میرے شہر کا لیاقت ، میرے شہر کی شناخت
از:عتیق الرحمان اعوان
برسوں قبل میں نے ایک ریاستی اخبار میں عنوان بالا کے تحت ایک مضمون پڑھا جس میں نو مرحوم سائیں لیاقت کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ آج بہ تاریخ 12 جون 2025 سائیں لیاقت کے جنازے میں شرکت ہوئی تو میری نگاہوں کے سامنے وہ مضمون گھومنے لگا اور دماغ کے دریچوں پر اس کے مندرجات دستک دینے لگے تو اسی وقت فیصلہ کیا کہ سائیں لیاقت کے لیے بساط بھر تحریر ضرور لکھوں گا، سو میری تحریر حاضرِ خدمت ہے۔
قارئینِ کرام! بات یوں شروع کرتا ہوں کہ اس چیز سے قطع نظر کہ سائیں لیاقت اللّٰہ کے ولی تھے کے نہیں، وہ صاحبِ تصرف بزرگ تھے کہ نہیں، بہر طور میں اپنے آپ کو یہ کہنے میں حق بہ جانب سمجھتا ہوں کہ آج ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ایک جنتی کے جنازے میں شرکت کی ہے، جس میں ناچیز بھی شامل تھا۔ اگر ہم سائیں لیاقت کو ایک محبوط الحواس شخص مان کر ہی اپنی تحریر کو آگے بڑھائیں تو ہر مسلمان کو علم ہے کہ ایسے لوگوں پر شریعت نافذ نہیں ہوتی، اور ایسے لوگ بالیقین بعد از مرگ جنتوں کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں، میرے اس بیان پر یقیناً تمام مسالک کے لوگ متفق ہوں گے تو پھر مجھے یہ کہنے دیجیے کہ آج مجھ ناچیز سمیت ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں لوگ ایک جنتی کے جنازے میں شریک ہوئے اور اپنا حصہ لے کر ہی واپس لوٹے۔ خدائے بزرگ و برتر کا ہزار ہاء شکر کے اس نے ہمیں اس عظیم مجمعے کا حصہ بنایا۔
احباب!
روحانیت کا مضمون بہت گہرا اور گنجلک ہے، جسے سمجھنے کے لیے انسان کے پاس اسی درجے کا علم اور فہم و فراست ہونی چاہیے میرے جیسے عام اور دنیا دار انسان کے لیے اس موضوع پر گفت گو کرنا انتہائی مشکل بل کہ ناممکن ہے۔ ہم نے سہیلی سرکار علیہ رحمہ کے بارے میں بہت سی داستانیں سن رکھی ہیں، معتقدین انہیں دل و جان سے قبول کرتے ہیں اور ناقدین ٹھٹھہ مذاق میں اڑاتے ہیں، ہر ایک کا اپنا نظریہ اور طرزِ فکر ہے کسی سے اختلاف کیے بغیر ہم اپنی بات آگے بڑھاتے ہیں۔ ویسے تو ہر کلمہ گو اللّٰہ کا محبوب ہے، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو درجات میں بہت آگے نکلے ہوئے ہیں۔ اس پر کتبِ دین میں بے شمار براہین و دلائل موجود ہیں۔ کہیں سے حدیث قدسی سنی کہ جو بندہ اللہ کا محبوب ہو جائے اس کے لیے آسمانوں پر اعلان کیا جاتا ہے کہ اے سکانِ فلک میں فلاں بندے سے پیار کرتا ہوں تم بھی اس سے پیار کرو، پھر اہل زمین میں یہ اعلان کروایا جاتا ہے کہ فلاں انسان خدا کا محبوب ٹھہرا ہے تمہیں خدا کا حکم ہے کہ تم بھی اسے محبوب بنا لو۔ جس جس کے کانوں میں یہ آواز پہنچتی ہے وہ اس بندے سے پیار کرنے لگتا ہے۔ کسی کو اس حدیث کا حوالہ درکار ہو تو انباکس میں رابطہ کر لے، ان شاء اللّٰہ کوشش کر کے حوالہ دے سکتا ہوں۔
خیر بات لیاقت سائیں کی ہو رہی تھی، ہم نے بہت پہلے سنا کہ کسی نے سائیں کو دریا کے اوپر چلتے دیکھا، کسی سے یہ بھی سنا کہ زلزلہ 2005 سے کچھ دیر قبل انہوں نے بہت شور و غوغا کیا اور بھی بہت سے باتیں ان سے منسوب ہیں جن کی سچائی کے بارے میں خدا بہتر جانتا ہے، ایسا بھی ممکن ہے کہ ان کے معتقدین نے اپنے پاس سے ایسی کہانیاں گھڑ لی ہوں بہرحال میں اپنی حالت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے شاید کبھی بھی سائیں لیاقت سے مصافحہ نہیں کیا، نہ کبھی تھپکی لی اور نہ ہی ان کے پاس بیٹھا مگر جو بات میرے مشاہدے میں آئی وہ یہ ہے کہ انہیں جب بھی دیکھا ایک کیفیت میں دیکھا، جذب و مستی میں دیکھا، یوں محسوس ضرور ہوا کہ اس شخص کی لو کہیں "اور” لگی ہوئی ہے، ورنہ خالی دیگچے گھسیٹنا، گھسٹنے سے پیدا ہونے والے ارتعاش و آواز پر مسکرانا اور خوش ہونا، گلوب گھمانا اور اسی طرح کی اور حرکتیں کرنا محبوط الحواس لوگوں کے کرنے کے کام نہیں ہیں یہ صرف میری رائے ہے آپ مجھ سے نااتفاقی کا ارتکاب بہ خوشی کر سکتے ہیں۔ سائیں لیاقت کی نظریں اکثر آسمان کو کھوجتی تھیں اور چہرہ ہمیشہ متفکر ہوا کرتا تھا واللہ اعلم ان تمام حرکات و سکنات میں کون سے راز پوشیدہ ہیں کوئی صاحب بصیرت و بصارت شخص ہی بہتر رہنمائی کر سکتا ہے۔
البتہ آج شہرِ مظفرآباد ان کے دیگچے کی جھنکار سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا، ان کے مریدین و معتقدین ان کی رفاقت سے محروم ہو گئے تاہم ناقدین پہلے بھی اکثر ان کے بارے میں اپنی فلسفیانہ و عالمانہ رائے کا برملا اظہار کرتے رہتے تھے اور وہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، اللہ انہیں بھی برکت دے۔
میری تحریر کا آخری حصہ ان کے جنازے کا احوال ہے۔ قارئین کرام ایک دن قبل سوشل میڈیا کے ذریعہ ان کے انتقال کی خبر ملی اور پھر ان کے ورثاء کے بارے میں بننے والا تنازعہ اپنی نوعیت کا ایک عجیب واقعہ تھا، جس سے مجھے بابا گرو نانک کی لاش کے بارے میں سنا واقعہ یاد آ گیا کہ سکھ ان کی چتا جلانا چاہتے تھے اور مسلمان انہیں دفنانا چاہتے تھے جس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا مسلمان انہیں مسلمان مانتے تھے اور سکھ سکھ مت کا پیروکار۔ بالآخر ان کی میت از خود غائب ہو گئی اس واقعہ کی صحت پر بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، میں نے محض مماثلت کی وجہ سے یہاں بیان کیا۔ البتہ ان کی میت وصولی کے حوالے سے بننے والا ڈیڈ لاک انہیں ملک اور بیرون ملک تک متعارف کروا گیا مجھے تو یہ قضیہ بھی ان کی شہرت کے لیے کیا گیا خدائی انتظام ہی معلوم ہوا، ہمارے بھائی حق نواز مغل نے اس بارے میں بہت گہری بات لکھی تھی جس سے مجھے سو فی صد اتفاق ہے۔ بہر حال بلا مبالغہ آج میں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے اجتماع میں شرکت کی ہے، اتنا بڑا ہجوم میں نے مظفرآباد میں کسی کے جنازے میں نہیں دیکھا اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کئی دھائیوں تک لیاقت سائیں کے جنازے کا ریکارڈ قائم رہے گا۔ عدالت العالیہ سے متصل گراؤنڈ عوام و خواص سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے صفوف کی ترتیب بھی درست کرنا ممکن نہ تھی جسے جہاں جگہ ملی ٹیڑھی سیدھی صفوں میں کھڑا ہو کر نمازِ جنازہ ادا کر دی۔ ہزاروں لوگ گراؤنڈ سے باہر موجود تھے جنہوں نے باہر سڑک کے دونوں جانب اور لیاقت شہید کے مزار تک کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ ادا کی۔ اعداو شمار شاید کوئی تنظیم جاری کرے ہمارے شمار میں اتنا بڑا ہجوم آنا مشکل ہے۔ کسی بزرگ کا قول سنا تھا کہ جنازے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون کس درجہ کا مسلمان ہے۔ کسی نے فیس بک پر یہ تبصرہ بھی فرمایا تھا کہ تمام لوگ صرف اس وجہ سے جنازے میں آئے تھے کہ نیک انسان کا جنازہ ہے ہماری بھی بخشش ہو جائے گی، یہ سوچ ہی بہت بابرکت ہے کہ لوگ کم سے کم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ لیاقت سائیں ایک نیک انسان تھا۔
لیاقت سائیں خدا سے دعا ہے کہ آپ کو ہمیشہ جنتوں میں آسودہ رکھے اور آپ کے طفیل ہمارے حال پر بھی رحم فرمائے۔ آمین

عتیق الرحمان اعوان کا تعلق سراڑ، ضلع مظفرآباد آزاد کشمیر سے ہے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے اسٹینوگرافر ہیں۔ ادبی ذوق بڑے بھائی نوید الرحمان خیالی سے پایا۔سراڑ کی واحد ادبی تنظیم قلم قبیلہ کے نہایت فعال رکن ہیں۔عتیق الرحمان اعوان تبصرے اور سفرنامے لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے مضامین مقامی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ عتیق الرحمان اعوان اپنے علاقے اور قبیلے پر ایک کتاب "حیدریم” کے خالق بھی ہیں۔ نہایت بااخلاق اور ملنسار انسان ہیں ادیبوں کے قدر دان ہیں۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |