مقبول ذکی مقبول : شخصیت ، فکر اور انسان دوستی کا آئینہ
تحریر : عامر اقبال ، صدر بزمِ اوجِ ادب ، ( بھکر )
مقبول ذکی مقبول ایک ایسے شاعر و ادیب ہیں جن کی شخصیت سادگی ، درویشی اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج ہے ۔ ان کا مزاج فقیرانہ اور درویشانہ ہے ۔ وہ زندگی کو ایک امانت سمجھتے ہیں اور انسان کو انسانیت کے رشتے میں پرکھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر میں اخلاق ، روحانیت اور خیر خواہی نمایاں نظر آتی ہے ۔
ان کی عادات میں وقت کی پابندی ایک نمایاں وصف ہے ۔ وقت کی قدر کرنا دراصل نظم و ضبط ، سنجیدگی اور خود احتسابی کی علامت ہے ، اور یہ خوبی انہیں ایک باوقار اور بااصول شخصیت بناتی ہے ۔ سچ بولنا ان کی فطرت میں شامل ہے ، جو ایک سچے انسان اور سچے ادیب کی بنیادی پہچان ہے ۔ ان کے نزدیک سچائی محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ زندگی کا عملی ضابطہ ہے ، جو انسان کو کردار کی بلندی عطا کرتا ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں ۔ ان کے دل میں تعصب ، نفرت یا برتری کا احساس نہیں بلکہ مروّت ، شفقت اور انسان دوستی کی روشنی ہے ۔ وہ ہر انسان کو عزت دیتے ہیں ، خواہ وہ کسی بھی طبقے ، زبان یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو ۔ یہی وصف انہیں ایک سچا انسان دوست اور بااخلاق ادیب بناتا ہے ۔
ان کے رویّے مثبت اور تعمیری ہیں ۔ وہ ہر فرد کی خیر خواہی چاہتے ہیں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثبت سوچ دراصل ایک تخلیقی ذہن کی علامت ہوتی ہے ، اور شاعر چونکہ معاشرے کا حساس نبض شناس ہوتا ہے ، اس لیے اس کی مثبت فکر معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی شاعری اور نثر میں بھی یہی تعمیری فکر جھلکتی ہے ، جو قاری کو امید ، حوصلہ اور اخلاقی شعور عطا کرتی ہے ۔
زندگی کے سفر میں انہیں بے شمار حادثات ، واقعات اور تجربات سے گزرنا پڑا ۔ ہر واقعہ ان کے لیے ایک سبق بن کر آیا اور ان کی فکر میں نئی جہتیں پیدا کرتا رہا ۔ شاعر کی حساس طبیعت پر ہر حادثہ اور سانحہ گہرا اثر چھوڑتا ہے ، اور مقبول ذکی مقبول نے بھی ان تجربات کو اپنی تخلیقی توانائی میں ڈھالا ۔ ان کے مشاہدات نے انہیں زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کیا اور ان کی تحریروں میں بصیرت اور دانائی کا رنگ بھر دیا ۔
اگرچہ وسائل کے اعتبار سے ان کی زندگی سادہ ہے ، مگر تعلقات کا دائرہ نہایت وسیع ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی اصل دولت اس کا کردار ، اخلاق اور علم ہوتا ہے ، نہ کہ مادی وسائل ۔ ان کی خوش اخلاقیں، علم دوستی اور خلوص نے انہیں دوستوں ، اور اہلِ ادب میں مقبول بنایا ہے ، جو کسی بھی ادیب کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔
بھائی مقبول ذکی مقبول کی شخصیت درویشی ، صداقت ، مروّت، مثبت فکر اور انسان دوستی کا حسین نمونہ ہے ۔ وہ نہ صرف ایک حساس شاعر و ادیب ہیں بلکہ ایک باکردار انسان بھی ہیں ، جن کی زندگی اور فکر معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے ۔ ایسے لوگ ادب اور انسانیت دونوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ، اور آنے والی نسلیں ان کی فکر سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں ۔
دعا ہے
اللّٰہ تعالیٰ مقبول ذکی مقبول کو صحت ، درازیٔ عمر اور مزید علمی و ادبی توفیقات عطا فرمائے ، ان کے قلم کو حق و صداقت کا ترجمان بنائے اور ان کی فکر کو آنے والی نسلوں کے لیے ذریعۂ ہدایت و روشنی بنائے ۔ آمین ۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |