"سبدِ گُل”پر میری رائے
از
عتیق الرحمان اعوان
جیسا کہ نام سے ہی معلوم پڑ رہا ہے کہ زیرِ بحث مجلہ کوئی خاصے کی شے ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی کی وساطت سے محترمہ پروفیسر صائمہ خان کی ادارت میں گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں مظفرآباد سے شائع ہونے والا "سبدِ گل” شمارہ 2023 موصول ہوا جس پر مدیرِ اعلا کے دست خط اور ناچیز کے لیے نیک خواہشات درج تھیں۔ اپنی ازلی سستی اور کاہلی کی بناء پر اسے پڑھنے اور اس پر تبصرہ کرنے میں جی بھر کے دیر کی بالآخر وہ دن آ ہی گیا کہ میرا تبصرہ حاضرِ خدمت ہے۔
قارئینِ کرام!
قومی زبان کی اہمیت و افادیت ہر دور اور ہر قوم کے ہاں مسلم ہے، اپنی زبان اور معاشرت سے دوری قوموں کو نادیدہ راہوں کا مسافر بنا دیتی ہے اور انسان نشانِ منزل کے بغیر اس سفر پر نکل پڑتا ہے اور آخر کار انہی راہوں کی گرد بن جاتا ہے۔ گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں اس لحاظ سے منفرد اور ثروت مند ادارہ ہے کہ اس نے قومی زبان کی اہمیت کو سمجھا اور طلباء و طالبات کو ادبی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے سبد گل کا اجراء کر کے ان چند اداروں میں شامل ہوا جو اپنے سالانہ رسالے شائع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جس کے لیے رئیسِ ادارہ پروفیسر سکینہ نور حسین اور مدیرہ محترمہ پروفیسر صائمہ خان داد و تحسین کی لائق ہیں۔
مجلے کی طباعت اور جلد بندی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے جو دیدہ زیب اور پائیدار بھی ہے۔ شروع میں وزیر ہائر ایجوکیشن کے علاوہ وزیر وائلڈ لائف، سابق وزراء و امیدوار اسمبلی، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، ناظم اعلا ہائر ایجوکیشن، محترمہ سکینہ نور حسین پرنسپل ادارہ اور محترمہ صائمہ خان اسسٹنٹ پروفیسر اردو (مدیرہ) کے تاثرات اس رسالے کی اہمیت و افادیت اجاگر کرتے ہیں، اور تعریفی تاثرات رسالے کے ایڈیٹوریل بورڈ کے لیے کسی ایندھن سے کم نہیں۔ رسالے کا باقاعدہ آغاز جناب منور قریشی کی حمد سے ہوتا ہے۔
ہر چہرہ ہے اس کا چہرہ، ہر اک روپ ہے اس کا روپ
قریہ قریہ اس کی مہک ہے جس نگری بھی گھومیں جی!
حمد کے بعد جمیل اختر جمیل کی نعت شامل کی گئی ہے
ذکرِ نبی سے آج وہ خوش بو بکھر گئی
محفل ضیاء کے نور سے یکسر نکھر گئی
شمارے کا اگلا حصہ مضامین پر مشتمل ہے جس میں ادارہ کی لیب اٹنڈنٹ شاہدہ بی بی کا مضمون میرا کالج اور اس کی تاریخ ادارے کے حوالے سے اہم نوعیت کا حامل مضمون ہے۔ اس کے بعد ادارہ کی طالبات عالیہ مفتی، مدیحہ اور الماس فدا کی جانب سے پرنسپل صاحبہ کا لیا گیا انٹرویو شامل اشاعت کیا گیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد ازیں ادب کی قد آور شخصیات کے مضامین کو مجلہ میں جگہ دی گئی ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ یہ رسالہ قابل مطالعہ ہے۔ مضامین میں پروفیسر ڈاکٹر عبد الکریم صاحب کا مضمون "قومیت کی تشکیل، ذریعہ تعلیم اور زبان”، میاں کریم اللہ قریشی کے قلم سے نکلے الفاظ "تاریخ کے جھروکوں سے”، پروفیسر بشیر احمد ملک کا مضمون "کشمیر کی جنگ آزادی”، ڈاکٹر راجا محمد سجاد خان کا آرٹیکل ” مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی، کشمیریوں کی شناخت چھیننے کا عمل”، "کشمیر کا چمن جو مجھے دل پذیر ہے” تحریر کرن آصف لیکچرر معاشیات، "اردو زبان کا قضیۂِ پیدائش” از پروفیسر محمد صغیر آسی میرپور، "آزاد کشمیر کے مایہ ناز شاعر زاہد کلیم کی غزل کی فکری جہتیں، ایک تجزیہ” از ڈاکٹر میر یوسف میر صدر شعبہ اردو جامعہ کشمیر، "غزل کا افتخار” کے نام سے مدیرہ محترمہ صائمہ خان کا دلآویز مضمون میرے پسندیدہ شاعر جناب ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم کی شاعری کے متعلق، کشمیر کے عظیم محقق ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تحقیقی مضمون "بیان چند اشعار کا”، "طالب علم اور ماہرِ نفسیات” کا عنوان لیے پروفیسر رقیہ شاہین کا مضمون، "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ” از کشور ناز لیکچرر اسلامیات اور افشاں مشتاق لیکچرر انگریزی کا مضمون "تعلیم” شامل ہیں۔
شمارے کا اگلا حصہ افسانوں پر مشتمل ہے جس میں جناب شوکت اقبال مظفرآباد، محترمہ عندلیب بھٹی اسلام آباد اور محترمہ صائمہ بتول عباس پور کے افسانوں کو جگہ ملی ہے۔ اسی طرح شمارے کا اگلا حصہ ادارہ کی سابق طالبات کے مضامین اور ادارے سے جڑی یادوں پر مشتمل ہے جو ادارے کے ساتھ ان کی والہانہ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
مجلے کا اگلا حصہ خصوصی اہمیت و افادیت کا حامل ہے کیوں کہ اس حصہ میں ادارہ کی طالبات کے مختلف موضوعات پر مضامین شامل ہیں۔ جو اس مجلے کا بنیادی مقصد ہے۔ طلباء و طالبات کو ادب کی طرف راغب کرنا اور اس اسٹیج پر انہیں اس جانب ترغیب دینے کے لیے اس طرح کے رسالے بہت ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں اور طلباء و طالبات بہت شوق اور محنت کے ساتھ اپنی تحریریں پیش کرتے ہیں جو مستقبل میں انہیں ادب کی تدوین و ترویج کی راہوں پر ڈالنے کا ذریعہ ہیں۔
رسالے کا آخری حصہ غزلیات پر مشتمل ہے جس میں مختلف شعراء کی غزلیں شامل ہیں جن میں ڈاکٹر اسحاق وردگ، پشاور، پروفیسر اعجاز نعمانی مظفرآباد، جناب احمد عطا اللہ مظفرآباد، جناب حسن ظہیر راجا پنڈی کہوٹہ، ڈاکٹر فرہاد احمد فگار مظفرآباد،جناب ظہیر احمد مغل حویلی کہوٹہ،جناب محمد یونس رانا، جناب ظہور منہاس بھیڑی، جناب قمرالحق کھریگامی شاردہ، محترمہ منیبہ مبشر اور کچھ طالبات کی منتخب کردہ بےمثال غزلیں شامل کی گئی ہیں۔
الغرض یہ مجلہ اپنی ابتدائی اشاعت سے ہی ایک بہترین ادبی رسالے کے درجے پر فائز ہو چکا ہے جو گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ یوں ہی جاری و ساری رہے گا اور ہر سال باقاعدگی کے ساتھ اس ادبی رسالے کا اجراء ہوتا رہے گا اور تشنگانِ علم کی پیاس بجھتی رہے گی۔

عتیق الرحمان اعوان کا تعلق سراڑ، ضلع مظفرآباد آزاد کشمیر سے ہے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے اسٹینوگرافر ہیں۔ ادبی ذوق بڑے بھائی نوید الرحمان خیالی سے پایا۔سراڑ کی واحد ادبی تنظیم قلم قبیلہ کے نہایت فعال رکن ہیں۔عتیق الرحمان اعوان تبصرے اور سفرنامے لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے مضامین مقامی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ عتیق الرحمان اعوان اپنے علاقے اور قبیلے پر ایک کتاب "حیدریم” کے خالق بھی ہیں۔ نہایت بااخلاق اور ملنسار انسان ہیں ادیبوں کے قدر دان ہیں۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |