دو قومی رویّے
تحریر: محمد ذیشان بٹ
قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مگر زندہ قومیں ان کا سامنا صرف بیانات سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویّوں سے کرتی ہیں۔ آج پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ دارالحکومت میں خودکش دھماکے نے نہ صرف شہر کی فضا کو سوگوار کیا بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم لوگ نماز کی حالت میں، سجدے میں جاتے ہوئے بزدلانہ کارروائی کا نشانہ بنے۔ کئی جانیں شہید ہوئیں، بہت سے زخمی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے اور شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ ایسے مواقع پر ہمارا پہلا ردِعمل طنز ہوتا ہے۔ ہم فوراً حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں کہ وزراء کچھ نہیں کر رہے، سب دکھاوا ہے، ایمبولینس کم ہیں، وزیراعلیٰ کے دعوے صرف میڈیا تک محدود ہیں، وزیراعظم بے بس ہیں۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی خود کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ اسی لیے اس تحریر کا عنوان “دو قومی رویّے” رکھا گیا ہے ۔ ایک طرف اسلام آباد لہولہان ہے، اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہاں دھماکہ ہوا، کس مسلک کے لوگ نشانہ بنے۔ بھائی! دھماکہ پاکستان میں ہوا ہے۔ مرنے والے پاکستانی تھے۔ ان کا مسلک، رنگ، زبان یا نظریہ کچھ بھی ہو، وہ بے گناہ انسان تھے۔ کوئی بھی انسان کیوں کسی بے گناہ کو مارتا ہے؟ یہ سوال ہمیں انسان ہونے کے ناتے جھنجھوڑنا چاہیے۔ دوسری طرف لاہور ہے۔ زندہ دلانِ لاہور جو بسنت منانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں سے ویڈیو آئی ہے کہ “بسنت ختم کر کے واپس آ رہا ہوں ؟”، کہیں ڈور کٹی پڑی ہے کہ “پھر کبھی اُڑا لیں گے ؟”۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی، آج دل نہیں مانتا۔ آج چھت پر نہیں چڑھتے۔ آج خوشی مؤخر کر دیتے ہیں۔ ہمارے بھائی شہید ہوئے ہیں، مگر ہم “آئی بو ” اور “بو کاٹا” کی ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیج رہے ہیں۔ پھر حکمرانوں پر تنقید کس منہ سے؟ کالم نگار بارہا اپنے قلم کے ذریعے یہ بات دہراتا آیا ہے کہ نواز شریف ہوں، عمران خان ہوں، مریم نواز ہوں یا کوئی اور یہ سب ہمارے ہی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ یہ کسی اور سیارے سے نہیں آئے۔ منتخب ہوں یا غیر منتخب، حکمران ہم میں سے ہی نکلتے ہیں۔ جب عوام میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنی تفریح مؤخر کرنے کو تیار نہیں، یہ کہہ کر کہ خرچہ ہو گیا ہے، مہمان آ گئے ہیں، پروگرام طے تھا تو پھر حکمران کیوں ملتوی کریں گے؟ حکمران ہمیشہ عوام کے موڈ کو دیکھتا ہے۔ اگر ایک بار عوام چھتوں سے نیچے اتر آتے، اگر ایک دن کے لیے بھی اجتماعی سوگ دکھایا جاتا، تو کون سی طاقت وزیراعلیٰ کو مجبور نہ کرتی کہ بسنت مؤخر ہو؟ ہم اپنے رویّوں سے خود یہ پیغام دیتے ہیں کہ “مرنے والے مر گئے، دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔” یہی پیغام وہ واٹس ایپ اسٹیٹس بھی دے رہے ہیں جن میں اسی وقت پتنگ بازی کی خوشیاں دکھائی جا رہی ہیں، جب اسلام آباد خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ پھر ہم کیسے کہیں کہ ہم یکجہتی چاہتے ہیں؟ “پاکستان زندہ باد” اور “ہم سب ایک ہیں” جیسے نعرے تب کھوکھلے لگتے ہیں جب عملی رویّہ اس کے برعکس ہو۔ پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ، سنی، شیعہ سب کچھ ہیں، مگر کیا ہم واقعی پاکستانی بھی ہیں؟ کیا ہم واقعی مسلمان بھی ہیں؟ اگر ہم اپنی سوچ اور اپنے رویّے نہیں بدلیں گے تو صرف حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا بے معنی ہے۔
یہاں انڈا مہنگا ہو جائے تو ہم خریدنا نہیں چھوڑتے، اجتماعی بائیکاٹ نہیں کر پاتے، پھر یہ توقع کیسے رکھیں کہ بڑے فیصلے عوامی دباؤ کے بغیر بدل جائیں گے؟ قائداعظم کے مزار پر جا کر کبھی ہم خود سوال کریں کہ یہ ملک کن قربانیوں سے بنا تھا۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ چین سے نہیں بیٹھتا۔ اگر آج ہم اپنے ہی ملک میں سوگ کے عالم میں خوشیاں منائیں گے تو کل فلسطین، کشمیر یا کہیں اور کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے کا اخلاقی جواز بھی کھو دیں گے۔ دنیا ہمیں اسی لیے سنجیدہ نہیں لیتی کہ اسے معلوم ہے، یہاں ظلم ہو بھی جائے تو لوگ تفریح میں مصروف رہیں گے—پتنگ اُڑتی رہے گی، میچ چلتا رہے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ تحریر تفریح کی مخالفت نہیں۔ کرکٹ دیکھنا، پی ایس ایل انجوائے کرنا، ثقافتی سرگرمیاں سب اپنی جگہ۔ مگر سوال وقت کا ہے، ترجیح کا ہے۔ جب گھر میں فوتگی ہو تو ڈھول نہیں بجائے جاتے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ ہم واقعی ایک قوم ہیں یا محض افراد کا ہجوم ۔ آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ بچے جو چھتوں پر کھڑے ہو کر “بو کاٹا” سن رہے ہیں، وہ کل کیا سیکھیں گے؟ اگر خدانخواستہ ان کے اپنے کسی عزیز کے ساتھ ایسا سانحہ ہو جائے، تو کیا وہ بھی یہی چاہیں گے کہ باقی لوگ اپنی مصروفیات میں مگن رہیں؟ حکمران عوام کے آئینے ہوتے ہیں۔ اکثریت جیت جاتی ہے، فیصلہ وہیں ہوتا ہے۔ اگر آج پاکستانی اجتماعی طور پر یکجہتی دکھائیں، تو کسی کی جرات نہیں کہ قومی سوگ کو نظرانداز کرے۔ ہمیں دو قومی رویّوں سے نکل کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اسلام کو صرف نعرہ نہیں، عمل بنانا ہوگا۔ کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیں، اپنی خوشی مؤخر کر دیں، اور جہاں ممکن ہو عملی مدد کریں۔ شاید یہی چھوٹے قدم ہمیں ایک بڑی قوم بننے کی طرف لے جائیں۔آخر میں بس یہی کہوں گا: تھوڑا نہیں، مکمل غور کیجیے۔ تجربہ شرط ہے

محمد ذیشان بٹ جو کہ ایک ماہر تعلیم ، کالم نگار اور موٹیویشنل سپیکر ہیں ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے ۔ تدریسی اور انتظامی زمہ داریاں ڈویژنل پبلک اسکول اور کالج میں ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاؤہ مختلف اخبارات کے لیے لکھتے ہیں نجی ٹی وی چینل کے پروگراموں میں بھی شامل ہوتے ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |