت کے لیئے زندہ رہے۔
اے ایف آئی یو، ایم ایچ، سی ایم ایچ، شفا، بحریہ اور سفاری اسپتالوں کی ٹیموں نے مل کر ایک ایسے مریض کا انتخاب کرنے کے لئے کام کیا جسے 18 گھنٹوں کے اندر گردے کی پیوند کاری کی ضرورت ہو، جو اعضاء نکالنے کی ڈیڈ لائن تھی۔ ڈاکٹر فیصل ڈار کی ٹیم نے جگر نکالنے کے عمل میں حصہ لیا۔ مجموعی طور پر، تین مریضوں کی جان بچائی جا سکتی تھی، ایک جگر اور دو گردے جو 18 گھنٹوں کے اندر میچ کیئے گئے اور کامیابی کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کر دیئے گئے۔
اے ایف آئی پی امیونولوجی ٹیم نے رات بھر کام کرتے ہوئے 12 گھنٹوں کے اندر مطابقت کے ٹیسٹ مکمل کیئے۔ الحمدللہ، دو گردے اور ایک جگر تین مریضوں کو پیوند کیا گیا جو اچھی طرح کام کر رہے تھے۔ یہ ٹرانسپلانٹ آپریشن ایک انوکھا اور قابلِ ذکر کارنامہ تھا، جو حقیقی صدقہ جاریہ ہے۔ یہ میڈیکل سائنس میں ٹرانسپلانٹ میں ایک مثبت خبر ہے جسے عام کیا جانا چایئے تاکہ اعضاء کے عطیات اور پیوند کاری کے اس عظیم مقصد کے بارے میں آگاہی دینے میں اضافہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے قابلِ تقلید عمل کرنے کی حکمت اور ہمت عطا فرمائے۔
میڈم خانم کی بیٹیوں (جو سب ڈاکٹر ہیں) نے اپنی والدہ کو آخری الوداع کہا، جب ان کا دل وینٹی لیٹر پر دھڑک رہا تھا لیکن وہ دماغی طور پر مر چکی تھیں۔ اعضاء کے عطیہ کے بعد انہوں نے اپنی پیاری اور عظیم ماں کی میت وصول کی۔
ٹرانسپلانٹ میڈیکل سائنس کی عظیم جست ہے۔ اپنے اعضاء کا عطیہ کرنے والوں کی عظمت کو سلام۔ میڈم خانم نے اپنے دنیا سے رخصت ہونے پر اپنی وصیت کے مطابق اپنے اعضاء عطیہ کر کے تین زندگیاں بچائیں۔ اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں انعام سے نوازے۔ لیکن ٹرانسپلانٹ کی آڑ میں کچھ انسانیت سوز واقعات بھی سنے گئے ہیں جب کسی مریض کا آپریشن کے دوران گردہ چوری کر لیا گیا۔ پاکستان میں ایک صحتمند انسان کے گردے کی قیمت 50 سے لے کر 90 لاکھ تک ہے۔ انسانی معاشرے کو میڈم خانم جیسے درد دل انسانوں کی ضرورت ہے ناکہ ایسے لوگوں کی جو مریضوں کے گردے تک چوری کر لیتے ہیں۔
Title Image by Sasin Tipchai from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |