جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز
2012ء اور 2013ء کا زمانہ تھا جب ہم شمس آباد، راولپنڈی کے ایک فلیٹ میں مقیم تھے۔ ہمارے ساتھ شورکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست یاسر اقبال بھی رہائش پذیر تھے۔ اگرچہ یاسر کا مضمون انجینئرنگ تھا مگر ادب سے اس کا شغف غیر معمولی تھا۔ اکثر وہ ایک شعر پڑھا کرتا تھا:
زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
یہ شعر اس قدر دہرایا گیا کہ مجھے ازبر ہو گیا ہرچند اُس وقت تک شاعر کے نام سے واقفیت نہ تھی۔ شعر دل میں اتر گیا تھا نام بعد میں ملا۔ کچھ عرصے بعد یوٹیوب پر ریختہ کا ایک مشاعرہ سن رہا تھا۔ اسی مشاعرے میں پہلی مرتبہ طاہرؔ فراز کو سننے کا موقع ملا۔ جب ان کی غزل میں یہی شعر سماعت سے ٹکرایا تو گویا برسوں پرانی ایک یاد کو شناخت مل گئی۔
ہندوستانی دوستوں کے ذریعے سے ان کا رابطہ نمبر حاصل ہوا۔ بات ہوئی تو طاہرؔ فراز نے نہایت شفقت اور خلوص سے خیریت دریافت کی۔ گفتگو میں ان کی شائستگی، ٹھہراؤ اور اپنائیت فوراً محسوس ہوئی۔ بعد ازاں کچھ ادبی اور شخصی معلومات بھی حاصل کیں۔ ارادہ تھا کہ ان پر ایک مفصل مضمون لکھوں گا۔ بدقسمتی سے موبائل کی خرابی کے باعث واٹس ایپ ڈیلیٹ ہو گیا اور تمام ریکارڈ ضائع ہو گیا۔ بعد میں دوبارہ ان سے چند چیزیں طلب کیں انھوں نے ارسال کرنے کا وعدہ بھی کیا تاہم ان کی مصروفیات اور میری کوتاہی کے باعث وہ سلسلہ وہیں رک گیا۔ نہ وہ یاد رکھ سکے نہ میں اصرار کر سکا۔
آج جب یہ خبر موصول ہوئی کہ طاہرؔ فراز حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث ہم سے جدا ہو گئے ہیں تو دل پر ایک عجیب سی ویرانی اتر آئی۔ یوں لگا جیسے کوئی اپنا جس سے بات ادھوری رہ گئی ہو اچانک خاموش ہو گیا ہو۔
اردو شاعری ایک ایسی مترنم اور شفیق آواز سے محروم ہو گئی ہے جس کی بازگشت مدتوں دلوں میں باقی رہے گی۔ طاہرؔ فراز رام پوری کا انتقال محض ایک شاعر کی رحلت نہیں بلکہ احساس، تہذیب اور عوامی شعور کے ایک پورے باب کا بند ہو جانا ہے۔ وہ شاعر جو لفظوں کو صرف برتتا نہیں تھا بلکہ انھیں زندگی عطا کرتا تھا۔ جس کی شاعری سننے والا ہر شخص کسی نہ کسی موڑ پر خود کو اس میں پہچان لیتا تھا۔
طاہرؔ فراز کی شاعری دراصل عوام سے گفتگو ہے اسی لیے ان کا لہجہ بھی خالص عوامی ہے۔ ان کے اشعار میں ایسی سلاست اور شفافیت ہے کہ معمولی ذہنی سطح کا آدمی بھی ان سے حظ اٹھا سکتا ہے اور صاحبِ نظر بھی ان میں معنوی گہرائی پا لیتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ان کی شاعری کو طبقاتی حد بندیوں سے آزاد کرتا ہے اور اسے ایک ہمہ گیر، سورج و چاند آسا وجود عطا کرتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ریختہ نے طاہرؔ فراز کے بارے میں یہ تعارف پیش کیا ہے:
"طاہر فراز کی گفتگو عوام سے” ہے۔ اس لیے ان کا لہجہ بھی عوامی ہے اور اس قدر کہ معمولی ذہنی سطح کا آدمی بھی ان کی شاعری سے حظ اٹھا سکتا ہے۔ اس نوع کی شاعری طبقاتی حد بندیوں کو توڑتی ہے اور شاعری کو ایک ہمہ گیر سورج ، چاند آسا صورت میں پیش کرتی ہے۔ طاہر فراز کا لہجہ اور آہنگ بہت خوب صورت ہے۔ مترنم آبشار کی مانند ہے ان کی غزل ۔ جو منفرد خوش آہنگ نامیاتی وجود ہے ان کی غزل کا ، وہ انھیں مشاعروں کے شاعروں سے بھی امتیاز کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں درد اور کسک کی فضا ملتی ہے اور یہی ٹیس ان کے لہجے میں پوری شدت سے طلوع ہوتی ہے تو کتنوں کو بے حال کر دیتی ہے اور کتنوں پر وجد طاری کر دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں جو از دل خیزد، بر دل ریزد، والی بات ہے، وہ کم کم شاعروں کو نصیب ہوتی ہے۔”
ریختہ کے یہ الفاظ طاہرؔ فراز کی شعری شخصیت کا نہایت درست، منصفانہ اور جامع احاطہ کرتے ہیں۔ ان کی غزل واقعی مترنم آبشار کی مانند ہے۔ ایک زندہ، نامیاتی اور خوش آہنگ وجود جو انھیں محض مشاعروں کے شاعروں سے الگ مقام دیتا ہے۔
طاہرؔ فراز 29 جون 1953ء کو بدایوں (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور بعدازاں روہیل کھنڈ یونی ورسٹی، بریلی سے اردو میں ایم۔اے کیا۔ کم عمری ہی سے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد ہندستان کے نمائندہ شعرا میں شمار ہونے لگے۔ غزل ان کی محبوب صنف تھی۔ حمد، نعت، سلام اور منقبت میں بھی ان کا لہجہ سوز، عقیدت اور روحانی وقار سے لبریز نظر آتا ہے۔ خانقاہ نیازیہ سے وابستگی اور بزرگانِ دین سے عقیدت نے ان کی شاعری کو ایک باطنی گہرائی عطا کی۔
طاہرؔ فراز اردو زبان سے محبت کرتے تھے۔ وہ اردو کے فروغ کے لیے تاعمر کوشاں رہے۔ طاہرؔ فراز نے اردو کو ہندو مسلم کے درمیان رائج کرنے پر زور دیا کہ اگر ملک کی تہذیب کو بچانا ہے تو اردو کو فروغ دینا ہوگا۔ اردو سے غیر مسلموں کی دوری کی ایک وجہ اسکرپٹ بھی ہے لیکن اردو اسکرپٹ کی ہر حال میں حفاظت کی جانی چاہیے کیونکہ یہ اس زبان کی تہذیبی شناخت اور اس کی روح ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اردو زبان کو کوئی خطرہ نہیں اور پوری دنیا میں اس کے چاہنے والے، بولنے والے اور جاننے والے آباد ہیں۔ وہ اردو رسم الخط کو اس کی شناخت اور روح قراردیتے تھے
یہ بات بھی میرے لیے ہمیشہ ایک قیمتی ذاتی یادداشت رہے گی کہ ان کا شعری مجموعہ ’’کشکول‘‘ جو 2004ء میں شائع ہوا تھا انھوں نے وٹس ایپ پر مجھے پی ڈی ایف صورت میں عطا کیا۔ اسی کشکول اور ان کے دوسرے کلام سے منتخب چند اشعار یہاں بہ طور یادگار درج ہیں:
جن کو نیندوں کی نہ ہو چادر نصیب
ان سے خوابوں کا حسیں بستر نہ مانگ
۔۔۔۔۔۔
حادثے راہ کے زیور ہیں مسافر کے لیے
ایک ٹھوکر جو لگی ہے تو ارادہ نہ بدل
۔۔۔۔۔۔
اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں
کاش میں سب کے برابر ہوتا
۔۔۔۔۔۔
جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محل
میں نے گھبرا کے کہی میرؔ کے لہجے میں غزل
۔۔۔۔۔
ختم ہو جائے گا جس دن بھی تمھارا انتظار
گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی
۔۔۔۔۔
تمام دن کے دکھوں کا حساب کرنا ہے
میں چاہتا ہوں کوئی میرے آس پاس نہ ہو
۔۔۔۔۔۔
پرانے عہد کے قصے سناتا رہتا ہے
بچا ہوا ہے جو بوڑھا شجر ہماری طرف
۔۔۔۔۔۔۔
مرے ہنر کا اسے بھی نہ تھا کچھ اندازہ
ملال یہ ہے اسے دوسری شکست ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔
اس قدر زخم ہیں نگاہوں میں
روز اک آئینہ توڑ دیتا ہوں
۔۔۔۔۔۔
فقیر وہ ہیں جو اللہ تیرے بندوں کو
ہر امتیازِ نسب کے بغیر چاہتے ہیں
طاہرؔ فراز کا انتقال 24 جنوری 2026ء کو ممبئی میں ہوا جہاں وہ اہلِ خانہ کے ساتھ ایک شادی کی تقریب اور صاحب زادی کے علاج کے سلسلے میں مقیم تھے۔ 25 جنوری کو بعد نمازِ ظہر وہیں تدفین عمل میں آئی۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
طاہرؔ فراز کے جانے سے مشاعرے کچھ دیر کو سونے ہو گئے، غزل خاموش ہو گئی مگر ان کا کلام زندہ رہے گا۔ یادوں میں، کتابوں میں اور ان دلوں میں جنھوں نے کبھی ان کی آواز میں اپنے دکھ کی بازگشت سنی تھی۔ خود ان کا یہ شعر آج ان کی زندگی کا سب سے سچا استعارہ معلوم ہوتا ہے:
یہ زندگی جو بہت مختصر ملی تھی مجھے
سو میں نے بھی اسے دریا دلی سے خرچ کیا
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |